سانحہ کوئٹہ اور حکمرانوں کی گل افشانیاں

سانحہ کوئٹہ نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعہ نے ہر پاکستانی آنکھ کو اشکبار کر دیا، دہشتگردوں نے معاشرے کے اعلیٰ ترین 73 دماغوں کو نشانہ بنایا اور زخموں سے بھرے 7درجن سے زائد کراہتے جسم، قومیں ، حادثات کا شکار ہوتی ہیں ان کے اختلافات کم ہوتے ہیں، ہم بھی عجب قوم ہیں اور ہمارے لیڈروں کی حالت ہم سے بھی بدتر، سانحہ کوئٹہ کے بعد لیڈروں کے بیانات نے ان کے فکری افلاس کی نشاندہی کی۔ مرحوم سردار عبدالقیوم جو کشمیری لیڈر تھے اکثر کہا کرتے تھے کہ لیڈروں کو چاہیے کہ وہ قوم کو فکری انتشار سے بچائیں اور ان میں یکسوئی پیدا کریں۔ ہمارے لیڈر بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے تھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی اور ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے رہنما محمد خان شیرانی پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی اور جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے فوجی قیادت پر بے رحمانہ تنقید کی گئی۔ اس تنقید نے ایک خطرناک صورتحال پیدا کی ۔ اتفاق دیکھیئے کہ ان تینوں رہنماؤں نے سانحہ کوئٹہ رونما ہونے سے کچھ روز قبل وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سے ملاقات کی تھی، اچکزئی فرماتے ہیں کہ کوئٹہ شہر کی بارہ گلیاں ایجنسیوں سے سنبھالی نہیں جاتیں ، قومی اسمبلی صرف فاتحہ خوانی کیلئے رہ گئی، یہی نہیں موصوف نے کچھ عرصہ قبل گل افشانی کی تھی کہ افغانستان کی حدود جہلم اور سبی تک ہیں انہوں نے اپنے ہی ملک کی فوج اور ایجنسیوں پر سوالات اٹھا دیئے اچکزئی عجب شخص ہے جس صوبے میں یہ واقعہ رونما ہوا وہاں ان کا ایک بھائی گورنر اور دوسرا وزیر ہے نواز حکومت کے اتحادی بھی ، صوبہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری اس واقعہ میں را کے ملوث ہونے کی بات کرتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں اور وہ وزیراعظم کو پیش کریں گے۔ مرکز میں محمود اچکزئی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ایسی اپوزیشن کر رہے ہیں کہ جس میں انہوں نے کبھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید نہیں کی بلکہ تعریف کرتے ہیں۔محمود اچکزئی پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا گیا حالانکہ کافی مواد اس کے خلاف موجود ہے اب تو ایوان وزیراعظم اس کی پشت پر موجود ہے۔

مولانا فضل الرحمان اور شیرانی کس کی زبان بول رہے تھے؟ شیرانی اچھے اور برے طالبان کی بات کر رہے تھے مولانا صاحب کیا قوم کوبتانا پسند کریں گے کہ دہشتگرد کن مدارس سے اٹھتے ہیں اور کن میں پناہ لیتے ہیں؟قوم یہ پوچھنے میں بھی حق بجانب ہے کہ ماضی میں کس نے نعرہ لگایا تھا کہ اسامہ بن لادن پر حملہ ہوا امریکی بحری بیڑے کو بحر الکاہل میں غرق کر دیں گے گلے پھاڑ پھاڑ کر طالبان کے حق میں نعرے کن رہنماؤں کے جلسوں میں لگا کرتے تھے ۔

مولانا فضل الرحمان اقتدار کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتے ، وکی لیکس رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس وقت پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کو یقین دہانی کروائی تھی کہ مجھے پاکستان کا وزیراعظم بنانے میں مدد کریں آپ کی غلامی میں رہوں گا۔ ایک قرین قیاس ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کی آشیرباد سے ان سیاستدانوں نے فوج کے خلاف گل افشانی کی دوسرے دن اسمبلی میں وزیر داخلہ چوہدری نثار سے ان کے خلاف تقریر کروا کے حساب چکتا کرنے کی کوشش کی۔ منگل کو محمود اچکزئی اور شیرانی کی گل افشانیاں ایک مربوط اسکیم ہے۔ ہندوستانی اور مغربی میڈیا نے ان بے تکے بیانات کو خوب اچھالا جس سے سفارتی میدان میں پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی۔ کوئٹہ سانحے کے بعد پانامہ لیکس ، کشمیر سمیت کئی اہم ایشوز میڈیا سے غائب ہو گئے ۔ ملک میں آگ اور خون کے دریا بہہ رہے ہیں مگر وزیراعظم میاں نواز شریف نے مجال ہندوستان کیخلاف کوئی لفظ بھی بولا ہو۔ ہندوستان ہمارا ازلی دشمن ہے کب تک ہم اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے اب تو ہمارے بازو بھی تھک چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دشمن کو ٹھوک بجا کے جواب دے کہ حضور والا ’’ہم پڑیں آپ کی نمازیں اور آپ توڑیں ہمارے کوزے‘‘ اب بہت ہو چکا اب دہشتگردی اور امن کی باتیں ساتھ ساتھ نہیں چلیں گی۔ سانحہ کوئٹہ کے بعد ہمدردی کی لہر اٹھنا ایک فطری امر تھا مگر حکومت کے حلیفوں نے سزا کو گدلا کر دیا۔ نیکٹا کو فعال کیا جائے ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نیشنل ایکشن پلان کو کامیاب بنانے میں دلچسپی نہیں لے رہے اس پلان کیلئے حکومت سے ایک ارب 80کروڑ روپے طلب کیے گئے مگر حکومت 10کروڑ سے زائد دینے پر آمادہ نہیں۔ سمدھی جی کے پاس آف شور کمپنیاں بنانے کیلئے خزانہ موجود ہے مگر ملک بچانے کیلئے نہیں۔

قومیں حادثات سے دوچار ہوتی ہیں ان کے اختلافات کم ہوتے ہیں۔ تکلیف دہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان زخمی ہے اور اس کے لیڈر آپس میں دست و گریباں ہیں اپنی ہی فوج کو نیزوں پر لے لیا۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے گلگت سے کوئٹہ اور کراچی سے خیبر تک فوج لازوال قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے ان لیڈروں کے بچے تو ’’تتی ہوا‘‘ بھی برداشت نہیں وقت ہے کہ آپسی اختلافات بھلا کر مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنے سکیورٹی اداروں کے بازو بنیں تا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتی جا سکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے