’’راولپنڈی ٹو مظفرآباد براستہ مری‘‘

کہا گیا کہ وہ منجھا ہوا سفارت کار ہے۔ دلیل باندھی گئی کہ اس کے پاس دنیا کے بڑے اسٹیجوں پر اپناما فی الضمیر بیان کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت ہے ۔ کچھ دوستوں نے اسے بہت پُراعتماد باور کرانے پر اصرار کیا۔بعض کا کہنا تھا کہ وہ بیرونی دنیا میں خطے(کشمیر) کا بہترین نمائندہ ثابت ہو سکتا ہے ۔میں نے سب کی باتیں سنی لیکن تصدیق کے لیے ذرا پیچھے جانا ضروری تھا ۔ سو میں پیچھے گیا بلکہ کافی پیچھے ۔ مختصر وقت میں مسعود عبداللہ خان کے بارے میں دستیاب رطب ویابس جو بھی ملا کھنگال ڈالا۔اس میں ان کے ملکی اور غیر ملکی(پرنٹ والیکٹرانک) میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز ، کچھ بڑے فورموں پر خطابات اورچند ایک میڈیا ٹاکس شامل ہیں۔

یہ سب دیکھنے کے بعد وہ مجھے واقعی منفرد قسم کا سفارت کار محسوس ہوا۔انگریزی بولتا ہے تو گمان گزرتاہے کہ یہ اس کی مادری زبان ہے۔ تسلسل ، بہاؤ اور روانی اس کے گفتار کا خاصہ ہے ۔ اردو بولتے ہوئے سُنا تو حیرت دوچند ہوگئی ۔انتہائی جچے تُلے الفاظ کا انتخاب اِدھر بھی برابر تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ یہ بات ذہن میں رکھ کر بول رہا ہے کہ اگر یہ الفاظ ہوبہو دستاویزی شکل میں مرتب کیے جائیں

آزادکشمیر کے نامزد صدر مسعود عبداللہ خان
آزادکشمیر کے نامزد صدر مسعود عبداللہ خان

 

تو بھی نظرثانی کی حاجت نہ ہو۔ یوں سمجھیے کہ ایسی ہموار گفتگو جس میں زوائد بھی نہیں اور بے وجہ کا تکرار بھی نہیں ۔ تلفظ میں کسی مقامی لہجے کا شائبہ تک نہیں۔ وہ فارن سروس میں شمولیت سے قبل انگریزی کے استاد اور ٹی وی کے صدا کار بھی رہ چکے ہیں۔لہجے کی شفافیت اور گفتار کی روانی شاید اسی تجربے کا نتیجہ ہے۔

 

ایک اور چیز جو میں نے نوٹ کی وہ یہ کہ مسعود خان خوش پوشاک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے رویے میں انتہائی انکسار کے حامل بھی ہیں ۔اپنا گمان یہ ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو جتنا حلیم الطبع ہونا چاہئے مسعود اس سے کچھ بڑھ کر ہی ہوں گے ،کم تو بالکل بھی نہیں ہیں ۔ میں نے یہ سارا ’’کَشٹ ‘‘ اس لیے اٹھایاکہ یار لوگوں کے اس انتخاب کا ظاہری معیار تو پرکھا جائے ۔

 

ہاں! یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ پاکستان کے نامور سفارت کار مسعود عبداللہ خان کو پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر(جسے آزادکشمیر بھی کہا اور لکھا جاتاہے) کی صدارت کے لیے نامزد کیا ہے ۔ اس نامزدگی سے پہلے ریاست کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں محض اندیشے زیر گردش تھے لیکن جب طاقت کے مراکز نے یہ فیصلہ کر لیا تو وہ سارے اندیشے ایک نئی زور دار بحث میں بدل گئے ۔آزادکشمیر کے نئے وزیر اعظم فاروق حیدر کا یہ بول کہ ’’کوئی غیر سیاسی آدمی صدر نہیں بنے گا ، ریاست میں قحط الرجال نہیں ہے‘‘ چوہدری غلام عباس مرحوم کی مرقد کے سامنے ہواؤں میں تحلیل ہو گیا اور ان کی ’’ریاستی غیرت‘‘ بھاپ بن کر پیر چناسی پہاڑ کی جانب تیرتے بادلوں کا حصہ بن گئی۔

 

 

اس فیصلے کے بعد ریاست میں 6برس قائم رہنے والے مسلم لیگ نواز اور جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے سیاسی اتحاد کی رسی ’’تڑک‘‘ کر کے ٹوٹ گئی ۔گویا اس فیصلے نے بڑے فاصلے کو جنم دیا۔سردار خالد ابراہیم سیخ پا ہوئے اور انہوں نے شہراقتدار میں کھڑے ہوکر میاں نواز شریف پر طنز کے نشتر برسائے۔ وہ مسعود خان کو بطور صدر قبول نہیں کر پائے تھے۔ اسی طرح ریاست کے عوامی حلقوں میں فاروق حیدر کی معروف جرأت، غیرت اور بلا گوئی بھی ہدف تنقید بنی اور یہ سلسہ ابھی تک رُکا نہیں ۔

 

 

کہا گیا کہ مسعود خان کشمیری ہیں ،راولاکوٹ سے ہیں ۔ ضرور ہوں گے لیکن آزادکشمیر کے اکثر باشندوں نے اپنے اس نئے اور متوقع صدر کا نام بھی پہلی بار سنا ہے ۔ اپنا گمان تو یہ ہے کہ ابھی تک بہت سے لوگوں نے مسعود خان کا چہرہ بھی نہیں دیکھا ہوگا۔ یہاں ذہن میں رہے کہ ہم ایک جمہوری سماج کے رکن ہونے کے دعوے دار ہیں جہاں زعماء عوام کے نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کوجانتے ہیں۔ چلیے ذراآگے بڑھتے ہیں ۔جب مسعود خان کی نامزدگی کی خبر اسلام آباد سے بریک کی گئی تو اس کے ردعمل پر پانی ڈالنے کے لیے کسی نے یہ دلیل اُڑائی کہ ان کے صدر بننے کی راہ میں آئینی پیچیدگیاں ہے۔ ان کا آزادکشمیر کے کسی بھی اتنخابی حلقے میں ووٹ درج نہیں جو کہ صدر

مسعود خان اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کی نمائندگی کرتے ہوئے
مسعود خان اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کی نمائندگی کرتے ہوئے

 

 

کے لیے لازم ہے ۔ اس فیصلے سے نالاں بہت سے لوگوں کو یہ خبر سن کر گویا وقتی آکسیجن میسر آئی لیکن اگلے ہی لمحے کچھ بہی خواہوں نے ثابت کر دکھایا کہ 2011ء کی کسی فہرست میں ان کا نام موجود ہے ( تصدیق ہوناابھی باقی ہے) کچھ لوگ اس وضاحت کے بعد بھی مسعود خان کی نامزدگی کی مخالفت کر رہے تھے۔ ان کا منہ یہ کہہ کر بند کر دیا گیا کی اس ’’آئینی مرض‘‘ کا علاج کسی ’’ہنگامی حکم‘‘ پر تیار ہونے والے صدارتی آرڈینس سے بھی ممکن ہے۔ دلیل کچھ جاندار تھی سو مخالفین ’’نوکر کی تے نخرہ کی‘‘ والے مشہور محاورے کو تصور کر کے کچھ نرم پڑھ گئے ۔انہی آئینی دشواریوں کے پیش نظر مسلم لیگ نواز کے ایک مضمون نویس نے انگریزی محاورے (where there is a will there is a way) کا سہارا لیا اور مسعود خان کی نامزدگی سے اختلاف رکھنے والوں کو ’’بھارتی لابی‘‘ کے کھاتے میں بھی ڈالنے کی کوشش کی ۔یہ مخالفین کو زچ کرنے کی بڑی پرانی تکنیک ہے ۔

 

 

 

باسی کڑی میں اٹھنے والے اس ابال کے بعد ایک اور تبدیلی بھی دیکھنے کو ملی ۔ وہی احباب جو مسعود خان کو ریاستی سربراہ کے عہدے کے لیے آئینی اعتبار سے ناموزوں کہہ رہے تھے انہوں نے خود کو متوازن ثابت کرنے کے لیے اب نئی دلیل مارکیٹ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسعود بھی ریاست کا ٹیلنٹ ہیں ،وہ بہترین دماغ ہیں۔اب چونکہ وہ نامزد ہو چکے ہیں لہٰذا انہیں خوش آمدید کہنا چاہئے۔ میں اس پر ذرا بھی حیران نہیں ہوا کیونکہ میرے وہ احباب حقیقت پسند ہیں ۔ وہ جان چکے ہیں کہ یہ فیصلہ فاروق حیدر کا ہے اور ناہی ان کے میاں صاحب کا۔ یہ تو’’ راولپنڈی ٹو مظفرآباد براستہ مری ‘‘والوں کا حکم ہے جس کی منادی میاں صاحب نے کی ہے ۔ ظاہرہے مستقبل میں وہ صدر ہوں گے اور میرے یہ ’’غیر جانب دار‘‘ احباب ان سے کیونکر بگاڑنا چاہیں گے ۔ دوسری جانب کچھ ’’ضدی‘‘قسم کے لوگ ابھی تک اس فیصلے کو ہضم نہیں کر پارہے۔ کچھ محتاط لب و لہجے میں اور بعض کھلے ڈلے اور خالص ’’پہاڑی‘‘ آہنگ میں اس کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ حیرت ناک امر یہ ہے کہ ان کی تعداد کسی طور بھی کم نہیں ہے۔ جی چاہے تو سوشل میڈیا ہی کا جائزہ لے لیں ۔

 

 

آزادکشمیر کے لوگوں کا سیاست سے گہرا شغف کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ یہاں مزدور دیوار بنانے والے مستری کو نیچے سے اینٹ تھماتے ہوئے گزری رات کے کسی ٹاک شو میں بیٹھے سیاست دان کی گفتگوپر تبصرہ کر رہا ہوتا ہے اور مستری اس اینٹ کو اپنی جگہ نصب کرتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت کے زور پر تجزیے پرتجزیہ لنڈھا رہا ہوتا ہے۔دیوار کا ’’ردّہ‘‘ (ایک رو)مکمل ہونے تک یہ مستری مزدور کئی سیاسی قضیے نمٹا چکے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مظفرآباد کے چائے خانوں میں فی الوقت صدر کی نامزدگی ہی بڑا موضوع ہے ۔ مسعود خان کی مخالفت کرنے والے کہتے ہیں کہ وہ گزشتہ تین دہائیاں دنیا کے مخلتف ممالک میں بطور پاکستانی سفیر گزار چکے ہیں ۔ انہوں نے خود کو ہمیشہ پاکستانی کہا اور ظاہر ہے یہ ان کی ملازمت کا حصہ تھا،سوال مگر یہ ہے کہ دنیا اب اس پاکستانی سفیر کو کشمیر کا نمائندہ کیونکر تسلیم کرے گی؟ دنیا یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ اگر کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کے پاکستان کے زیر اتنظام حصے کو ’’آزاد‘‘ کہا جاتا ہے ( جس کا مطلب یہ ہوا کہ ابھی یہ خطہ باضابطہ طور پر پاکستان کا صوبہ نہیں ہے)تو پھر برسوں دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والا سفارت کار ایک دوسری ریاست کے نمائندے کے طور پر کیسے قبول کر لیا جائے؟ اور اگر پاکستان اس پر اصرار کرتا ہے تواس کے لیے ریاست کے اُس حصے کو دنیا کے سامنے ’’آزاد‘‘ ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کو ایک طرح کا جواز مل سکتا ہے۔

 

 

 

کچھ لوگوں گا کہنا ہے کہ طاقت کے مراکز اب گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے بارے میں مزید چوں چراں برداشت نہیں کریں گے ۔ انہیں بہر صورت سی پیک(اقتصادی راہداری) سے جڑے معاملات یکسو کرنے ہیں ۔ بجائے اس کے کہ مستقبل میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے آزادکشمیر سے کوئی سیاسی مزاحمت کی آواز اٹھے اور اسے فرو کرنے میں وقت ضائع کیاجائے ،بہتر ہو گا کہ ایسے شخص کو ریاست کی سربراہی سونپی جائے جو سرکاری ملازمت کے اطوار ،آداب اور حدود سے بخوبی آگاہ ہو۔ مسعود خان جیسے ذہین اور ’’انتہائی مُحب الوطن‘‘ شخص پر ان کی نگاہ ٹھہرنا عین قرینِ قیاس تھا کیونکہ انہیں غیر ریاستی بھی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ دوسری بات یہ کہ اب اس عہدے سے کشمیر کا مسئلہ حل کروانا یا اس جانب پیش رفت کروانا مقصود نہیں بلکہ اس کے مقاصد تو اس سے بہت ہی اعلیٰ و ارفع ہیں اور ان ’’بلندمقاصد‘‘ کے سامنے مسئلہ کشمیر کی حیثیت ہی کیا ہے ۔

 

 

 

قلم برابر پھسل رہا ہے اورکالم اپنی ’’حدوں‘‘ سے نکلا چاہتا ہے ۔ بہتر ہو گا اسے ’’اپنی اوقات ‘‘ میں رکھا جائے۔ ’’اوقات‘‘ سے پھر فاروق حیدر یاد آئے ۔ اللہ اللہ کیسے درویش آدمی ہیں ۔ جب انہوں نے مسعود خان کی نامزدگی کی خبر سنی تو پہلے ٹھنڈا سانس لیا اور پھر بڑی معصومیت سے بولے ’’چلو اچھا ہی ہوا کہ اب بیرسٹر کی مسئلہ کشمیر اجاگرکرنے کی سالہا سال کی ٹھیکے داری عمر بھر کے لیے ختم ہوئی‘‘ گویا حُب علی ہو یا نہ ہو بغضِ معاویہ بہرحال یہاں عیاں ہے۔ انسان بھی کیا شئے ہے، لازمی اور لابدی فیصلوں کے سامنے اپنی بے بسی کو سہارا دینے کے لیے کوئی نہ کوئی دلیل تراش ہی لیتا ہے۔ اب تک اتنا ہی، نامزد صدر پر مزید بات اگلے کالم میں ہوگی ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے