شدت پسندی ،انتہا پسندی اور مذہب

شدت پسندی اور انتہا پسندی یہ وہ الفاظ ہیں جو بیشتر اوقات صرف مذہب سے جوڑ دیے جاتے ہیں جیسے شدت پسند مولوی انتہا پسند ملا۔۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپنے نظریے پر ڈٹ جانا، صبر اور تحمل سے دوسرے کو برداشت نہ کرنا اور حد سے گزرتے ہوئے انتہائی نوبت تک جانا شدت پسندی ہے۔ جبکہ انتہا پسندی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کسی خیال یا نقطہ نظر کو اس حد تک اختیار کرنا کہ اس کے حق میں خوشنما اور بدنما بے جا دلائل دینا انتہا پسندی ہے۔۔

ہمارے ہاں ایک رویہ بن گیا ہے اگر کوئی مذہب کے حوالے سے اپنی بات یا بیان پر ڈٹ جائے تو اسے شدت پسند مولوی کا لقب دے دیا جاتا ہے جبکہ دوسری جگہ اگر کوئی لبرل اپنے خیالات کے لیے بدنما یا خوشنما دلائل دیتا جائے اسے آزادی رائے کہہ دیا جاتا ہے۔

داڑھی رکھ کر اپنے خیالات کا اظہار کرنے والا شدت پسند مولوی کہلانے لگتا ہے اور پینٹ شرٹ میں شراب کے نشے میں ڈولتے اپنے کھلم کھلا خیالات کا اظہار کرنے والا لبرل یا آزاد خیال کہلانے لگا ہے۔۔

ہمارے رویوں میں یہ دوغلاپن معاشرے میں انتشار کا باعث بھی بن رہا ہے۔۔ کسی ایک مکتبہ فکر کے لوگوں پر ایک ٹیگ لگا دینا ان کی دلیل پرشدت پسندی کی مہر لگانا ان کی سوچ کو انتہا پسند سوچ قرار دینا جبکہ دوسری جانب مخالف گروہ کو ان کی عقائد، سوچ کے اظہار میں شدت پسند کہنے کے بجائے آزاد خیال کہہ کر واہ واہ کروانا دراصل معاشرے میں باعث تفریق بن رہا ہے۔

آزادی اظہار کا حق سبھی محفوظ رکھتے ہیں لبرلز اپنے لیے آزادی اظہار کے نام پر گنجائش خود سے نکال لیتے ہیں جبکہ مولوی اور ملا جب یہی حق استعمال کرتا ہے تو اسے ایکسٹری میسٹ کہہ کر وہی حق چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ضرور ہے مگر صرف اس حد تک جب تک کوئی اسے اپنی ذات تک رکھے جب مذہب کے حوالے مزاق بنایا جاتا ہے سوشل میڈیا پر یا کسی اور فورم پر مذہب کو ہدف تنقید بنا کر تذلیل کی جاتی ہے تب وہ ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی مسئلہ بن جاتا ہے۔۔ جس سے انتشار اور شر دونوں پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ایسے میں دوہرا معیار کہ لبرلز کو آزادی اظہار کے نام پر من پسند بات کہنے دینا اور مولوی پر شدت پسندی کا ٹھپہ لگا دینا معاشرے میں نفرت کو فروغ دینے کا باعث بن رہا ہے۔

معاشرے میں بڑھتے انتشار پر قابو پانے کے لیے ضروری یہی ہے کہ مذہب کے نام شدت پسندی اور انتہا پسندی کو ہدف تنقید بنانے کے بجائے ہر اس انتہا پسند کو بے نقاب کیا جائے جو آزادی رائے کے نام پر معاشرے میں اپنے عقائد لاگو کرتا ہے۔ جو مذہب کی روگردانی کرتے ہیں اور مذہب کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ مذہب کے لیے تضحیک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں وہ حقیقی شدت پسند ہیں۔ مذہبی جذبات کو مجروح کرنا انتہا پسندی ہے۔

پاکستان میں انتہا پسند مولویوں کی بات کرنے والوں کے علم میں ہونا چاہئے کہ گائے کے ذبح کیے جانے پر پابندی لگانا انتہا پسندی ہے۔۔ رنگت کی بنیاد پر نسلی امتیاز کرنے والے انتہا پسند ہیں۔۔ کسی کی داڑھی کو دیکھ کر بغیر جانے ملا اور مولوی کا لیبل لگانا شدت پسندی ہے۔۔

مسلمان خواتین کے حجاب پر پابندی لگانے والا معاشرہ شدت پسند ہے۔ کسی کے نام کے ساتھ اسلامی نام لگا دیکھ کر ویزا ریجیکٹ کرنے والے انتہا پسند ہیں۔۔ ضروری یے کہ ہر اس شدت پسند کو بےنقاب کیا جائے جو معاشرے میں تفریق کا باعث بن رہا ہے نا کہ ایک مخصوص مکتبہ فکر کو ٹارگٹ کر کے انہیں شدت اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے پر مجبور کیا جائے۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے