حکمرانوں کے لیے قانون موم کی ناک

پاکستان کے حکمرانوں کے لیے قانون کس طرح موم کی ناک بن چکا ہے اور قانون کے دائرے میں رہ کر کس طرح کرپشن کرتے اور غلط اور غیرقانونی کام کو قانونی بنا کرپیش کرتے ہیں اس کی مثالیں تو بے شمارہیں لیکن کسی وزیر یا حکومت کے ذمہ دار فرد کی طرف سے اس قسم کے ’’محفوظ جرم ‘‘ کا اعتراف کرنا بڑی بات ہے ۔اور یہ اعزاز وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے چہیتے منسٹر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کے حصے میں آیا ۔

وفاقی وزیر گزشتہ دنوں لاہور تشریف لائے اور مقامی پنج ستارہ ہوٹل میں انجمن مدیرانِ جرائد پاکستان (CPNE)کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں بطورمہمان خصوصی شریک ہوئے ۔اس موقع پر انہوں نے سی پی این ای کی طرف سے پیش کردہ مطالبات پر مبنی گزارشات کو سامنے رکھتے ہوئے اظہار خیال بھی کیا اور بعد ازاں سوال وجواب کی نشست بھی ہوئی ۔

مدیرانِ جرائد کی طرف سے اسلام آباد میں سی پی این ای ہاوس کے لیے پلاٹ کی درخواست پر وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے بتایاکہ وزیر اعظم نے آپ کی تنظیم کے لیے پلاٹ کی منظوری تو دے دی ہے لیکن(1997 ء میں منظور کردہ ایک ) قانون کی رو سے وہ کسی کو پلاٹ دے نہیں سکتے ۔سو یہ پلاٹ آپ کو دینے کی راہ میں یہ قانون حائل تھا ۔تاہم میں نے اپنے محکمہ کے افسران سے بات کی تو انہوں نے کہا پریشان ہونے کی بات نہیں۔ہمارے پاس اس مسئلے کا حل موجود ہے ۔وہ یہ کہ وزیر اعظم براہ راست یہ پلاٹ سی پی این ای کو نہیں دیں گے بلکہ سی ڈی اے یہ پلاٹ وزارت اطلاعات کو منتقل کرے گی اور پھر وزارت اطلاعات سی پی این ای کے سپرد کردے گی ۔یوں قانون شکنی بھی نہیں ہوگی اور کام بھی بن جائے گا ۔

انہوں نے مزید کہاکہ مذکورہ پلاٹ ( سی پی این ای ہاوس ) کی جگہ کاانتخاب بھی کرلیاگیاہے ۔آپ خود دیکھ کر پسند کرلیں ۔آپ کو پسند آجائے تو ضابطے کی کارروائی شروع کردی جائے گی ۔اس موقع پر وزیر موصوف نے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ دیکھیں کس طرح بیوروکریسی قانون کے اندر ہی سے اس قسم کے کاموں کے لیے قانونی راستہ تلاش کرلیتی ہے۔اس کامطلب ہے کہ یہ چاہیں تو کوئی بھی کام نہیں رک سکتا ۔(گویا کسی بھی بظاہر غیر قانونی کام کی راہ میں قانون رکاوٹ نہیں بن سکتا )اور سی پی این ای ہاوس کے لیے پلاٹ کی فراہمی اس کا بین ثبوت ہے جس کے گواہ خود وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ہیں ۔

اَب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وطن عزیز کے عظیم حکمران کس طرح غیر قانونی کاموں کو قانون کے دائرے ہی میں نمٹا کر کسی بھی قسم کے مواخذے سے خود کو بچالیتے ہیں ۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ آج تک کوئی بھی حکمران کرپشن یا غیر قانونی اقدامات کے باوجود قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔چنانچہ جب ہمارے حکمران یہ دعویٰ دھڑلے سے کرتے ہیں کہ ’’ ہمار ا دامن صاف ہے ، ایک دھیلے کی کرپشن بھی اگر ثابت ہوجائے تو ذمہ دار ہوں گا ‘‘ تو بات سمجھ میں آجانی چاہئے ۔

’’باکمال‘‘ لوگ ، لاجواب ’’سروس ‘‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے