بہرحال ہم پاکستانی ہیں

روشنیوں کے شہرمیں بربریت کے چونتیس سالہ ظالمانہ دور کا خاتمہ ہونے کو ہے۔۔۔۔ یا بظاہر ایسا لگ رہا ہے۔۔۔۔ اندھیری رات میں روشنی کی پو پھوٹ پڑی ہے۔۔۔ تقریبا دو نسلیں خون کی ہولی کا شکار ہو گئی ہیں۔۔۔۔ سلسلہ ابھی تھما تو نہیں ہے لیکن ایک امید بندھ گئی ہے۔۔۔ پاکستان بنا تو بلاشبہ مہاجروں نے بہت قربانیاں دیں۔۔۔ وہ لوگ بانیان پاکستان تھے۔۔۔ قربانی نہ دیتے تو پاکستان جیسی پاک دھرتی کیسے وجود میں آتی۔۔۔ لیکن ارض پاک جب معرض وجود میں آیا تو اسی وقت سے ہی دشمن اسے توڑنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔۔۔ کبھی لسانیت کو بنیاد بنا کر۔۔۔ کبھی مذہبی تفریق کو بنیاد بنا کر۔۔۔ بات کچھ آگے بڑھی تو ہمیں دہشتگردی نے آن لیا۔۔۔ ابھی اسی سے دوبدو تھے کہ پیر کی شام کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اشتعال انگیز تقریر میں اتنے پرجوش ہو گئے کہ :پاکستان مردہ باد: کے نعرے تک لگوا دئیے۔۔۔۔

بھارت کے حق میں اور پاکستان کو دہشتگردی کا گڑھ اور پاکستان کی شان میں ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کئے کہ خود مہاجر بھی تڑپ اٹھے۔۔۔ میڈیا ہاؤسز کو نشانہ بنایا گیا۔۔۔ ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔۔۔ پاکستان سمیت کسی بھی مہذب معاشرے میں نظریاتی اختلاف رکھنا کوئی بری بات نہیں ہے۔۔۔ لیکن ریاست کے خلاف جذبات رکھنا کسی گناہ سے کم نہیں ہے۔۔۔۔ اور ہو بھی کیوں نہ۔۔۔۔ یہ ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے۔۔ میرا تعلق صحافت سے ہے۔۔۔ قلم سے رشتہ مجھے بہت سی پابندیوں میں بھی جکڑے رکھتا ہے۔۔۔۔ لیکن میرے لئے بھی پہلے پاکستان ہے اور اس کے بعد کوئی اور چیز معنی رکھتی ہے۔۔ تمام تر صورتحال پر میرا دل بھی بہت کڑھ رہا ہے۔۔۔ لیکن اگر میں بھی اشتعال آجاؤں گی تو مجھ میں اور ان میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔۔۔۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ میں اپنا احتجاج بھی ریکارڈ نہیں کروا سکتی۔۔

کوئی بھی پاکستانی ارض پاک کے خلاف اٹھنے والی آواز کو برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ اور مہاجرین کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی کوشش کی جارہی تھی۔۔۔۔ اب کیا ہو گا؟۔۔۔ تمام صحافتی تنظیموں نے ایم کیو ایم کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔۔ احتجاج ریکارڈ کروائے گئے۔۔۔ لیکن مجھے اس وقت سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب چند ایک سینئر جرنلسٹس نے بتایا کہ صحافیوں کا ایم کیو ایم کے خلاف احتجاج کرنا مناسب نہیں ہے۔۔۔ میں نے پوچھا کہ کیوں مناسب نہیں ہے۔۔۔۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ صحافی کو غیرجانبدار ہونا چاہئیے۔۔۔۔ میں نے کہا کہ غیر جانبداری کا احتجاج ریکارڈ کروانے سے کیا تعلق؟ تو جواب آیا کہ فرض کریں کہ کل پاکستان پر کوئی قبضہ کر لیتا ہے تو آپ کو صحافی ہونے کے ناطے اس وقت کے رولز فالو کرنا ہوں گے۔۔۔۔۔ ان کی بات سن کر میں تو ششدر ہی رہ گئی۔۔۔ حیرانی اس بات پر تھی کہ ہمارے سیکورٹی ادارے دن رات کوششوں میں مصروف ہیں کہ پاکستان پر کوئی آنچ نہ آئے۔۔۔ ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے ہم پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا چکے ہیں۔۔۔۔ لیکن کچھ کند ذہن افراد اب بھی یہ کہتے ہیں کہ فرض کریں کہ ارض پاک پر کوئی قبضہ کر لے تو۔۔۔؟

ہم کیوں فرض کریں ۔۔۔۔ ہم سوچیں بھی کیوں ایسا۔۔۔ کیا ایجنڈا ہے کہ جس کے تحت یہ سب باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔۔۔ سب سے پہلے پاکستان۔۔۔۔ ہم صحافی ہونے کے ناطے بھی کیوں سنیں پاکستان کے خلاف۔۔۔۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔۔۔ ہم پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔۔۔ تو ہم پر فرض ہے کہ سوہنی دھرتی کے مفادات کے لئے کام کریں۔۔ پاکستان کے مفادات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھیں۔۔۔۔ ہم صحافی ہونے سے بھی پہلے پاکستانی ہیں۔۔۔ یہ پہچان ہے ہماری۔۔۔ میں مکمل طور پر ایسے خیالات سے متفق نہیں ہوں کہ بطور صحافی بھی ہم پاکستان کے خلاف سن لیں۔۔۔ لیکن میرے اس اختلاف کے بعد مجھے صحافت چھوڑنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔۔۔مجھے صحافت کے پیشے سے وابستہ ہوئے تقریبا نو سال ہو گئے ہیں۔۔۔ اور میں آج اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ پاکستان کو بنے ستر سال گزر گئے۔۔۔ ایسٹ پاکستان علیحدہ ہو گیا۔۔۔ لیکن آج بھی ہم میں سے کچھ اپنے چند ذاتی مفادات کی خاطر پاکستان کو تسلیم ہی نہ کر سکے۔۔۔ لیکن صاف الفاظ میں یہی بات ہے کہ میں بطور صحافی بھی پاکستان کے خلاف کچھ برداشت نہیں کروں گی اور بطور پاکستانی شہری بھی۔۔۔۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ میرے جیسے سب محب وطن پاکستانی چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔۔ ارض پاک کی طرف اٹھنے والی کوئی میلی آنکھ برداشت نہیں کریں گے۔۔۔۔ بہرحال ہم پہلے پاکستانی ہیں۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے