کشمیری لہولہان …

بقول بانی پاکستان کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے – کشمیر حسن اور خوبصورتی میں کم نظیر رکهتاہے- کشمیرکے بغیر نہ پاکستان کاکوئی حسن ہے اور نہ ہی پاکستان کا نقشہ مکمل۔ اس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بسے ہوئے ہیں, جو ہندو حکومت کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے چلے آرہے ہیں – ہردور میں اقلیتی گروہ کو ظلم وستم کا نشانہ بنانا اس حکومت کا خاصہ رہا ہے – سب سے ذیادہ مسلم کمیونٹی اس حکومت کے ستم کا شکار رہی ہے اور ہے- عرصہ دراز سے کشمیر کے مسلمان ہندو مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں – خون میں لہولہان ہیں- کشمیری مسلمانوں کے وجود کو خطہ کشمیر سے مٹانے پر ہندو حکومت پورا زور لگا رہی ہے- مسلمانوں کو خون میں لت پت کرنا ظالم ہندو حکمرانوں کا محبوب مشغلہ بنا ہواہے – نہ وہ مسلمان بوڑهوں کا احترام کرتے ہیں اور نہ ہی بچوں اور عورتوں پر رحم کرتے ہیں بلکہ ہندو حکومت کے پتهر دل فوجی وسپاہی ہر لمحہ مسلمانوں کی نشانی لیتے رہتے ہیں- کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر مسلمانوں پر گولی چلاتے رہتے ہیں – وہ ہمیشہ خون مسلم کے پیاسے رہتے ہیں – غرض جو بهی ستم کے طریقے تهے, سب کے ذریعے متعصب ہندووں نے مسلمانوں کو آزمایا – انہوں نے اپنی خواہشات نفسانی کی تکمیل اور ہوس رانی و عیاشی کی راہ میں مسلمانوں کو سب سے بڑا مانع پایا, جس کے سبب انہوں نے مسلمانوں کو دبانے, کچلنے اور نیست ونابود کرنے کے لئے پوری طاقت استعمال کی اور کررہے ہیں – وہ قتل وغارت کرکے’ خوف پھیلا کر اور ڈرا دھمکا کر مسلمانوں کو آذادی اور حق خود ارادیت کی جدوجہد کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں ۔

اس ناپاک عزم اور مزموم ہدف کو پورا کرنے کے لئے کشمیری مسلمانوں کے حصول آزادی کی تلاش کو دہشت گردی قرار دینے پر وہ مصر ہیں – جب کہ ہر انسان کو خالق نے آذاد خلق کیا ہے – اور حصول آذادی کی جدوجہد کرنا عقل سلیم کا پسندیدہ فعل اور پوری دنیا کے انسانوں کا ایک مسلمہ حق ہے۔ غلامی و قید وبند کی زندگی سے دنیا کا ہر باشعور انسان نفرت کرتا ہے – یہی وجہ ہے کہ کشمیری غیور مسلمان حصول آذادی کے لئے بهرپور جدوجہد کررہے ہیں اور اس راہ میں اپنا سب کچهہ قربان کررہے ہیں -اپنی عزیز جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں – کشمیرکے اندر نہ مسلمانوں کی جان محفوظ ہے اور نہ ہی ناموس کی عزت- صرف 2010کے اعدادوشمار کے مطابق 447کشمیریوں کو بھارتی ظالم فوج نے بھون ڈالی اور 6076عام شہری زخمی ہوئے۔ 132گھروں کی تلاشی لی گئی درنتیجہ 2188کشمیری گرفتار ہوئے۔ ان میں سے گیارہ زیرِ حراست افراد غائب کر دئیے گئے یہ صرف ایک سال کے اعداد و شمار ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مجموعی طور پر کیا صورتِ حال ہوگی ۔کشمیر میں عوامی حصول حریت کا سب سے اہم دور ہماری معلومات کے مطابق 80 کی دہائی کے اواخر سے شروع ہو کر 90 کی دہائی کے وسط تک کا تھا۔ اس دوران کشمیری عوام نے بھارتی تسلط سے نجات حاصل کرنے کیلئے بھر پور جدو جہد کی , جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری اپنی جانوں سے هاتهہ دهوبیٹهے, اور اس سے بڑی تعداد غائب اور زخمی ہوئی۔

چند ہفتے پہلے کشمیری مسلمانوں کی صورتحال ایک بار بہت شدید بگڑ چکی ہے – مسلمانوں کو سرعام گولیوں سے بھون رہے ہیں – یہ صورتحال اس وقت شروع ہوئی, جب ہندو متعصب فوج نے ایک بہادر اور نڈر کشمیری نوجوان برہان مظفر وانی کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا , جو خود تو شہید ہوکرسعید بن چکے مگرظالم ہندوؤں کے ظلم و جبر کے خلاف ایک علامت بن کر ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا۔برہان مظفر وانی نے مسلم جوانوں میں غیرت, غلامی سے نفرت کی تازہ روح ڈالی – ان میں حریت کا شوق اور جزبہ فداکاری پیداکردیا – یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کشمیری مسلمان بیدار ہوچکے ہیں اب وہ کسی چیز سے ڈرنے والے نہیں اور تاریخ بشریت بھی اس بات پر گواہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے حق اور آزادی کیلئے کمر باندھ لے تو اُسکے حصول میں تاخیر تو ہو سکتی ہے مگر بالآخر وہ اُسے حاصل کرکے ہی رہتی ہے- سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا کشمیر سے باہر کے مسلمانوں کو کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش رہنا چاہئے ؟ یا ان کا بھی کوئی وظیفہ بنتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ کشمیری مسلمان دوسری مسلم قوموں سے ہرگز جدا نہیں – سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں – آج شام , فلسطین, اور کشمیری دشمن انسانیت کے ظلم وستم کی بھڑکائی ہوئی آگ میں گویا سارے جہاں کے مسلمان جل رہے ہیں – ایک مسلمان پر دوسرے مسلمانوں کے بہت سارے فرائض اور حقوق ہیں – ایک دوسرے کی حفاظت کرنا , ایک دوسرے کے دکهہ سکهہ میں شریک ہونا اہم فرائض میں سے ہیں – پیغمبر گرامی اسلام کا یہ صریح ارشاد ہے کہ جو کوئی مسلمانوں کے امور کے بارے میں اہتمام کئے بغیر صبح کرے وہ مسلمان نہیں – نیز آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی مظلوم کسی مسلمان کو مدد کے لئے پکارے اور وہ اس کی مدد نہ کرے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے – نیز فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کا ساتهہ چھوڑتا ہے اور نہ اسے حوادث کے حوالے کرتا ہے –

مسلمانوں پر ایک دوسرے کے حقوق ذیادہ ہیں بطور نمونہ:ہر مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہ پسند کرے جسے اپنے لیے پسند کرتا ہے اور اسے دوسرے مسلمانوں کے لیے بھی پسند نہ کرے جسے وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتا ہے ۔مختلف طبقوں، مذہبوں اور مقاموں سے تعلق رکھنے کے باوجود مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم کرنے کی ترغیب مذہب اسلام کی سب سے بڑی ترغیبوں میں سے ہے چنانچہ آج کے اور پچھلے مسلمانوں کا سب سے زیادہ بے وقعت کام یہ ہے کہ انہوں نے اس اسلامی بھائی چارے کے تقاضوں کی طرف دھیان نہیں دیا اور اس بارے میں لاپروائی اور غفلت برتی – اگر مسلمان واقعی معنوں میں انصاف سے کام لیتے ہوئے مذکورہ قاعدے پر عمل کرتے تو کبھی بھی ہندووں کو کشمیری مسلمانوں پر ظلم کرنے کی ہمت وجرات نہ ہوتی – اگر مسلمان آپس میں بھائی چارے کی خوبی کو سمجھ کر ہی عمل کرتے تو ان میں ظلم اور دشمنی باقی نہ رہتی اور انسان حد درجہ خوشی اور اجتماعی خوش بختی کے اونچے اونچے مرحلوں کی فتح کے ساتھ ساتھ بھائیوں کی طرح اپنی زندگی گزارتے ۔انسانیت کی دنیا میں وہ "”مثالی معاشرہ”” یقینی طور پر وجود میں آجاتا، اس صورت میں لوگوں میں دوستی اور محبت کی حکمرانی ہوتی،لیکن افسوس آج کے مسلمان صرف اپنے آپ سے اور اس چیز سے محبت کرتا ہے جو اسے اچھی لگتی ہے وہ کبھی ایسی چیز سے جو اس کی ہستی سے باہر ہو اس وقت تک محبت نہیں کرتا جب تک وہ اس سے تعلق پیدا نہ کرے- مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ دوسروں کے ساتھ بھائی چارے کا جذبہ رکهے-اگر کوئی مسلمان اس سے غفلت اور سستی کا مظاهرہ کرے وہ صرف نام کا مسلمان ہے- اور وہ اللہ کی سرپرستی اور حزب اللہ سے باہر نکل گیا ہے اور امام کی تشریح کے مطابق جو بیان کی جارہی ہے خدا اس پر مہربانی اور عنایت نہیں کرے گا ۔معلیٰ بن خنیس کہتے ہیں ، میں نے امام جعفر صادق سے عرض کیا :مَا حَقُّ المُسلِمِ عَلَی المُسلِمِ :۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر کیا حق ہے ؟آپ نے فرمایا :لَہُ سَبعُ حُقُوقٍ وَاجِبَاتٍ ، مَامِنھُنَّ حَقٌّ اِلاَّ وَھُوَ عَلَیہِ وَاجِبٌ ، اِن ضَیَّعَ مِنھَا شَیئاً خَرَجَ مِن وِلاَیَۃِ اللہِ وَطَاعَتِہِ ، وَلَم یَکُن لِلّٰہِ فِیہِ نَصِیبٌ :۔ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر سات حق واجب ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک خود اس پر بھی واجب ہے اگر وہ ان میں سے ہر حق ضائع کردے گا تو خدا کی بندگی، حکومت اور سرپرستی سے باہر نکل جائے گا اور پھر خدا کی طرف سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا ۔میں نے کہا : میں آپ پر فدا ہوجاؤں، وہ حقوق کیا ہیں؟آپ نے فرمایا:۔ اے معلیٰ ! میں تجھ پر شفقت کرتا ہوں، مجھے ڈر ہے کہ تو کہی یہ حقوق تلف نہ کرے، ان کی حفاظت نہ کرسکے اور انہیں سمجھتے ہوئے بھی ان پر عمل نہ کرسکے ۔میں نے کہا : خدا کے سوا کسی میں طاقت نہیں ہے مجھے خدا کی مدد سے امید ہے کہ میں کامیاب ہوجاؤں گا ۔اس وقت امام نے ساتوں حقوق بیان کیے، اس کے بعد فرمایا کہ جو ان میں سب سے ادنی ہیے وہی سب سے سادہ بھی ہے اور وہ یہ ہے:
اَن تُحِبَّ لَہُ کَمَا تُحِبُّ لِنَفسِکَ وَتَکرَہَ لَہ مَاتکرَرہُ لِنَفسِکَ:۔ دوسروں کے لیے بھی وہ چیز پسند کر جو تو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی وہ ناپسند کر جو تو اپنے لیے ناپسند کرتا ہے ۔
آج ہم مسلمانوں کا کیا حال ہے؟ کیا اس حق کا ادا کرنا ہمارے لیے سادہ اور سہل ہے؟ ان کے منہ کو لوکا لگے جو مسلمان ہونے کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن اسلام کے سب سے سادہ قاعدے پر بھی عمل نہیں کرتے ۔ اس سے بھی زیادہ تعجب اس بات پر ہے کہ اسلام کے پچھڑ جانے اور زوال پذیر ہونے کی بات کرتے ہیں جبکہ مسلمانوں کا عمل اس زوال کا سبب بنا ہے ۔

یہ ساتوں حقوق جن کی امام جعفر صادق نے معلیٰ بن خنیس کی خاطر تشریح کی ہے یہ ہیں :
۱۔ آن تحِبَّ لاَخِیکَ المُسلِمِ مَاتُحِبُّ لِنَفسِکَ وَتَکرَہَ لَہُ مَا تَکرَہُ لِنَفسِکَ :۔ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہ چیز پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور جو اپنے لیے پسند نہیں کرتا اس کے لیے بھی پسند نہ کر۔
۲۔ آن تَجتَنِبَ سَخَطَہُ وَتَتَّبِعَ مَرضَاتَہُ وَتُطِیعَ اَمرَہُ :۔ اپنے مسلمان بھائی کو ناراض کرنے سے (یا اس کے غصے سے) بچتا رہ جو اس کی مرضی کے مطابق ہو وہ کر اور اس کا حکم مان۔
۳۔ اَن تُعِینَہُ بِنَفِسکَ وَمَالِکَ وَلِسَانِکَ وَیَدِکَ وَرِجلِکَ :۔ اپنی جان ، مال ، زبان اور ہاتھ پاؤں سے اس کا ساتھ دے ۔
۴۔ آن تَکُونَ عَینَہُ وَدَلِیلَہُ وَمِراٰتَہُ :۔ اس کی آنکھ، رہنما اور آئینہ بن کر رہ۔
۵۔ اَن لاَّ تَشبَعَ وَیَجُوعَ وَلاَ تَروٰی وَیَظمَاَ وَلاَ تَلبَسَ وَیَعرٰی :۔ تو اس وقت تک پیٹ نہ بھر جب تک وہ بھوکا ہے ۔ اس وقت تک سیراب نہ ہو جب تک وہ پیاسا ہے اور اس وقت تک کپڑے نہ پہن جب تک وہ ننگا ہے-
۶۔ اَن یَّکُونَ لَکَ خَادِمٌ وَلَیسَ لاَخِتکَ خَادِمٌ فَوَاجِبٌ اَن تَبعَثَ خَادِمَکَ فَیُغَسِّلَ ثِیَابَہُ وَیَصنَعَ طَعَامَہُ وَ یُمَھِّدَ فِرَاشَہُ :۔ اگر تیرے پاس ملازم ہے اور تیرے بھائی کے پاس نہیں ہے تو تجھے لازم ہے کہ اپنا ملازم اس کے پاس بھیج دے تاکہ وہ اس کا لباس دھودے ، کھانے کا انتظام کردے اور بستر لگا دے ۔
۷۔ اَن تُبِرَّ قَسَمہُ وَتُجِیبَ دَعوَتَہُ وَ تَعُودَ مَرِیضَہُ وَتَشھَدَ جَنَازَتَہُ وَاِذَا عَلِمتَ اَنَّ لَہُ حَاجَۃً تُبادِرُہُ اِلیٰ قَضَآئِھَا وَلاَ تُلجِئُہُ اِلٰی اَن یَّساَلَکَھَا وَلٰکِن تُبَادِرہُ مُبَادَرَۃً :۔ اسے اس کے معاہدوں کی ذمے داری سے آزاد کر، اس کی دعوت قبول کر، اس کی بیماری میں مزاج پرسی کر، اس کے جنازے میں شریک ہو، اگر تو جانتا ہے کہ اسے کوئی ضرورت ہے تو فوراً اس کی ضرورت پوری کر۔ اس کی ضرورت پوری کرنے میں اس انتظار میں دیرنہ کر کہ وہ خود ضرورت ظاہر کرے بلکہ جلد سے جلد اس کی حاجت پوری کرنے میں لگ جا –

پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نکات زیر پر عمل کریں
1- ہر مسلمان، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر سے غافل رہنے کے بجائے کشمیری مسلمانوں کو متعصب ہندو حکمرانوں کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں
2 – مظلوم کشمیری مسلمانوں کو اپنی یکجہتی کا ثبوت پیش کریں –
3 – کشمیری مسلمانوں کو مورد تنقید قرار دے کر ان کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے ان کی خوب حوصلہ افزائی کریں –
4 – ظالم وجابر ہندو حکمرانوں کے سیاہ چہروں کو پوری دنیا میں نمایاں کرنے میں فعال کردار ادا کریں –
5- مسلمان تفرقہ وانتشار کو اپنے اصلی وازلی دشمن کی سازش قرار دیتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد کو مستحکم کریں –
6 – آیہ قرآن ’تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان‘ کے تحت کشمیری مسلمان بھائیوں کی بھلائی اور خیر کے لئے متحرک کردار ادا کریں- بیدار ہوجاو مسلمانو کشمیر کے مسلمان خون میں لہولہان ….. ہماری ذمہ داری کیا ہے ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے