کشتی بھنور کے قریب ہے

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد خون ریز ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ن لیگ آزاد کشمیر کو فتح کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔آزاد کشمیر میں ایک بار پھر روایتی انتخابات کا ڈرامہ ہو رہا ہے اور اس کے لیے 21جولائی 2016پولنگ کا دن رکھا گیا ۔

جمہوری ممالک میں انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں انتخابات کا اعلان ہوتے ہی اپنا منشور دیتی ہیں ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ پولنگ ڈے میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے اور ابھی تک کچھ سیاسی جماعتوں نے منشور تک نہیں دیا کچھ سیاسی جما عتوں نے نئی بوتل میں پرانی شراب کے مترداف گھسے پٹے الفاظ کا گورکھ دھندہ ،وہی پرانے نعروں کے ذریعے عوام کے دلوں کو لبھانے کی کوشش کی ہے ۔

آزاد کشمیر 4ہزار مربع میل پر مشتمل علاقہ ہے اور آبادی قریب قریب 40لاکھ ہے ۔سیاستدانوں کی چالاکی دیکھیے کہ انھوں نے کمال ہوشیاری سے اس خطے کو برادریوں اور کنبوں میں تقسیم کر کے اپنے مفادات سمیٹ رہے ہیں ۔اس پرامن خطے میں برداری ازم کا پودا سابق وزیراعظم سردار سکندر حیات نے لگایا جو آج ایک تناور درخت بن گیا ۔بعد میں آنے والے سیاستدانوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بقدر جثہ اپنا حصہ ڈالتے رہے اس ناسور نے ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اسے کھوکھلا بنا دیا ہے ۔انتخابات نظریے کے نام پر لڑے جاتے ہیں مگر کشمیر میں نظریے نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی برادریوں اور دولت کا جادو سر چڑھ کے بول رہا ہے ۔تمام سیاسی جماعتوں نے ٹکٹوں کی تقسیم اہلیت پر نہیں بلکہ برداری اور دولت کو معیار بنا کر دیے ہیں ۔کن ٹٹے سیاستدانوں نے اس خطے کے باسیوں کو اپنے مفادات کی خاطر جاٹوں ،راجوں اور گجروں میں تقسیم کر دیا ہے ۔ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کے خلاف صف آراء ہے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ووٹ امانت ہوتی ہے ،امانت تو دیانت دار کے حوالے کی جاتی ہے نہ کہ چوروں اور لٹیروں کے ۔ امیدواروں کی اکثریت الامان و الحفیظ ۔سیاست کے میدان میں سیاست دان اپنی پگ کا شملا اونچا رکھنے کے لیے بڑے بڑے ظلم کرتے ہیں ۔عوام کو گمراہ کر کے ان کی زندگی عذاب بنا دی جاتی ہے ۔ایک ان پڑھ چھابڑی والے کو سیاست کے میدان کا شہسوار بنانے کی غلط فہمی عطا کر دی جاتی ہے ۔وہ بے چارہ ظلم برداشت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسے دنیا کی سیاست کا مکمل شعور مل چکا ہے وہ مردہ باد کے نعرے لگاتا ہے اور چھابڑی کو بساط سیاست سمجھتا ہے ۔اس بے چارے پر ظلم ہو چکا ہوتا ہے اور وہ اس سے اگاہ تک نہیں ہوتا ۔راہنما کرسیوں کے کھیل میں غریب کی عافیت سے کھیلتے رہتے ہیں ۔ظلم جاری رہتا ہے اور مظلوم کو احساس تک نہیں ہوتا یہ کھیل آج کل کشمیر میں بخوبی کھیلا جا رہا ہے ۔
دوسری طرف بادشاہ سلامت میاں نواز شریف دل کے کامیاب اپریشن کے بعد 48دنوں کے بعد وطن واپس لوٹ چکے ہیں ۔ان کی آمد کو یادگار بنانے کے لیے قوم کو 30کروڑ کا ٹیکہ لگایا گیا ۔قوم کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ وہ بے شرموں کی طرح سب کچھ برداشت کر رہی ہے ۔انگریز سے تو ہم نے آزادی حاصل کر لی ہے مگر ہم ابھی بھی ذہنی غلام ہیں ۔جب یہاں پر انگریز کی حکومت ہوتی تھی تو مہاراجہ کی موٹر جب کسی بازار سے گزرتی تھی اگر کوئی شخص موٹر کو دور سے دیکھ کر ہاتھ باندھے ادب سے کھڑا نہ ہو اور مہاراجہ اس موٹر کے اندر موجود ہوں تو یہ مہاراجہ کی بے ادبی اور توہین سمجھی جاتی تھی ۔اور اگر مہاراجہ کی موٹر کو آتے دیکھ کر وہ ہاتھ باندھے ادب سے کھڑا ہو گیا اور قریب آکر معلوم ہوا کہ موٹر میں مہاراجہ موجود نہیں ہیں صرف ڈرائیور خالی کار کو لے جا رہا ہے تو ادب سے ہاتھ باندھے کھڑے ہونے کا ڈرائیور مذاق اڑاتا ۔آج کے اہل اقتدار جی بھر کے عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں انھیں پتہ ہے کہ جن پر ہم حکمرانی کر رہے ہیں یہ جوتے اور پیاز کھانے والی قوم ہے ان کو جوتے مارے جاہیں تو یہ احتجاج نہیں کرتی بلکہ جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافے کا سوال کرتی ہے ۔
برہان وانی کی شہادت کے بعد پی پی پی کے چیرمین بلاول نے کہا ہے کہ نواز شریف کا مودی سے یارانہ ہے اور وہ مودی کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتے اس لیے وہ کشمیریوں کی حمایت میں بیان جاری نہیں کرتے ۔عمران خان حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی صف بندی کر رہے ہیں ۔نواز شریف کے حواری انھیں قائد اعظم ثانی بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ہماری کشتی بیچ سمندر ،بھنور کے گرد چکر کاٹ رہی ہے ۔بھنور ہمیں اپنے اندر کھینچ رہا ہے مگر نا اہل حکمرانوں کو احساس تک نہیں ہو رہا ۔ہم میں سے کچھ توچپو چلا رہے ہیں مگر ان میں کوئی ربط نہیں کوئی ادھر کو زور لگاتا ہے اور کوئی ادھر اور کوئی میری طرح ہوا میں ہاتھ ہلا رہا ہے جیسے کسی کو بلاتا ہو ۔لیکن یہاں دور دور تک کوئی نہیں صرف اٹھتی ہوئی موجیں ہیں ۔کشتی ہر چکر کے بعد بھنور کے اور قریب ہو جاتی ہے ۔کنارے پر کھڑے تماشائی تالیاں بجا رہے ہیں ۔کچھ مسافر دل ہی دل میں بڑ بڑا رہے ہیں ۔شائد کسی خدا کو پکارتے ہوں ۔حالانکہ ان خداؤں نے بتایا ہے کہ سب ٹھیک ہے کوئی فکر کی بات نہیں کل اور بہتر ہو جائے گا ۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے