ماہ مبارک رمضان کے تاریخی واقعات

[pullquote]بو علی سینا کا انتقال
[/pullquote]

یکم رمضان المبارک سن 428 ہجری قمری کو” شیخ الرئیس ” کے نام سے معروف اہم ایرانی منجم ، فلسفی ، ریاضیدان اور طبیب بوعلی سینا کا 58 برس کی عمر میں ایران کے مغربی شہر ہمدان میں انتقال ہوا۔
انہوں نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کرلیا تھا۔ خود بوعلی سینا کے بقول انہوں نے 18 سال کی عمر میں ہی اس دور کے تمام علوم حاصل کرلئے تھے بوعلی سینا ان افراد میں سے تھے جو صلاحیت اور قابلیت کے لحاظ سے انسانی کمال کی حد تک پہنچے ہو‏ئے اور تحقیق میں نہایت سنجیدہ تھے ۔ وہ مشرق اور مغرب میں ممتاز فلسفی اور طبیب کی حیثیت سے معروف تھے ۔
ابن سینا کے معاصر دانشوروں کے نظریات پر ان کے افکار کا گہرا اثر ہوا۔ جس کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہا ۔ابن سینا کی متعدد اور بیش بہا کتب میں ” شفا ”

[pullquote]دورمضان کے اہم واقعات
[/pullquote]

ماہر لسانیات عبدالرحمٰن زُجاجی نہاوندی کا انتقال
2 رمضان المبارک سنہ 340 ہجری قمری کوعلم نحو اور لسانیات کے ماہر عبدالرحمٰن زُجاجی نہاوندی کا دمشق میں انتقال ہوا ۔ انہوں نے ابن درید جیسے معروف اساتذہ سے فقہ اور لسانیات کی تعلیم حاصل کی ۔ یہاں تک کہ ان علوم کے اساتذہ میں ان کا شمار ہوا ۔ ان کی تالیفات میں الایضاح خاص طور سے قابل ذکر ہے ۔
دو رمضان المبارک تین سو چالیس ہجری قمری میں چوتھی صدی ہجری قمری کے معروف فقیہ لغت شناس اور ادیب عبدالرحمٰن زجاجی نہاوندی کی دمشق میں وفات ہوئی ۔ انہوں نے ابن درید جیسے اپنے زمانے کے اہم اساتذہ سے فقہ اور لغت کا علم حاصل کیا یہاں تک کہ استاد کے درجے پر فائز ہوئے ۔اس عالم و فاضل عالم دین کی کتابوں میں کتاب الایضاح کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
تین رمضان کے اہم واقعات
شیخ مفید محمد بن نعمان کا انتقال
3 رمضان المبارک 413 ہجری قمری کو شیخ مفید کے لقب سے معروف عظیم مسلمان عالم ، فقہ اور علم کلام کے ماہر محمد بن نعمان کا انتقال ہوا ۔
شیخ مفید سے قبل علم کلام صرف کتاب کی تصنیف و تالیف تک محدود تھا لیکن انہوں نے علم کلام اور فقہ کے بنیادی اصولوں سے استفادہ کرتے ہوئے استدلال اور بحث و گفتگو کا سلسلہ شروع کیا اور ان علوم کی ترویج کی ۔ شیخ مفید بہت روشن خیال اوراعلیٰ استعداد کے حامل تھے ۔
شیخ مفید نے فقہ ، اصول فقہ اور کلام کے موضوع پر بہت سی کتابیں تحریر کی ہیں جن کی تعداد تقریبا” دو سو ہے ۔
ابن خشّاب کا انتقال
3 رمضان المبارک سنہ 567 ہجری قمری کو چھٹی صدی ہجری کے مشہور مسلمان مصنّف اور محقق ابن خشّاب کا انتقال ہوا ۔وہ سنہ 492 ھ ق میں عراق میں پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے اپنے زمانے میں رائج علوم حاصل کرنے کے بعد ، اس دورکے معروف اساتذہ کی سرپرستی میں متعدد کتابیں لکھنے کا آغاز کیا۔
ابن خشاب کی علمی شخصیت کم نظیر حیثیت کی حامل ہے ، اسی لئے آپ کو علّامہ کیا گيا ۔وہ قرآئت اور قرآن فہمی کے لحاظ سے اپنے زمانے کے قاریان قرآن میں سرفہرست تھے ۔انہیں مختلف قرآئت کےساتھ قرآن حفظ تھا ۔مادیات کی طرف عدم توجہ آپ کی اہم اخلاقی خصوصیات میں سے تھی انہوں نے ہمیشہ طالب علموں کو یہ نصیحت کی کہ علم کو زور و زر کے حصول کا ذریعہ نہ بنائیں اور اسے صرف راہ خدا میں استعمال کریں ۔
ابن خشاب نے جہاں مختلف علوم میں بہت سے شاگردوں کی تربیت کی وہیں نہایت اہم تالیفات بھی یادگار کے طور پر چھوڑی ہیں
4رمضان اھم واقعات
ابن خراسانی کا انتقال
4 رمضان المبارک سنہ 576 ہجری قمری کوبغداد کےمشہور کاتب ، شاعر اور علم نحو کے ماہر ابن خراسانی کا انتقال ہوا ۔وہ سنہ 494 ہجری قمری میں ایران کے شمال مشرقی علاقے خراسان میں پیدا ہوئے ۔ابن خراسانی تحصیل علم کی خاطر بغداد گئے اوروہیں پر سکونت اختیار کی ۔ابن خراسانی کی تصنیفات میں ان کا دس جلدوں پر مشتمل دیوان خاص طور سے قابل ذکر ہےجس کا زيادہ تر حصہ ضائع ہوچکا ہے۔
ابوالقاسم ہبۃ اللہ بن جعفر کا انتقال
4 رمضان المبارک سنہ 608 ہجری قمری کوقاضی سعید ابن سناء الملک کے لقب سے مشہور مصری شاعر اور ادیب ابوالقاسم ہبۃ اللہ بن جعفر کا انتقال ہوا ۔ وہ سنہ 545 ہجری قمری میں قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ان کی تصنیفات میں ان کا دیوان خاص طور سے قابل ذکر ہے جس میں قصیدے اورغزل جیسی مختلف اصناف شامل ہیں ۔
ابن سناء الملک کے مشہور اشعار میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت اور یوم عاشور کے بیان میں کہے گئے اشعار خصوصا” قابل ذکر ہیں ۔
5 رمضان کے اہم واقعات
افضل الدین ابوعبداللہ طبیب خونجی کا انتقال
5 رمضان المبارک سنہ 646 ہجری قمری کومشہور فلسفی افضل الدین ابوعبداللہ طبیب خونجی کا انتقال ہوا ۔ وہ سنہ 590 ہجری قمری میں ایران کے شمال مغربی شہر خلخال میں پیدا ہوئے ۔طبیب خونجی صاحب منطق وحکمت تھے ۔وہ طب اور اسلامی علوم خصوصا” فقہ اور حدیث کے بہترین استاد تھے ۔انہوں نے بہت سی کتابیں تحریر کیں جن میں کشف الاسرار عن غَوامض الافکار فی المنطق خاص طور سے قابل ذکر ہے ۔
الحاج ملّا علی علیاری تبریزی کی پیدائش
5 رمضان سنہ 1236 ہجری قمری کوایران کے ممتاز عالم دین الحاج ملّا علی علیاری تبریزی ایران کے شمال مغربی تبریز میں پیدا ہوئے ۔ان کو فقہ ، حدیث اورشعر و ادب میں بہت مہارت حاصل تھی اور فلسفے ،حکمت ، ریاضی اور علم نجوم کے ماہر استاد مانے جاتے تھے انہوں نے عراق کے شہر نجف میں واقع اعلیٰ دینی درسگاہ میں داخلہ لیا ۔
شیخ مرتضیٰ انصاری اور میرزائے شیرازی جیسے فاضل اساتذہ سے انہوں نے کسب فیض کیا اور فقہ اور اصول فقہ میں کمال حاصل کیا ۔علیاری نے ایران واپس آنے کے بعد ذہین شاگردوں کی تعلیم و تربیت کی ۔ وہ دینی تعلیم کے علاوہ ریاضیات اور نجوم کی تعلیم بھی دیتے تھے ۔
اسی دوران انہوں نے فقہ اوراسلامی مسائل کے مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں لکھیں ۔ان کی کتابوں میں ” دَلَائلُ الاَحکام فی شَرح شَرایعُ الاسلام ” خاص طور سے قابل ذکر ہے
6 رمضان کے اہم واقعات
ابویعلی جعفری کا انتقال
6 رمضان سنہ 463 ھ ق کو 5 ویں صدی ہجری قمری کے ایک نامور عالم دین ابویعلی جعفری نے وفات پائی ۔ وہ فقیہ اور ماہر علم کلام تھے اور عظیم اسلامی دانشور شیخ مفید کی حیات میں ان کے نائب تھے ۔
وہ عظیم اسلامی دانشور شیخ طوسی کے ہم عصر تھے ۔ ابویعلی جعفری نے علم کلام اور فقہ کی تدریس بھی کی ۔ان کی تصانیف میں میلاد صاحب الزماں اور تکملہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
حمزہ بن عبداللہ کا انتقال
6 رمضان المبارک سنہ 463 ہجری قمری کو مشہور مسلمان فقیہ حمزہ بن عبداللہ سالار کا ایران کے شہر تبریز میں انتقال ہوا ۔شیخ سالار عظیم دانشور شیخ مفید اور سید مرتضیٰ علم الہدی کے مشہور شاگرد تھے ۔
شیخ سالار کی سب سے مشہور کتاب "المراسم العلویہ و الاحکام النبویہ ” ہے جو دس دیگر کتابوں کے ساتھ مل کر جوامع الفقہ کے نام سے چھپ چکی ہے ۔ شیخ سالار کی دیگر کتابوں میں الابواب و الفصول اور التقریب خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
7 رمضان کے اہم واقعات
پیغمبر اسلام (ص) کے چچا حضرت ابوطالب کا انتقال
ایک روایت کے مطابق ہجرت سے تین سال پہلے سات رمضان المبارک کو پیغمبر اسلام (ص) کے چچا حضرت ابوطالب کی وفات ہوئی ۔
حضرت ابو طالب بن عبد المطلب (‎ 549ء تا 619ء) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا اور حضرت علی علیہ السلام کے والد تھے۔ ان کا نام عمران اور کنیت ابوطالب تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی والدہ حضرت آمنہ بنت وھب علیہا السلام اور دادا حضرت عبدالمطلب کی وفات کے بعد آٹھ سال کی عمر سے آپ کے زیر کفالت رہے۔
آپ نے ایک بار شام اور بصرہ کا تجارتی سفر کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھی ہمراہ لے گئے۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عمر بارہ برس کے لگ بھگ تھی۔ بحیرا راہب کا مشہور واقعہ، جس میں راہب نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نبوت کی نشانیاں دیکھ کر پہچان لیا تھا، اسی سفر کے دوران میں پیش آیا تھا۔
پیغمبر اسلام (ص) کے دادا حضرت عبدالمطلب کی وفات کے بعد حضرت ابوطالب نے آپ کی پرورش کی اور پیغمبر اسلام (ص) کے اعلان رسالت کے بعد بھی مشرکین کی مخالفت کے وقت آپ کی مدد و حمایت کی ۔
حضور اکرم (ص) کی بعثت کے بعد جب مکہ کے مشرکین نے مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ کردیا تو نبی اکرم (ص) اپنے تمام متعلقین کے ساتھ شعب ابی طالب میں چلے گئےاور آپ کے چچا حضرت ابوطالب نے ہی آپ کی کفالت کی ۔ شعب ابی طالب میں مسلمانوں کی تین سالہ اقتصادی ناکہ بندی کا دور ختم ہوتے ہی حضرت ابوطالب کا انتقال ہوگيا ۔
آپ کی وفات کے بعد کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر مظالم کی انتہا کر دی۔ آپ کی وفات 619ء میں ہوئی۔ اسی سال حضرت خدیجہ علیہا السلام کی وفات بھی ہوئی۔ ان دو واقعات کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سال کو عام الحزن یعنی ” غم کا سال” قرار دیا۔
ابن زہرہ کی پیدائش
7 رمضان سنہ 511 ہجری قمری کو چھٹی صدی ہجری کے ایک مشہور ماہر علم کلام نامور فقیہ اور معروف دانشور ابن زہرہ موجودہ شام کے ایک شہر حلب میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے نجف اور حلب میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بلند علمی مقام حاصل کیا ۔ابن زہرہ کو فقہ ، اصول ، کلام اورعربی ادب میں مہارت حاصل تھی ۔
انہوں نے ابن ادریس حلّي جیسے دانشوروں کی تربیت کی اور اصول فقہ کے موضوع پر بہت سی کتابیں تحریر کیں ۔ابن زہرہ کا سنہ 585 ھ میں انتقال ہوا۔
سید نظام الدین محمد معصوم صفائی ترمذی کی پیدائش
7 رمضان المبارک سنہ 944 ہجری قمری کو دسویں صدی ہجری قمری کے ایک معروف شاعر اور مورخ ” سید نظام الدین محمد معصوم صفائی ترمذی ” ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔
وہ ” نامی ” تخلص کرتے تھے ۔ان کے آباء اجداد ترمذ کے مسلمان تھے اور جنوب مشرقی افغانستان میں واقع علاقے قندہار میں رہتے تھے ۔لیکن چونکہ ان کے والد نے ہندوستان ہجرت کرلی تھی ۔اس لئے وہ بھی قندہار میں اپنی تعلیم مکمل کرکے گجرات چلے آئے اور دفتری عہدوں پر فائز رہے ۔
نامی اپنے زمانے کے محنتی دانشوروں میں سے تھے ۔انہوں نے” طبّ نامی ” جیسی بیش بہا کتابیں لکھیں ۔سنہ 1019 ع ہجری قمری میں نامی کا انتقال ہوا
8 رمضان کے اہم واقعات
نجم الدین علی دبیران کا انتقال
8 رمضان سنہ 675 ھ ق کو عظیم ایرانی منجم اور مفکر نجم الدین علی دبیران کا انتقال ہوا ۔ وہ کاتبی کے نام سے معروف تھے ۔ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں اطلاعات دستیاب نہیں ہیں لیکن یہ بات ثابت ہے کہ عظیم فلسفی اورمفکر خواجہ نصیرالدین طوسی نے مراغہ کی رصد گاہ میں آ کر ان کا ہاتھ بٹایا ۔
مراغہ کی رصد گاہ اس دور کی معروف رصد گاہ تھی ۔کاتبی نے برسوں اس رصد گاہ میں فعال کردار ادا کیا ۔ان کی کتابوں میں ” جامع الدقائق ” اور ” حکمت العین ” خاص طور سے قابل ذکر ہیں
نویں رمضان کے واقعات
محمد بن داؤد ظاہری کا انتقال
9 رمضان المبارک سنہ 297 ہجری قمری کو تیسری صدی ہجری کے ایک شاعر، ادیب ، محدث اور فقیہ ” محمد بن داؤد ظاہری ” کا 42 سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔ داؤد ظاہری شعر ، ادب ، حدیث اور فقہ میں استاد کی حیثیت رکھتے تھے ۔انہوں نے ادب کے موضوع پر متعدد کتابیں تحریر کیں۔
ماہر فلکیات الغ بیگ کا قتل
9 رمضان المبارک سنہ 853 ہجری قمری کو ممتاز ماہر فلکیات الغ بیگ کو قتل کردیا گيا ۔وہ سولہ سال کی عمر میں تیمور کے جانشین مقرر ہوئے ۔تیمور کے برخلاف الغ بیگ کو ملک کی سرحدوں میں توسیع میں کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ زيادہ تر تحقیق و مطالعہ میں مشغول رہتے تھے ۔
انہوں نے ایک مدرسہ قائم کیا جس میں دیگر موضوعات کے علاوہ علم نجوم خاص طور پر پڑھایا جاتا تھا ۔الغ بیگ کی دیگر کاوشوں میں سنہ 828 ہجری قمری میں سمرقند میں قائم کی گئی ایک تین منزلہ رصد گاہ ہے ۔قابل ذکر ہے کہ شمسی نظام کے کچھ سیاروں کے بارے میں الغ بیگ کی تحقیقات کے نتائج آج کی تحقیقات سے زيادہ مختلف نہیں ہیں ۔
آیت اللہ شیخ محمد بہاری ہمدانی کاانتقال
9 رمضان سنہ 1325 ہجری قمری کو آیت اللہ شیخ محمد بہاری ہمدانی کاانتقال ہوا ۔وہ 13 ویں اور 14 ویں صدی ہجری قمری کے ایران کے مشہور عارف اور بزرگ عالم دین ہیں جو اپنی پرہیزگاری نیکی عمل اور علمی کمالات کی وجہ سے مشہور ہیں ۔
انہوں نے اپنی ابتدائي تعلیم مکمل کرکے عراق کے شہر نجف میں واقع اعلیٰ دینی درسگاہ میں داخلہ لیا اور تعلیم کی تکمیل کے بعد تدریس میں مشغول ہوگئے ۔آیت اللہ بہاری ہمدانی کی تصنیفات کا مجموعہ "تذکرۃ المتقین ” کے نام سے شائع ہوا ہے ۔
دس رمضان کے اہم واقعات
حضرت خدیجہ کبری سلام اللہ علیہا کی وفات
ام المؤمنین حضرت ختیجہ کبری سلام اللہ علیہا بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کی پہلی بیوی جو کہ عرب اور اسلام کی نامدار ، اصیل اور نہایت با فضیلت خاتون تھیں ۔اس کے باجود کہ جاھلیت کے زمانے میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئی ، مگر عفت ، نجابت ، سخاوت ،حسن معاشرت ، صمیمیت ، صداقت ۔ شوھرکے نسبت وفا و محبت میں بے نظیر تھیں ۔ اس زمانے میں طاھرہ اور سیدۃ نساء قریش کے نام سے یاد کی جاتی تھیں ۔ اور پھر اسلام میں بہشت کی چار خواتین میں سے ایک قرار پائی اور انکی بیٹی حضرت فاطمہ زھراسلام اللہ علیہا کے بغیر کوئی خاتون اس مقام کو نہ پہنچ سکی ہے ۔
حضرت ختیجہ کبری سلام اللہ علیہا ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سے پہلے ھند بن بناس تمیمی معروف بہ ” ابوھالہ ” اور اسکے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے نکاح میں تھی ۔اور ان دونوں سے اولادیں تھیں ۔دوسرے شوھر کے مرنےکے بعد حضرت ختیجہ کبری سلام اللہ علیہا نے اپنی درایت اور عقلمندی سے تجارت کو کافی فروغ دیا اور عرب کی سرمایہ دار ترین فرد بن کر ابھری اور تجارت کے کافلوں کے کافلے شام وغیرہ بھیجا کرتی تھی ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنے چاچاحضرت ابو طالب کے کہنےپر حضرت ختیجہ (س) کے تجارت میں شرکت کی اور حضرت ختیجہ کبری (س) کیلۓ کافی منافع کما کے دیااور ان کے دل میں آنحضرت کے نسبت محبت پیدا ہوئی اور آخر کار دونوں کا آپس میں نکاح ہوا ۔
حضرت ختیجہ کبری (س) کا پیغمبر (ص) کے نسبت خاص محبت تھی اور جب آنحضرت مبعوث بہ رسالت ہوۓ تو اپنا سارا سرمایہ آنحضرت کے اختیار میں دیا تاکہ اسلام کے کام آجاے ۔وہ پہلی خاتون ہیں جس نے سب سے پہلے ایمان لایا اور اس راہ میں قریش کی طرف سے ڈھاۓ جانے والے مصائب تحمل اور بردباری کے ساتھ برداشت کۓ ۔
جب تک زندہ تھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے دل کا سکون اور یار و یاور تھی اور شعب ابیطالب میں جلاوطنی کے شدید ترین دورمیں آنحضرت کا ساتھ نہ چھوڑا اور تمام وجود کے ساتھ انکی حمایت کرتی رہی ۔
آخر کار یہ فداکارخاتون 25 سال رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور اسلام کی خدمت میں رہ کر شعب ابی طالب میں قریشوں کے محاصرے سے نکل کر مکہ معظمہ میں دس رمضان بعثت کی دسویں سال میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر اعلی علیین کو عروج کرگئ ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کم مدت میں دو عظیم حامی ابوطالب (ع)اور ختیجہ کبری(س) کو کھو بیٹھے اور اس وجہ سے کافی غمگین تھے ۔اور اس سال کو عام الحزن (غم کا سال ) نام دیا گيا۔
حضرت ختیجہ کے بدن مطہر کے غسل و کفن کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے انہیں حجون مکہ میں دفن کیا ۔
حضرت ختیجہ کبری (س) کے پیغمبر اسلام (ص) سے چھے فرزند دو بیٹے قاسم اور عبداللہ جو کہ طیب اور طاھر کے نام سےمعروف ہیں اور بیٹیاں زینب ، رقیہ ،ام کلثوم اور حضرت فاطمہ زھراء تھے ۔(5) ان فرزندان میں حضرت فاطمہ زھراء(س) بعثت کے بعد پیدا ہوئی اور وحی کی فضا میں آنکھیں کھولی ہیں ۔
پیغبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت ختیجہ (س) کے بارے میں فرمایا: خدا کی قسم میرے لۓ پروردگار نے ختیجہ سے بہتر کسی کو نصیب نہ کیا کیونکہ جب لوگ کفرمیں تھے اس نے مجھ پر ایمان لایا ، جب لوگ مجھے جٹھلاتے تھے،وہ میری تصدیق کررہی تھی؛ جب لوگوں نے مجھے محروم کیا اس نے اپناسارا سرمایہ میرے اختیار میں رکھا۔ خدا نے اسکے ذریعہ مجھے اولاد عطا کۓ جبکہ دوسری بیویوں سے یہ کچھ نصیب نہ ہوا ۔
خواجہ نظام الملک کاانتقال
10 رمضان المبارک سنہ 485 ھ ق کو سلسلۂ سلجوقی کے معروف وزير اور مشہور زمانہ کتاب ” سیاست نامہ ” کے مصنف خواجہ نظام الملک کاانتقال ہوا۔
وہ سنہ 410 ھ ق میں ایران کے شہر طوس میں پیدا ہوئے اور 40 سال تک سلجوقی دربار سے وابستہ رہے ۔ خواجہ نظام الملک نے اس مدت میں بغداد کے مدرسۂ نظامیہ کی طرز پر مدارس قائم کئے جن میں تقریبا” چھ ہزار طلبہ فقہ اور تفسیر قرآن اور اس زمانے میں رائج دیگر علوم کی تعلیم میں مصروف تھے ۔
نظام الملک کی اہم ترین کتاب ” سیاست نامہ ” یا ” سیر الملوک ” ہے جو 51 ابواب پر مشتمل ہے اور تاریخی موضوعات سے پر ہے
گیارہ رمضان کے اہم واقعات
ابراہیم کر کی کا انتقال
11 رمضان المبارک 853 ہجری کو مسلمان محدث ادیب اور مورخ ابراہیم کر کی، مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں وفات ہوئی ۔انہوں نے قرآن سیکھنے اور ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، اعلیٰ تعلیم کے لئے مختلف علمی اور دینی مراکز کی طرف رجوع کیا ۔
یہاں تک کہ فقہ اور ادبیات میں کافی مہارت حاصل کرلی ۔ابراہیم کرکی نے مختلف کتابیں بھی لکھیں جن میں قرآنی علوم پر کتاب ” اعراب المفصل ” خاص طور سے قابل ذکر ہے ۔
بارہ رمضان کے واقعات
مہاجرین اور انصار کے درمیان پیمان اخوت
12 رمضان سنہ 1 ھ ق کو رسول اکرم (ص) نے مکّے سے مدینے ہجرت کےکچھ ہی دنوں بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان پیمان اخوت باندھا ۔ مہاجرین وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول اکرم (ص) کے ساتھ مکے سے مدینے ہجرت کی تھی اور انصار، مدینے کے وہ مسلمان تھے جنہوں نے مہاجرین کی میزبانی کی تھی ۔
رسول اکرم (ص) نے مسلمانوں کے درمیان پیمان اخوت کی تقریب کے موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دنیا و آخرت میں اپنا بھائي قراردیا ۔
مہاجرین اور انصار کے درمیان پیمان اخوت سے مسلمانوں کے درمیان قومی اور قبائلی اختلاف اور مدینے کی طرف مسلمانوں کی ہجرت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کے حل میں مدد ملی ۔
اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد اورطاقت پیدا ہوگئی جن مسلمانوں نے رسول اکرم (ص) کے حکم پر ایک دوسرے کے ساتھ پیمان اخوت قائم کیا وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت زيادہ ایثار و قربانی سے پیش آئے ۔
تیرہ رمضان کے اہم واقعات
علی سیستانی طاب ثراه کا انتقال
13 رمضان سنہ 1340 ہجری کو ایران کے ایک بزرگ عالم اور فقیہ سید علی سیستانی کا انتقال ہوا ۔
آپ اپنی اعلیٰ دینی تعلیمات کی تکمیل کے بعد سنہ 1318 ھ میں نجف اشرف سے ایران واپس آ گئے اور شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد مقدس کی جامع مسجد گوہر شاد میں لوگوں کی درخواست پرفقہ اور اصول فقہ کی تدریس شروع کی ۔
آپ یہاں نماز جمعہ بھی پڑھاتے تھے ۔سید علی سیستانی کو آئینی تحریک کے زمانے میں اپنی مذہبی سرگرمیوں کے باعث ایک مدت تک قید خانے میں بھی رہنا پڑا اور بالآخر اسی راہ میں اسلام و مسلمین کی خدمت انجام دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
جابر حاکم حجّاج بن یوسف ثقفی کا انتقال
13 رمضان 95 ہجری قمری کو حکومت بنی امیّہ کے ظالم اور جابر حاکم حجّاج بن یوسف ثقفی کا انتقال ہوا ۔
بنو امیہ کا ایک جرنیل،ظالم اور سفاک،سخت گیر گورنر،کہاجاتاہے کہ اسی کے ایماء اور حکم سے قرآن میں نقاط لگائے گئے،فصیح اللسان تھا۔اموی حکومت کو مستحکم اور مضبوط بنانے میں اس کا بڑا حصہ رہا۔
مکمل نام ابو محمد حجاج بن یوسف بن حکم بن ابو عقیل ثقفی۔ طائف میں پیدا ہوا وہی اس کی پرورش بھی ہوی[1]،حجاج بن یوسف طائف کے مشہور قبیلہ بنو ثقیف سے تعلق رکھتا تھا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اس نے اپنے باپ سے حاصل کی ۔
جو ایک مدرس تھا۔ حجاج کا بچپن سے ہی اپنے ہم جماعتوں پر حکومت کرنے کا عادی تھا۔ تعلیم سے فارغ ہو کر اس نے اپنے باپ کے ساتھ ہی تدریس کا پیشہ اختیار کیا لیکن وہ اس پیشے پر قطعی مطمئن نہ تھا اور کسی نہ کسی طرح حکمران بننے کے خواب دیکھتا رہتا تھا۔ بالاخر وہ طائف چھوڑ کر دمشق پہنچا اور کسی نہ کسی طرح عبدالملک بن مروان کے وزیر کی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور اسے ترقی دے کر اپنی جاگیر کا منتظم مقرر کر دیا۔
اس نے 173ھ میں مکہ کا محاصرہ کیا جو سات ماہ تک جاری رہا اور کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسائے۔اس وقت وہاں حضرت عبداللہ ابن زبیر نے پناہ لے رکھی تھی جنہیں اس نے شہید کروا دیا۔ اور ان کی لاش کو کئی روز تک پھانسی پر لٹکائے رکھا۔یہ واقعہ اکتوبر 692ء کا ہے جس میں دس ہزار سے زائد مسلمان قتل ہو گئے۔[1]
بعض مورخین نے حجّاج بن یوسف ثقفی کے حکم پر قتل کئے گئے افراد کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بتائي ہے ۔
حجاج بن یوسف بہت باصلاحیت انسان تھا۔ وہ حکومت کے استحکام کے لیے ہر کام کرنے کو تیار رہتا۔لیکن اس کادوسرا رخ یہ کہ وہ نہایت ظالم اور سفاک انسان تھا۔ جا و بے جا تلوار استعمال کرتا ۔ انسان جان کی حرمت اس کے نزدیک کوئی معنی نہ رکھتی تھی۔ حرم کا احترام اس نے بے دریغ اٹھایا۔ حرام مہینوں کا احترام بھی وہ کم ہی کرتا تھا۔
عراقیوں اور عجمی مسلمانوں سے اس کا سلوک نہایت ظالمانہ تھا ۔ وہ سخت متعصب تھا اور شمالی عدنانی قبائل کا سرپرست تھا۔ اس نے یمنیوں کو بلاوجہ ظلم کا نشانہ بنایا اور اس طرح سے اس کے ظلم و جور اور قبائلی تعصب پر بنو امیہ کی جڑیں کھوکھلی کر دیں۔ اور عوام الناس کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت کا بیج بویا گیا جو اموی سلطنت کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔
اس کی محبوب سزا مخالف کو برہنہ (ننگا) کر کے بغیر چھت کے قید خانوں میں رکھنا تھی۔ اس معاملے میں وہ مرد اور عورت کی تمیز بھی نہیں رکھتا تھا۔ مزید اذیت کے لیے وہ ایک ہی خاندان کے مرد و خواتین کو ایک ہی جگہ برہنہ قید رکھتا۔ ایک وقت میں اس کے برہنہ قیدیوں کی تعداد 50000 پچاس ہزار تک پہنچ گئی تھی جن میں 30000 خواتیں تھیں۔ ا
حجاج بن یوسف ثقفی بے تحاشا مظالم کرنے کے باعث نفسیاتی اور جنونی بیماری کا شکار ہوکر مر گیا ۔لوگوں کے خوف سے ان کی میّت کو خفیہ طور پر ایک نامعلوم مقام پر دفنا دیا گیا ۔
چودہ رمضان کے اہم واقعات
محدث ابن مغازلی کا انتقال
14 رمضان المبارک سنہ 542 ھ ق کو مسلمان فقیہ اور محدث ابن مغازلی کا انتقال ہوا ۔ وہ سنہ 457 ھ ق میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے عراق میں عظیم علماء سے تعلیم حاصل کی ۔
ابن مغازلی کو اسلامی علوم و معارف میں سے علم حدیث میں بہت زيادہ دلچسپی تھی ۔انہوں نے اپنی زندگی کا زيادہ تر حصہ واسط اور بغداد شہر میں حدیث نقل کرنے میں گزارا ۔ انہوں نے اپنے اسلاف کے آثار کو بھی نقل کیا ہے جن میں ان کے والد کی مناقب بھی شامل ہیں ۔
ابن مغازلی کے تحریری آثار میں صرف حدیث پر ایک کتاب دمشق کے کتب خانے ” ظاہریہ ” میں قلمی نسخے کی صورت میں محفوظ ہے ۔
حکیم شمس الدین بہبہانی کا انتقال
14 رمضان سنہ 1248 ہجری کو ایران کے مشہور دانشور اور حکیم شمس الدین بہبہانی نے وفات پائي ۔بہبہانی نے نوجوانی میں محقق بہبہانی اور علّامہ طباطبائي جیسے علماء سے کسب فیض کیا ۔وہ عظیم فقیہ اور عارف تھے ۔انہوں نے اپنی زندگی کا زيادہ تر حصہ تحقیق و تصنیف میں گزارا ۔شمس الدین بہبہانی نے ” ، ” پر تفصیلی شرح لکھی اور حکمت و اصول میں کئی کتابیں بھی تحریر کی ہیں
پندرہ رمضان کے اہم واقعات
حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت باسعادت کامبارک دن
مکمل نام حسن ابن علی
ترتیب دوم
جانشین حسین علیہ السلام
تاریخ ولادت 15 رمضان، 03 ہجری
کنیت ابو القاسم
والد علی علیہ السلام
والدہ فاطمہ بنت محمد
تاریخ وفات 28 صفر، 50 ہجری
جائے وفات مدینہ منورہ، جزیرہ نمائے عرب
وجۂ وفات شہادت
امام حسن علیہ السلام امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے بیٹے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکے بطن مبارک سے تھے۔ حضرت اما حسین علیہ السلام آپ کے چھوٹے بھائی تھے ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بارھا فرمایا تھا کہ حسن و حسین علیہ السلام میرے بیٹے ھیں اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام اپنے تمام بیٹوں سے فرمایا کرتے تھے: تم میرے بیٹے ھو اور حسن و حسین علیہ السلام رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹے ھیں۔( مناقب ابن شھر آشوب ، ذخائر العقبی)
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت پندرہ رمضان 3ھء مدینہ میں ھوئی تھی۔ انھوں نے سات سال اور کچھ مھینے تک اپنے نانا (رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کا زمانہ دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ کی وفات سے تین یا چہ مھینے پہلے ھوئی، آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آگئے تھے۔
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد خدا کے حکم اور حضرت علی علیہ السلام کی وصیت کے مطابق امامت کے درجے پر فائز ھوئے اور ساتھ ساتھ ظاھری خلافت کے عہدیدار بھی بنے۔
تقریباًچھ ماہ تک آپ مسلمانوں کے خلیفہ رھے اور امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالے رھے. انہوں نے بعد میں امیر معاویہ رض سے صلح کر لی اور اقتدار سے دستبردار ہو گئے .

عالم و فقیہ زین الدین بن علی کی شہادت
15 رمضان سنہ 965 ھ ق کو عظیم عالم و فقیہ زین الدین بن علی شہید ہوئے ۔وہ شہید ثانی کے لقب سے معروف تھے ۔شہید ثانی سنہ 911 ھ ق میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کے پاس تعلیم حاصل کرنی شروع کی ۔
اس کے بعد انہوں نے مختلف شہروں کا سفر کیا اور ممتاز علماء سے کسب فیض کیا جس کے نتیجے میں فقہ ، حدیث ، منطق اور فلسفے میں بہت مہارت حاصل کرلی ۔انہوں نے تقریبا” 70 کتابیں تحریر کیں ۔شہید ثانی کا بلند علمی مقام ان کے دشمنوں کے لئے بغض و حسد کا باعث بنا اور بالآخر ان کو شہید کردیا ۔
سترہ رمضان کے اہم واقعات
جنگ بدر
17 رمضان سنہ 2 ہجری قمری کو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک علاقے میں اسلام کی ایک معروف و مشہور جنگ بدر ہوئی ۔بدر مدینے کے جنوب مغرب میں اٹھائیس فرسخ کی دوری پر واقع ایک کنویں کا نام ہے جہاں مشرکین سے مسلمانوں کی پہلی جنگ ہو‏ئي ۔
اس جنگ میں مشرکین کے لشکر کی کمان ابوسفیان کے ہاتھ میں تھی جبکہ مہاجرین اورانصار پر مشتمل اسلام کے لشکر کی قیادت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کررہے تھے ۔
تاريخ اسلام کی معتبر کتابوں میں جنگ بدر کے بارے میں لکھا ہے کہ اس جنگ میں مشرکین کے لشکر کے سپاہیوں کی تعداد نو سو بیس تھی اور اسلام کے سپاہیوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی لیکن اس کے باوجود اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی چونکہ یہ کامیابی دشمن کے تقریبا” تین برابر سپاہیوں کے مقابلے میں حاصل ہوئی تھی ۔
اس لئے پیغمبر اسلام (ص) نے جنگ بدر میں ملنے والی اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت کی علامت بتایا ۔
امیر علی شیر نوائی کی پیدائش
17 رمضان سنہ 844 ہجری قمری کو معروف و مشہور ایرانی شاعر اور مصنف امیر علی شیر نوائی پیدا ہوئے ۔انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں شیریں و فرہاد ، لیلیٰ و مجنون اور قصۂ شیخ صنعان کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے شیر نوائي اپنے ترکی اشعار میں نوائی اور فارسی اشعار میں فنائی تخلص کرتے تھے ۔وہ سنہ 906 ہجری قمری میں 62 سال کی عمر میں وفات پاگئے –
الحاج میرزا محمد ہاشم خوانساری کا انتقال
17 رمضان سنہ 1318 ہجری قمری کو بزرگ عالم دین اور مرجع تقلید الحاج میرزا محمد ہاشم خوانساری نے ایران کے شہر اصفہان میں وفات پائي ۔انہوں نے دینی علوم کی ابتدائی تعلیم کے بعد اپنے دور کے اہم اور جیّد علماء سے کسب فیض کیا اور گہرے مطالعے اور تحقیق سے فقہ، اصول فقہ ، حدیث اور تفسیر قرآن جیسے علوم میں کافی مہارت پیدا کرلی اور پھر اہم کتابوں کی تدریس اور تالیف شروع کردی ۔اس بزرگ عالم دین کی تصنیفات میں جواہر العلوم کی طرف خاص طور سے اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
فاضل شربیانی کا انتقال
17 رمضان المبارک سنہ 1322 ہجری قمری کو 14 ویں صدی ہجری کے ایک عظیم مرجع تقلید فاضل شربیانی کی وفات ہوئی ۔ وہ علم اصول میں ایک بے نظیر استاد تھے انہیں فقہی احکام کے استنباط میں کمال حاصل تھا۔ فاضل شربیانی آذربائیجان اور قفقاز میں مسلمانوں کے مرجع تقلید تھے ۔آپ کی متعدد کتب میں نو جلدوں پر مشتمل رسائل و مکاسب کی شرح قابل ذکر ہے ۔
اٹھارہ رمضان کے اہم واقعات
میرزا عبدالعظیم خان قریب کی پیدائش
18 رمضان سنہ 1296 ہجری قمری کو ایران کے مایۂ ناز محقق اور ادیب میرزا عبدالعظیم خان قریب ،ایران کے ایک شمالی شہر گرگان میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے صرف و نحو ، منطق ، ریاضی اور ادب کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور ان علوم میں مہارت حاصل کی ۔
استاد قریب نے فارسی زبان و ادب سے متعلق متعدد کتابیں تالیف کیں جن میں فارسی قواعد کی کتاب ” قواعد فارسی ” اور بڑے ایرانی شعراء اور قلمکاروں کے حالات زندگی اوران کی منظوم اور نثری تخلیقات کے بہترین اقتباسات پر مشتمل کتاب ” فوائد الادب ” کا نام خاص طور سے لیا جاسکتا ہے۔
ایران کے اس ممتاز ادیب کا ایک اور شاہکار ” تاریخ مفصل و جامع شعرائے ایرانی ” یعنی ایرانی شاعروں کی مفصل اور جامع تاريخ ہے.
انیس رمضان کے اہم واقعات
حضرت علی کرم اللہ وجہہ زہر آلود تلوار سے زخمی ھوئے
19 رمضان سنہ 40 ھ ق کو سحر کے وقت رسول اکرم (ص) کے داماد اور چچا زاد بھائی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عبدالرحمٰن ابن ملجم مرادی نے کوفے کی مسجد میں نماز کے دوران زہر آلود تلوار سے زخمی کردیا ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ رسول اکرم (ص) کے بعد پہلی شخصیت ہیں جن کو تاریخ اسلام تقویٰ ، ایمان ،اخلاق ، شجاعت ،علم اور انصاف کے مظہر کی حیثیت سے یاد کرتی ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے رسول اکرم (ص) کی آغوش میں تربیت پائي اور معارف الٰہی کے اعلیٰ ترین مدارج طے کئے ۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ جنہوں نے رسول اکرم (ص) کی دعوت اسلام پر لبیک کہی ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہر مرحلے ہیں رسول اکرم (ص) کے سچے وفادار اور یارو مددگار رہے اور آپ (ص) کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا ۔یہاں تک کہ رسول اکرم (ص) کی جان اور دین اسلام کی حفاظت کی خاطر بارہا اپنی جان کو خطرے میں ڈالا ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ باطل کے خلاف حق کی جنگ میں ہمیشہ مرد میدان رہے ۔اسی کے ساتھ آپ بہت مہربان اور نرم دل بھی تھے اور کسی یتیم کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر بہت زيادہ متاثر اور غمگین ہوجایا کرتے تھے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تقاریر ، خطبوں اور احکام و فرامین نیز خطوط کا مجموعہ ” نہج البلاغہ ” جس کو ایک بڑے عالم و دانشور سید رضي علیہ الرحمہ نے جمع کیا ہے آج بھی عالم بشریت کی ہدایت و رہبری کے لئے قرآن حکیم کے بعد سب سے عظیم اور مفید مجموعہ سمجھا جاتا ہے اور ایک دنیا اس گرانقدر کتاب سے فیضياب ہورہی ہے ۔
ریاضي داں غیاث الدین جمشید کا انتقال
19 رمضان سنہ 832 ھ ق کو معروف ایرانی منجم اور ریاضي داں غیاث الدین جمشید کاشانی کا انتقال ہوا ۔
وہ بڑے زبردست منجم اور ریاضی داں تھے ۔انہوں نے رصدگاہ کے بہت سے آلات ایجاد کئے ۔غیاث الدین جمشید کاشانی نے علم ریاضي اور نجوم کے موضوع پر اہم اور قیمتی کتابیں تحریر کیں جن میں ” مفتاح الحساب ” اور” رسالۂ آلات رصد” خاص طور سےقابل ذکر ہیں ۔
بیس رمضان کے اہم واقعات
رسول اکرم (ص) کی کمان میں مکّہ شہر کی فتح اور سورۂ نصر کا نزول
بیس رمضان سنہ 8 ھ ق کو رسول اکرم (ص) کی کمان میں لشکر اسلام نے مکّہ شہر کو فتح کیا ۔رسول اکرم (ص) کا یہ اقدام کفار کی طرف سے صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کئے جانے کے بعد عمل میں آیا تھا ۔
سنہ 6 ھ ق میں رسول اکرم (ص) اور قبیلۂ قریش کے درمیان صلح حدیبیہ سمجھوتے پر دستخط ہوئے تھے ۔آپ نے فتح مکہ کے بعد اس شہر کے لوگوں کو پناہ دی جبکہ ان لوگوں نے دین اسلام کے فروغ کو روکنے کی کوشش کی تھی ، اور رسول اکرم (ص) سمیت مسلمانوں کو ایذائيں اور تکالیف پہنچائی تھیں ۔
آپ (ص) کے اس محبت آمیز رویّے سے متاثر ہوکر قبیلۂ قریش نے اسلام قبول کرلیا ۔بہرحال مکہ بغیر کسی خونریزی کے فتح ہوگیا ۔اس کے بعد رسول اکرم (ص) نے کچھ افراد کو مکے کے اطراف میں بت خانے توڑنے کے لئے بھیجا اور خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ خانۂ کعبہ کے بتوں کو توڑنے میں مشغول ہوگئے ۔
اس کامیابی پر خداوند عالم نے آنحضرت (ص) پر سورۂ نصر نازل فرمایا ۔
علم نحو کے ماہر ” ابن شجری ” کا انتقال
20 رمضان سنہ 542 ہجری کو مسلمان شاعر ، ادیب اور علم نحو کے ماہر ” ابن شجری ” کا انتقال ہوا ۔ان کا نسب نواسۂ رسول (ص) حضرت امام حسن مجتبی (ع) سے ملتا ہے ۔اسی لئے انہیں علوی حسنی کا نام دیا گيا ہے ۔
ابن شجری نے 70 سال تک نحو کی تعلیم دی ۔ان کے بہت سے تحریری آثار بھی یادگار کے طور پر موجود ہیں جن میں الامالی ۔ الحماسہ ۔اور منظومۂ ابن الشجری خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
ادیب یاقوت حموی کا انتقال
20 رمضان سنہ 626 ہجری قمری کو ساتویں صدی ہجری کے مشہور ادیب یاقوت حموی نے وفات پائی ۔وہ سنہ 539 ہجری میں بغداد میں پیدا ہوئے ۔
نوجوانی میں قیدی بنالئے گئے لیکن کچھ عرصے کے بعد انہیں ایک تاجر نے بغداد میں خرید لیا اور پھر آزاد کردیا ۔یاقوت حموی نے آزاد ہونے کے بعد بہت سے سفر کئے اور دوران سفر مطالعہ بھی کرتے رہے ۔
یہاں تک کہ حموی چنگیز خان کے ماورالنہر پر حملے کے دوران شام کے شہر حلب کی طرف چلے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا ۔ان کے اہم تحریری آثار میں معجم البلدان اور معجم الادباء قابل ذکر ہیں ۔
اکیس رمضان کے اہم واقعات
مولائے متقیان ، امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ شہید ہوئے
21 رمضان سنہ 40 ھ ق کو جانشین رسول اکرم (ص) ، مولائے متقیان ، امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ شہید ہوئے ۔ شہادت سے دو روز قبل مسجد میں صبح کی نماز کے دوران جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سجدے کی حالت میں تھے کہ ابن ملجم نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے آپ کے سرپروار کیا اور 21 رمضان کو آپ کرم اللہ وجہہ اپنے معبود حقیقی سے جا ملے ۔
آپ نے وہ سعادت حاصل کرلی جس کی آپ کو ہمیشہ سے آرزو تھی، یعنی راہ خدا میں شہادت ۔آپ کا طرز زندگی ، آپ کی حکومتی روش اور آپ کے خطبات و کلمات آج کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی عدل و انصاف اور حق و صداقت کی جستجو کرنے والوں کے لئے مشعل راہ کا کام دے رہے ہیں ۔
نہج البلاغہ آپ کے خطبات ، خطوط اور کلمات قصار پر مشتمل اہم کتاب ہے جس کو ایک بڑے عالم و دانشور سید رضی علیہ الرحمہ نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حکمت آمیز باتوں ، عرفانی معارف اور اخلاقی نصیحتوں کا بحر بے کراں ہے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے انسان کے لئے اخلاقی فضائل سے آراستہ ہونے کی بہترین راہ ،تقویٰ و پرہیزگاری کو قراردیا ہے ۔
مولا علی کرم اللہ وجہہ کی شخصیت کا مختصر خاکہ
تاریخ اسلام میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے امتیازی اوصاف وکمالات اور خدمات کی بنا پر رسول (ص) ان کی بہت عزت کرتے تھے اور اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو بیان کرتے رہتے تھے کبھی یہ کہتے تھے کہ ” علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ” ۔کبھی یہ کہا کہ ” میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے ” کبھی یہ کہا ” تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے ” کبھی یہ کہاکہ ” علی کومجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ (ع) سے تھی” کبھی یہ کہاکہ ” علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یاسر کو بدن سے ہوتا ہے”
کبھی یہ کہ” وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ” یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں علی کرم اللہ وجہہ کو نفس رسول کاخطاب ملا عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کادروازہ کھلا رکھا گیا جب مہاجرین وانصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر (ص) اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیااور سب سے اخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس جس کامیں سرپرست اورحاکم ہوں اس اس کے علی سرپرست اور حاکم ہیں یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے علی کرم اللہ وجہہ کو مبارک باد دی اور ان میں حضرت عثمان غنی (رض) نے سب سے پہلے دی ۔سارے جہانوں نے سمجھ لیا کہ پیغمبر اسلام (ص) نے علی کرم اللہ وجہہ کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے۔
افسوس ہے کہ یہ امن , مساوات اور اسلامی تمدّن کا علمبردار دنیا طلب لوگوں کی عداوت سے نہ بچ سکا اور 19ماہ رمضان 40ھ کو صبح کے وقت خدا کے گھر یعنی مسجد میں عین حالت نماز میں زہر آلودہ تلوار سے انکے سر اقدس کوزخمی کیا گیا ۔
آپ کے رحم وکرم اور مساوات پسندی کی انتہا یہ تھی کہ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کاچہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ۔
تو آپ کو اس پر بھی رحم آگیا اور اپنے دونوں فرزندوں امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمھارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا . اگر میں اچھا ہوگیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضربت لگانا , کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضربت لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں , اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے ۔
دو روز تک علی کرم اللہ وجہہ بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت واقع ہوئی امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام نے تجہیزو تکفین کی اور نجف کی سرزمین میں انسانیت کے عظ?م تاجدار کو ہمیشہ کے لیے سپرد خاک کردیا۔
مولا ئے کایئانات حضرت علی فرماتے ہیں
تم کو ان لوگوں میں سے نہیں ہونا چاہیے کہ جو عمل کے بغیر حسن انجا م کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر توبہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جو دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طالبوں کے سے ہوتے ہیں.
اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جو انہیں ملا ہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جو بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجا نہیں لاتے نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں۔ اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوں کی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں. اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں.
جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تواترانے لگتے ہیں اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے. جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہوکر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں.
ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبالیتے. دوسروں کے لیے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں. اگر مالدار ہوجاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہوجاتے ہیں تو ناامید ہوجاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں .
جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پرآتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں. اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں ,اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کے خصوصی امتیازات سے الگ ہوجاتے ہیں. عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں. مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں. فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں ۔
وہ نفع کو نقصان اور نقصا ن کو نفع خیال کرتے ہیں. موت سے ڈرتے ہیں. مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے. دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں .اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں .
لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں .دولتمندوں کے ساتھ طرب ونشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں.
اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں اور حق پورا پورا وصول کرلیتے ہیں مگر خود ادا نہیں کرتے. وہ اپنے پروردگا ر کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خو ف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے۔
معروف عالم اور محدث ” شیخ حرّ عاملی ” کا انتقال
21 رمضان المبارک سنہ 1104 ہجری قمری کو لبنان کے معروف عالم اور محدث ” شیخ حرّ عاملی ” کا انتقال ہوا ۔وہ سنہ 1033 ہجری میں پیدا ہوئےتھے انہوں نے 40 سال تک لبنان اور شام کے قابل قدر اساتذہ سے کسب فیض کیا اور ان کے علم سے بہرہ مند ہوئے ۔
شیخ حر عاملی کچھ عرصے بعد ایران کے شہر مشہد مقدس چلے آئے اور تقریبا” 24 سال تک دین کی ترویج ، تدریس اور قاضی کے فرائض انجام دیئے ۔
اس بلند پایہ عالم کی تالیفات میں کتاب "وسائل الشیعہ ” معروف ترین ہے جو فقہ اور حدیث کی معتبر کتابوں میں شمار ہوتی ہے ۔ان کی دیگر کتب میں ” الجواہرُ السنیّہ فی الاحادیث القُدسیّہ ” اور ” دیوان شعر عربی ” قابل ذکر ہیں ۔
بایئس رمضان کے اہم واقعات
معروف مسلمان محدث اور مفسر ابن ماجہ کا انتقال
22 رمضان المبارک سنہ 273 ہجری قمری کو معروف مسلمان محدث اور مفسر ابن ماجہ کا انتقال ہوا ۔وہ سنہ 209 ہجری قمری میں ایران کے شہر قزوین میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے حدیث کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مختلف اسلامی ممالک کا سفر کیا ۔ابن ماجہ نے علم حدیث میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اپنی مشہور کتاب سنن ابن ماجہ تحریر کی جو اہل سنت کی صحاح ستّہ میں شامل ہے ۔ابن ماجہ کی دیگر اہم کتابوں میں تفسیر قرآن اور تاریخ قزوین قابل ذکر ہیں ۔
عظیم عالم دین الحاج عبدالحسین تہرانی کا انتقال
22 رمضان المبارک سنہ 1286 ہجری قمری کو ایران کے عظیم عالم دین الحاج عبدالحسین تہرانی نے وفات پائي ۔ وہ شیخ العراقین کے نام سے مشہور تھے ۔وہ ایک فقیہ ،محقق ، دانشور اور متقی انسان اور قوی حافظہ کے مالک تھے ۔شیخ العراقین فقہ ، حدیث اور تفسیر قرآن میں انتہائي مہارت رکھتے تھے ۔انہیں مذہبی کتب جمع کرنے کا بہت شوق تھا وہ ایک بڑی لائبریری کے مالک تھے جسے انہوں نے محققین اور اہل مطالعہ کے لئے وقف کردیا ۔
تئیسویں رمضان کے اہم واقعات
احمد بن طولون کی پیدایئش
23 رمضان المبارک سنہ 220 ہجری قمری کو مصر اور شام کے فرمانروا اور خاندان طولونیان کے بانی احمد بن طولون پیدا ہوئے ۔ طولونیان پہلا خاندان تھا جس نے اپنے قلمرو میں شام کو بھی شامل کرلیا ۔اس خاندان کا سلسلۂ نسب طولون نامی غلام تک پہنچتا ہے جسے بخارا کے حاکم نے عباسی خلیفہ مامون کے لئے تحائف کے ساتھ بھیجا تھا ۔اس کے بیٹے احمد طولون نے اپنے خاندان کی حکومت کی بنیاد رکھی ۔اس خاندان نے سنہ 254 ہجری قمری سے سنہ 292 ہجری قمری تک مصر اور شام پر حکومت کی۔
عالم دین جمال الدین خوانساری کا انتقال
23 رمضان المبارک سنہ 1125 ہجری قمری کو عظيم مسلمان عالم دین جمال الدین خوانساری کا انتقال ہوا ۔وہ ایران کے ایک تاریخی شہر اصفہان میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے دور کے معروف دانشوروں سے کسب فیض کیا اور تدریجا” علمی کمالات طے کرتے رہے ۔جمال الدین کو فقہ ، اصول فقہ ، کلام ، منطق ، فلسفے اور تفسیر میں خاص مہارت حاصل تھی اور ان علوم میں وہ استاد مانے جاتے تھے ۔
چوبیس رمضان کے اہم واقعات
شہرہ آفاق طبیب ، ریاضي دان ، فلسفی اورعلم فزکس و نجوم کے ماہر قطب الدین شیرازی کاانتقال
24 رمضان المبارک سنہ 710 ہجری قمری کو ایران کے شہرہ آفاق طبیب ، ریاضي دان ، فلسفی اورعلم فزکس و نجوم کے ماہر ،قطب الدین شیرازی نے تبریز میں وفات پائي ۔وہ خواجہ نصیرالدین طوسی کے شاگرد تھے ۔قطب الدین شیرازی ، پہلے دانشور ہیں ، جنہوں نے قوس قزح کے بارے میں تحقیق کی اور علمی نقطۂ نگاہ سے اس پر بحث کی ۔
انہوں نے منطق ، عرفان اور ہند سے کے علوم اپنے دور کے ممتاز دانشوروں سے حاصل کئے ۔قطب الدین شیرازی نے علم طب میں بھی کافی محنت کی اور کئي سال تک شیراز کے اسپتال میں طبیب اور معالج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔انہوں نے فلسفے ،اصول فقہ اور علم معانی و بیان پر متعدد کتابیں تحریر کی ہیں ، جن میں ابن سینا کی کتاب قانون کی شرح ۔ خواجہ نصیرالدین طوسی کی تحریر اقلیدس کا ترجمہ اور علم نجوم میں نہایَتہ الادراک فی درایت الافلاک کا نام لیا جا سکتا ہے .
پچیس رمضان کے اہم واقعات
فخرالدین رازی کی پیدایئش
25 رمضان المبارک سنہ 544 ہجری قمری کو معروف مسلمان دانشور فخرالدین رازی ایران کے علاقے شہر ری میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنے دور میں رائج بہت علوم میں مہارت حاصل کی اور مختلف مسائل کے بارے میں تحقیقات انجام دیں ۔
فخرالدین رازي کو اپنے دور میں علم کلام میں اہم مقام حاصل تھا انہوں نے اپنے دور کے دانشوروں کی تصانیف کی تصحیح بھی کی ۔ فخرالدین رازي کی اہم کتابوں میں تفسیر الکبیر ، اسرار التنزیل ، جامع العلوم اور مفاتیح الغیب خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
مفسر اور محدث ابن عطیہ کا انتقال
25 رمضان المبارک سنہ 541 ہجری قمری کو مسلمان مفسر اور محدث ” ابن عطیہ ” نے وفات پائي ۔انہوں نے اندلس کے ایک ایسے خاندان میں پرورش پائی جس کے تمام افراد علم و ادب میں بلند مقام رکھتے تھے ۔
اگرچہ ابن عطیہ ایک مفسر اور محدث کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے لیکن بہت سے مورخین نے انہیں فقہ ، اصول فقہ اور عربی ادب کا ماہر قرار دیا ہے ۔ابن عطیہ کی تالیفات میں تفسیر قرآن پر مشتمل ایک کتاب کے علاوہ ” البرنامج ” نامی کتاب خاص طور سے قابل ذکر ہے
چھبیس رمضان کے اہم واقعات
مورخ ، مفکر اور ماہر عمرانیات ابن خلدون کا انتقال
26 رمضان المبارک سنہ 808 ہجری کو مسلمان مورخ ، مفکر اور ماہر عمرانیات ابن خلدون کا انتقال ہوا ۔ان کو فقہ ،حدیث ، عربی ادب اور دینی معارف سمیت اپنے زمانے کے تمام علوم میں مہارت حاصل تھی ۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوتے تو شہر کی جامع مسجد میں درس و تدریس میں مشغول ہوجاتے ۔ابن خلدون نے 43 سال کی عمر میں بہت زيادہ غور و فکر اور مطالعے کے بعد متعدد مسائل پر روشنی ڈالنے کے علاوہ مغربی تاریخ کا کچھ حصّہ تحریر کیا ۔
ابن خلدون نے تاریخی فکر کو ایک نئے مرحلے تک پہنچایا اور واقعات نقل کرنے کی صورت میں تاریخ لکھنے کی روش کو تجزیاتی اور علمی روش میں تبدیل کردیا ۔ابن خلدون کے نظریات کی روشنی میں اسلامی معاشروں کے تاریخی تغییرات کو زيادہ بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے ۔ابن خلدون کی اہم تالیفات و تصنیفات میں خلاصۂ منطق ، مقدمۂ ابن خلدون اور کتاب اَلعبَر و اَلتَعریف کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
عالم دین جمال الدین محمد خوانساری کا انتقال
26 رمضان سنہ 1125 ہجری کو ایران کے ایک عظیم عالم دین جمال الدین محمد خوانساری کا انتقال ہوا ۔وہ ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ایران کے شہر اصفہان میں اپنے تعلیمی سلسلے کا آغاز کیا اور علم کلام ، منطق ، فلسفے ، فقہ ، اصول فقہ اور تفسیر میں مہارت حاصل کی ۔جمال الدین خوانساری نے فقہ اور فلسفے کی بعض معروف کتابوں کی شرح اور ان پر حاشیہ تحریر کیا ۔
ستایئس رمضان کے اہم واقعات
عالم دین علّامہ محمد باقر مجلسی کا انتقال
27 رمضان المبارک سنہ 1110 ہجری قمری کو عظیم مسلمان عالم دین علّامہ محمد باقر مجلسی کا انتقال ہوا ۔انہوں نے اپنی زندگی میں متعدد کتابیں لکھیں جو مسلمانوں کے لئے اہم ترین ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔علّامہ مجلسی دینی علوم اور تدوین حدیث میں مہارت رکھتے تھے وہ دینی علوم کے میدان میں تصنیف و تالیف کے لحاظ سے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز تھے ۔
علّامہ مجلسی نے اپنی پوری زندگی میں نماز جمعہ و جماعت قائم کرنے ، دینی مدارس کی تشکیل ، پیغمبر اسلام (ص) کی احادیث اور اہل بیت (ع) کی روایات کی ترویج کے لئے بہت زیادہ کوشش کی ۔علّامہ مجلسی کی تصنیفات 600 سے زائد بیان کی گئی ہیں جن میں سب سے زیادہ مشہور بحارالانوار ہے ۔
بحارالانوار عربی زبان میں احادیث و روایات کا مجموعہ ہے جسے علّامہ مجلسی نے کئی برس میں جمع کیا ۔علّامہ مجلسی کی دیگر اہم کتابوں میں عین الحیات اور حیات القلوب کانام قابل ذکر ہے ۔
عظیم عالم اور فقیہ ، حسن بن زین الدین کی پیدایئش
27 رمضان المبارک سنہ 959 ہجری قمری کو دسویں صدی ہجری کے عظیم عالم اور فقیہ ، حسن بن زین الدین لبنان میں واقع جبل عامل کے ایک دیہات میں پیدا ہوئے ۔
وہ صاحب معالم کے نام سے معروف ہوئے ۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کی غرض سے حوزۂ علمیۂ نجف تشریف لے گئے ۔ فقہ، اصول فقہ، منطق اور ریاضی جیسے علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹے اور دینی علوم کی تدریس کا آغاز کردیا ۔
اٹھایئس رمضان کے اہم واقعات
منجم اور محدث ابو معشر بلخی کا انتقال
28 رمضان المبارک سنہ 272 ہجری قمری کو ایران کے منجم اور محدث ابو معشر بلخی نے وفات پائی ۔ وہ تیسری صدی ہجری کے اوائل میں بغداد گئے جہاں علم نجوم کی تعلیم حاصل کی اوراس سے متعلق یونانی ، سریانی ،ہندی اور عربی زبانوں کے مختلف مآخذ کا مطالعہ کیا ۔ابو معشر اپنے دور کے معروف ترین مسلمان منجم تھے ۔ ابو معشر نے بہت سی کتابیں تحریر کیں جن میں المدخل الکبیر اور الموالید الصغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
انتسیویں رمضان کے اہم واقعات
عظیم عالم دین محدث اور ادیب علّامہ حلّی جو جمال الدین کی پیدایئش
29 رمضان المبارک سنہ 648 ہجری قمری کو عظیم عالم دین محدث اور ادیب علّامہ حلّی جو جمال الدین کے نام سے معروف ہیں ، پیدا ہوئے ۔ابتدا میں انہوں نے اپنے والد کے پاس رائج علوم سیکھے ۔
اس کے بعد فقہ ،اصول فقہ اور حدیث جیسے علوم میں اعلیٰ علمی درجے پر فائز ہوئے ۔علّامہ حلّی زہد و تقویٰ کے لحاظ سے بہت مشہور تھے ۔مختلف موضوعات پر ان کی پانچ سو سے زائد تصانیف موجود ہیں جن میں ” تذکرہ الفقہا ” اور ” ارشاد الاذہان ” کی طرف خاص طور سے اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
خطیب اور مورخ ابن فرات کا انتقال
29 رمضان المبارک سنہ 807 ہجری قمری کو مصری فقیہ ، خطیب اور مورخ ابن فرات کا قاہرہ میں انتقال ہوا ۔وہ اسی شہر میں سنہ 735 ہجری قمری میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ابتدائی جوانی سے ہی علم کی جستجو شروع کردی ۔انہیں تاريخ میں بے حد دلچسپی تھی اسی لئے ہمیشہ تاریخی مسائل کو قلمبند کرنے میں مصروف رہے ۔اسی حوالے سے ان کی معروف کتاب ” تاریخ الدول و الملوک ” جو تاریخ ابن فرات کے نام سے بھی معروف ہے ۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں چھٹی سے آٹھویں صدی ہجری تک کے حالات و واقعات کو لکھا ہے ۔ابن فرات نے اپنی کتاب تاریخ میں برسوں کے اعتبار سے حالات و واقعات کو قلمبند کیا ہے اور ہر سال کےاختتام پر بڑی شخصیات کی تاریخ وفات کا اضافہ کیا ہے ۔ابن فرات کی دیگر کتابوں میں ” السماء الصحابہ ” اور ” تاریخ العباد و البلاد ” کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے