” میجر لطیف اور غربا کے دلوں پہ راج "

کچھ احباب میجر لطیف خلیق صاحب کو انڈر اسٹیمیٹ کر رہے ہیں اور میجر صاحب جو ری ایکشن دے رہے ہیں وہ بھی کسی صورت مناسب نہیں … گزشتہ دنوں نامور بلاگر و قلمکار زبیر منصوری صاحب نے کمال تحریر لکھی… "کوئی میرا سلام میجر خلیق تک پہنچا سکے تو پہنچا دے… اگر کوئی ان کے ہاتھ پر بوسہ دے سکے تو دے دے … میں انہیں زیادہ تو نہیں جانتا …. شاید کبھی ملا بھی نہیں… ممکن ہے کہیں دیکھا ہو…. مگرایسے لوگ نہ جانے کیوں ہمیشہ سے ہی بڑے اچھے لگتے ہیں ایک وہ میرے ڈاکٹر تھے ڈاکٹر نذیر شہید ایک یہ میرے میجر صاحب ہیں …. یہ شیروں کے شکاری قبیلے کے لوگ ہوتے ہیں…. اللہ کی زمین پر اللہ کی نعمت ہوتے انسان ہی ہیں انسانوں والی خامیاں بھی ہوتی ہیں مگر عادتیں جی داروں والی لے کر پیدا ہوتے ہیں انہیں شکستیں شکست نہیں دے پاتیں…. یہ کسی اور ہی مٹی کے بنے ہوتے ہیں
ہار کر بھی جیتے ہوئے لوگ اپنوں کے درمیان اپنوں جیسے اپنے اپنے لگنے والے اپنے بلکہ اپنوں سے بڑھ کر اپنے لوگ۔۔۔” (خود کلامی ۔۔۔زبیر منصوری)

انڈر اسٹیمیٹ کرنے والوں کو شاید احساس نہیں کہ کس طرح کی آفرز اس غیر سیاسی مزاج والے فرد نے اس بار ٹھکرائیں ۔۔۔ ابھی تو الیکشن کے رزلٹ آ گئے ہیں اس لئے پی ٹی آئی شاید ایک آنکھ کسی کو نہ بہائے ، لیکن الیکشن سے قبل بیرسٹر صاحب کی دھاگ تھی اور پیپلزپارٹی کے منسٹرز تحریک انصاف کی طرف دوڑے جا رہے تھے ۔۔۔ ایسے میں بیرسٹر صاحب کو پیادہ میجر لطیف کے گھر پہنچ آیا ، بہترین آفر کے ساتھ ! لیکن کمال ہے۔ ادھر سے غیر متوقع جواب ، وہ بھی ایک دم کورا ۔۔۔ !! ن لیگ الیکشن سے سال بھر پہلے میجر صاحب پہ فوکس کیے ہوئے تھی ۔ چڑالہ کاہنڈی کے مقام پر ن لیگ کا کنونشن تھا تو راجہ فاروق حیدر صاحب نے برملا کہا کہ میجر صاحب ہمارے امیدوار ہیں ۔۔۔ پھر چار چھ ماہ بعد فاروق حیدر صاحب نے میجر صاحب کو مظفرآباد بلایا اور اس میں بھی سابقہ جذبات کا ہی اظہار کیا گیا ۔۔۔ پھر الیکشن سے تین ماہ قبل ن لیگ کی ایک ٹیم جو آزادکشمیر بھر میں امیدواروں کے چناو پہ کام کر رہی تھی وہ بھی میجر صاحب تک پہنچ آئی ۔۔۔ اس نے بھی مختلف پیکجز سامنے لائے اور مطالبہ صرف ایک ہی کہ ن کے ٹکٹ پہ میدان میں اتریں ۔۔۔۔ فلاں فلاں سے ملاقات ۔۔۔ اسلام آباد یاترا ۔۔۔۔ چھوٹے میاں صاحب سے اشیرباد ۔۔۔۔جیتنے پہ مزید بہت کچھ ۔۔۔۔۔ اِن کیس ہارنے کی صورت میں یہ یہ کچھ !! مجھے اسی وقت ایک خاص سورس سے ساری تفصیلات کا پتا چلا تو میں نے برملا کہہ دیا… ” میجر صاحب کو یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے ” لیکن آفرین ہے اس کوہِ گراں پہ کہ ٹس سے مس نہیں ہوا اور جماعت اسلامی کے قول و قرار کی پاسداری کو جیت ہار سے بالاتر جانا ۔۔۔۔ کہنے ، سننے ، لکھنے اور پڑھنے کیلئے شاید یہ چند جملوں سے زائد نہیں لیکن مروجہ سیاست پہ نظر رکھنے والا ہر فرد بہت بہتر جانتا ہے کہ اس طرح کی آفرز کو ٹھکرا کر اپنے عہدوپیماں کا ساتھ دینا آج کی سیاست میں اس کی نظیر ملنا ناممکن ہے ! انتخابی معرکہ سجتا ہے ، اپوزیشن کا ووٹ تقسیم ہو جاتا ہے اور جیت سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار عتیق خان صاحب کے حصہ میں آتی ہے ۔۔۔۔ راجہ فاروق حیدر صاحب نیوز چینل پہ ری ایکشن دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مقامی قیادت کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے سردار عتیق کو فتح ملی ۔۔۔۔

الیکشن کے رزلٹ کچھ اعتراضات کیساتھ مقامی سطح پہ سب نے قبول کیے ۔۔۔ اب میجر صاحب کی طرف سے ری ایکشن سامنے آ رہا ہے گزشتہ سے پیوستہ دن جمعیت علمائے اسلام کے مقامی علماء کو سردار عتیق صاحب کی حمایت کرنے اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے پہ سخت ترین الفاظ سے میجر صاحب کے بیانات کو ریاستی اخبارات نے کوریج دی ، جس پہ علمائے کرام کا واپسی جواب بھی چھپے اور یہ سلسلہ ابھی مزید آگے جانے کا خدشہ ہے ! میجر لطیف خلیق صاحب ۔۔۔ !! اپنے آپ کو پہچانیئے ۔ آپ نے غربی باغ کی سیاست کا مزاج بدل ڈالا ۔۔۔۔ ووٹرز کی عزت نفس بڑھائی ۔۔۔ قیادت کو عوام کے در و دہلیز تک لے آئے ۔۔۔۔ ایک عام آدمی کو یہ امید اور حوصلہ دیا کہ یہ کارِ سیاست امرا کیلئے ہی نہیں ۔۔۔ ریاست بھر میں آپ کی سیاست کے چرچے ہیں ۔۔ لیکن یہاں ایک لمحہ کیلئے رک جائیے… ری ایکشن آپ جیسے کردار کو زیب نہیں دیتا ۔۔۔۔ بلکہ حقیقی اپوزیشن کیجئے ۔۔۔ وہ کیجئے جس کا اعادہ آپ نے الیکشن کے تیسرے دن کیا تھا کہ ” بیس سال ہو گئے ، عوام علاقہ میرے اوپر اعتماد کر رہی ہے۔ اب کی بار میں ان کے حقوق کیلئے پہرہ دونگا اور عوامی فلاح کے کاموں پہ فوکس رہوں گا ” اس سے آپ اپنے مخالفین کو بہتر جواب دے سکتے ہیں ! چھوڑئیے یہ وزارت ، یہ مشیری اور یہ عہدے , دلوں پہ حکمرانی کا مزہ اور لطف ہی کچھ اور ہے
آپ حقیقی معنوں میں غریب کے دل پہ راج کر رہے ہیں … آپ غریب کی دعاؤں میں موجود ہیں… آپ عام آدمی کیلئے ایک امید اور آسرا ہیں… ہاں ایک گزارش ہے زبیر منصوری نے آپ کیساتھ جس دوسری ہستی یعنی ڈاکٹر نذیر شہید کا ذکر کیا ہے اگر وقت ملے تو ڈاکٹر صاحب کی سوانح کو ضرور پڑھیے گا ۔۔۔۔ نظر کے سامنے ہے …. ملک نذیر شہید کہ لڑتے لڑتے جیئں اور مسکرا کہ مریں…

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے