‘پاکستان ہے کہ مانتا ہی نہیں’

نئی دہلی: جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کانفرنس کے وزرائے داخلہ اجلاس کے دوران گذشتہ روز پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ لفظی جنگ کے بعد ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ہندوستانی پارلیمنٹ کو بریفنگ دی۔

این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے راجیہ سبھا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا، ‘ہمارے تمام وزرائے اعظم تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے اپنی پوری کوششیں کرچکے ہیں، لیکن یہ پڑوسی ہے کہ مانتا ہی نہیں’۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی وزیر داخلہ نے ایوان میں اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی سرپرستی یا انھیں بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ‘میں نے سارک کانفرنس کے دوران دہشت گردی کے خلاف مضبوط موقف اپنایا اور تمام رکن ممالک سے درخواست کی کہ وہ دہشت گردوں کو مجاہدین آزادی کے طور پر پیش نہ کریں’۔

واضح رہے کہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ‘اچھے اور برے دہشت گردوں کے درمیان کوئی فرق نہیں اور اس کے لیے بین الاقوامی پابندیوں کا احترام کیا جانا چاہیے’۔ جس کے جواب میں پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ظلم وستم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘معصوم بچوں پر تشدد اورشہریوں پر وحشیانہ تشدد بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے’، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہے۔

اپنی تقریر کے میڈیا بلیک آؤٹ کے حوالے سے ہندوستانی میڈیا کی رپورٹس پر بریفنگ دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے تصدیق کی کہ ان کے ہمراہ جانے والے ہندوستانی صحافیوں کو بھی ان کی تقریر کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ انھیں پروٹوکول کے طریقہ کار کے بارے میں علم نہیں تھا، ان کا کہنا تھا، ‘جہاں تک میری تقریر کے میڈیا بلیک آؤٹ کا تعلق ہے تو مجھے پروٹول کے قواعد کے بارے میں علم نہیں تھا’۔

ہندوستانی پارلیمنٹ کے اراکین نے بھی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی تقریر کے میڈیا بلیک آؤٹ کی شدید مذمت کی تھی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کی ایک رپورٹ میں سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ‘مقامی میڈیا کی یہ رپورٹس کہ سارک کانفرنس کے دوران راج ناتھ سنگھ کی تقریر کا بلیک آؤٹ کیا گیا، گمراہ کن ہیں’۔ مزید کہا گیا تھا کہ سارک اجلاسوں کا یہ اصول ہے کہ میزبان ملک کی استقبالیہ تقریر میڈیا کے سامنے پیش کی جاتی ہے جبکہ بقیہ کاروائی اِن کیمرہ ہوتی ہے، جہاں مسائل پر آزادی کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے۔

‘میں لنچ کرنے نہیں گیا تھا’ سارک کانفرنس میں شرکت کے بعد ظہرانے میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے پارلیمنٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے راج ناتھ نے کہا کہ میں وہاں لنچ کرنے نہیں گیا تھا۔ انھوں نے بتایا، ‘یہ سچ ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سب کو ظہرانے کی دعوت دی تھی، لیکن جب وہ اپنی کار میں وہاں سے چلے گئے تو میں بھی وہاں سے چلا آیا۔ اس حوالے سے مجھے کوئی شکایت نہیں ہے کیونکہ میں وہاں لنچ کرنے نہیں گیا تھا’۔ واضح رہے کہ چوہدری نثار نے کانفرنس کے شرکاء کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا تھا جسے میٹنگ کے بعد شیڈول کیا گیا تھا۔

تاہم رپورٹس کے مطابق چوہدری نثار میزبان ہونے کے باوجود فوری طور پر اجلاس کے بعد روانہ ہوگئے، جس کے بعد راج ناتھ سنگھ نے ظہرانے میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ بعدازاں ایک پریس کانفرنس کے دوران چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ انھیں اپنے ہندوستانی ہم منصب راج ناتھ سنگھ کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا کہ کیا وہ ظہرانے میں شریک ہوں گے، جس پر انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ انھیں وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کرنی ہے۔ جس کے بعد ہندوستانی وزیر داخلہ نے بھی کانفرنس کے آخری سیشن میں شرکت نہیں کی اور اپنے ہندوستانی وفد کے اراکین کے ہمراہ ہوٹل میں کھانا کھایا اور کھانے کے بعد وہ ہندوستان کے لیے روانہ ہوگئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے