ترکی میں سلطانئ جمہور کی شاندار فتح

عظیم ترک قوم کو سلطانی جمہور کا کامیاب دفاع مبارک ہو۔ اپنے حق حکمرانی اور اپنے مینڈیٹ کا کامیاب تحفظ مبارک ہو۔ ہمیں بے حد خوشی ہے کہ ملت ترکیہ خدائے بزرگ و برتر کے فضل خاص سے اپنے عزم و ثبات، وفاداری، شعور اور اتحاد و اتفاق کی بہ دولت Military Coup کا سر کچلنے میں کامیاب ہوگئی۔ امید ہے آئندہ کسی جنرل کے دماغ میں بغاوت کا خناس نہیں کلبلائے گا (پاکستان کی بات ہرگز نہیں ہو رہی!) یہ 1952ء میں مصر میں شاہ فاروق کی حکومت کے خلاف ہونے والی کامیاب فوجی بغاوت کے طرز پر نسبتا جونیئر فوجی افسروں کی ملی بھگت کا نتیجہ تھی۔ 1952ء کے مصر کی طرح انقرہ میں بھی چند دوسرے اور تیسرے درجے کے فوجی افسروں نے اپنے دماغ کی دیگ میں بغاوت کی کھچڑی پکائی، مگر شداد اور اس کی جنت کی طرح وہ بھی اپنی آرزؤں کی کھچڑی کے مزے لینے میں بری طرح ناکام ہوگئے۔
لیبیا میں معمر القذافی کی شاہ ادریس السنوسی کے خلاف 1969ء کی کامیاب بغاوت بھی نوجوان فوجی افسروں کی قوت بازو کا نتیجہ تھی۔ قذافی صاحب کی عمر اس وقت تیس سال تھی اور وہ فوج میں ایک کرنل تھے، جب بن غازی میں انہوں نے شاہ ادریس کے خلاف بغاوت کا علم اٹھایا۔ اتفاق سے شاہ ادریس بھی تب ملک سے باہر تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ معمر القذافی قائد الثورہ، مرد آہن اور القائد و الاخ بننے کے بعد بھی آخر تک کرنل کی چھڑی سے ہی Malacca Stick (کمان کی چھڑی جو سپہ سالار فوج کے پاس ہوتی ہے) کا کام لیتے رہے۔ خود ترکی میں 1908ء سے پروان چڑھنے والی اندرون سلطنت باغی تحریک (نوجوانان ترک اور جمعیت اتحاد و ترقی کے زیر عنوان) عثمانی فوج کے نچلے درجے کے افسروں کی آشیرباد سے آگے بڑھی اور بالاخر انہی کے ہاتھوں 1924ء میں عثمانی سلطنت کے مکمل خاتمے پر منتج ہوئی۔ مصر، لیبیا اور خود ترکی میں ماضی میں حکومتوں کے خلاف اٹھنے والی یہ فوجی بغاوتیں کیوں کامیاب ہوئیں اور آج جناب ایردوان کے ترکی میں سر اٹھانے والی جدید "Young Turks Movement” کیوں ناکامی سے دوچار ہوئی، اس میں عقل والوں کے لیے بڑی واضح نشانیاں موجود ہیں۔

بہ ہر حال ہم تاریخ کے اس اہم موڑ پر ترک قوم کو ایک اہم سنگ میل نہایت کامیابی سے عبور کرنے پر تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور چند فوجی افسروں کی غیر ضروری مہم جوئی کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے اتلاف پر انتہائی دکھ، درد اور غم کا اظہار کرتے ہیں۔ یقینا ترک قوم کی آج کی اس اہم کامیابی میں انقرہ کے ان شہداء کی قربانیوں کا ہی کردار ہے۔ امید ہے فوجی بغاوت کی ناکامی کی عظیم خوشی ان کے اس دکھ اور غم کے اندمال کا سبب بنے گی۔

گزشتہ سے پیوستہ رات اتفاق سے جلد سوجانے کے باعث مجھے بروقت معلوم نہ ہوسکا کہ "عثمانیوں” پہ کس قدر کوہ غم ٹوٹا ہے، صبح آٹھ بجے فیس بک پر لاگ آن ہوا تو پتا چلا "رسیدہ بود بلائے ولے بہ خیر گزشت” کہ قیامت آگئی تھی، مگر سیل بلا کنی کاٹ کر گزر گیا۔ فیس بک کی خبروں کو ناقابل یقین باور کرکے فورا ترک سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کی ویب سائٹ کی طرف دوڑ لگائی، مگر وہاں ابھی "لا الیٰ ھولآء و لا الیٰ ھولآء” یعنی محتاط "غیر جانبداری” کا ماحول تھا۔ شاید حالات پوری طرح کلیئر نہیں تھے۔ ویب سائٹ سے کسی فریق کی حمایت کا تاثر نہیں مل رہا تھا۔ حد یہ کہ بغاوت سے متعلق کوئی خبر تک موجود نہیں تھی۔ مگر یہ صورتحال زیادہ دیر نہیں رہی۔ ایک گھنٹے بعد دوبارہ ویب سائٹ میں جھانکی لگائی تو یہ خبر موجود تھی کہ "فوج کے ایک گروپ کی جانب سے بغاوت کی کوشش ناکام بنادی گئی، حکومت نے باغی ٹولے سے تعلق رکھنے والے 29 کرنلوں اور 25 جنرلوں کو برطرف کردیا۔”

ترک قوم کو ایک بار پھر تہہ دل سے مبارک باد

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے