عبدالستار ایدھی

ایدھی نا صرف ایک ایک عہد ساز شخصیت کا نام تھا بلکہ وہ ایک ادارہ، ایک باپ، ایک پناہ گاہ کی حیثیت رکھنے والی ایک خداداد صلاحیتوں کی مالک شخصیت تھے
بیواؤں، یتیموں، بے سہاروں کا ایدھی
انیس سو اٹھائیس کو بھارت میں پیدا ہونے والی یہ شخصیت آٹھ جولائی دو ہزار سولہ کو ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے
انسانی خدمت کی پہچان بننے والے عبدالستار ایدھی ایک فرشتہ صفت انسان جس کے سینے میں دھڑکتا دل انسانیت کے لیے کچھ نا کچھ کرتے رہنے کی جستجو میں رہتا۔۔۔
یہ تاریخ ساز شخصیت کبھی کراچی کی سڑکوں پر پھیری لگاتا تو کبھی کپڑا مارکیٹ میں کمیشن ایجنٹ بن کر محنت سے دو وقت کی روٹی کمانے والا ایدھی دنیا میں پاکستان کی پہچان بن جائے گا اس کا کسی کو اندازہ نہ تھا۔۔۔
انیس سو ساٹھ کے عشرے کے دوران کراچی میں فلو کی وباء پھیلی تو عبدالستار ایدھی نے پہلی بار اپنا طبی کیمپ لگایا
لیاری کےعلاقے موسیٰ لین میں عمارت گری تو عبدالستار ایدھی چند رضاکاروں کے ساتھ دن رات امدادی کاموں میں مصروف رہے
اس واقعہ سے لوگوں کا ان پر اعتماد بڑھا، عثمان ایدھی نامی شخص نے انہیں ڈھائی ہزار روپے دیئے جس سے عبدالستار ایدھی نے میٹھادر کے علاقے میں پہلی جگہ خریدی۔۔۔
کراچی میں بے گور و کفن لاشوں کو غسل دینے کیلئے پہلا قدم بڑھانے والا عبدالستار ایدھی ہی تھا، ایدھی وہ شخص تھا جو گندے نالوں میں اتر کرتعفن زدہ لاشوں کو اٹھا لاتا
فائرنگ اور بم دھماکے میں مرنے والوں کی لاشیں انکے جسم کے ٹکڑے تک جھولی میں اٹھا لاتا۔ جن لاشوں کو ان کے ورثاء غسل دینے کی ہمت نہ کرپاتے عبدالستار ایدھی انہیں غسل دے کر کفن پہناتا، جیسے جیسے یہ کام بڑھا لوگ ایدھی کے نام سے واقف ہونے لگے۔۔
ایک ایمبولینس سے اپنا سفر شروع کرنے والا ایدھی ایمبولینس کے اس فلیٹ کو ملک گیر مہم میں تبدیل کر گیا۔
ایدھی نے ایئر ایمبولینس بھی متعارف کرائی، سمندر میں ماہی گیر ہو یا گھومنے پھرنے کیلئے جانے والے شہری، ان کو ہنگامی صورتحال میں مدد دینے کیلئے ایدھی بوٹ سروس متعارف کرا دی، ڈوبنے والوں کی لاشیں نکالنے کیلئے ایدھی نےغوطہ خور تیار کئے۔۔
ایدھی یتیموں کا بیواؤں بزرگوں کا سہارا بنا ایدھی ہر لاوارث بے آسرؤں کا سہارا تھا دکھی انسانیت کی خدمت اور مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے کہیں کوئی حادثہ ہوتا تصادم ہوتا فارنگ کے واقعات ہوتے ان واقعات میں زخمیوں اور لاشوں کو اٹھا کر ہسپتال پہنچاتے بارشیں ہوں سیلاب آئیں قحط سالی ہوتی ہر وقت ہر جگہ امداد کے لیے موجود ہوتے بم دھماکوں فائرنگ میں زخمیوں کو اپنی ایمبولینس میں ہسپتال پہنچاتے، عبدالستار ایدھی وہ شخص تھے جس نے اپنی خواہشات کا گلا گھوٹ کر انسانیت کو زندہ رکھا فلاحی کام میں اپنی زندگی وقف کردی۔۔
رات کے اندھیرے میں جن معصوم بچوں کو ناجائز کہہ کر کچرے کے ڈھیر پر ڈال دیا جاتا انہیں یہ ایدھی اپنے سینے سے لگا کر اپنے گھر لے آتا۔۔۔
ایدھی صاحب نے ہر ایدھی سینٹر کے باہر جھولے لگائے تاکہ کوئی ماں اپنے بچے کو بدنامی کے خوف سے قتل نا کرے کچرے میں نا ڈالے جھولے میں ڈال دے تاکہ ایدھی اس پر اپنا دست شفقت رکھ سکے اور ایک با عزت طریقے سے اپنا نام دے سکیں، بچوں کے ہزاروں شناختی کارڈ پروالد کے نام کی جگہ ایدھی صاحب کا نام لکھا ہے۔۔
انسانیت کی خدمت کرنا ایدھی صاحب کا مشن تھا یہ شخص کیسے اعصاب کا مالک تھا اس کے سینے میں انسانیت کے لیے اتنا درد کہاں سے آیا کہ یہ شخص رہتی دنیا تک انسانیت کی ایک پہچان بن گیا۔۔
دوسروں کیلئے سڑکوں پر جھولی پھیلاتا تو لوگ کروڑوں روپے دے جاتے، ایدھی صاحب نے سادہ طرز زندگی اپنایا ان کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے موجود تھے لیکن انہوں نے دو کپڑوں میں ہی زندگی گزاردی۔ ان کی وصیت تھی جس کپڑوں میں ان کا انتقال ہوا انہی کپڑوں میں انہیں دفنایا جائے،
ایدھی صاحب نے دنیاوی زندگی کو پہچان لیا تھا آج سے پچیس سال قبل ہی اپنی قبر تیار کی تھی
انہوں نے مغربی ممالک سمیت یو این او اور بھارتی وزیر آعظم تک سے امداد لینے سے انکار کیا۔
انسانیت کے لیے اس انسان نما فرشتے کی محبت کیا تھی وہ اس بات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کے ایدھی صاحب جاتے جاتے اپنی آنکھوں سے دوسروں کی زندگی روشن کرگئے۔۔
انکے چلے جانے کے بعد کئی سوالات ہیں جو وہ ایک اکیلا شخص اس سنگدل معاشرے کے سامنے رکھ گیا ہے
کیا ہم بیس کروڑ مل کر بھی ایدھی کا حق ادا کر سکتے ہیں
کیا ہم بیس کروڑ عوام انکے اس مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں
کیا ہم انکی سادگی اور انکی سوچ کو اپنا سکتے ہیں ان کا اصل مقصدانسانیت کی خدمت تھا
ان کا مشن تھا کے کوئی بھوکا نا سوئے کوئی یتیم کوئی بیوہ بے آسرا نا ہو کوئی لاش لاوارث نا ہو
کیا اب ریاست اس کی وارث بننے کا حق ادا کر سکتی ہے
کیا ہمارے ملک و ملت کاحکمران ان بے نام بچوں کو اپنا نام دے کر سینے سے لگائے گا؟
آئیں ہم اپنے آپ سے عہد کریں ہم ایدھی کی سوچ کو آگے بڑھائیں گے۔۔
معاشرے نے ایدھی کو گلے لگایا مگر حکمران طبقے کی بے حسی اس وقت کھل کے سامنے آئی جب ایدھی جیسے عہد ساز کا جنازہ عام عوام کی پہنچ سے دور ہو گیا۔۔
سیاستدانوں کی جنازے میں شمولیت کی بھی ایک خاص مگر سیاسی مجبوری تھی
اگر ملک کا سپہ سالار ناآتا تو قوی امکان تھا کے سیاستدان بھی یقیناً شرکت کرنے کی تکلیف نا کرتے
اللہ تعالٰی ہمیں ایدھی صاحب کی طرح انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے ۔۔۔ آمین

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے