سب ہی بدل گیا

بیس سال سے اسلام آباد میں نمازِ عید ادا کر رہا ہوں۔ پہلے جب عید کیلئے جاتا تو ایک عجیب ہی منظر ہوتا ۔سب سے زیادہ خوشی عیدگاہ جانے کی ہوتی۔ نئے کپڑے پہن کر والد صاحب کے آگے پیچھے بھاگتے دوڑتے عیدگاہ کی طرف جاتے تو مزہ آ جاتا۔ راستے میں والد صاحب کی زبان عید کی تکبیرات سے تر رہتی جبکہ ہم یار دوستوں اور والد صاحب کے ان دوستوں کی تاڑ میں ہوتے جن سے ہمیں عیدی ملنے کی توقع ہوتی۔پھر آہستہ آہستہ کچھ عقل ٹھکانے آنا شروع ہوئی اور پتہ چلا کہ عید کیا ہوتی ہے اور ہم عید کیوں مناتے ہیں تو اپنے مسلمان ہونے پر فخر محسوس ہوتا۔نجانے کیوں جی چاہتا کہ مجمع میں اکڑ کر، پیر اٹھا اٹھا کر چلیں اور گلہ پھاڑ پھاڑ کر اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الااللہ واللہ اکبر کی تکبیرات پڑھتے چلےجائیں۔ ہماری چال ایسی ہو کہ اس میں عمرکا جلال اور حیدر کی شجاعت نظر آئے۔ اسی قسم کی عیدیں مناتے مناتے بچپن کہیں دور رہ گیا اور جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ دیا۔

میں آج بھی عید پڑھنے گیا تھا، یہی شوق لے کر گیا تھا۔ لیکن آج عیدگاہ کا راستہ اور تھا ۔یہ وہ والا راستہ نہیں تھا جو مجھے ہر سال عیدگاہ چھوڑ کے آتا تھا بلکہ یہ وہ والا راستہ تھا جو مجھے مسجد کی طرف لے جا رہا تھا۔ساری زندگی ہی سکون کے پیچھے بھاگنے میں گزری۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم جو سکون مسجد کی چاردیواری میں میسر آیا بڑوں بڑوں کے دربار پہ بھی نصیب نہ ہوا۔ لیکن آج مجھے کیا ہو گیا تھا۔میرے قدم بوجھل تھے۔مسجد جاتے ہوئے مجھے گٹھن سی محسوس ہو رہی تھی۔ میرے قدم مجھے کھینچ کھینچ کر عیدگاہ کی طرف جانے کو کہہ رہے تھے۔ میرا جسم میرا ساتھ نہیں دے رہا تھا ۔ آج تو تکبیر پڑھتے ہوئے بھی میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا ۔اچانک میری نظر چوہدری صاحب پر پڑ گئی۔ میں نے تکبیر کی آواز مزید کم کر دی۔ مجھے یاد آیا کہ اونچی آواز سے تو چوہدری صاحب تنگ ہوتے ہیں، جب ہی تو انہوں نے اپنے گھر کی طرف والے لاؤڈ سپیکر کو یہ کہتے ہوئے بند کروا دیا تھا کہ ” ہر پانچ پانچ منٹ بعد کی اذانوں سے میرے سر میں درد ہو جاتی ہے”۔

میں مسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے کیلئے جگہ تلاش کر رہا تھا کہ جب چوہدری صاحب اپنےلئے پہلے سے مخصوص جگہ پر جا کر براجمان ہو گئے۔ مجھے بھی ان کے ذرا فاصلے پر پچھلی صف میں جگہ مل گئی۔عید کا خطاب جاری تھا ،لوگوں میں سے بعض خطبہ سن رہے تھے،لڑکوں کی اکثریت سرگوشیوں میں مصروف تھی،جبکہ باقی ماندہ کی نظریں گھڑی پر اٹکی ہوئی تھیں اور وہ خطبے کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ ادھر اردو خطبے کا وقت ختم ہونے پر سیکنڈ والی سوئی ذرا سی بارہ سے لڑھکنا شروع ہوئی اور اُدھر چوہدری صاحب کھڑے ہو گئے اور چلا کر بولے "مولوی صاحب! تقریر کا وقت ختم ہو گیا ہے، بس اب جلدی سے نماز پڑھا دیں، ہم نے اور کاموں پر بھی پہنچنا ہے”۔ دوچار اور نمازی بھی چوہدری صاحب کے ساتھ ہو گئے اور ان کے خیال کی تائید کرنے لگے۔

یہ وہی والے چوہدری صاحب تھے جو خودنمازِعید پر آدھا گھنٹہ لیٹ تشریف لائے تھے۔ مجھے یاد آیا کہ ابھی چند دن پہلے کی ہی تو بات ہے چوہدری صاحب کے بھائی کا انتقال ہوا تھا اور جنازہ گاہ میں تل دھرنے کو بھی جگہ نہ تھی۔ سخت کڑکڑاتی دھوپ تھی اور صفیں بھی بن چکی تھیں ۔مجھے خوب یاد ہے کہ جنازے والے دن امام صاحب کا بیٹا شدید بیمار تھا اور وہ ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں داخل تھا۔ سب لوگ فوراً نماز شروع کروانا چاہ رہے تھے ۔لیکن چوہدری صاحب بار بار "بس دو منٹ اور ٹھہر جائیں ،ہمارا فلاں عزیز آ جائے،فلاں عزیز آجائے” کا کہہ کر جنازے میں تاخیر کروا رہے تھے ۔ امام صاحب تو اس وقت بھی خاموشی سے یہ سب دیکھتے رہے اور ٹھیک پندرہ کی تاخیر سے جنازہ ادا کیا گیا۔ مجھے وہ دن بھی یاد آنے لگا جب چوہدری صاحب نے اپنی بچی کا نکاح پڑھوانا تھا۔ امام صاحب کو دو بجے کا وقت دیا گیا تھا، میں بھی اس تقریب میں شریک تھا ۔ میری گنہگار آنکھوں نے دیکھا کہ امام صاحب ایک بجکر پچپن منٹ پر جائے تقریب پہنچ چکے تھے۔ نکاح کی اس تقریب کا وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے جب چار بجے امام صاحب سے نکاح پڑھوا کرچوہدری صاحب انہیں رخصت کر رہے تھے تو میں صرف یہ دیکھنے کے لئے چوہدری صاحب کے پاس جاکھڑا ہوا کہ وہ کیسے امام صاحب کو دو گھنٹے انتظار کروانے پر ان سے معذرت کرتے ہیں ،لیکن افسوس کہ اس موقع پر میں معذرت کا ایک جملہ بھی نہ سن سکا۔

میں خیالوں کی دنیا سے باہر نکلا ۔ کیوں کہ مجھے یاد آیا کہ میں تو عید کی نماز پڑھنے آیا تھا۔ میں نے ممبر کی طرف نظر اٹھائی۔ دیکھا تو امام صاحب سب مقتدیوں سے معذرت کر رہے تھے کہ "میری گھڑی ایک منٹ پیچھے ہے، جس کی وجہ سے آپ کا ایک قیمتی منٹ ضائع ہوگیا، میں اس تاخیر پر آپ سب سے معذرت کرتا ہوں "۔

میرا دل چاہا کہ یہ نئے کپڑے اتار پھینکوں اور سینہ چاک کر کے ان نمازیوں کو اپنی گھٹن دکھاؤں۔ اپنے دل کا درد ان کے سامنے کھول کر رکھ دوں اور بتاؤں کہ میں کون سیے خواب ، حسرتیں اور امیدیں لے کر عید پڑھنے آیا تھا۔ لیکن یہاں آ کر پتہ چلا کہ یہاں تو عیدگاہ کی طرف جانے والا راستہ ہی نہیں بلکہ آوے کا آوا ہی بدل گیا ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے