پیپلز پارٹی کیلئے فیصلہ سازی کا وقت

پیپلز پارٹی کی تشکیل کے وقت غریب کسانوں ، ہاریوں اور متوسط طبقے کے افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی کہ کوئی جماعت یا لیڈر تو ایسا ہے جو ان کے بھی مسائل حل کرے گا ۔ تاہم اس وقت کی اور اب کی پیپلز پارٹی میں زمین آسماں کا فرق آگیا ہے کیونکہ اس جماعت میں مفادات کی سیاست نے اس وقت سے جنم لے لیا جب پیپلز پارٹی کے اصل ہمدرد ساتھیوں اور جیالوں کو دیوار سے لگانے کی روایت شروع کر دی گئی۔

ایک قوت بھٹو کی تھی جس نے باقاعدہ سندھ کے محروم طبقے کو ایک نئے جذبے سے روشناس کرایا اور ایک طاقت آج سندھ کے حکمرانوں کی نظر آتی ہے کہ کراچی میں گرمی کے باعث بارہ سو ہلاکتیں ہو جائیں ، صاف پانی کا مسئلہ ہو یا بھتہ خوری ، تھر میں بچوں کی ناگہانی اموات ہوں ان سب کو قسمت کا لکھا سمجھ کر الزام حالات پر لگا دیا جاتا ہے ۔

پیپلز پارٹی کو بھٹو نے اپنے خون سے جلا بخشی ، غریب اور امیر کے فرق کو مٹایا ، سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی فہم و فراست اور قائدانہ صلاحیتوں کا ہر کوئی معترف ہے ، چاہے وہ معاملہ انڈیا سے نوے ہزار قیدیوں کی واپسی کا ہو یا شملہ معاہدے میں کامیابی یا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے لئے گھا س کھانے کا نعرہ دینا ۔ لیکن اس وقت اہم مسئلہ درپیش یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی حیثیت اور وقار کیوں کھو رہی ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی میں باہمی اختلافات اس قدر ہو چکے ہیں کہ وہ اس جماعت کو متحد نہیں ہونے دیتے، ہمدرد اور دیرینہ کارکن اصل میں اس جماعت کا حصہ نہیں رہے۔ اس کی واضح مثال صفدر عباسی اور انکی اہلیہ ناہید خان ہیں جنہوں نے اپنی ایک علیحدہ سیاسی جماعت تشکیل دے دی ہے۔ دوسری چیز پیپلز پارٹی میں قیادت کا فقدان ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد اس خلا کو پورا کرنا ضروری تھا لیکن اس پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ۔
یہ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ کسی ناتجربہ کار نوجوان کو ایسی بڑی پارٹی کی قیادت سونپ دی جاتی۔ اگرچہ بلاول نے کچھ عرصے بعد پارٹی کی باگ دوڑ سنبھال لینی تھی تاہم ابھی سے ان کی ذات پر مکمل بھروسہ ایک درست اقدام نہیں تھا ۔

پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنی حکومت تو قائم کی لیکن افسوس یہ ہے کہ کوئی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا ، کیونکہ عوامی جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی جماعت عوامی توقعات پر پورا نہیں اتری ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا ووٹ بینک جو کبھی تیس فیصد کو بھی کراس کرتا تھا اب گھٹ کر پندرہ یا سترہ فیصد ہو گیا ہے ۔

ابھی یہی کم نہیں تھا تو رہی سہی کسر سابق صدر زرداری کے بیانات نے پوری کر دی ہے ، کبھی فوجی قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کبھی کچھ اور کیا جا رہا ہے۔ میری رائے میں پیپلز پارٹی کو اگر پھر سے لائم لائٹ میں آنا ہے تو ان کی قیادت کو بھی سوچ سمجھ کر چلنا ہوگا۔ پارٹی کے فیصلوں میں سب کو شریک کر کے ناراض کارکنوں کو منانا ہو گا.

۔ فوج کے سپہ سالار چند سال کے لئے آتے ہیں اور میں ان کے حکومت میں آنے کی مخالف ہوں لیکن یہ بھی ہے کہ سیاسی حکومت اپنی لاپرواہی اور عوام دوست پالیسیوں کے نہ اپنانے کی وجہ سے قصہ پارینہ بن جاتی ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے