فلسطین اور ہماری بے حسی

[pullquote]فلسطین پر یہودی تسلط ۔۔ اقوام عالم کی مجرمانہ خاموشی اور عالم اسلام کی بے حسی
[/pullquote]

اس وادی میں موت کا رقص جارہی ، وہاں کے باسی موت کی وادی میں دھکیلے جا رہے ہیں ، اور موت یہ دیکھ کر کب آتی ہے کہ مرنے والا شیر خوار بچہ ہے ، بوڑھا ہے یا جوان وہ تو بس آ جاتی ہے اور یہ بے بس و بے کس اور بے یارو مددگار لوگ چپ چاپ موت کو گلے لگا لیتے ہیں ، وہ مرتے نہیں مارے جاتے ہیں ، وہ بولتے ہیں تو انکو موت کی گولی مار دی جاتی ہے ، انکی آواز کو دبایا جاتا ہے،انکی عزت و ناموس سے کھیلا جاتا ہے ، انکے نونہالوں کو تہہ تیغ کیا جاتا ہے ، ویسے تو یہ سب دنیا کے بعض علاقوں میں جاری ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں لیکن گذشتہ 60 سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے یہ قتل عام ہے کہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ، ایسا کشمیر میں بھی ہورہا ہے لیکن کشمیر کی جدو جہد پر اقوام متحدہ میں بات تو ہوتی ہے نا کہ ظلم کیا جا رہا ہے لیکن افسوس صد افسوس ان بچاروں پر مظالم کی داستانیں اتنی زیادہ ہے کہ شاہد قلم میں سکت ہی نہ رہے اسنکو قرطاس کے سپرد کرنے کی یہ نہ تو کہانی ہے نا فسانہ اور نہ ہی لفظاہی یہ بات کی فلسطین کی جہاں خون کی قسطیں اتنی زیادہ ہو گئی ہیں اور ہو رہی ہیں کہ وہاں پر بس خون ، بارود اور گولی کی زبان بولی جاتی ہے ، وہاں محبت ، امن اور ریاست ایسے ناموں کو وجود ہی نہیں ہے ، وہاں پر حق خود ارادیت کا لفظ بھی جرم تصور کیا جاتا ہے اور بات یہ سب کچھ اقوام عالم کے سربراہوں کی سربراہی میں شروع ہوا ، انکی زمینوں پر قبضہ کیا جانے لگا ، انکو قتل کیا جانے لگا گا ، خونی بھیڑوں نے معصوموں کا خون بہا بہا کر انکے علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرنے کا ایسا سلسلہ شروع کیا جو کہ جاری و ساری ہے ، دنیا بھر میں امن و آتشی کی بات کرنے والوں کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہے ، فلسطین پر پرائے تو خیر پرائے اپنوں نے بھی منہ موڑ لیا ،خدا کے علاوہ انکا کوئی مدد گار نہیں وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں دنیا میں 50 سے زائد مسلم اکثریت والے ممالک بھی ایسے خاموش ہیں کہ جیسے انکا فلسطین سے کوئی تعلق ہی نہیں ، دنیا میں صرف واحد ملک ایران ہے جس نے کھل کر فلسطینوں کی حمایت کی اور اسرائیل کی مخالفت کی اور ایران ہی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منانے کی ترغیب دی

آپ نے یہ مصرعہ متعدد بار سنا ہے کہ ،، ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ،، لیکن فسلطین وہ سر زمن ہے جہاں ظلم کا عرصہ 6 دہائیوں سے بھی زیادہ پر محیط ہے اور مٹنا تو دور کم ہی نہیں ہو رہا، فلسطین کے مستضعفین اس زمین کو بچانے کی کوشش میں آئے روز اسی زمین میں دفن ہو رہے ہیں ، آئے روز انکو خون میں غلطاں کیا جاتا ہے

فلسطین پر یہودیوں کے قبضہ کی تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ڈاکٹر وائز مین جو اس وقت یہودیوں کے قومی وطن کی تحریک کا علبردار تھا، انگریز حکومت سے اس نے وہ مشہور پروانہ حاصل کر لیا، جو اعلان بالفور کے نام سے مشہور ہے۔ اعلان بالفور کے وقت فلسطین میں یہودیوں کی کل آبادی پانچ فیصد بھی نہ تھی جبکہ 1917 ء میں یہودی آبادی جو صرف 25 ہزار تھی وہ پانچ سال میں بڑھ کر 38 ہزار کے قریب ہو گئی۔ 1922ء سے 1939ء تک ان کی تعداد ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ گئی

یہ 1947 کا سال تھا جبکہ عالمی طاقتوں مل بیٹھ کر فلسطین پر قانونی قضبہ کرنے کی سازش کی جس کے تحت برطانوی حکومت نے فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کر دیا نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا،دس ملکوں نے کوئی ووٹ نہیں دیا جبکہ اسکے حق میں 33 ووت اور اسکے خلاف 31 ووٹ تھے

9 اپریل 1948 کا دن یہودیوں نے فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ دئیے ، فلسطینی عربوں کو عورتوں ، مردوں اور بچوں کی تمیز کیے بغیر قتل کیا گیا اور عورتوں اور لڑکیوں کو برہنہ کر کے جلوس نکالا گیا ، ان حالات میں14 مئی 1948ء کو عین اس وقت جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطین کے مسئلہ پر بحث کر رہی تھی، یہودی ایجنسی نے رات کے دس بجے اسرائیلی ریاست کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور سب سے پہلے امریکہ اور روس نے آگے بڑھ کر اس کو تسلیم کیا۔ حالانکہ اس وقت تک اقوام متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین میں اپنی قومی ریاست قائم کرنے کا مجاز نہ کیا تھا۔ اس اعلان کے وقت تک 6 لاکھ سے زیادہ عرب گھر سے بے گھر کیے جا چکے تھے اور اقوام متحدہ کی تجویز کے بالکل خلاف یروشلم (بیت المقدس) کے آدھے سے زیادہ حصے پر اسرائیل قبضہ کر چکا تھا۔ پس یہی ہے وہ منحوس دن جس کو تاریخ ِ فلسطین میں یوم نکبہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس سانحہ کو 69 سال گذر گئے ، اسرائیل کی فلسطینوں پر مظالم کی نہ ختم ہونے والی داستان جو کہ فلسطینوں کے خون سے شروع کی گئی تھی تا حال جاری ہے ، اور افسوناک امر یہ ہے کہ مسلم امہ کی بے حسی بھی اس مسلے پر اپنے عروج پر ہے اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود مسلم امہ نے فلسطین کو آزاد کرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش آج تک نہیں کی ، صرف انقلاب ایران کے بانی امام خمینی نے اس مسلہ کو دنیا بھر میں اٹھانے کی کوشش کی اور انھوں نے واضح الفاظ میں کہا ” القدس مسلمانوں کا ہے جو انھیں واپس ملنا چاہیے ” جس کے اس کے علاوہ کسی بھی مسلم ملک یا کسی بھی بڑی شخصیت نے آج تک مسلہ فلسطین کو عالمی منظر نامہ لانے کی سعی نہیں کی مسلمانوں کی اپنے ہی بھائیوں سے اس قدر لاتعلقی اور بے حسی پر کف افسوس ملنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا اور کہا جا سکتا ہے لیکن قبلہ اول کو بچانے کےلئے علامہ اقبال کا یہ شعر آج بھی کار گر ثابت ہو سکا ہے علامہ کہتے ہیں

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کےلئے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر

[pullquote] وقار حیدرنوجوان صحافی اور لکھاری ہیں۔ چینل 24 میں بطور نیوز ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔ [/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے