آزاد حکومت ریاستِ جموں و کشمیر

1947ء میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو ریاستِ جموں و کشمیر جو جموں، لداخ، وادیِ کشمیر، پونچھ، گلگت اور بلتستان پر مشتمل تھی ایک شاہی ریاست تھی۔ قانون آزادی ہند کے نفاز کے بعد یہ ریاست خودمختار ہو گئی تھی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتی تھی.

ریا ست کی جیو پولیٹیکل اہمیت کے پیش نظر پاکستان اور بھارت دونوں نے اس کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی اور ریاستی حکومت نے خود مختار رہنے کی کوشش کی اس کشمکش میں ریاست پر قبائلی حملے اور مہاراجہ کے ہندوستان سے مشروط الحاق کے بعد ٹکڑوں میں بٹ گئی۔

ریاست کے جس حصے میں ہم رہتے ہیں رقبہ کے لحاظ سے ریاست کا تقریبا 6 فی صد حصہ ہے اور اس کو عرف عام میں آزاد کشمیر کہا جاتا ہے .

آزاد کشمیر حقیقت میں زمین کا یہ ٹکڑا نہیں ہے بلکہ صدیوں سے جبر اور استحصال کا شکار کشمیریوں کے خواب کا نام ہے. اس خواب کا مگر جو حال کیا گیا وہ خود ایک ستم ظریفی ہے.

1947 میں اس حصے پر ایک آزاد حکومت ریاست ِ جموں و کشمیر قائم کی گئی جو ساری ریاستی کی نمائیندگی کی دعویٰ دار تھی اور جس کا مقصد ساری ریاست کو آزاد کرانے کے لیے اقدامات کرنا تھا۔

یہ آزاد حکومت مگر اپنے قیام کے وقت سے ہی اس مقصد سے ہٹ گئی کیونکہ اس کے وجود کو تسلیم کیے جانے کے بجاۓ اسے محض ایک کٹھ پتلی کا کردار دیا گیا جس کا کام ریاست کے سینے پر کھنچی تقسیم کی منحوس لکیروں کو تحفظ دینا رہ گیا تھا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو ریاست کے ایک بڑے حصے گلگت بلتستان کو جس کا رقبہ 28 ہزار مربع میل ہے عارضی انتظام کے لیے حکومت پاکستان کے سپرد کر دیا گیا اور خارجہ، دفاع اور مواصلات سمیت اہم امور بھی حکومت پاکستان کو تفویض کیے گۓ آزاد حکومت کا کام صرف تنخواہ لینا رہ گیا۔ کشمیری عوام کی بنیادی فریق کی حثیت ہی ختم کر دی گئی .

ریاستی عوام جن کو مہاراجہ دور میں ووٹ کا حق مل گیا تھا اس حق سے محروم کر دئیے گۓ اور آزاد کشمیر کا صدر پاکستان براہ راست نامزد کرنے لگا۔ اس ابتدائی دور میں جب لوگوں کو امید تھی کہ ریاست کا کوئی حتمی حل نکلے گا آزاد حکومت ایسے کرداروں کے قبضے میں چلی گئی جن کا تحریک آزادی میں کوئی کردار تھا نا ریاستی تشخص سے کوئی دلچسپی ، نا عوامی فلاح و بہبود کا کوئی خیال اور نا ہی کوئی وژن ، ان کا ایک ہی کام تھا کہ جھوٹ بولو، فریب سے کام لو اور اس لولی لنگڑی کرسی سے اپنے زاتی مفادات پورے کرو۔ اس گروہ نے تحریک آزادیِ کشمیر سے دستبرداری اختیار کر لی اور یہی رحجان آج تک جاری ہے۔ اگر اس چھوٹے سے ٹکڑے میں اچھی حکمرانی کا انداز اپنایا جاتا، ریاستی باشندوں کو سہولتیں فراہم کی جاتی اور ریاست کے تشخص کی حفاظت کی جاتی تو یہ اکائی ساری ریاست کے لیے مثال بن جاتا.

آزاد کشمیرمیں با شعور سیاسی کارکنوں نے آزاد حکومت کو راستے پر رکھنے کے لیے مختلف وقتوں میں تحریکیں چلائیں، ایک طرف کے ایچ خورشید صاحب نے آزاد حکومت کو ایک نمائیندہ حکومت تسلیم کرانے کے لیے جدوجہد کی (وہ آزاد کشمیر کے منتخب صدر بھی تھے) تو دوسری طرف محازِ راۓ شماری کے پلیٹ فارم سے ریاستی عوام کے بنیادی حق حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کا آغاز ہوا جس میں عبدالخالق انصاری، امان اللہ خان ، مقبول بٹ ، سعد شاہ نازکی ، جم ایم میر اور جی ایم لون اور دیگر قائدین نے بھر پور کردار ادا کیا۔ محاز راۓ شماری نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی اس تحریک کو پھیلایا، آزاد حکومت پر قابض ٹولے نے کبھی المجاہد کے نام پر فراڈ کیا اور کبھی ان سیاسی رہنماوں کو مہاجر اور بھارتی ایجنٹ کہہ کر ان کے خلاف کارروائی کی۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ آزاد حکومت جس نے بیس کیمپ کا کردار ادا کرنا تھا اور آزادی کی تحریک کو لیڈ کرنا تھا اس نے ریاست کی یکجہتی اور بحالی کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو کچلنا شروع کر دیا۔ کنگا ہائی جیکنگ کے بعد آزاد حکومت کے اس وقت کے صدر نے مقبول بٹ اور کے ایچ خورشید کو انڈین ایجنٹ قرار دیا جبکہ یہی موصوف ہائی جیکر ہاشم قریشی کو افر کرتے رہے کہ اس کارنامے کو ان کی صرف کاغزوں اور خوابوں میں موجود المجاہد سے منسوب کر دو۔

پاکستان کا سرکاری موقف یہ ہے کہ ریاستی عوام کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا آزادانہ حق دیا جاۓ مگر آزاد حکومت میں براجمان حکمرانوں نے ریاست کی ازادی اور بحالی کی بات کرنے والوں کو دشمن کا ایجنٹ اور تخریب کار قرار دینا شروع کر دیا اور ان جمہوری عمل میں حصہ لینے پر آئینی قدغنیں لگا دیں.

آزاد حکومت کا یہی کردار تھا جس کی وجہ سے ریاست کے تمام حصوں کا آپسی رابطہ منقطع ہو گیا اور یہ چوری کھانے والے مجنوں مظفرآباد کی کرسی پر استراحت فرماتے رہے۔ یہ حکومت نا صرف نا اہل، بد کردار ہے بلکہ بے اختیار بھی، اس پر کشمیر کونسل کے نام سے ایک بالاتر ادارہ بھی مسلط ہے جو سارے فیصلے کرنے کا مجاز ہے، دوسری طرف وزارتِ امور کشمیر اور لینٹ آفیسران اس ڈھکوسلہ حکومت کا مذاق اڑانے کا موجب ہیں۔ اس حکومت کا کام صرف اتنا رہ گیا ہے کہ گڑھی خدا بخش کے مزار کی مجاوری کرے یا رایئونڈ کے دربار میں سجدہ ریز ہو۔ اس کے وزراء ، وزیر اعظم اور صدر زیادہ سے زیادہ کسی ٹیچر اور چپراسی کا تبادلہ کروا سکتے ہیں یا کسی چھوٹی سی پوسٹ پر میرٹ کا قتل کر کہ اپنے کسی سفارشی کی بھرتی کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آزاد حکومت کے نام پر چلنے والا یہ ڈرامہ ریاستی عوام کے شعور کی توہین ہے .

70 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ بے اختیار، غیر نمائیندہ حکومت ریاستی عوام کی نا تو رہنمائی کے قابل ہے اور نا اس کے نازک کندھے ریاست کی آزادی کی تحریک کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہیں بلکہ اس کا کردار نا صرف ہمارا تشخص پامال کر رہا ہے بلکہ ہمارا کیس کمزور بھی کر رہا ہے ۔

آزاد حکومت اگر وژنری ، مخلص اور اہل ہوتی تو یہ چھوٹا سا ٹکڑا اتنے برے حال میں نا پہنچتا، روزگار کے زرائع نہیں، صحت اور تعلیم کی سہولتیں نہیں انفراسٹریکچر تباہ و برباد حالت میں ہے. مثال کے طور پر اگر راولاکوٹ سے کھائیگلہ کا دس کلو میٹر کا سفر گاڑی پر طے کرنے کی کوشش کریں تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں دوسری مثال کھائیگلہ کا مشہور ہائیر سیکنڈری اسکول جس میں دو دو ہزار کیی تعداد ہوتی تھی زلزلہ کے گیارہ سال بعد بھی تعمیر کا منتظر ہے. آزاد کشمیر اتنا آزاد ہے کہ یہاں جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے ملک چھوڑ کر بیرون ملک مزدوری کرنے کے لیے جانے والوں کا تناسب دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہو گا.

مظفراآباد کی کرسی پر بیٹھنے والے اگر کسی مٹی کے مادھو نے اپنے سرپرستوں کی جنبش ِ ابرو کو سمجھنے میں اگر کبھی زرا سی بھی غلطی کر دی تو اس کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا جاتا ہے.

ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل ایک مشترکہ نمائیندہ حکومت تشکیل دی جاۓ جس میں ہر ریاستی باشندے کو شرکت کا حق ہو اور کسی الحاق کی شرط اس کے پاؤں کی بیڑی نا ہو۔ اس حکومت کو آزاد حکومت تسلیم کیا جاۓ ، ساری دنیا میں حق خود ارادیت کا کیس پیش کرنے دیا جاۓ ، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اس کو رسائی دی جاۓ اور ریاستی عوام کی مرضی کے مطابق ، پاکستان اور ہندوستان کے انسان دوست طبقہ کی حمایت سے کسی مستقل اور پائیدار حل کی طرف بڑھا جاۓ۔ یہ حکومت عوام کو تمام بنیادی سہولیات بہم پہنچائے، ریاستی باشندوں کے بحثیت شہری تمام آئینی اور قانونی حقوق کی حفاظت کرے اس خطے میں میرٹ کو فروغ دے اور کرپٹ عناصر کا احتساب کرے.

جب تک اس خطے کی سیاست برادری ازم کے چنگل سے نہیں نکلتی، نظریات ، اصول اور اہلیت کی بنیاد پر قیادت منتخب نہیں ہوتی کوئی بھی مثبت کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتی.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے