نیو گریٹ گیم، اس کے کھلاڑی اور پاکستان

گزشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم کے دورہ ایران ، بھارت ایران اور افغانستان کے مابین ہونے والے چاہ بہار بندرگاہ ، بھارت کی وسط ایشیاء تک رسائی کے لئے ہونے والے معاہدوں نے ایک طرف تو پاکستان میں کچھ بے چینی کی فضا قائم کی تو دوسری جانب بھارتی میڈیا اسے اپنی حکومت کی بہت بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنے میں جت گیا، اس سارے معاملے کا اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ صرف گیدڑ بھبھکی سے زیادہ کی حیثیت (تجارتی اعتبار سے ) نہیں رکھتا جس انداز سے اسے بھارتی میڈیا میں پورٹریٹ کیا جا رہا ہے۔

سب سے پہلے اس منصوبے کا ایک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں، منصوبہ یہ ہے کہ بھارت ایران میں ایک خطیر مالیت کی سرمایہ کاری کرکے چاہ بہار کی بندرگاہ کی تعمیر میں مدد مہیا کرے گا جس کے بعد بھارت کو اس بندرگاہ میں کچھ گھریلو حقوق حاصل ہو جائیں گے یعنی بھارت کو تجارتی سہولیات میسر ہو جائیں گی ، اس کے بعد بھارت چاہ بہار سے افغان سرحد تک ایران کی مدد سے ایک راہداری کی تعمیر کرے گا ، اور افغانستان میں ایران سرحد سے وسط ایشیائی سرحد تک اسے وسعت دے گا ، اس سارے سلسلے میں پیسہ 500ملین ڈالر بنیادی طور پر بھارت لگائے گا جبکہ جگہ اور بندرگاہ افغانستان اور ایران مہیا کریں گے۔

اس معاہدے کو بھارتی میڈیا کچھ اس طرح پوٹریٹ کر رہا ہے کہ بھارت اپنی مصنوعات کے لئے ایرانی بندرگاہ کے ذریعے وسط ایشیاء سے براہ راست منسلک ہو جائے گا اور اس طرح اس کی چین یا پاکستان پر انحصار کی کیفیت ختم جبکہ ایک بڑی تجارتی منڈی بھی میسر آجائے گی ۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو 66 سے 70 ملین کی کل آبادی والا وسط ایشیاء کسی بھی لحاظ سے اتنی بڑی انوسٹمنٹ کے بعد کی بڑی منڈی نہیں ہو سکتا ، اس لئے بھارت جتنی سرمایہ کاری کر رہا ہے اس کا نصف بھی اس مارکیٹ سے وہ حاصل نہیں کر سکتا جس کے بلند بانگ دعوے بھارتی میڈیا چیخ چیخ کے کر رہا ہے ۔

اس کے علاوہ بھارت بھارت اگر یہی تجارت بذریعہ چین کرے تو اس کا فاصلہ انتہائی کم رہ جاتا ہے اور اس صورت میں اس کے منافع کمانے کے کچھ امکانات ہے ، چین کے ساتھ بھارتی تجارتی تعلقات اتنے ہیں کہ وہ اس منصوبے پر کام کر سکتا ہے ۔ اگر اس کا موازنہ پاک چائنہ راہداری سے کیا جائے تو بنیادی فرق یہ ہے کہ یہ راہداری بحیرہ عرب سے سنٹرل ایشیاء کے لئے نہیں بلکہ یہ چین سے براستہ پاکستان بحیرہ عرب اور وہاں سے یورپ ، خلیج اور افریقہ کے لئے ہے جو بہرحال بہت ہی منافع بخش منصوبہ ہے اسی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل بھی ۔۔۔

اقتصادی جائزہ کے بعد اب آتے ہیں اس معاہدہ کی سیاسی اور سٹرٹیجک اہمیت کی جانب ، اس سلسلے میں ہونے والی گزشتہ دنوں میں ایک کانفرنس میں پاکستان کے دو سابق وزارت دفاع کے سیکرٹریز پاکستان کے لئے براہ راست خطرہ قرار دیتے ہیں ، اور اگر اس کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو صورتحال بہت گھمبیر نظر آتی ہے ، جیسے جنوبی بھارت کی ایک لمبی دم بحیرہ عرب میں بین الاقوامی پانیوں کے قرب میں ہے ، وہاں سے یعنی ممبئی کی بندرگاہ سے لے کر جب چاہ بہار کی بندرگاہ تک ایک تجارتی راستہ بنایا جائے تو وہ براہ راست پاکستان کے سمندری علاقوں کا محاصرہ بن جائے گا ، جن میں گوادر جیسی اہم ترین لوکیشن بھی شامل ہے ۔ وہاں سے ایران کے راستے افغانستان اور سنٹرل ایشیاء جانے سے پاکستان کو چین کے ساتھ ملنے والے ایک 523 کلومیٹر کے علاوہ باقی ہر طرف سے بھارت گھیر لے گا ،اور اس کے بعد کی صورتحال کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں ۔۔۔
بین الاقوامی طور پر یہ تمام چالیں ایشیاء کی مشہور گریٹ گیم کے تسلسل کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں ۔

جس میں برطانوی گریٹ گیم کے بعد امریکی نیو گریٹ گیم اور اس سے جنم لیتی ایک تازہ منی گریٹ گیم کی اصطلاحات بھی استعمال کی جارہی ہیں ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے بھارت اس وقت اس طرح کی چالیں صرف منی گریٹ گیم میں اپنی برتری حاصل کرنے یعنی علاقہ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے چل رہا ہے ، امریکہ اور بھارت براہ راست پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈور کی مخاالفت اور اس پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں ،اقتصادی راہداری کے علاقے میں امریکی ڈرون کا ڈرامہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ، امریکہ اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات جن پر وزارت خارجہ کی جانب سے ایک دلچسپ بیان سامنے آیا کہ ہم نے تو امریکہ کے ساتھ تعلقات بڑھا کر اس کے نتائج بھگت لئے اب بھارت بھی اپنا شوق پورا کر دیکھے ، امریکہ کی جانب سے بھارت کی نیوکلئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے لئے کھلم کھلا لابنگ ، افغانستان کی جانب سے پہلے انگوراڈا اور پھر طورخم پر سرحدی کشیدگی اور پنگے بازیاں اور سہہ ملکی معاہدہ بھی اسی منی گریٹ گیم کا حصہ ہیں ۔۔۔۔!!!

دوسری جانب پاکستان بھی تمام صورتحال میں خاموش نہیں ہے ، اللہ کریم کی مہربانی سے پاکستان ہر دور میں چھپے یا ظاہر ایک گوہر نایاب سے نوازا جاتا ہے جو اس قسم کی صورتحال میں ملک کے لئے چٹان بن جاتا ہے، سب سے پہلے اس معاہدے کے فوراً بعد ایرانی سفیر کی پاکستانی حکام سے ملاقات ہوتی ہے جس میں وہ چاہ بہار منصوبہ میں شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے گوادر اور چاہ بہار کو ملانے کے لئے ایک الگ منصوبہ کی پیش کش بھی کر دیتے ہیں جو بھارت کے لئے اچھا خاصا ہولناک ہو گا ،چینی سفیر کی پاکستان میں مصروف ترین ایام کے بعد بھارت کا ایٹمی سپلائرز گروپ میں شمولیت کا خواب چین کے ویٹو کے بعد چکنا چور کر دیا جاتا ہے۔

17 مئی کو آرمی چیف کے دورہ چین کے ٹھیک چار دن بعد 21 مئی کو ڈرون حملہ کر کے ملا منصور کی ہلاکت کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے ، جس پر جنرل راحیل شریف نے سخت ترین رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بیان دیا کہ اس واقع کے لئے مذمت بہت چھوٹا لفظ ہے ، اس پیغام میں مخاطب امریکہ اور سیاسی قیادت دونوں تھے ، سیاسی قیادت سے براہ راست اس سلسلے میں فوج کو سیاسی سپورٹ کرنے اور قانون سازی کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فورم پر اس معاملے کو اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ۔اس کے چند ہی روز بعد 8 جون کو ہونے والی ایک ملاقات میں جنرل راحیل شریف کی 4 امریکی سفیر سمیت اعلیٰ فوجی و سول حکام کو براہ راست یہ پیغام دینا کہ اب ڈرون حملہ ہوا تو امریکہ یہ شکایت نہ کرے کہ سپر پاور کی بے عزتی ہوگئی ۔

اس کے دو ہی دن بعد چین کے وزیر خارجہ نے انتہائی سخت بیان جاری کیا کہ دنیا (امریکہ بھارت افغانستان) کو پاکستان کی خودمختاری اور قومی سلامتی کا احترام کرنا چاہیے، اس کے ساتھ ہی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے حکام کی جی ایچ کیو میں اعلیٰ فوجی قیادت کے ساتھ دو روز تک ہونے والی میٹنگز میں جو جھاڑ پلائی گئی اس کے بعد یہ دونوں وزارتیں بھی جاگ اٹھیں اور تاریخ میں شاید پہلی بار تیرہ جون کو پاکستانی مشیر خارجہ یہاں تک تک کہہ گئے کہ
"اگر امریکہ نے پاکستان کو ڈی سٹیبلایز کرنے کی کوشش کی تو پورے خطے کے امن کو خطرہ ہو جاے گا اور ایسی صورت حال میں پاکستان کے ہاس نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے علاوہ کوی آپشن نہیں ہے”

جبکہ افغان پنگے بازی کے بعد آرمی چیف کی ڈرون سمیت نیٹو کے طیاروں اور فوج تک کے بارے میں ہدایات جاری کرنا کہ ان میں سے کوئی بھی جارحانہ انداز میں پاکستان کی سرحد کے قریب بھی آئے تو آگے بڑھ کر ان پر حملہ کر دیا جائے اور 15 جون کو شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کا واضح بیان کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغان اور امریکی افواج نے تعاون نہیں کیا ، بہت سخت نوعیت کے اقدامات ہیں ۔

یہ سب اس کمٹمنٹ کو ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ہر صورت میں کامیاب اور مکمل بنانا ہے اور اس سلسلے میں براہ راست امریکہ کی آنکھوں میں بھی آنکھیں ڈال دی گئی ہیں ، جس کے اثرات گزشتہ کافی عرصے سے امریکی غصے کی صورت میں کبھی ایف سولہ معاہدے کی منسوخی ، کبھی بھارت کے ساتھ معاہدوں اور کبھی بھارت کی ایٹمی سپلائرزر گروپ میں شمولیت کے لئے کی جانے والی لابنگ کی صورت میں سامنے آتی رہی ہے ۔ اس تمام تر صورت حال میں اس وقت گریٹ گیم کا جو نقشہ نظر آتا ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ

امریکہ علاقے میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے , دلائی لامہ کے ساتھ ملاقات سمیت چین کا مقابلہ کرنے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے گیے ہیں اور بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا کر بھارت کو علاقے کی منی سپر پاور بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے ، دوسری جانب ایران سے تعلقات بڑھائے جا رہے ہیں ۔

مگر اس گریٹ گیم میں ایک بہت ہی مضبوط کھلاڑی فی الحال خاموش ہے اور وہ ہے روس، روس کی جانب سے ابھی کسی بھی کیمپ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکا اور قوی امکان یہی ہے کہ روس وسط ایشیائی ریاستی میں اپنے اثر رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس گیم کر اپنا الگ سے تسلط قائم کرنے کے لئے بطور ایک الگ کھلاڑی کے خود کو سامنے لانے کی تیاری کر رہا ہے ۔

جب کہ بھارت امریکہ داد و تھپکی حاصل کرنے کے بعد پورا زور لگا کر اپنی چالیں چل رہا ہے جو کے متواتر اور بتدریج ناکام ہو رہی ہیں ،
ایران اور افغانستان اس وقت صرف مہروں کی صورت استعمال ہو رہے ہیں۔ ایران ہر سمجھدار ملک کی طرح اپنا فائدہ دیکھ رہا ہے… اس لئے اس وقت وہ امریکہ کے گروپ میں ہے کیونکہ فی الحال اس کو فائدہ اسی گروپ سے حاصل ہونے کی امید ہےجیسا کہ اقتصادی پابندیوں سے نجات اور دنیا سے کٹے ہوئے تجارتی روابط کی بحالی وغیرہ۔
لیکن جس طرح پاکستان امریکی اتحادی ہوتے ہوئے بھی چائنہ کے ساتھ بہت سے مفادات شیئر کرتا رہا ہے اور یہاں تک کہ تاریخ میں اس وقت امریکہ سے سخت ترین اختلافات کے دور میں بھی چین کی مدد سے کھڑا ہے عین اسی طرح ایران کی بنیادی اور اولین ضرورت و ترجیح علاقائی طور پر مضبوط کیمپ میں جانا ہے…
موجودہ صورت حال میں امریکہ تین اطراف سے ایران کے گرد موجود ہے مگر وہ ہے بالآخر اس علاقے سے باہر کا لہذا اسے جانا ہی ہے تو الٹیمیٹلی ایران کو مقامی مضبوط طاقت کا سہارا چاہئے اس کے لئے چین سے بہتر آپشن موجود نہیں ہے اور چین سے تعلقات کے لئے پاکستان اور گوادر ناگزیر ہیں۔ جبکہ چاہ بہار اور گوادر کے آپس میں مواصلاتی طور پر جڑ جانے سے ایک تو بھارتی محاصرہ ٹوٹے گا، دوسرا ایران اپنے درج بالا مقاصد حاصل کر سکے گا، اس کی تجارت کے راستے کھل جائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے چاہ بہار میں بنیاد سٹیک ہولڈر بن جانے سے خطے سے بھارت کا اجارہ داری پیدا ہونے کے جو امکانات ہیں وہ بھی زائل ہو جائیں گے۔
اس ریجنل گریٹ گیم کے بنیادی اور ایکٹیو کھلاڑی پاکستان چین اور بھارت ہی ہیں جو اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں جس میں چین اپنے سپر پاور ہونے کا بارہا غیر اعلانیہ مظاہرہ کر چکا ہے ۔۔۔!!!
جبکہ پاکستان اپنی سٹرٹیجک اہمیت کی باعث بہت مضبوط پوزیشن میں ہے ، جس کا توڑ بھارت مختلف چالوں کے ذریعے کرنے کی کوششیں کر رہا ہے ۔

لہذا حالات و واقعات تیزی سے اس گریٹ گیم کا نقشہ واضح کرتے چلے جا رہے ہیں ، اور اگر صورتحال ایسی ہی رہی جیسا کہ اس وقت نظر آرہی ہے تو مستقبل میں پاکستان کی پوزیشن انتہائی مضبوط نظر آتی ہے کیونکہ پاکستان اور چین مل کر تقریباً ہر چال کا علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بہت خوب توڑ کر رہے ہیں ، اور اگر پاکستان نے چاہ بہار منصوبہ میں شمولیت اور چاہ بہار کے گوادر کے ساتھ مواصلاتی رابطہ کے ذریعے اقتصادی راہداری کے ساتھ کنکشن کا فیصلہ کر لیا تو ایک بار پھر بھارت کے ساتھ ساتھ افغانستان اور ایران بھی پاکستان کے براہ راست دباؤ میں آجائیں گے جس کے بعد ان ممالک کی جانب سے شرارتوں کی امکانات کم سے کم ہو جائیں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اور چین اس سلسلہ میں کیا اقدام کرتے ہیں اور اگر پاکستان اسی انداز میں آگے بڑھتا رہا اور کوئی اندرونی یا بیرونی رکاوٹ راستے میں حمائل نہ ہوئی تو ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ایک ولی اللہ کے بقول پاکستان کی ہاں اور نہ میں اقوام عالم کے فیصلے ہوا کریں گے ۔۔۔۔!!!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے