ڈولفن فورس کیا بیچتی ہے؟

چوہدریوں پر بہت تنقید کی جا سکتی ہے مگر ان کے کچھ کام ایسے ہیں جن کی تعریف ہر شخص کرتا ہے، مثال کے طور پر اگر ہم پولیس کو ہی دیکھ لیں تو اس میں ٹریفک وارڈنزاور 1122 کا قیام بلاشبہ محکمہ میں اصلاحات کی طرف اہم پیشرفت تھی ۔وہ حکومت میں نہیں ہیں مگر یہ ادارے اپنا کام کر رہے ہیں ۔روایتی تھانہ کلچر کے حوالے سے ہر طرف سے تنقید کے بعد حکومت پنجاب بھی چاہتی ہے کہ کچھ ایسا کرے جو دیر پا ہو مگر ہو نہیں رہا ۔ ابھی کچھ عرصہ ہوا ڈولفن فورس کے نام سے پولیس کا ایک شعبہ قائم کیا گیا اوراس کے لیے شروع میں 12 ارب روپے رکھے گئے۔ جوانوں کو مہنگی ہیوی بائیکوں کے ساتھ ساتھ جدید اسلحے سے بھی لیس کیا گیا ۔

 

 

 

ایک  رپورٹ کے مطابق اس 500 سی سی بائیک کی قیمت 13 لاکھ روپے ہے جبکہ ایک وردی کی قیمت 50 ہزار روپے ہے ۔یونیفارم میں بریٹا پسٹل،جی پی ایس، کیمرا اور وائرلیس نصب ہے ۔ان جوانوں کو ”جدید آلات سے لیس” اتنے بھاری ہیلمٹ انہیں پہنائے گئے ہیں کہ روز کسی نہ کسی کے گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہونےکی خبریں آتی ہیں۔ڈولفن شہر میں گشت کی ذمہ داری سونپی گئی تاکہ اسٹریٹ کرائمز کا خاتمہ ہو سکے لیکن ابھی تک نتائج صفر ہیں ۔

 

 

 

 

 

یہ سیاہ وردیوں والے لڑکے کھلی سڑکوں پر موٹر سائیکلیں بھگاتے پھرتے ہیں اور جہاں جی چاہتا ہے ناکہ لگا کر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ میں گزشتہ دو اڑھائی ماہ سے ان کی حرکتیں دیکھ رہا ہوں ۔پچھلے دونوں ایک قومی اخبار میں ان کے بارے میں ایک شہری کا شکایتی مراسلہ چھپا جس میں اس نے لکھا تھا کہ یہ لڑکے اکثر ایسی کاروں کی چانچ پڑتال میں دلچسپی لیتے ہیں جنہیں خواتین ڈرائیو کرتی ہیں ۔ یہ رجحان افسوس ناک ہے ۔ان کو چاہئے کہ یہ اندھیری گلیوں اور ان سڑکوں پر گشت کریں جو رہزنی کے لیے مشہور ہیں مگر ایسا نہیں ہورہا بلکہ روز ہزاروں روپوں کا پیٹرول بلاوجہ ضائع کیا جا رہا ہے ۔

 

 

 

 

اسی ہفتے  خبرچھپی کہ جرائم کے خاتمے کے لیے بنائی گئی اس ڈولفن فورس کے جوانوں نے کسی منشیات فروش کو پکڑا اور اسے تھانے لے جانے کی بجائے ”چائے پانی” پر بات ختم کی ۔ چائے پانی کتنا تھا؟ یہی کوئی 90 ہزار روپے ۔ خادم اعلیٰ کا خیال ہے کی کھال (یا بال)بدلنے سے فطرت بھی بدل جاتی ہے مگر ایسا ہے نہیں۔بہتر ہو گا کہ اس شعبے کی جانب توجہ دی کر مثبت نتائج حاصل کیے جائیں. اگر ایسا نہیں ہے تو ڈولفن فورس کو قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ سمجھا جائے گا.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے