مفتی زرولی اورایدھی رح

گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا میں ایک مخصوص گروپ کی تیارہ کردہ ایک آڈیوگردش میں ہے، آڈیو میں شیخ الحدیث مولانا مفتی زرولی خان صاحب نے ایدھی مرحوم کا نام لئے بغیر کافی سخت زبان استعمال کی ہے اورہمیں بھی گفتگو کے بعض نکات سے شدید اختلاف ہے ۔ ہم یہ سمجھے کہ یہ آڈیو مرحوم ایدھی کے انتقال کے بعد یا حال ہی کی ہے ، جس پر بڑا افسوس ہوا مگر تحقیق کی تو پتاچلاکہ آڈیو برسوں پرانی ہے ۔اب معلوم نہیں جس ادارے نے اس آڈیو کو اپنے منوگرام کے ساتھ ویڈیو کی شکل دی ہے ، ایسا اس نے ایدھی مرحوم سے ہمدردی میں کیا ہے یا دشمنی میں یا اپنا خبص باطن کو مٹانے یا پھر ایدھی صاحب کے خلاف ایک محاذ کھولنے کے لئے، تاہم ایسے موقع پر اس پرانے بیان کو جاری کرنا شر سے خالی نہیں ہے ۔ اب تک تمام علماء کی یہی رائے رہی ہے کہ ایدھی صاحب کے ’’نظریات و افکار سے اختلاف اپنی جگہ مگر وہ دور حاضر میں خدمت خلق کے شعبے میں اپنی مثال آپ تھے‘‘، اس لئے کسی بھی مکتبہ فکر کے کسی مستند اور نمائندہ عالم نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے ایدھی صاحب کے حوالے سے منفی تاثر قائم ہو۔

مفتی زرولی خان کا بیان کب کا ؟

مفتی زرولی خان کا یہ بیان برسوں پرانا ہے ۔ بعض کا کہنا ہے کہ 2013 کا ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ ایدھی مرحوم کے مذہبی امور بالخصوص حج اور قربانی کے حوالے سے بعض متنازع بیانات کے ردعمل کا تسلسل ہے ، ان بیانات کو تمام مکاتب فکرکے علماء نے نہ صرف مسترد کیا بلکہ سخت گرفت بھی کی اور غالباً یہی وجہ ہے کہ ایدھی مرحوم نے خاموشی اختیار کی تاہم رجوع کرنے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ اسی ملتا جلتا ایک بیان مرحوم حکیم سعید شہید کا بھی ایدھی صاحب کے بیانات سے قبل آیا مگر اطلاعات ہیں کہ شہید نے بعد میں رجوع کرلیا۔

کیا مفتی زرولی خان کو ردعمل نہیں دینا چائے تھا ؟؟

بعض احباب کا خیال ہے کہ مفتی زر ولی خان کو کبھی یہ بیان نہیں دینا چائے تھا ، اگر وہ یہ بیان نہ دیتے تو آج سوشل میڈیا میں لوگوں کی لعن طعن کا شکار نہ ہوتے ، مگر ہم اس سے اختلاف کرتے ہیں یہ علما کا کام ہے کہ جب اصول دین کے خلاف کوئی بات ہوتو اپنا ردعمل شرعی احکام کے مطابق ظاہر کریں، یہ نہ دیکھیں کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔ اگر مستقبل کے ردعمل کے خوف سے جواب نہ دیں تو پھرایسے علماء کا کیا فائدہ اور یہ خوف فتنوں کے لئے مددگار ثابت ہوگا۔

مفتی زر ولی خان اور تخت سلمانی کے فتوے !

یہ بات درست ہے کہ شیخ الحدیث مفتی زرولی خان نے کئی جید علماء کو بھی معاف نہیں کیا اور اپنے تخت سلمانی سے ایسے احکام صادر فرمائے کہ اللہ کی پناہ ، یہ ان کا مزاج ہے ۔ بعض مواقع پر جائز امور پر بھی سخت مزاجی کی وجہ سے دو درجن کے قریب اساتذہ و طلباء کو قربان بھی کیا، لوگوں نے علاقے سے نکالنے کی کوشش بھی کی ، جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی مگرعلاقہ چھوڑا اور نہ انداز بدلا ۔ ان کا یہی رویہ بعض قوتوں کو پریشان کر رہا ہے ، جو آج برسوں پرانی آڈیوکو بنیا د بناکر ایک نیا فساد برپا اور علمائے کرام کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔

شریروں اور شیطانوں سے بچئے

یہ موقع ایدھی مرحوم کو ان کی گرانقدر خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کا ہے نہ کہ پرانی یادوں کو تازہ کرکے مرحوم ایدھی کی خدمات اور شخصیت کو سوالیہ نشان بنانے کی ۔ کچھ شریروں اور شیطانوں کا یہ خیال ہے کہ اس طرح کی آڈیو سے مذہبی طبقہ مشتعل ہوگا اور پھر ایک نیا محاذ کھلے گا ، بعض جذباتی افراد ایسا بھی کرتے ہیں مگر یہ موقع سوچ سمجھکر اقدام کرنے کی ضرورت ہے اور ان شریروں اور شیطانوں سے بچنے کی بھی ضرورت ہے ۔ ہم سب کی کوشش یہی ہونی چاہئے ابلیسوں سے بچیں ۔ شریروں اور شیطانوں کا مقصد شر نہ ہوتا تو یہ لوگ قوم کو یہ بھی بتاتے کہ ایدھی کو ملنے والی قربانی کی کھالیں سالانہ کیا مولوی چھینتے تھے؟ ان کی ایمبولنسیں اسلحے کی منقتلی کے لئے مولویوں نے استعمال کی تھیں؟ کیا ایدھی صاحب نے مولوی یا مفتی زر ولی خان کی وجہ سے ملک چھوڑ نے کا فیصلہ کیا تھا ؟؟ کیا کچھ عرصہ کے لئے ملک مولویوں کی وجہ سے چھوڑا تھا؟؟ انتہائی سنگین الزامات مولویوں نے لگائے تھے؟؟ کیا متبادل تنظیم مولویوں نے کھڑی کی تھی ؟؟

ایک مرتبہ پھر درخواست ہے کہ خدمت خلق کے شعبے میں دور حاضر میں عبدالستار ایدھی مرحوم کی خدمات اپنی مثال آپ ہیں ، جس پر مرحوم قومی ہیرو ہیں ان کو متنازع نہ بنائیں اور اس قوم پر رحم فرمائیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے