وزیراعلیٰ کی تبدیلی، ‘پارٹی نے مشاورت نہیں کی’

[pullquote]اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور صوبائی کابینہ میں تبدیلیوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان سے مشاورت نہیں کی۔ [/pullquote]

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے خورشید شاہ نے کہا کہ ‘اس بڑے فیصلے سے قبل ان سے مشاورت نہیں کی گئی’۔ پیپلز پارٹی کے اہم رہنما تصور کیے جانے والے خورشید شاہ نے کہا کہ انھیں میڈیا کے ذریعے سے وزیراعلیٰ سندھ کی تبدیلی کے حوالے سے اطلاع پہنچی۔

انھوں نے کہا کہ ‘مذکورہ فیصلہ میرے لیے خلاف توقع ہے تاہم میں پارٹی کی قیادت کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں’۔ خورشید شاہ نے پارٹی قیادت کے مذکورہ فیصلے سے لاعلمی کے حوالے سے وضاحت پیش کی کہ پارٹی کا اجلاس دبئی میں ہوا تھا لیکن وہ اس وقت پاکستان میں ہیں۔

سندھ کے ممکنہ نئے وزیراعلیٰ کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ انھوں نے سنا ہے کہ مراد علی شاہ کا نام نئے وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے آیا ہے تاہم یہ ابھی حتمی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘سندھ کے نئے وزیراعلیٰ کے حوالے سے حتمی فیصلہ رواں ہفتے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بلائے جانے والے پارٹی اجلاس میں کیا جائے گا’۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک جاری بیان میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی قیادت نے دبئی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور صوبائی کابینہ میں تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا ہے۔ قائم علی شاہ 3 مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں، وہ 1988، 2008 اور 2013 کے عام انتخابات کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔

سندھ کے نئے وزیراعلیٰ کے حوالے سے موجودہ صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ، وزیر داخلہ سہیل انور سیال، اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور وزیر تعلیم نثار کھوڑو کو مضبوط امیدوار قرار دیا جارہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے