خون ارزاں اور طویل خاموشی

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا ۔۔۔ خون ٹپکا، جم گیا ، اور وہ امر ہو گیا ، مقرب فرشتہ فرستادہ بن کر آیا اسکو ساتھ لے گیا کہنے لگا جن کو امر ہونا ہوتا ہے ان خاک نشینوں کو ہمارے ساتھ ہمارے مولا و آقا اور نیبیوں کے سردار کی بارگاہ میں حاضری دینا ہوتی ہے ، آقا و مولا کا نام سنتے ہیں آنکھ بھر آئی ، دل مچل گیا ،لیکن پریشان ہو گیا سوچا آقا کی بارگاہ میں حاضری ہے کیا تحفہ لے جاوں کہ آقا اپنے اس گنہگاہ کو سینہ سے لگا لیں ، یہاں خیال آیا وہاں قبولیت کی گھڑی تھی دعا قبول ہوئی ، سجدوں میں جھکی پیشانی اور آقا کی محبت سے سرشار دل پر دشمن خدا کی طرف وار ہوا ،جیسے ہی پیشانی اور سینے پر نشان لگا خوش ہوگیا کہا اب سید و سردار کی بارگاہ میں حاضری کے قابل ہو گیا ، امجد صابری سمجھ دار انسان تھا ، سچے دل والا تھا ، عاشق تھا، سو چل پڑا اسی مقرب فرشتہ کے ساتھ کہا اب لے چلو آقا کی بارگاہ میں ،،،، پاکستان کی آواز عظیم قوال امجد صابری تو اس دنیا سے منہ موڑ گئے لیکن ان کا خون کس کی گردن پر ہے اس کا سوال کا جواب ابھی باقی ہے ، کس جرم کی پاداشت میں انکا خون بہایا گیا ؟ کس کے ہاتھوں پر انکا خون تلاش کیا جائے ؟ کون ہے اس بہیمانہ قتل کے پیچھے ؟ اور سب سے بڑھ کر آخر کب تک بے گناہ خون بہتے رہے گیں لوگ مرتے رہے گے ، مائیں بیٹّوں سے کے غم میں اور بہنیں بھائیوں کے غم میں آخر کب تک روتی رہیں گی ، جوانوں کے لاشوں کو بوڑھے اور بوڑھوں کے لاشوں کو آخر کب جوان اٹھاتے رہے ہیں ، اور حد تو یہ ہے کہ لاشیں اٹھانے والی عوام آواز اٹھانے کی کب جرات کرے گی ؟
ویسے تو پورا ملک ہی دہشتگردی کا شکار ہے لیکن کراچی سب سے زیادہ متاثرہ ہوتا چلا آرہا ہے ، پچھلے 30 سالوں سے کراچی جل رہا ہے ، کراچی میں دہشتگردی کا الزام دہشتگردی تنظیموں ، سیاسی جماعتوں اور ہمسائہ ممالک کے سر رہا ہے لیکن خون کی چلنے والی ہولی ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ، حکومتیں آتی رہیں اور جاتی رہی لیکن کراچی کے حالات بد سے بد تر ہوتے چلے گئے ، حالیہ حکومت نے کراچی کی روشنیاں لوٹانے کے خاطر خواہ انتظامات اٹھائے ، کراچی میں رینجرز کو دہشتگردوں کے مقابلے میں کھلی چھٹی دی گئی ، رینجرز نے بھی جی بھر کر چھاپے مارے گرفتاریاں کی دہشتگروں کے سرغنوں کو پابند سلاسل اور کچھ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا لیکن عجب آپریشن کی غضب کہانی ہے کہ 3 سال گزرنے کے باوجود آ ج بھی دہشت گردوں کے وار جاری ہیں کسی کو قتل تو کسی کو دن دھاڑئے اغوا کیا جاتا ہے اور قانونی نافذ کرنے والے ادارے سر توڑ کوشش کے بعد گاڑیوں اور قاتلوں کی صرف سی سی ٹی وی فوٹیج ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہو تے ہیں ، حکومت اور قانونی نافذ کرنے والے ادارے کب ایسے افراد کے خلاف کاروائی کریں گے جو ان کرایے کے قاتلوں کو ایسی کاروائیوں کے لئے مالی امداد کے ساتھ ساتھ انکی ذہنی معذوری سے بھی فائدہ اٹھا تے ہوئے ان کو عوام کے خلاف استعمال کرتے ہیں
رہی بات عوام کی تو بچاری مظلوم عوام ، مجبور عوام ، لاچار عوام ، بے حال عوام تاحال عوام ، اس عوام کا تو اللہ ہی حافظ ہے جنازے اٹھانے ، دھرنے دینے ، احتجاج کرنے ، شمعیں روشین کرنے اور مگر مچھ کے آنسو بہانے میں اس عوام کا کوئی ثانی ہی نہیں لاشیں اٹھانے والی اس عوام سےکوئی پوچھے آواز کب اٹھاو گے تو جواب ایک لمبا جواب ملے گا آپ کو اور وہ جواب ہے لمبی خاموشی اور ایسی خاموشی کے جیسے سر پر کوئی کوآ بیٹھا ہے بولے یا ہلے تو اڑ جائے گا،اور خدا وند کریم بھی اس قوم کی حالت کیسے بدلے گا جو لاشیں اٹھانے میں متحد اور آواز اٹھانے میں منتشر نظر آتی ہے ، اور پھر یہ بھولی بھالی عوام کا معصومانہ سوال بھی دیکھئے پوچھتے ہیں آخر کب تک ہم لاشیں آٹھاتے رہے گیں ،، کوئی ان کو جھنجھوڑے اور بتلائے کہ لاشیں تب تک اٹھتی رہیں گی جب تک عوام خاموش رہے گی،، اور کوئی غلطی فہمی میں نہ رہے کہ یہ معقولہ سچ ثابت ہوگا کہ ہر خاموشی ایک طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے ، یہ خاموشی طوفان بے حسی کا پیش خیمہ ثابت ہو چکی ہے۔

کچھ مصنف کے بارے میں: وقار حیدرنوجوان صحافی اور نو آموز لکھاری ہیں۔ چینل 24 میں بطور نیوز ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے