عجیب شخص تھا !انسانیت کی بات کرتا تھا…

ہمارے ہاں سچے اور مخلص لوگ ایک طرف بہت کم ہوتے ہیں اور خوش قسمتی سے اگر ایسے بندے سامنے بھی آتے ہیں انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔کچھ مذہبی طبقوں سے عبدالستار ایدھی صاحب پر شدید الفاظ میں تنقید کی گئی ہے انہیں ملحد اور زندیق تک کہا گیا ہے۔ مجھے ایسے لوگوں پر بہت ترس بھی آتا ہے اور افسوس بھی۔ ایسے لوگ دماغی مریض ہوتے ہیں ۔جامعہ اربابیہ احسن العلوم گلشن اقبال کراچی کے بانی زرولی خان صاحب یہاں تک کہہ گئے کہ "عبدالستار ایدھی پرلے درجے کا زندیق اور ملحد ہے” کبھی کبھی سوچتا ہوں ایسے لوگوں کے دل ہیں کہ نہیں؟ اگر ہیں احساس سے عاری کیوں ہیں؟

[pullquote]ذرا تھوڑی دیر کے لیے ان الفاظ پر غور کریں ایسے الفاظ محمدﷺ اور اسکے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم نے ابوجہل کو بھی نہیں کہے ہونگے بلکہ ہم نبی کریم ﷺ سے منسوب ایسی باتوں کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں لیکن خود کو انبیاء کے وارث سمجھنے والوں کو معلوم نہیں کیا ہوگیا؟ میں پورے ایمانداری کے ساتھ یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے دل آخرت کی جواب دہی سے بے خوف ہو گئے ہیں ۔جن کے ہاتھ میں معاشرے کے سدھارنے اور اصلاح کا لگام ہے وہ جب اس قدر گر جائیں انسانیت کی خدمت کرنے والے کو گالی اور برا جانے ،اس معاشرے کا پھر کیا ہوسکتا ہے اور اس معاشرے میں مجھ جیسے ناسمجھوں کی تربیت کیسے ہوسکتی ہے؟ قرآن جو ہمیں اعلی اخلاقیات کا درس دیتا ہے قرآن کی سورہ مومنین اور سورہ الرعد میں مومن کی صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ اگر برائی بھی دیکھ لے تو اسے اچھائی سے دفع کرتا ہے یہ کتنی عظیم الشان بات کی گئی ہے اگر ایسا ہونے لگے تو یہ معاشرہ جنت بن جائے۔ہماری بحیثیت مجموعی اخلاقیات کی تربیت بالکل نہیں کی گئی ہے جہاں ایک قوم کے علماء ایسے بیانات دینے لگے وہ کیا تربیت کریں گے یہ قوم پھر محبت کے راستے پر کیسے چل سکتی ہے [/pullquote]۔

عبدالستار ایدھی کے کام کی میں کیا تعریف کروں روز روشن کی طرح سب کے سامنے ہے ان کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے عبدالستار کا کام اور انکی شخصیت کسی تعریف کی مختاج نہیں۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ رب کا کلام ہی ہے جو کہتا ہے کہ "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو ” عبدالستار ایدھی صاحب کو ملحد اور گالی دینے والے تھوڑا سوچیں ،غرییبوں کی مدد کرنا نیکی ہے کہ نہیں ،کسی کی جان بچانا نیکی ہے کہ نہیں بلکہ اللہ پاک تو یہاں تک فرماتے ہیں جس نے کسی کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی ۔کیا ہم پر لازم نہیں ہے کہ ہم انکے مشن میں انکی مدد کریں ؟ یتیموں ،مسکینوں،حاجت مندوں اور بے سہاروں کا سہارا بننا اگر ملحد اور زندیق ہونا ہے پھر ان تنقید کرنے والوں کی بات درست ہے۔ تاریخ لکھی جائے گی کہ ایک مردہ معاشرے کے ہجوم نے ایک زندہ انسان کی میت اٹھائی۔کسی نے عبدالستار ایدھی کے بارے میں کہا ہے کہ "عجیب شخص تھا ! انسانیت کی بات کرتا تھا” ایدھی صاحب جب زندہ تھے تب بھی ان کے کام عظیم تھے اور انتقال سے پہلے بھی ہمیں ایک نہایت اچھی نصیحت کر گئے "میرے ملک کے غریبوں کا خیال رکھنا”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے