مارکیٹنگ سٹریٹیجیز

یم بی اے کے دوران میکڈونلڈز اور کے ایف سی کی مارکیٹنگ سٹریٹیجیز کا ایک دلچسپ کیس سٹڈی کرنے کا موقع ملا۔ ویسے تو یہ دونوں فاسٹ فوڈ کے گلوبل امریکن برانڈز ہیں، مکڈونلڈز کی پرفارمنس کے ایف سی سے بہت بہتر رہی ھے اور اس وقت تک مکڈونلڈز نہ صرف اپنی انڈسٹری میں، بلکہ ہر طرح کے کامیاب برانڈز کی لسٹ میں ٹاپ ٹین میں شامل ہوچکا ھے۔

امریکہ میں مکڈونلڈز کا ریونیو اور پرافٹ کے ایف سی کے مقابلے میں ڈبل سے زیادہ ھے اور مارکیٹ شئیر کا بڑا حصہ بھی اسی کے پاس ھے۔ صورتحال دلچسپ اس وقت ہوتی ھے جب آپ ان دونوں برانڈز کی چائنہ میں کارکردگی کا جائزہ لیں۔ یہ دونوں برانڈز غالباً 80 کی دہائی میں پہلی دفعہ چائنہ آئے اور اس وقت سے اب تک، ایک دوسرے کو انتہائی سخت مقابلہ دے رھے ہیں۔

مکڈونلڈز نے جب چائنہ میں قدم رکھا توان کی سٹریٹیجی تھی کہ وہ اپنے امیریکن برانڈ کو چائنہ میں لے کر آئیں گے اور اپنی پراڈکٹس میں کسی بھی قسم کی بڑی تبدیلی نہیں کریں گے۔ ان کا وژن یہ تھا کہ وہ ایک امریکی برانڈ ہیں اور ان کے کسٹمرز ان کے ہیمبرگر یا مک چکن کھانے آتے ہیں، نہ کہ چائنیز نوڈلز یا سوپ۔

دوسری طرف کے ایف سی نے مختلف سٹریٹیجی اپنائی۔ کے ایف سی نے چین کے مشہور شیفس کو لے کر ایک 50 رکنی کنورشیم بنایا جس کا کام کے ایف سی کے مینو کا ریویو کرنا تھا اور اسے چائنیز ٹیسٹ کے مطابق ڈھالنے کیلئے ضروری مصالحے اور اجزا کے تحت تیار کروانا تھا۔ اسی لئے کے ایف سی نے اپنے فرائیڈ چکن کو کبھی نوڈلز میں مکس کرکے ایک نئی ڈش بنائی تو کبھی مکسڈ ویجی ٹیبلز کو چائنیز سٹائل میں بنا کر سائیڈ ڈش کے طور پر پیش کیا۔
چینی عوام کا ریسٹورنٹ کے حوالے سے مزاج امریکہ سے بہت مختلف ھے۔ چینی جب اپنے کسی دوست یا رشتے دار سے ملتے ہیں تو اسے اپنے گھر انوائیٹ کرنے کی بجائے کسی ریسٹورنٹ لے کر جاتے ہیں۔ اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کے ایف سی اور مکڈونلڈز دونوں نے امریکہ میں بنے چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹس کے برعکس چائنہ میں باقاعدہ بڑے بڑے ریسٹورنٹس قائم کئے جن میں بچوں کے کھیلنے کی جگہیں بھی بنائی گئیں۔

امریکہ میں عام طور پر فاسٹ فوڈ کے آؤٹ لیٹس مین شاہراہوں، ہائی ویز اور کاروباری مراکز کے پاس ہوتے ہیں جہاں سے لوگ اپنی مرضی کا سینڈوچ پیک کروا کر، یا کھا کر جلد اپنے اپنے کام کو روانہ ہوجاتے ہیں۔ چائنہ میں اس کے برعکس ان دونوں فاسٹ فوڈ جائنٹس نے ڈاؤن ٹاؤن ایریاز میں اپنے ریسٹورنٹس بنائے جہاں لوگوں کی بڑی پاپولیشن رہتی ھے اور وہ باقاعدہ پلان بنا کر ان ریسٹورنٹس میں کھانا کھانے آتے ہیں۔

چائنہ میں کے ایف سی کے پاس مکڈونلڈز سے تقریباً ڈبل مارکیٹ شئیر ھے، حالانکہ امریکہ میں مکڈونلڈز کے ایف سی کو اپنے پاس بھی پھٹکنے نہیں دیتا۔ اس کی کیا وجہ ھے؟
اس کی مین وجہ کے ایف سی کی چائنیز کلچر کا ‘ ایڈاپٹ ‘ کرنے کی سٹریٹیجی تھی جو اس نے 80 کی دہائی سے اپنائی اور جسے مکڈونلڈز نے شروع میں اپنی روایت کے خلاف قرار دیا۔ اب حالت یہ ھے کہ مکڈونلڈز نے اپنے مینو میں بہت سے آئیٹمز چائنیز سٹائل میں متعارف کروانا شروع کردیے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ اس کے رزلٹس بھی دیکھ رھے ہیں۔

باٹم لائن یہ ھے کہ ان دونوں کمپنیوں نے اپنے اپنے حساب سے چائنہ کے کلچر کو ایڈاپٹ کیا اور اس کے ثمرات بھی دیکھیں۔ اس کے برعکس اگر آپ ان کی پاکستان میں مارکیٹنگ سٹریٹیجی دیکھیں تو نہ تو کوئی خاص کسٹمائزیشن نظر آتی ھے اور نہ ہی لوکل کلچر کی کوئی جھلک۔ زیادہ سے زیادہ ان دونوں کمپنیوں نے اپنی مڈل ایسٹ کی پراڈکٹس کو یہاں متعارف کروا دیا ھے۔ مزید براں، انہوں نے عوام کی معاشی حالت کے مطابق اپنی پرائسنگ بھی ایڈجسٹ نہیں کی۔ اگر 2 میاں بیوی اور 3 بچے مکڈونلڈز جائیں اور ایک ایک میل لیں تو ان کا ڈھائی سے تین ہزار کو بل بنتا ھے، جبکہ اس اماؤنٹ میں وہ کسی بھی اچھے ڈائننگ ریسٹورنٹ میں کھانا کھا سکتے ہیں۔

یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں لانگ ٹرم میں یہ دونوں کمپنیاں مجھے چلتی ہوئی نظر نہیں آرہیں۔ جب تک یہ لوکل کلچر اور پرائسنگ کے مطابق اپنی پراڈکٹس متعارف نہیں کرواتیں، یہ صرف آبادی کے 10 فیصد کو ہی ٹارگٹ کرتی رہیں گی اور باقی 90 فیصد کو اگنور کردیں گی۔

یہ 90 فیصد عوام کا سیگمنٹ بہت بڑا پوٹینشل اور کاروباری موقع فراہم کررہا ھے۔ لیکن آفرین ھے ہمارے لوکل بزنس مین پر، جس نے لوکل فاسٹ فوڈ کے برانڈز متعارف بھی کروائے تو یا تو ان کی کوالٹی گھٹا دی، یا قیمتیں اوپر لے گیا۔
اگر کوئی اچھا بزنس مین چاھے تو فاسٹ فوڈ کی اس بڑے مارکیٹ میں پائے جانے والے پوٹینشل کو استعمال کرکے چند سالوں میں کروڑپتی بن سکتا ھے!!!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے