شب قدر کے اعمال

’’إِِنَّا أَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْ رِ وَ مَا أَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ o لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ o تَنَزَّلُ الْمَلآءِکَۃُ وَ الرُّوْحُ فِیْہَا بِإِذْنِ رَبِّھِمْ مِنْ کُلِّ أَمْرٍ سَلاَمٌ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ o‘‘

بے شک ہم نے قرآن پاک شب قدر میں اتارا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ شب قدر کیسی ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے! اترتے ہیں اس میں فرشتے اور روح ، اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر ، یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور طلوع فجر تک رہتی ہے ۔
(بیان القرآن،۱۲؍۱۱۱)

اس سورت شریفہ میں سوال و جواب کے انداز میں ’’شبِ قدر ‘‘ کی عظمت سے انسان کو واقف کرایا گیا ہے کہ: ایک ہزار مہینے یا ۸۳ تراسی برس کی عبادت بھی اس ایک رات کی عبادت کی برابری نہیں کر سکتی۔

یہ رات دعاء کی قبولیت کی رات ہے اپنے لئے ، دوست و احباب کے لئے ، اور والدین کے لئے ، تمام گزرے ہوئے لوگوں کے لئے دعاء مغفرت کرنی چاہئے اور سفیان ثوری کے نزدیک اس رات میں دعاء میں مشغول ہوناسب سے بہتر ہے’’ أَلدُّعَاءُ فِیْ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ أَحَبُّ مِنَ الصَّلوٰۃِ‘‘ (روح المعانی) ۔ دعاؤں میں سب سے بہتر وہ دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے: اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے تو مجھے بھی معاف فرمادے،’’ أَللّٰھُمَّ إِ نَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ ا لْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس رات میں تلاوت ، نماز دعاء وغیرہ منقول ہیں ،اس لئے مناسب یہ ہے کہ بقدر استطاعت ،تلاوت نماز وغیرہ میں مشغول رہے ، ان سورتوں اور آیتوں کی بھی تلاوت کرے جن کے بارے میں کثیر ثواب کی خوشخبری دی گئی ہے،’’وَیَتَخَیَّرُ مَاوَرَدَ فِیْ قِرَاءَتِہٖ کَثْرَۃُ ا لثَّوَابِ‘‘

مثلا:(۱) سورۃ بقرہ وآل عمران کی آخری آیتیں جن کا پڑھنا ایک رات کی عبادت کے برابرثواب رکھتا ہے۔(ایضاً) (ترمذی ۳۰۹۹)

(۲)آیۃ الکرسی،جس کو قرآن کی افضل آیات ہونے کا شرف حاصل ہے، اور جس کا پڑھنے والا مرتے ہی جنت میں داخل ہو جاتاہے۔ (صاوی ۴؍۳۳۷)

(۳)سورۂ زلزال،جس کے پڑھنے کا ثواب آدھے قرآن کے برابرہے۔’’تَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ‘‘ (ترمذی۳۱۱۷)

(۴)سورۂ اخلاص،جس کاثواب تہائی قرآن کے برابر ہے۔’’ تَعْدِ لُ ثُلُثَ ا لْقُرْآنِ‘‘ (ابو دا وٗد رقم ۱۴۶۱)

(۵)سورۂ کافرون،جس کے پڑھنے کا ثواب چوتہائی قرآن کے برابر ہے۔ ’’تَعْدِلُ رُبْعَ الْقُرْآنِ‘‘(ترمذی۳۱۱۷)

(۶)سورۂ نصر :جس کے پڑھنے کا ثواب بھی چوتہائی قرآن کے برابر ہے۔(ترمذی ۳۱۱۶)

ان راتوں میں جس قدر ہو سکے نفل نماز ،تلاوت قرآن یا ذکر و تسبیح میں مشغول رہیں ۔ان راتوں کو جلسوں، تقریروں میں صرف کر نا بڑی محرومی میں داخل ہے ۔تقریریں تو ہر رات میں ہو سکتی ہیں ،لیکن عبادت کا یہ وقت پھر ہاتھ نہیں آئے گا ۔

رمضان المبارک ،اخیر عشرہ ،اکائی راتیں ،۲۷ویں شب وغیرہ کو غنیمت جان کر ہاتھ سے نہ جانے دیں ،دعاء ہے کہ باری تعالیٰ اپنے حبیب اور لطفِ عمیم کے طفیل امتِ محمدیہ کے کسی بھی فرد کو اس رات سے محروم نہ فرمائے ۔

’’آمِیْن یَا رَبَّ ا لْعَالَمِیْن بِحَقِّ سَیَّدِ ا لْمُرْسَلِیْنَ‘‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے