وزارت عظمیٰ،فاروق حیدر اور کچھ توقعات

آزاد کشمیر میں راجہ فاروق حیدر خان کا بحثیت وزیراعظم انتخاب ریاستی عوام کے حالات زندگی، ریاست کے پاکستان کے ساتھ رسمی روایتی بد اعتمادی اور انفرادی سطح کے تہہ در تہہ تعلقات، اور آر پار کشمیریوں کے درمیان تعلقات کے ضمن میں بہت سی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ میں اپنی اور اپنے دوستوں کی جانب سے انہیں دل کی گہرایوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

مجھے کامل یقین ہے کہ آزاد کشمیر میں عوام کے حالات زندگی میں بنیادی تبدیلی لانے ان کی محرومیاں دور کرنے،تعلیم، صحت، علاج، قانون و انصاف کو عام عادمی کیلئے سستا اور حصول آسان بنانے میں راجہ فاروق حیدر خان کوئی لمحہ ضائع نہیں کریں گے۔ آزاد کشمیر کے تمام پسماندہ علاقوں میں ترقی کے عمل کوتیز کرتے ہوئے ریاست کے ترقی پذیر علاقوں کی سطح پر لانے اور ترقی پذیر علاقوں کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے صاف شفاف دیانتدار اور پیشہ ور کم سے کم انتظامی اخراجات کی حامل انتظامیہ کی ضرورت ہے اور یہ کام راجہ فاروق حیدر کرنے کی اہلیت ، جذبہ ، ارادہ اور نواز شریف صاحب کی شکل میں ایک مضبوط سیاسی و مالی پشت پناہی رکھتے ہیں۔

اور ایسا کرنے کیلئے آزاد کشمیر کو زیادہ سے زیادہ انتظامی و مالی اختیارات دینے،آزاد کشمیر کے عوام اور ان کی منتخب حکومت کو باوقار بنانے اور درمیان میں موجود دوہری تہری حکومتیں اور ادارے ختم کرنے ، ریاست جموں کشمیر اور ریاست پاکستان کے مابین مضبوط آئینی تعلق بنانے کیلئے ایکٹ 1974 میں تبدیلی لانے یا از سر نو کوئی نیا عمرانی معاہدہ طے کرنے کیلئے تمام ممبران اسمبلی کی بھرپور حمایت راجہ فاروق حیدر کو ہی حاصل ہے۔ اور راجہ فاروق حیدر میں یہ مشکل ترین کام کرنے کا حوصلہ اور جرات ہے بہ شرطیکہ ان کے ساتھی ان کا ساتھ دیں۔

راجہ فاروق حیدر بہترین کابینہ کا انتخاب کریں ،انہیں فرنٹ لاین پر رکھیں خود بہ حیثت لیڈر اپنا کام کریں ۔ آزاد کشمیر اسمبلی سے منظور کردہ دو ریاستوں کے مابین اس معاہدہ کو پاکستان کی پارلیمان سے منظور کرایا جائے۔ اگر اعتماد کی موجودہ فضاء کو تقویت بخشنی ہے تو میں یہ کہوں گا کہ آزاد کشمیر کی ریاست اور اس کی انتظامیہ کو اتنا با اختیار اور طاقتور بنا دیں کہ جس کی رو سے آپ اس حکومت کو پوری ریاست جموں کشمیر کی نمائندہ حکومت کے طور پہلے خود تسلیم کریں اور پھر دوست ممالک سے کرایں۔ اور آزاد کشمیر کی حکومت کی ریاستی حکومت کے قیام کے اغراض و مقاصد کو اکتوبر 1947 کے حکومتی اعلامیہ سے جوڑا جائے جیسا کہ بانی پاکستان قائد اعظم کے سیکریٹری اور آزاد کشمیر کے صدر محترم کے ایچ خورشید مرحوم نے صدر ایوب خان سے کرانا چاہا تھا مگر اس وقت بھی وزارت امور کشمیر کے بابو لوگوں اور ملک حبیب اللہ جیسے تنگ نظر لوگوں نے آزاد کشمیر کے ہی کچھ سیاستدانوں کو استعمال کر کے اس تجویز کو رد کرا دیا۔

اگر اس تجویز کا جموں کشمیر کی بدلی ہوئی صورتحال کی روشنی میں دوبارہ جائزہ لیا جائے تو اس سے ناصرف کشمیر کی آزادی کی تحریک کو فائدہ ہو گا بلکہ خود مملکت پاکستان پر بہت سے اضافی بوجھ ختم ہو جائیں گے۔ بھارت اور پاکستان اعتماد کے ساتھ باہمی تعلقات بہتر بنائیں اور کشمیر کے معاملے میں بات چیت خواہ لاہور ایگریمنٹ سے شروع کریں یا مشرف فارمولے سے ، کشمیر کی قیادت آن بورڈ ہو جائے گی۔ آر پار کی قیادت کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے راجہ فاروق حیدر بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ان کے کشمیر کے ہر مکتبہ فکر کی لیڈرشپ سے تعلقات ہیں اور ان کے اپنے کی رشتہ دار اعلی سیاسی و انتطامی عہدوں پر رہ چکے ہیں اورآج بھی ہیں۔

مجھے علم ہے کہ ایسا فوری طور پر ممکن نہیں ، پاکستان میں کشمیر کے مسئلہ پر میاں صاحب کے بہ حیثیت کشمیری ذاتی خیالات سے میں ذاتی طور آگاہ ہوں مگر عملی طور وہ کچھ بھی کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ جنہیں اس معاملہ پر کچھ نیا کچھ سوچنا ہے وہ اس کیلیے تیار نہیں ۔ وہ اپنے بیانیہ سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ حالات کو پلٹا کھانے میں دیر نہیں لگا کرتی۔ صدر مشرف نے فوجی سربراہ کی حیثیت سے ہی کشمیر پر پاکستان کے سرکاری تقراری موقف سے ہٹ کر چار نکاتی فارمولہ پیش کیا اور یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ اس کے جواب میں ہندوستان کے اس وقت کے معتدل نرم دل وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی بھی ہندوستان سرکار کے تکراری و سرکاری موقف سے ہٹے اور کشمیر سے منسلک اعتماد سازی کے عمل کو بڑھانے میں مثبت کردار ادا کیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے