پاناما لیکس : اپوزیشن اور حکومت ، مکمل کہانی کیا ہے ؟

متحدہ اپوزیشن نے وزیر اعظم سمیت پانامہ پیپرز میں شامل 400 سے زائد افراد کے بلا تفریق احتساب کے لیے 6 نکات پیش کر دیے۔

اپوزیشن کی 9میں سے5جماعتوں نے عید کے بعد مشترکا احتجاج کی دھمکی بھی دے دی، اعتزاز احسن کہتے ہیں کوشش ہوگی کنٹینر ایک ہی ہو، تیسری قوت کی مداخلت کا کوئی امکان نہیں۔

متحدہ اپوزیشن نے مشترکہ پریس کانفرنس میںمطالبات کیے ہیں کہ حسین نوازنے خود اپنی اربوں روپے کی پراپرٹی کا رازافشا کیا، ایسا قانون اور ضابطہ ہوجس میں سب کی تحقیقات یکساں ہو،وزیراعظم کا کوئی استثنیٰ نہ ہو،جس کا نام پاناما میں آیا،اس کے قریبی رشتےداروں کے مختارنامے لیے جائیں،مختارناموں کے ذریعے ان افراد کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل ہونی چاہیے،اگرکوئی اپارٹمنٹ خریدا گیاتومختارنامہ دیا جائے کہ کس سے خریدا، مالیاتی کرائم کے لیے خصوصی قانون بنایا جائے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایک نکتےپربات بگڑنےکاحکومتی تاثردرست نہیں،اپوزیشن6نکات پرغیرجانبدارانہ تحقیقات چاہتی ہے اور سب متحد بھی ہیں،سب کےلیےایک ہی کسوٹی قائم کرنےکےخواہاں ہیں،بےلاگاحتساب کرنا مقصدہے تو کسی کو استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے،حکومت گرداڑاناچاہتی ہےتاکہ اصل بات سامنےنہ آئے۔

اپوزیشن رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم خود سے احتساب کا آغاز کر کے اپنےآپ کوکلیئرکرلیں۔

[pullquote]ہمارے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا، رحمان ملک
[/pullquote]

پیپلزپارٹی کے رہنما رحمان ملک کا کہنا ہے کہ ہم ہی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہیں، سب سن لیں کہ ہمارے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا، اپوزیشن لیڈر ہمارا ہے، ہم ہی لیڈ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن آپس میں مل کر کسی ایک کو ٹی او آر کمیٹی کاسربراہ بنا دے، باہمی طور پر ٹی او آر کمیٹی کا سربراہ نہیں بناسکتے تو باہر سے کسی کو رکھ لیں۔

رحمان ملک کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کے دو ستون ہیںاور وہ دونوں یہ نہ طے کرسکے کہ ٹی او آر کیا ہونے چاہئیں،مگر وہ یہ نہ طے کرسکے کہ ٹی او آر کیا ہونے چاہئیں،سیاسی فضا خراب ہوچکی ہے، جسے ہم سیاستدان ہی خراب کررہے ہیں،حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کے دو ستون ہیں۔

[pullquote]بعض جماعتیں صرف نواز شریف کا احتساب چاہتی ہیں،سراج الحق
[/pullquote]

جماعت اسلامی کے امیر سینیٹرسراج الحق کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں صرف نواز شریف کا احتساب چاہتی ہیں جبکہ حکومت کہتی ہے کہ نواز شریف کا نہ ہو، باقی سب کا احتساب ہو۔

جماعتِ اسلامی کےامیرسینیٹرسراج الحق نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ اور سابق دونوں حکومتوں کا احتساب چاہتے ہیں، عید کے بعد راولپنڈی میں کرپشن کے خلاف مارچ کریں گے،جس میں آئندہ کا لائحہ عمل بھی دیں گے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس پر کمیشن بنانے کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا،حکومت سنجیدہ نظر نہیں آرہی، سنی ان سنی کر رہی ہے ،لگتا ہےحکومت اپنے احتساب کے لئے تیار نہیں۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ عوام میں کرپشن کےخلاف شعوربیدارہوچکا ہے، وہ راولپنڈی میں حکومت کے کان کے قریب نعرے لگانا چاہتے ہیں تاکہ وہ سن لے۔

[pullquote]پی ٹی آئی کا وزیر اعظم کیخلاف برطانیہ میں کیس کرنے کا فیصلہ
[/pullquote]

برطانیہ میں اثاثے رکھنے پر تحریک انصاف نے وزیر اعظم کے خلاف برطانیہ میں مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے، کیس لندن ہائی کورٹ میں درج کرایا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے رہنما ولید اقبال نے جیو نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ تحریک انصاف برطانیہ میں شریف فیملی کے اثاثوں کی تفصیلات پاناما لیکس میں سامنے آنے پرلندن میں ان پر کیس دائر کرے گی اور اس کے لیے پی ٹی آئی برطانیہ کے رہنماؤں نے 3 لاکھ پونڈ کی رقم جمع کرلی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کیس کی پیروی کے لیے سینئر برطانوی قانون دانوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی، اس سلسلے میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے مزید رقم دینے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

[pullquote]اپوزیشن کے15 سوالات پر بات آگے نہیں بڑھی، سعد رفیق
[/pullquote]

وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے15سوالات پر بات آگے نہیں بڑھ سکتی، حکومت کی کنپٹی پر احتجا ج کی بندوق رکھ کر بلیک میل نہ کریں۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومتی وزراء کے ساتھ وفاقی وزیر سعد رفیق کا کہنا ہے کہ پہلے تحقیقات وزیر اعظم کی ہو یا کسی اور کی، یہ فیصلہ کرنا انکوائری کمیشن کا کام ہے ، اپوزیشن کا نہیں، اپوزیشن کے15سوالات ملزم پر جرح جیسے ہیں، پاناما پیپرز کی آڑ میں ن لیگ کی ٹارگٹ کلنگ کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور اعتزاز احسن کے سوالات ڈکٹیشن ہیں اور جمہوریت میں ڈکٹیشن نہیں چلتی ،حکومت ٹی او آر کے لیے1956کے قانون میں ترمیم پرتیار ہے، لیکن اپوزیشن کنپٹی پر احتجا ج کی بندوق رکھ کر بلیک میل نہ کرے، اپوزیشن کے ٹی او آر میں وزیر اعظم کی وضاحت کرتے ہوئے نواز شریف کا نام لکھا جاتا ہے کیا نواز شریف سے پہلے کوئی وزیر اعظم نہیں رہا۔

سعد رفیق نے کہا کہ اپوزیشن کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے والی جماعتوں کے مشکور ہیں ،سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن آصف علی زرداری سیاست کو سمجھتے ہیں اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اختلافات کے باوجود کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھائے گی کہ جمہوریت کو نقصان پہنچے۔

وزیر مملکت انوشہ رحمن نے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں ہمیں ٹی او آر بتانےوالے، اپوزیشن اپنی حد میں رہے، ہمارا سگا بننےکی کوشش نہ کرے، برا بھلا سمجھتے ہیں۔

وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ حکومت صرف پاناما پیپرز نہیں اس کے علاوہ بھی آف شور کمپنیوں اور بیرون ملک اثاثوں کی تحقیقات کا قانون لانا چاہتی ہے تاہم اپوزیشن چاہتی ہے صرف پاناما پیپرز پر فوکس کیاجائے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے