ایدھی صاحب کی وفات ، بے حس ریاست کا نوحہ

آج کل پاکستان بھان متی کا کنبہ بنا ہوا ہے۔ ویسے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہر منتشر معاشرہ اسی کنبے کی تجسیم ہوا کرتا ہے۔ ایدھی صاحب کیا گئے، ایسا شور اُٹھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ایک کونے سے الحاد الحاد کی آوازیں سنائی دیتی ہیں تو دوسرے کونے سے انسانیت کے نام پر لادینیت کی صدائیں۔ کوئی کہتا ہے: داڑھی دیکھو ، داڑھی دیکھو!!! کسی کو داڑھی فیشن نظر آتی ہے۔ کوئی انسانیت کو دلیل بنا کر دائرہ اسلام سے نکالنے کے درپے ہے اور کوئی انسانیت سے نیا مذہب دریافت کرنے کے لیے ڈیسک بجا رہا ہے۔ کوئی انھیں مسیحا ثابت کرنے پر تُلا ہوا ہے اور کوئی قادیانیوں کا ایجنٹ۔الغرض جتنے منہ اتنی باتیں ہیں لیکن کوئی اس حقیقت کی طرف اشارہ نہیں کررہا کہ دراصل ایدھی صاحب کی وفات، ایک بے حس ریاست کا نوحہ ہے جو اپنے فرائض سے غافل ہے۔

کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی دونوں طبقے ہیں یعنی تنگ نظر مذہب پسند اور لنڈے کے دیسی لبرل۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ ہو یا ایدھی صاحب کی وفات کا دکھ۔ یہ دونوں طبقے اپنا اپنا راگ اس شدت سے الاپتے ہیں کہ اصل مسئلے کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔ لوگ ایک منفی ایک کے بعد پھر صفر پر آن کھڑے ہوتے ہیں یعنی جہاں سے چلے تھے۔اور ابن مریم ہوا کرے کوئی، کی تصویر بنے دکھائی دیتے ہیں ۔ یا اب کسے راہنما کرے کوئی ،کی دھن پہ ہمیشہ رقصاں رہتے ہیں۔
جہاں تک انسانیت سے محبتیا بلاتفریق ِ مذہب سب کی خدمت کا معاملہ ہے تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کوئی خلائی دریافت (Alien Discovery) نہیں ہے۔یہ انسانی فطر ت کا جزو اور جبلتِ نوع کا مظہر ہے۔ اگر یہ فطرت کسی بھی تعصب کے منفی اثر سے مسخ نہ ہوچکی ہو تو انسان دوسروں سے محبت کرنا اور ان کے کام آنا پسندکرتا ہے۔ دوسروں کی خیر خواہی اسے بھاتی ہے۔ اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔ دوسری طرف مذہب اسی انسانیت (Humanity) ،اسی انسانی نوازی اور رواداری کا درس دیتا ہے اور تلقین کرتا ہے۔لوگ اگر بھول گئے ہوں تو اس میں مذہب کا قصور نہیں۔ گویا مذہب انسانی فطرت کے اس پہلو سے مکمل طور پرہم آہنگ ہے۔ لیکن یہاں ہمیں انسانیت کے نام پر ہیومنٹی (Humanity) اور ہیومنزم (Humanism)کے درمیان فرق لازمی روا رکھنا چاہیے۔ ہیومنٹی(Humanity)انسان سے محبت، اس کی فطرت کا مظہراور دین کی تعلیمات کا نام ہے۔ جبکہ ہیومنزم(Humanism) ایک نیا مذہب ہے جو یورپ میں ایجاد ہوا اور انسانیت پسندی کے نام پر ہر مذہب، دین اور ضابطے کو ترک کرکے ، آزاد روشی کی ترغیب دیتا ہے۔

خیر یہ تو اسی رونے کا قصہ تھا ۔اب آئیے اصل بات کی طرف ، جس کی طرف میں نے شروع میں اشارہ کیا تھا کہ ایدھی صاحب کی وفات درحقیقت ایک بے حس ریاست کا نوحہ ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں دو وقت کی روٹی بمشکل میسر آتی ہے۔جہاں آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ جہاں تیس فیصد عورتیں خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ جہاں شام ڈھلے لوگ سونے کی جگہ ڈھونڈتے ہیں۔ جہاں جینا بھی سزا اور مرنا بھی سزاہے۔ جہاں لوگ ہسپتال مرنے کے لیے آتے ہیں۔ جہاں قبر کی تلاش، مکان کی تلاش سے زیادہ مشکل ہے۔ جہاں لوگ گوشت کے نام پر بیمار مردہ مرغیاں، گدھے اور مردار کھانے پر مجبور ہیں۔ جہاں صحت کے نام پر بیماریاں بٹتی ہیں۔جہاں انصاف صرف طاقتور کا حق ہے ۔ جہاں مہنگائی روزمرہ زندگی کا جزو بن چکی ہے۔ جہاں چالیس پچاس لوگوں کا مرنا معمول کا واقعہ ہے۔ جہاں چوبیس فوجیوں کا خون خارجہ پالیسی کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ جہاں جان، مال اور عزت اتنی غیر محفوظ ہے کہ الامان۔ تو سوچیے کہ ایسے معاشرے میں لوگ ایدھی جیسے لوگوں سے محبت کیوں نہ کریں۔ انھیں احترام کیوں نہ دیں۔ ان کے لیے اپنی جھولیاں خالی کیوں نہ کریں کہ جہاں تن ِ داغ داغ لٹ چکا ہو اور برہنگی داغِ عیوب نمایاں کرتی ہو، وہاں کسی کا دیاہواکفن بھی عنایت ہی ہوتا ہے۔

ایدھی صاحب کی وفات، درحقیقت اسی بے حس ریاست کا نوحہ ہے۔ ان کی وفات پر لاکھوں کروڑوں لوگوں کا دل گرفتہ ہونا ، ایک علامتی احتجاج ہے۔ یہ احتجاج اس بے حس ریاست کے خلاف نفرت کا اظہار ہے جو اپنے افراد کو بنیادی ضروریات مہیا کرنے کے بھی قابل نہیں۔ اور امرواقعہ یہ ہے کہ جہاں سے ایسی سرمایہ دارانہ ریاستیں ناکام ہوجاتی ہیں، وہیں سےفلاحی اداروں، این جی او اور خیراتی اداروں وغیرہ کا کام شروع ہوجاتا ہے۔پھر یہ ریاستیں اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ان اداروں کو سرآنکھوں پر بٹھاتی ہیں، انھیں میڈیا پروجیکشن دیتی ہیں، فنڈنگ کرتی ہیں، ایوارڈ دیتی ہیں، انسانیت کے مذہب کا پرچار کرتی ہیں اور ان لوگوں کو مسیحا کے رُوپ میں پیش کرتی ہیں،تاکہ کوئی منہ پھٹ ان سے یہ نہ پوچھ لے کہ یہ کام تو ریاست کے فرائض میں شامل نہیں ؟ اور ریاست اپنے فرائض سے غافل کیوں ہے؟

تو درحقیقت ایدھی صاحب کی وفات ایک بےحس ریاست کا نوحہ ہے جو اپنے فرائض سے غافل ہے ۔ ہمیں ان کی وفات کو ایک حیات تاذہ کا پیش لفظ بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی حیات جو فکری اور سیاسی شعور رکھتی ہو۔ ہمیں اس شعور کو پختہ کرنے کی ضرورت ہے جو ریاست اورفرد کے فرائض اور دائرہ کار کا تعین کرتا ہے ۔ ہمیں ان کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو ایسی ریاست سے پُر کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے جو افراد کی بنیادی ضروریات کی کفیل اور محافظ ہو۔ ایسی تجسیم جو معاشرے کو بھان متی کے کنبے کی بجائے، یکسُوئی عطا کرے۔ ایسی یکسُوئی جو معاشرے کو مادی، اخلاقی اور روحانی ارتفاع دے اور فکری بالغ نظری کا سبب بنے۔

دوستو! اگر ہم نے یہ موقع ضائع کردیا تو پھر وہی ہوگا جو آج ہمارے معاشرے میں ہور ہا ہے۔ لوگ مرتے رہیں گے، کچھ لوگ انھیں ڈھوتے رہیں گے۔ کچھ لوگ الحاد الحاد کے نعرے بلند کرتے رہیں گے اور کچھ انسانیت سے نیا مذہب دریافت کرنے کے لیے ڈیسک بجاتے رہیں گے۔
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے