بلوچستان کا 36 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش

کوئٹہ: بلوچستان کا آئندہ مالی سال 17-2016 کے لئے 36.485 ارب روپے کے خسارے کا 2 کھرب 86 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غیر ترقیاتی منصوبوں کیلئے 218.174 ارب روپے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے 30 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ عوامی شعبے کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 71.485 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔

انھوں نے اراکین بلوچستان اسمبلی کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کے لیے 15 فیصد اضافے کے ساتھ 28.93 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس میں نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے رقم کو 5 ارب سے بڑھا کر 6 ارب روپے کردیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بجٹ میں صحت کیلئے 17 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جس میں سے 149 کروڑ سے زائد کی رقم غذائیت کے حوالے سے مختص کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے بجٹ میں غریب اور نادار افراد کو ادویات کی مفت فراہمی کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

انھوں نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ بلدیات کیلئے 5 ارب روپے کی رقم مختص گئی ہے۔

اس کے علاوہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے لیے 7 ارب 40 کروڑ 20 لاکھ روپے اور ماہی گیری کے شعبے کے لیے 83 کروڑ 97 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے اراکین صوبائی اسمبلی کو بتایا کہ جرائم پر قابو پانے کے لیے خاطر خواہ قانون سازی کی گئی ہے تاہم رواں مالی سال کے بجٹ میں اس میں اضافہ نہیں کیا گیا اور بجٹ میں امن و امان کے قیام کیلئے 30 ارب روپے مختص ہیں۔

ثناء اللہ زہری کا کہنا تھا کہ جرنلسٹ انویسٹمنٹ فنڈ 2 کروڑ سے بڑھا کر 20 کروڑروپے کردیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ مالی سال 17-2016 کے بجٹ میں تعلیم، صحت، امن و امان کے قیام، مواصلات اور زراعت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

ثناء اللہ زہری نے بتایا کہ پاکستان کی ترقی میں بلوچستان نہایت اہمیت رکھتا ہے، بلوچستان کی ساحلی پٹی ترقی کے ساتھ تجارت کا مرکز بن رہی ہے، مخلوط حکومت کے اقدامات کے ثمرات ترقی کی صورت میں نظر آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کرپشن کے خلاف مؤثر مہم شروع کی گئی ہے، عام آدمی کے مسائل کو مدنظر رکھ کر بجٹ ترتیب دیا گیا۔

ثناء اللہ زہری نے کہا کہ تعاون اور رہنمائی پر اتحادی جماعتوں کے شکر گزار ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہ داری کے عظیم منصوبے کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ان کے مطابق حکومت صوبے کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ہرممکن کوششیں کررہی ہے اور فنی تعلیمی اداروں کو نجی سیکٹر کے تعاون سے فعال بنایا جارہا ہے۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کی صدارت میں صوبائی کا بینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال 17-2016 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے