فقہ اور آمریت کا تعلق

یہ تحریر ان لوگوں کے بارے میں لکھی گئی جو عموما فقہ حنفی کے بارے میں مختلف اعتراضات کر تے ہیں . ڈاکٹر صاحب نے اپنے ذوق کے مطابق تین اعتراضات کا جواب دیا ہے .

[pullquote]1۔ آپ فرماتے ہیں : "اسی فقہ کو قبول عام حاصل ہوا جسے حکمران وقت نے قبولیت بخشی۔ ”
[/pullquote]

آپ قطعیت کے ساتھ یہ دعوی کررہے ہیں لیکن فقہ کی تاریخ اس کے برعکس بات بتاتی ہے ۔ جوزف شاخٹ جیسے متعصب مستشرق ، جس کا کام بعد کے مستشرقین اور ان کے اندھے مقلد مستغربین کے لیے بنیادی ماخذ ہے ، کافی تفصیل سے بتاچکا ہے کہ 132ھ تک فقہ مفصل طور پر وجود میں آچکی تھی ۔ اس سال اموی خلافت کا خاتمہ ہوا اور عباسیوں نے اپنی حکومت قائم کی ۔ 150ھ تک ، یعنی اٹھارہ مزید سالوں تک ، دونوں عباسی خلفا ، بالخصوص دوسرے خلیفہ منصور نے بھرپور کوشش کی کہ امام ابوحنیفہ کو ساتھ ملالیں لیکن carrot and stick دونوں طریقے آزمانے کے باوجود ناکام رہے اور امام کی وفات قید میں ہی ہوئی ۔ منصور نے امام مالک کو بھی رام کرنے کی کوشش کی اور ابن المقفع کے مشورے کے بعد موطا کو حکومتی سطح پر نافذ کرنے کی تجویز بھی ان کو دی لیکن امام مالک نے اسے مسترد کردیا ۔ مزید دو خلفا اور تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے بعد ہارون الرشید جب خلیفہ ہوا تو اس کے بعد ہی اس نے امام ابویوسف کو قاضی القضاۃ بنایا ۔ تب تک فقہ حنفی مکمل طور پر غلبہ پاچکی تھی ۔ نہ صرف یہ کہ فقہ نہایت مفصل اور منظم انداز میں مدون ہوچکی تھی بلکہ امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور ان کے شاگرد قانون دانوں کی بڑی کھیپ پیدا کرچکے تھے ۔ حکومت کے پاس قانونی اور عدالتی امور ان کے حوالے کرنے کے سوا اور کوئی راستہ باقی ہی نہیں بچا تھا ۔ اس لیے ایسا نہیں کہ وہ فقہ رائج ہوئی جسے حکومت کی سرپرستی حاصل ہوئی بلکہ حکومت کو وہی فقہ قبول کرنی پڑی جسے عوامی قبولیت حاصل ہوچکی تھی ۔ امام ابو حنیفہ نے جس طرح اموی اور عباسی دور کے قاضیوں کے فیصلوں پر مفصل تنقید کرکے ان کھوکھلی حیثیت واضح کی اس نے پہلے ہی لوگوں کا اعتماد ختم کردیا تھا اور پھر لوگوں کی ضرورت کو جس طرح امام ابوحنیفہ نے منظم اور مفصل طریقے سے پورا کیا اس کے بعد حکومت کے پاس اور کیا راستہ رہ گیا تھا ؟ اور کچھ نہیں تو امام ابو یوسف کی کتاب "اختلاف ابی حنیفۃ و ابن ابی لیلی” ہی پڑھ لیں تو بہت سارے حقائق سامنے آجاتے ہیں۔ واضح رہے کہ امام ابویوسف پہلے قاضی ابن ابی لیلی کے حلقے میں تھے ۔ بعد میں وہ امام ابوحنیفہ کے شاگرداور پھر انھی کے جانشین بنے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ آگے آپ خود کہتے ہیں کہ "سیاست اور ریاست ہمیشہ علم کے تابع رہی ہے ۔ "مزید کیا کہا جائے !

اس پر بھی سوچیے کہ صرف اورنگ زیب کے دور میں ہی نہیں بلکہ اس سے صدیوں پہلے سے ، اور اس کے ڈیڑھ صدی بعد بھی ، ہندوستان میں (یعنی موجودہ ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ) اسلامی قانون ہی بطور قانونی نظام رائج رہا ۔ اس بات کی گواہی کسی اور سے کیا پیش کریں ، ایسٹ انڈیا کمپنی کے سربراہ ، جو عملاً ہندوستان کا حکمران تھا ، کی مفصل تحریر ہی عن قریب پیش کروں گا ، ان شاء اللہ ۔ اس نے ہندوستان کے قانونی نظام کا مفصل جائزہ لینے کے بعد جو کچھ کہا ہے اور اسلامی قانونی نظام کی جیسی تفاصیل دی ہیں وہ بہت سے لوگوں کے لیے اب بھی ناقابلِ یقین ہوگا۔ اسلامی قانون نے اس دور میں حکمرانوں کی مطلق العنانی کو کیسے لگام ڈالے رکھی ؟ کسی اور وقت تفصیل عرض کروں گا لیکن یہ ایک واقعہ تو اردو کتابوں میں بھی موجود ہے کہ اکبر کے دور میں ایک برہمن نے توہینِ رسالت کے جرم کا ارتکاب کیا تو قاضی نے اسے سزاے موت سنا دی اور اکبر کے پاس اسے نافذ کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں ہے ۔ تفصیلات کسی اور وقت ، ان شاء اللہ ۔

[pullquote]2۔ آپ مزید کہتے ہیں : ” تدوین قانون کی عدم موجودگی میں قاضی عدالتی و قانونی معاملات میں مطلق العنان ہوتے تھے ۔”
[/pullquote]

ایک تو اس جملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ "مدون قانون” کی عدم موجودگی کوئی بہت بڑی خامی ہے ۔ باقی باتیں ایک طرف ، انگریزوں کا "رواجی قانون” (common law) صدیوں تک غیرمدون رہنے کے باوجود موثر اور نافذ رہا ۔ مزید یہ کہ جیسا کہ پہلے نکتے میں واضح کیا گیا ، مدون قانون کی ضرورت فقہاے کرام ، بالخصوص امام ابوحنیفہ کے شاگردوں نے پوری کردی تھی ۔ تبھی تو حکومت کو ان پر انحصار کرنا پڑا ۔ تیسری بات یہ ہے کہ قاضی کے متعلق یہ تصور کہ وہ کھجور کے درخت کے نیچے بیٹھ کر (qadi under the palm-tree)مرضی سے (مطلق العنانی سے ) فیصلہ کرتے تھے ، اس استشراقی ذہن (Orientalist mindset)کی نشانی ہے جو مشرق میں موجود اداروں اور افراد کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ انگریزوں نے جج کی discretion کو محدود کرنے کے لیے Precedent کا تصور دیا ۔ فقہاے کرام کے ہاں اس کی تحدید اس سے کہیں زیادہ منظم اور موثر طریقے سے ہوئی ہے ۔ اس کی تفصیل کسی اور وقت عرض کروں گا ، ان شاء اللہ ۔ صرف ایک بات کی طرف توجہ دلاؤں ۔ انگریزی قانون کے برعکس فرانسیسیوں کا سول لا سسٹم عدالتی شجرے اور Precedent کے صور سے عاری ہے ( بالکل اسلامی قانون کی طرح ) ۔ اور یہ سسٹم نہ صرف آدھی دنیا میں اس وقت بھی نافذ ہے بلکہ بین الاقوامی قانون اسی تصور پر قائم ہے ۔ پھر وہاں کیسے جج کی مطلق العنانیت کو لگام ڈالی جاتی ہے ؟ جواب بڑا سیدھا سادہ ہے ۔ تقریباً اسی طرح جیسے اسلامی قانون میں ہے ! تفصیل کا انتظار کریں ۔ فی الوقت صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ قانون کے متعلق جو تصور آپ کی پوسٹ میں ہے یہ ان دانش وروں کی کاوشوں سے وجود میں آیا ہے جنھوں نے صرف انگریزی قانون کو ہی قانون سمجھا ہے ۔

[pullquote]
3۔ آپ مزید فرماتے ہیں : "لوگ ابتدائی صدیوں میں تشکیل فقہ کے آزادانہ بحث کے مراحل کو دلیل کے طور پر اس کے خلاف پیش کرتے ہیں مگر بعد کی صدیوں میں اصولوں کی پیروی کے نام پر بدترین علمی آمریت کو بھول جاتے ہیں۔ ” [/pullquote]

معلوم نہیں کیوں اصولوں کی پیروی ، جو کہ فلسفۂ قانون و اخلاق کی رو سے سب سے اہم اخلاقی قدر ہے ، اس کو آپ ایک "شر محض” کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔ ذرا سوچیے ۔ اگر غامدی صاحب ایک مقام پر نظمِ قرآن کے اصول کی پیروی کریں اور اس وجہ سے کثیر روایات کی تاویل کرتے پھریں ، یا ان کا انکارہی کریں ، اور دوسرے مقام پر کہیں کہ نظم کچھ بھی کہے میں نے فلاں روایت پر عمل کرنا ہے ، تو آپ کیا کہیں گے ؟ یہ "آزادیِ فکر” نہیں ، بلکہ "بے اصولی ” ہوگی ۔ جس جمود کو آپ نشانہ بنارہے ہیں اس کی وجہ اصولوں کی پابندی نہیں ہے ، کچھ اور ہے ۔ غلط تشخیص کے بعد کیا گیا علاج ہمیشہ غلط ہوتا ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے