پائیدار دنیا کا خواب اور پانی

[pullquote]پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسوس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پا کستان اگلے دس سالوں میں شدید قحط کا شکار ہو سکتا ہے۔ پانی کا مسئلہ آج دنیا بھرمیں اس قدر اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ اسے حل کیے بغیر انسانی تہذیب اپنے ترقی کے اہداف کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 2015ء کے تیار کردہ سترہ پائیدار ترقی کے اہداف میں سے چھ اہداف کی توجہ پانی پر ہے۔ [/pullquote]

ورلڈ واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق زیر زمین پانی کے ذخائر بتدریج کم ہو رہے ہیں اور آج تقریباً2.5بلین لوگ اپنی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیر زمین پانی کے ذخیرہ پر انحصار کررہے ہیں۔ بیشتر ایشیائی شہروں میں زمینی پانی سماجی و معاشی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، بدلتے ہوئے رہائشی میعارات اور صنعتی ترقی ان شہروں کے زیر زمین پانی کے استعمال کو بڑھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے زیر زمین پانی گوناگوں مسائل سے دوچار ہے۔ ہم ان شہروں کی ترجیحات کو کس طرح ان بدلتے ہوئے معیارات کے مطابق ترتیب دے پاتے ہیں یا نہیں، یہ ہم سب کے لےئے کسی چیلنج سے کم نہیں؟ اس سلسلے میں عالمی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ اعدادو شمار تشویشناک صورتحال کی عکاسی بہتر انداز میں کر رہے ہیں۔

ایک ریسرچ کے مطابق 2000ء ؁ میں شدید پانی کی کمی کا شکار لوگوں کی تعداد تقریباً1500ملین تھی جبکہ 2050ء ؁ تک یہ تعداد بڑھ کر 4200ملین تک پہنچ جائے گی۔ اس طرح((1970-2010تک کے اعداد و شمار کے مطابق فریش واٹر انڈیکس تقریباً 1کے برابر تھا جبکہ 40سالوں کی بتدریج کمی کے بعد اس انڈیکس کی پیمائش اب 0.2کے برابر آگئی ہے۔ پاکستان کی آبادی کے تقریباً86% لو گوں کو صاف پانی تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ زراعت وہ سب سے بڑاشعبہ ہے جہاں پر ہمارے میٹھے پانی کے ذخائر استعمال ہو رہے ہیں۔ ” ورلڈ اکنامک فورم” کی رپورٹ کے مطابق پانی کا بحران دنیا کا سب سے بڑا خطرہ ہے حتٰی کے دہشت گردی سے بھی بڑا۔

اگر پنجاب کے واٹر بجٹ کو دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ زراعت کے لیے تقریباً 90 ایم ایف

پانی استعمال کر رہے ہیں، جس میں سے 35 ایم ایف زیر زمین پانی کا حصہ ہے۔ زیر زمین پانی کے ذخائر بعض شہروں میں انتہائی سطح سے بھی نیچے جا چکے ہیں, جس سے زیر زمین پانی کے ذخائر کی رسائی کم سے کم ہو رہی ہے اور اس کو نکالنے کے لیے انرجی کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ اریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پنجاب کے بیشتر شہروں میں زیر زمین پانی کی مقدار، کوالٹی اور رسائی میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ اریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق لوئر باری دواب کینال کمانڈ ایریا میں پچھلے 30سالوں کے دوران اس رقبے میں اضافہ ہوا ہے جہاں زیر زمین پانی کی سطح چھ میٹرسے زیادہ ہے اور جبکہ اس رقبہ میں کمی واقع ہوئی جہاں زیر زمین پانی کی سطح چھ میٹر سے کم سطح پر تھی۔ یہ اعدادو شمار ہماری پائیدار زراعت کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہیں؟ اگر مستقبل قریب میں ان مشکلات سے نپٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے تو ہم اپنی زرعی پیداوار کے اہداف کو قائم نہیں رکھ پائیں گے۔ پانی کی کمی کا یہ بحران ہماری بیشترآ بادی جس کا انحصار زراعت پر ہے، کو خوراک کے مسائل سے بھی دوچار کر سکتا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی 56فیصد آبادی کا معاشی انحصار زراعت پر ہے۔ پاکستان میں بڑے شہروں کی 80%آبادی کو تقریباً صاف پانی تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں زراعت کے لیے زیر زمین پانی کی کنٹریبیوشن تقریباً50%ہے جبکہ گھریلو ضروریات کے لیے 100%انحصار زیر زمین پانی پر مشتمل ہے۔ ملکی اور عالمی سطح پر پانی کی اس تشویش ناک صورتحال کا اادراک رکھتے ہوئے پائیدار زراعت کا پروگرام، ورلڈ وائڈ فنڈ فارنیچر پاکستان اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں قائم واٹرمنیجمنٹ ریسرچ سنٹر نے پاکستان کا نہری نظام ، درپیش مشکلات اور مواقع کے عنوان کے تحت ایک روزہ واٹر ڈایلاگ کا اہتمام کیا جس میں مختلف اداروں کے آبی ماہرین نے شرکت کی اس مباحثے میں درج ذیل موضوعات کو زیر بحث لا کر مندرجہ ذیل مجوزہ تجاویز مرتب کی گئی۔

نہری نظام میں آبیانہ کی موجودہ صورتحال اور مشکلات

پاکستان کے نہری نظام کی تعمیر کا آغاز برطانوی دور حکومت میں شروع ہوا جب انہوں نے برصغیر ہندو پاک کے جنوبی علاقوں پر
قبضہ کیا۔ وقت کیساتھ ساتھ اس کے اندر مزید اضافے اور تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ پاکستان میں نہری نظام کی ترسیل و رسل کو چلانے کے لیے محکمہ آبپاشی اس پانی سے مستفید کنندہ کسانوں سے ششماہی بنیادوں پر آبیانہ وصولی کرتا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس آبیانہ وصولی اورمقرری کے اندر مختلف تبدیلیاں بھی آتی رہیں۔ اس آبیانہ وصولی سے نہری نظام کے انتظام و انصرام کو چلانے کا یہ طریقہ کار مختلف وجوہات کی بنیاد پر مسلسل معاشی بحران سے دوچار رہا ہے۔ اس کے علاوہ زیر زمین پانی کے حوالے سے کو ئی پالیسی نہ ہونے کے موجب اس کی خریدو فروخت نے مقامی سطحُ پر لوکل واٹر مارکیٹ تشکیل دے رکھی ہیں۔ اس مسئلے کے مختلف سیاسی ، سماجی ، معاشی اور تکنیکی پہلو ؤں پر غور کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے ۔1۔ پاکستان میں نہری نظام volumetricکی پیمائش کے طریقہ کار کو تبدیل کر کے پیمائش کا طریقہ کار اپنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔2۔ پاکستان میں نہری نظام پر آبیانہ کی وصولی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سماجی اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے۔3۔ پاکستان میں نہری نظام کے آبیانہ مقرری کے طریقہ کار کو فلیٹ کی بجائے کاشتہ فصل کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ 4۔ زیر زمین پانی کے حصول کے حوالے سے پالیسی مرتب کی جائے اور غیر رسمی طور پر قائم آبی مارکیٹ کو ریگولائز کیاجائے۔ 5۔ پاکستان میں نہری نظام کے لیے آبیانہ کی شرح کو بڑھایا جائے تاکہ آبی شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ دستیاب ہو سکے۔

نہری نظام کی وارہ بندی رسد کی بجاے طلب پر کی جائے:۔

پاکستان کا نہری نظام برطانوی دور حکومت میں جب تعمیر ہوا تو اس میں پانی کی تقسیم کا ر کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے زیر کاشتہ تمام رقبہ کی ضروریات کے لیے ناکافی تھا۔ پھر وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختلف ادوار میں زیر کاشتہ رقبہ کی مقدار کے اندر بھی اضافہ ہوا بلکہ اسکے ساتھ ساتھ زیر کاشتہ رقبہ کی شدت میں بھی اضافہ ہوا۔ چنانچہ آج نہری نظام کی سپلائی فصلوں کی آبی ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔ اسی لیے اس کمی کو دور کرنے کے لیے زرعی ٹیوب ویلوں کے زریعے پانی کو نکال کر فصلوں کی ضرورت پوری کی جاتی ہے۔ زمینی پانی کے اخراج کے سبب زیر زمین پانی کی ترکیب میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں، اور کاشکاروں کی طرف سے ایسی فصلوں کی کاشت جن کی پانی کی ضروریات بہت زیادہ ہے وہاں پر ان مسائل کی سنگین نوعیت اور بھی زیادہ ہے۔ چنانچہ اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے نہری وارہ بندی کو طلب کی بنیاد پر منتقل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل بنیادی اقدامات تجاویز کیے گئے۔
1 ۔طلب کی بنیاد پر وارہ بندی کی منتقلی کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ماحولیاتی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف فصلوں کے لیے فصلی درجہ بندی کی جائے۔
2۔ نہری وارہ بندہ کو فصلی درجہ بندی کے مطابق ترتیب دینے کے لیے موجودہ آبی ذخائر اور نہری نظام میں جہاں کہیں ضرورت پیش آئے ضروری اضافے کیے جائیں۔
3۔فصلی درجہ بندی پر عملدرآمد کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔

بارشی پانی کے بہتر استعمال کے لیے اقدامات

بارشی پانی کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز سامنے آئیں۔
1۔ بارشی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے موضع گوٹھ کی سطح پر چھوٹے سٹوریج ٹینک /پانڈ بنائے جائیں تاکہ اس قدرت کے انمول تحفے کو بہتر استعمال کر تے ہوئے پانی کے بحران سے نپٹنے کے لیے مدد لی جائے۔
2۔ بارشی پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ ساتھ زیر ز مین پانی کوریچارج کرنے میں بھی مدد ملے گی 3۔ مون سون اور بارشوں کے موسم میں سیلابی پانی کے بہتر انتظام کے حوالے سے سیلابی نہریں نکالی جائیں۔ سیلاب کے دنوں میں اضافی پانی کو ان نہروں میں چھوڑاجائے تاکہ سیلا ب سے پیدا ہونے والے فصلی نقصان کا بھی سدباب ہو سکے اور اس کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کے ریچارج کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

زیر زمین پانی کے بہتر انتظام کی تجاویز:۔

پاکستان کے زیر زمین پانی کے وسائل پر بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کے پھیلاو کے نتیجے میں آئے روز دباوبڑھتا جا رہا ہے۔ زمینی پانی کے بے جا اخراج کے نتیجے میں زمینی پانی کی سطح آئے روز نیچے سے نیچے جا رہی ہے۔ جس کے سبب زمینی پانی تک آسان رسائی مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ نہری پانی کی کمی کے سبب ہماری زرعی ضرورتوں کا تقریباً50%تک حصہ زمینی پانی سے حاصل ہوتا ہے۔ زمینی پانی کے قدرتی ریچارج کے ذرائع شہری پھیلاؤ کی بدولت محدود ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل تجاویز کی پیش کی گئیں۔
1۔ زمینی پانی کے بہتر انتظام و انصرام کو یقینی بنا نے کے لیے ضروری ہے کہ زیر زمین پانی کی متواتر نگرانی کے لیے موثر نظام واضح کیا جائے۔
2۔ زمینی پانی کے بہتر انتظام کے لیے تمام متعلقہ شعبوں کی مشاورت سے ایک موثر پالیسی تشکیل دی جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے