کشمیر جل رہا ہے حکمراں سورہے ہیں

مقبوضہ کشمیر کئی سالوں سے آگ اور خون کی مسلسل لپیٹ میں ہے ۔کشمیر پر طاقت کے بلبوتے پر قابض بھارت جبروتشدد کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنی قید میں جکڑے ہوئے ہے ۔ بھارت کے کشمیری عوام پر آئے دن انسانیت سوز مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ۔ بھارتی فورسز نہتی کشمیری ماوُں بہنوں کی عزتوں کی پرواہ کیے بغیر انہیں بھی اپنی درندگی کا نشانہ بنارہی ہے ۔ بھارت کی جانب سے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کی وہ داستان رقم کی جاتی ہے کہ جس سے انسانیت بھی شرما جائے ۔ یوں تو بھارت خود کو عالمی دنیا کے سامنے خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن اور سیکیولر ملک ثابت کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے لیکن خود بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں ۔ وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ اس سے پوری دنیا واقف ہے صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا بھارت کےموجودہ وزیراعظم مودی نے خون بہایا انہیں گائے بکری کی طرح ذبح کیا گیا اب مودی اپنی دردنگی اور سفاکیت کا مظاہرہ مظلوم کشمیریوں پر کرہا ہے کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کیلیے انہیں اپنی درندگی کا نشانہ بنا رہا ہے ۔

ایک بار پھر سے کشمیری عوام پر بھارت کے جبر و تشدد کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ۔ جسکا حالیہ مظاہرہ اقوام عالم نے دیکھا کہ جب اقتدار کے نشے میں بدمست بھارتی فورسز نے ایک نوجوان مجاہد برہان مظفر وانی کو شہید کردیا ۔ جس کے بعد کشمیر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ کشمیری عوام گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آگئی اور احتجاجی مظاہرہ کا آغاز کرکے دنیا سے انصاف کی بھیک مانگنے لگی ۔ بھارتی نیم فوجی دستوں نے مظلوم کشمیری عوام کے احتجاج کو روکنے کیلیے روایتی بربریت کا مظاہرہ کیا لیکن احتجاج کشمیری عوام کے دل کی آواز ہے بھارت کی لاکھ روکنے کی کوششوں کے باوجود احتجاج کئی شہروں ، قصبوں اور گلیوں محلوں تک پہنچ گیا ۔ جس کے نتیجے میں بھارتی فورسز کی روایتی جارحیت شیلنگ فائرنگ اور تشدد سے اب تک 30 شہداء ہوچکے اور کئی سو زخمی ہیں جنکی حالت بدستور تشویشناک ہے ۔ بھارت کا یہ تعصبی عمل انتہائی شرمناک ہے ۔ بھارت کے اس جارحانہ تعصبی رویے کے باوجود کشمیری عوام بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر تیار نہیں اور ہڑتالوں مظاہرے کے ذریعے وہ بھارت اور دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ ہم پرامن لوگ ہیں ہماری مدد کی جائے ہمیں بھارتی مظالم اور بربریت سے نجات دلائی جائے ۔ اپنے احتجاجی مظاہروں میں کشمیری عوام نے پاکستانی پرچم لہرا کر پاکستان سے محبت اور عقیدت کا بھی مظاہرہ کیا کہ پاکستان ہی واحد ملک ہے جو انکے لیے آواز اٹھائے گا ۔

ہم دیکھ رہے ہیں بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کا جنازہ نکال رہا ہے ، وہ کھلم کھلا کشمیری نوجوانوں ، بزرگ ، خواتین اور نومولود بچوں کو ذبح کرکے درندگی کا نشانہ بنا رہا ہے ، مگر عالمی سطح پر انسانی حقوق کے علمبرداروں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی ۔ اقوام متحدہ امریکہ یورپ سمیت مسلم ممالک بھی بھارتی جارحیت پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ مسلم ممالک کے اتحاد سعودی بادشاہت کو بچانے کیلیے تو بن جاتے ہیں مگر کشمیری عوام پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر کوئی آواز بلند نہیں کرتا ۔ کشمیری عوام خصوصاً نوجوانوں میں اس وقت بھارتی تعصب اور بربریت کے خلاف شدید قسم کا لاوا پک رہا ہے انکا چٹانوں کی طرح عزم و حوصلہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ہم سر تسلیم خم نہیں کرینگے شہادت دیتے رہیں گے مگر اپنی جدوجہد سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں جہاں سے بھارت سے ٹکراتے کئی جنازے نہ اٹھے ہوں ، جہاں کے دلارے بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں نہ ٹھنسے ہوں یا وہاں گل سڑ رہے ہوں لیکن یہ پھر بھی اپنے نظریے پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ آزادی بس آزادی ۔

بھارت کے اس تعصبی رویے کے خلاف پاکستانی حکام نے صرف مذمتی بیان جاری کیا ۔ اپنے احتجاجی مظاہروں میں پاکستانی پرچم لہرانے والی کشمیری عوام کیلیے صرف مذمتی بیان ناکافی ہے ۔ حکومت پاکستان کو معاملے کو عالمی سطح خصوصاً اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہیے ، اور عالمی لیڈران کو خط لکھے کہ بھارتی جبرو تشدد رکوانے میں اپنا کردار کریں ۔ لیکن انتہاہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت صرف بیان جاری کرنے سے آگے نہ بڑھ سکی حکومت کو کشمیری عوام سے زیادہ مودی کی بےوفائی کی فکر لاحق ہے کہ اگر بھارتی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی تو مودی سے جو قربتیں محبت اور دوستی کا ناطہ ہے اس میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے حکومت اس معاملے پر چپ سادھے بیٹھی ہے ۔ دیگر جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو ہوں یا تحریک انصاف کے عمران خان سب بیانات اور جلسوں کی تقریروں کی حد تک محدود ہیں کسی نے ان مظالم پر جلوس نہیں نکالے اقوام عالم کی اس جانب توجہ مبذول کرانے کیلئے کسی جماعت کے لیڈر نے زبانی جمع خرچ کے علاوہ عملی اقدامات نہیں کیے ۔ کشمیر کمیٹی کے چئیرمین مولانا فضل الرحمٰن بھی اس منظرنامے سے مکمل طور پر غائب ہیں وزیراعظم کو سپورٹ فراہم کرنے کیلیے جلسے کرنے کیلیے تو مولانا صاحب پر وقت ہے لیکن مظلوم کشمیری عوام کیلیے دو لفظ ادا کرنے کیلیے وقت نہیں ۔ یہ تو حال ہے ہمارے حکمرانوں کا جب جاگنے کا وقت ہے تو گہری نیند سورہے ہیں ۔اگر ہم مشترکہ طور پر ایک آواز بن کر بھارتی جارحیت پر آواز اٹھائیں تو دنیا بھی ہماری آواز سنے گی لیکن بدقسمتی سے ہم خود بٹے ہوئے ہیں آپس میں ، کسی کا ہندوستان سے کاروبار ہے تو کوئی مودی کا یار ہے ۔ لیکن اگر ہمارے حکمران کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بھی نہ جاگے تو ہم کبھی بھی کشمیر پر آنے والی مشکلات کا حل نہیں نکال سکیں گے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے