لوگ پڑھ لکھ گئےلیکن . . . .

زندگی میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہیں انسان زندگی میں کبھی ملا نہیں ہوتا کبھی ان کو دیکھا نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی کوئی تحریر نہیں پڑھی ہوتی ہے مگر ان کے ساتھ دل کا اتنا مضبوط تعلق ہوتا ہے کہ ان کی وفات انسان پر بہت گہرے اثرات چھوڑ جاتی ہے ایدھی صاحب ان شخصیات میں سے ایک تھے جن پر بطور پاکستانی ہمیں فخر رہے گا اور اس بات پر بھی فخر رہے گا کہ ہم نے ایدھی کے عہد میں زندگی کی ۔
ان جیسی شخصیات پر لکھنا چاہتا ہوں تو الفاظ کی کوتاہ دامنی اور ان شخصیات کی بڑھائی کا اندازہ ہوتا ہے ایدھی صاحب کے لیے عظیم ،مسحا اور محسن جیسے الفاظ چھوٹے اور ان کی شخصیت بڑی معلوم ہوتی ہے
موت حق ہے ہر کسی کو آنی ہے 92 سال کی خدمت سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد کئی حسرتیں دل میں لیے ایدھی صاحب عازم عدم ہوئے ہر آدمی حسرتیں لیے جاتا ہے مگر ان کی حسرتیں انسانوں کی خدمت کی حسرتیں تھیں مثلا ہر پانچ سو کلومیٹر پر ایک ہسپتال بنانا چاہتے تھے لاوارثوں کے قبرستان کی زمین خریدنا چاہتے تھے انسان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے وہ اس کا ثواب پائیں گے
حیرت ہے مرتے ہوئے یہ وصیت کر گئے میرے جس اعضاء سے کسی انسان کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہو وہ میری طرف سےعطیہ ہے اب ان کی آنکھیں ان کے مرنے کے بعد بھی روشنی کا ذریعہ بنی رہیں گی
ایدھی صاحب آپ چلے گئے اہل پاکستان کو اس بات پر فخر رہے گا کہ آپ نے ہر قسم کی بیرونی امداد لینے سے انکار کر دیا تھا اور صرف پاکستانیوں کے عطیات قبول کرتے تھے اور پاکستانیوں نے کبھی آپ کو مایوس نہیں کیا آپ روڑ کنارے کھڑے ہوئے تو آپ کی گود کو نوٹوں سے بھر دیا ماؤں بہنوں نے اپنے زیورات دے دیے یہ قوم تو دھوکوں کی ماری ہوئی ہے انہیں تو کوئی آدمی چاہیے جو قابل اعتماد ہو جب اعتماد حاصل ہو جاتا ہے تو یہ کسی کو بھی مایوس نہیں کرتی
آج کے دن چار بچے یتیم نہیں ہوئے لاکھوں بچے یتیم ہو گئے ہیں صرف بلقیس ایدھی کے سر سے سائیبان نہیں چھینا گیا بلکہ ہزاروں خواتین سہارا ہو گئی ہیں
ایدھی صاحب فرمایا کرتے تھے لوگ پڑھ لکھ گئے ہیں مگر انسان نہیں بن سکے درست فرمایا کرتے تھے زخموں سے چور چور انسانوں کو سڑک کنارے تڑپتا دیکھ کر منہ دوسری طرف کر کے نکل جاتے ہیں کہاں کی انسانیت ؟ معلومات کو تعلیم نہیں کہا جا سکتا جو انسانیت سے محروم کر دے جو انسان کو بے ضمیر کر دے وہ تعلیم نہیں ہوتی اور ایدھی صاحب کا تو اوڑھنا بچھونا ہی انسانیت اور انسانی ضمیر کو جگانا تھا
آج ہم سب ایدھی صاحب کی یاد منا رہے ہیں پوری قوم دکھی ہے تو آئیے ایدھی صاحب کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم کریں اور اس کے لیے عملی اقدامات کریں ہر مصیبت زدہ کی مد کریں تعصبات سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف انسانیت کی بنیاد پر بے سہاروں کا سہارا بنیں جہاں بھی انسانیت کو کوئی مشکل درپیش ہو وہاں اپنی بساط کے مطابق اس مشکل کو کم کرنے کی کوشش کریں جب ہم انسانیت کی خدمت کریں گے تو ایدھی صاحب کی روح شاد ہو گی اور ایدھی صاحب کا خدا بھی ہم سے راضی ہوگا
انڈیا کی وزیر خارجہ کا یہ بیان دہرایا جا رہا ہے کہ ایدھی صاحب ایک عظیم انسان تھے سچ کہتی ہیں عربی کی مشہور کہاوت ہے فضیلت وہ جس کا اقرار دشمن بھی کرے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے