مظفرآباد میڈیکل کالج میں پولیس کا احتجاج کرنے والے طلبہ پر تشدد

آزادکشمیر کے دارلحکومت مطفرآباد میں قائم میڈیکل کالج کے طلبہ پر پو لیس نے شدید لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں پانچ طلبہ زخمی ہو گئے ۔

آئی بی سی ذرائع کے مطابق میڈیکل کالج کے طلبہ نے انتظامیہ کی جانب سے امتحانات کے نتائج میں غیر ضروری تاخیر اور کچھ طلبہ کو ضمنی امتحان میں شریک ہو نے کی اجازت نہ دینے اور پرچوں کی ری چیکنگ نہ کرنے کے خلاف ہڑتال کی تھی ۔ انتظامیہ نے

سراپا احتجاج طلبہ پر تشدد کا حکم ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمن نے دیا
سراپا احتجاج طلبہ پر تشدد کا حکم ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمن نے دیا

صورت حال کو بھانپتے ہوئے پولیس کی مدد طلب کی ۔پولیس اور طلباء کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ سکے تو ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمٰن نے پولیس کو طاقت کے استعمال کا حکم دے دیا ۔

آئی بی سی اردو کو موقع پر موجود ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ ضلع مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمان بھی میڈیکل کالج کے طلباء اور پولیس کے تصادم کے دوران وہاں موجود تھے۔ عینی شاہد نے بتایا ہے کہ

پولیس نے طلباء پر آنسو گیس شیل بھی فائر کیے
پولیس نے طلباء پر آنسو گیس شیل بھی فائر کیے

جب ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمان نے پولیس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیل فائر کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے پولیس کو یہ بھی حکم دیا کہ میڈیا کے نمائندوں کو بھی موقع سے دور بھگائیں ۔

پولیس نے صحافیوں کو موقع سے دور کرنے کے لیے ان پر تشدد کیا اور انتہائی نازیبا قسم کی گالیاں بھی دیں۔ ایک صحافی نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر مسعودا لرحمان نے صحافیوں کے ساتھ انتہائی تحقیر آمیز رویہ اپنایا ۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے طلباء کو تشدد کے ذریعے پیچھے دھکیلا ۔ کچھ طلباء ہاسٹل میں پناہ لینے کے بھاگے تو پولیس نے ان کا تعاقب کیااور

ایس ایچ او راشد حیبیب مسعودی دو طلبہ کو گرفتار کر لے جا رہے ہیں
ایس ایچ او راشد حیبیب مسعودی دو طلبہ کو گرفتار کر لے جا رہے ہیں

وہاں بھی آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس ہنگامے میں 5طلباء کے ساتھ ساتھ اتنی ہی تعداد میں پولیس اہلکار بھی زخمی ہو ئے ہیں ۔

مظفرآباد میڈیکل کالج کے طلباء اور انتظامیہ کے تصادم کے دوران صحافیوں پر کیے جانے والے تشدد کے خلاف مظفرآباد کی صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج ہو گئیں اور سنٹرل پریس کلب میں تمام صحافتی تنظمیوں کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ یہ آزادکشمیر کے آمدہ الیکشن میں صحافیوں کو دور رکھنے کی ایک گھناؤنی سازش ہے ۔اس اجلاس میں ضلعی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر کا پریس کلب میں داخلہ بھی بند کرنے کا فیصلہ ہوا۔

آخری اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمان نے بعد میں پریس

پولیس نے صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا
پولیس نے صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا

کلب میں صحافی رہنماؤں کے سامنے موقف بدلتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے طلباء پر تشدد کا حکم نہیں دیا ہے ۔

دوسری جانب ایک ٹی وی چینل پر چلنے والی فوٹیج میں ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمان کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ایک طالبعلم کو تھپڑ رسید کر رہے ہیں جبکہ اسے دو پولیس اہلکاروں نے بازوؤں سے پکڑا ہوا ہے ۔

سنیئر صحافی اور روزنامہ دومیل کے ایڈیٹر راجہ شجاعت نے آئی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس واقعے سے ضلعی انتظامیہ کی

مظفرآباد میڈیکل کالج میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے
مظفرآباد میڈیکل کالج میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے

نااہلی کھل کر سامنے آ چکی ہے ۔ رمضان المبارک کے مہینے میں شہر میں ناجائز منافع خوری کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ ان کے خلاف تو ڈپٹی کمشنر کچھ بھی نہیں کرتے لیکن میڈیکل کالج کے طلباء پر تشدد کرنے میں انہیں کوئی تردد نہیں۔‘‘

صحافی راجہ شجاعت نے مزید کہا کہ’’ صحافیوں پر تشدد کا حکم دینا انتہائی شرمناک فعل ہے اور یہ آزادکشمیر کے آمدہ الیکشن میں انہیں غیر جانب دار اور شفاف کوریج سے روکنے کی سازش معلوم ہوتی ہے ۔‘‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے