عشرہ مغفرت کی پکار

رمضان المقدس کے پُر نور اور بابرکت مہینے کا آخری عشرہ اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ یہی وہ عشرہ ہے جسے عشرہ مغفرت بھی کہا جاتاہے۔اور جس میں لیلۃالقدر کے ظہور پذیر ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔ بلکہ ہمارے ہاں تو کمال دلیری کے ساتھ ستائیسویں کو لیلۃ القدر کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔اس عشرے میں پاکستان میں بڑے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ محافل ، شبینے اور دوسرے روایتی عبادات کے روح پرور مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ رنگ برنگی قمقوں اور عطر بیز فضاؤں میں علماء اور عوام اپنے لئے جنت کی تلاش میں محو اور کمال عاجزی کے ساتھ اپنے گناہوں کی بخشش ، ملک و قوم کی ترقی اور امن و سلامتی کی تلاش میں سربسجود دکھائی دیتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ محمدﷺ کی تعلیمات کے مطابق یہ عشرہ توبہ اور جہنم سے خلاصی کا عشرہ ہے۔یہ وہ دس دن ہیں جس میں اللہ تعالی اپنی رحمت و معافی اور مغفرت کی بارشوں سے گناہوں سے آلودہ انسانیت کو سرسبز و شادابی اور رونق و نئی زندگی عطا کرتا ہے۔

ان سب پر بدرجہ اتم ایمان رکھنے کے باوجودجب میں عشرہ مغفرت کے دوران ہونے والی عبادات کے اثرات اپنے معاشرے پرمرتب دیکھتا ہوں تو ایک عجیب سی الجھن اور تذبذب ذہن کی دنیا کوپریشان کر دیتی ہے۔ذہن میں سوال اُٹھتا ہے کہ کیایہ واقعی سب سچ ہے جو کہا گیا؟؟ ایمان کی طاقت اور عہدِ ماضی کے زندہ مثالیں ذہں کو مطمئن کر دیتی ہیں کہ واقعی اسلام کے ہر حکم اور ہر عمل میں کامیابی اور کامرانی ہے۔ پھر ذہن سوال کرتا ہے کہ اگر ایسا ہے۔ تو باوجود مساجد میں اتنے سجدوں، لاؤڈ سپیکروں پر اتنے بیانوں، شبینوں کی اس بھرمار ، نعت خوانوں کے اس یلغار اور ٹی وی پرکمرشلزم کی کھونٹی سے بندھے ہوئے روح پرور پروگراموں کے باوجود اس کے اثرات انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہمیں نظر کیوں نہیں آتے؟

کیا ہمارے توبہ اور استغفار میں کمی ہے؟ یا اسکا انداز اور طریقہ وہ نہیں جو کامیابیوں اور کامرانیوں کی نوید دے؟ یہ عشرہ ء مغفرت ہم سے کس طرح کے توبہ و استغفار کا متقاضی ہے ؟؟؟کہ جس سے توبہ و مغفرت کے دروازے کھلیں اور مرجھائے ہوئے گلشن میں بہارکے آثار پھر سے نظر آئیں۔ میری نظر میں ان ایامِ جلیلہ کی پکار اور مطالبہ یہ ہے کہ ہم دل کی گہرائیوں سے توبہ کریں اور اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ خدائے ربِّ ذوالجلال کے آگے جھک جائیں۔اسکی سرکشی اور بغاوت سے تائب ہو جائیں۔اسکی محبت اور عشق میں صدقِ دل سے اتنے بد مست ہوجائیں کہ کسی اور عشق اور محبت کی ہوش ہی نہ رہے۔دل کی صداقتوں اور اپنی تمام تر کمزوریوں اور گناہوں کے ساتھ اسکے سامنے ایسے جھک جائیں۔ ایسے اشک و ندامت کے سیلاب بہادیں کہ اسے ہم پر پیار آجائے۔اور وہ اسی طرح اپنی دامنِ رحمت میں ہمیں پھر لے لے جس طرح پہلے ہم پر وہ مہربان اور متوجہ تھا۔جیسے کہ قرآن میں ارشاد ہوا۔
مسلمانو!اگر تم اللہ سے ڈرنے والے بن جاؤتو اللہ تعالی تمام دنیا میں تمہارے لئے ایک امتیاز اور سر بلندی پیدا کردیگا۔اور تمہاری تمام برائیوں کو دور کردیگا۔اور تمہیں بخش دیگا۔تو تم اسکے آگے کیوں نہیں جھک جاتے۔؟

یہ عشرہ مسلمانوں کوبہ زبانِ حال دعوتِ فکر دیتا ہے۔کہ اے محمد کے نام لیواؤ! آج تک تم نے بغاوت اور سرکشی میں زندگی گزار دی۔ اللہ کی نافرمانیاں اور ناراضگیاں آج تک خوب مول لے چکے ہو۔اور اسکے نتیجے میں جن مصیبتوں اور تکلیفوں نے تمہیں گھیر لیااسکا مزہ تم چکھ چکے ہو۔ایک اللہ کے باغی ہوکر تم نے دیکھ لیا کہ کیسے ساری دنیااپکی دشمنی پر اتر آئی۔ایک اللہ کو تم لوگوں نے ناراض کیا کردیا۔ ساری دنیا کی ناراضگی کا تم لوگوں کو سامنا کرنا پڑا۔

کبھی اس پر غور کیاہے؟ کہ تم لوگوں کو آنکھیں اسلئے دی گئیں کہ اسکی بندگی اور اطاعت کے لئے اسکے دئے ہوئے راستے کو دیکھ سکو۔ تمہیں دل عطا کیا گیا پر اس لئے کہ صرف اسی کو پیا ر کرسکو۔اور اگر تمہیں آنسو دئے گئے تو صرف اسلئے کہ اسکے سامنے احساسِ ندامت میں بہاسکو۔یہ تمہاری پیشانی ی بلندی کس لئے؟ آہ! کاش یہ جان سکو کہ فقط اسلئے کہ در در پر جھکنے کی بجائے یہ صرف اسی کے سامنے جھک جائے۔

آج جب تمہاری آنکھوں سے اسکی بڑائی اوجھل ہے۔ تمھارے دل اسکی محبت اور یاد سے خالی اور ویران ہیں۔ تمہارے آنسو اسکی یاد میں بہنا بھول گئے۔تمہاری روحوں کی دنیا میں غیروں کی چاہت نے گھر کر لیا۔آج جب تمہارے قدم اسکی طرف بڑھنے سے بوجھل ہوگئے تو رمضان کے یہ مقدس دن اور راتیں ایک بار پھرآپ سب کو محبت و پیار کے ساتھ اسکے در پر جھک جانے، اس سے اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑنے اور ساری دنیا کی غلامی چھوڑ کر باطن و ظاہر سے صرف اسکاہونے کی دعوتِ فکر دے رہی ہے۔

آج ہماری مسجدیں عشرہ مغفرہ میں بھری ہوئی ہیں پر وہاں راست بازی کی مضطرب نمازیں مفقود ہیں۔اللہ کی غلامی کی متلاشی روحیں نا پید ہیں۔ اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ از سرِ نو جوڑنے کے عملی خواہاں نظر نہیں آتے۔اور خدا ہمارے کھڑے رہنے اور اوندھے گرنے پڑنے کا بھوکا نہیں۔ اگر ساری ساری رات کھڑے رہنا بغیراسکی غلامی کا کامل دم بھرنے کے عبادت ہے۔ تو پھر جنگل کے درختوں سے زیادہ کون کھڑا رہ سکتا ہے؟

اے مسلمانو!! بہت سو چکے ہو۔ بغاوت میں عمریں گزار دیں۔اسکی سرکشی میں اپنی پوری زندگی گزار کرتم دس دن کے ان راتوں میں یہ توقع کرتے ہو کہ وہ تمھارا ہوجائیگا؟؟یہ رنگ برنگی روشنیوں میں اپنی نفس اور اپنے ضمیر کو سلا کر دین و دنیا کی کامیابی ڈھونڈنے نکلے ہو؟؟ اب بھی وقت ہے۔ اٹھو اور جاگ جاؤ اور اسکی غلامی اور محبت کا از سر نو عہد کر لو۔

اس نے ہمیں مہلت دی اتنی کہ آج تک کسی اور قوم اور امت کو نہ دی گئی۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔ اسکی محبت اور اسکی چاہت کا رشتہ پھر اس سے جوڑ دو۔ورنہ کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ تم سے مکمل منہ موڑ لے۔ اور اپنی مہربانیوں اور نیازمندیوں کے لئے کسی اور کو چن لے۔ عزت اور سربلندی کا تاج کسی اور کے سر پر رکھ لے کہ جیسے اس نے ہمیشہ کیا ہے۔

اور تمہارا پروردگار بڑا بے پرواہ اور فیاض ہے ۔اگر وہ چاہیگا تو تم سے اپنا رشتہ کاٹ لیگا۔اور تمہارے بعد کسی دوسری جماعت کو کھڑی کر دیگا جس طرح کہ خود تک کو دوسروں میں سے اس نے منتخب کیاتھا۔میری نظر میں یہی وہ بنیادی قدم ہے عمل کی راہ میں جس سے ہم غافل ہیں اور جب تک ہم اس بنیادی نقطہ ء عمل سے دور رہیں گے باقی جتنے بھی اعمال ہیں اگر اس مقصد سے لا تعلق یا دور ہیں تو سب کچھ بیکار ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ مساجد بھرے ہیں روشنیوں کی چکا چوند مناظر ہیں۔ علماء کی وعظ و نصیحتیں ہیں۔ذاتِ نبی کے پروانوں کا جمِ غفیر ہے۔ جنت کے متلاشیوں اور جہنم سے نجات کے طلبگار ہیں۔ پر مساجد کے باہر ان سب کا ایک شائبہ ہمارے معاشرے میں نظر نہیں آتا۔ جبھی تو ہم اپنے گھروں میں غیر محفوظ ہیں۔ ہمارا خون پانی سے سستا ہوگیا ہے۔ اور ہماری وقعت ہمارے اپنے دیس میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

اللہ کے در کی غلامی کا عہدِ مصمم کرتے ہوئے یہ دعا کرتے ہیں کہ یہ عشرہ مغفرت روحوں اور ضمیروں کو جگانے کے کام آئے ورنہ پھر عید کا چاند نظر آتے ہی ہم اپنی بغاوت اور سرکشی کے معمول میں مصروف ہوجائیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے