فیس بکی ڈاکٹرز

کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں اس ڈپریسو تقریب میں نہ جاتی، مگر آج رپورٹنگ میں قرعہ نیشنل سیمپوزیم برائے ڈپریشن کے نام کا نکلا. میں تقریب میں یہ سوچ کر بیٹھ گئی کہ ذہنی امراض میں اضافے اور ماہر نفسیات ڈاکٹرز کی بے قدری پر ایک مضبوط سا پیکج رپورٹ کروں گی مگر جلد ہی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑ گئی.

تقریب میں تقریباً ڈھائی سو کرسیوں میں نصف سے زیادہ پر مستقبل کے ڈاکٹرز براجمان تھے، سرخ ساڑھیوں میں ملبوس ڈاکٹر بچیاں راولپنڈی کے مقامی میڈیکل کالج کی تھیں، جبکہ نفسیاتی ڈاکٹرز کی بڑی تعداد ملک بھر سے آئی تھی.

13939378_10154090877374652_2145379010588154694_n

جناب اتنی بڑی تعداد میں بیٹھے اعلی دماغوں میں سے نوے فیصد کے انگلیوں کی پور موبائل فون کی اسکرین پر یہاں وہاں کھیل رہی تھیں، جو ذرا فیشنی ڈاکٹر لڑکیاں تھیں وہ ہونٹوں کو سکڑے کوئی پاؤٹ نامی مسکراہٹ بنانے کے جتن کررہی تھیں.

کالے اسکارف والیوں کے موبائل پر فیشن ویب سائٹس کی براوزنگ جاری تھی.جبکہ پکی عمر والے حضرات فیس بک پر دیگر مرد و زن کی تصاویر بڑے ناصحانہ انداز میں جانچ رہے تھے، بیک گراونڈ میں انگریزی کی چپڑ چپڑ میں ذہنی تناؤ پر جدید تحقیق کے مقالے پڑھے جا رہے تھے.

ماہرین نفسیات میں سے کسی ایک کا بھی مقالہ ڈپریشن کے ان مسائل پر نہیں تھا جو سوشل میڈیا کے بے سروپا استعمال سے نوجوانوں میں پیدا ہورہے ہیں. نہ ہی ایک دو کے سوا کوئی ماہر نفسیات کھل کر اپنا حاصل مطالعہ کامیابی سے بیان کر سکا.

سوال یہ ہے کہ مجمع پروفیشنل پڑھا لکھا تھا، جو ذہنی مریضوں کے علاج پر بحث کررہا تھا، پیسہ بھی پانی کی طرح بہایا گیا، ظہرانہ بھی فائیو اسٹار تھا جبکہ ٹھنڈا ای سی خوشبو دار ماحول کو اور بھی خوابیدہ بنارہا تھا، پھر آخر کمی کیا تھی جو نوجوان ڈاکٹرز لیکچر نظر انداز کر کے موبائل پر مصروف رہے..

جواب بڑا سادہ ہے،

تقریب کے منتظمین نے یہ نہیں سوچا کہ یہ دور ایسی ٹیکنالوجی کا یے جس میں چند منٹوں میں دل چسپی کا محور بدلتا رہتا ہے، فیس بک پر اسکرول کرکے دنیا سے ملنے والوں کے لیے ایک نشت میں اتنی گہری باتیں ہضم کرنا ممکن نہیں، میڈیکل کالج میں پڑھنے والے طلباء طالبات میڈیکل اصطلاحات سے پر انگریزی کی موٹی موٹی کتابیں پڑھتے رہتے ہیں مگر انکی دلچسپی کو دعوت مادری زبان زیادہ اچھا دے سکتی تھی، اگر اس تقریب میں ڈپریشن پر لیکچر جھاڑھنے کے بجائے مکالمہ کیا جاتا، ان ینگ ڈاکٹرز کو شامل کیا جاتا نوجوان تب بھی دل چسپی لیتے، اور اگر ایسے سیمنارز میں جدید ایکٹیویٹی ایکسرسائز کرائی جاتی، جوانو کی دلچسپی بنتی.

ویسے یہ سب کر بھی لیا جاتا پھر بھی کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ یہ ینگ ڈاکٹرز موبائل فون پر ٹک ٹک کلک کلک چھوڑ کر واقعی کسی اکتسابی سرگرمی میں حصہ بھی لیتے کہ نہیں.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے