جماعت اسلامی کے رہنما کی پھانسی، پاکستان کا اظہارِ افسوس

[pullquote]اسلام آباد: بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنما میر قاسم علی کو سزائے موت دینے کے اقدام پر پاکستان نے گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔[/pullquote]

خیال رہے کہ بنگلہ دیش کے بزنس ٹائیکون میر قاسم علی کی سزائے موت پر گذشتہ روز وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی انتظامیہ نے عمل درآمد کرایا، ان پر الزام تھا کہ وہ 1971 کی جنگ میں متعدد افراد کے قتل سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔

57cb059eb6661

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت کے غلط اقدام سے اپوزیشن کو حیرانگی ہوئی، یہ جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جب سے ٹرائل کا آغاز کیا گیا ہے، متعدد بین الاقوامی تنظیموں، انسانی حقوق کے گروپوں اور بین الاقوامی انصاف سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس عدالتی ٹرائل پر سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر اس کی دیانتداری اور شفافیت پر، اس کے ساتھ وکلاء اور عینی شاہدین کو بھی ہراساں کرنے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے حکومت کے جوابی الزامات اور کارروائیوں پر مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش کی حکومت 1974 کے سہہ فریقی معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں کہا گیا تھا کہ ‘ہمدردی کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹرائل میں پیش رفت نہیں کی جائے گی’۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان مرحوم کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ میر قاسم نے دو روز قبل سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کیے جانے کے بعد ملک کے صدر سے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ انھیں جنگی جرائم کی خصوصی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، بعد ازاں جس کی توثیق سپریم کورٹ کی جانب سے اپیل مسترد کیے جانے کی صورت میں کردی گئی۔


خیال رہے کہ اس سے قبل بنگلہ دیش کے 5 اپوزیشن رہنماؤں کو پھانسی دی جاچکی ہے، ان کی سزائے موت پر سپریم کورٹ کی جانب سے اپیل مسترد کیے جانے کے ایک روز بعد ہی عمل درآمد کرادیا گیا تھا، ان میں 4 کا تعلق ملک کی اہم سیاسی جماعتوں سے تھا۔

بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد نے 2013 میں حکومت کے قیام کے ساتھ ہی 1971 کی جنگ کے حوالے سے خصوصی جنگی ٹرائل کورٹ قائم کردی تھی، جس کا مقصد 1971 کی جنگ کے کرداروں کو سزائیں دینا تھا۔ تاہم مقامی سیاسی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ ٹرائل کورٹ کے ذریعے بنگلہ دیش کے اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے