کیا حمزہ عباسی سب سے بڑا مجرم ہے؟

پنجاب حکومت نے سائبرکرائم کے قانون کے تحت مصروف فن کار حمزہ علی عباسی کو ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں پنجاب میں بچوں کے اغوا ہونے کے حوالے سے حمزہ عباسی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شئیر کی تھی انھوں نے بچوں کی تعداد ۹۰۰ لکھی تھی جس پر پنجاب حکومت نے نوٹس جاری کیا کہ مذکورہ تعداد بھی ٹھیک نہیں اور حمزہ عباسی یا تو پنجاب حکومت سے معذرت کرے یا پھر تین سے سات سال قید کی سزا کے لئے تیار رہے بقول حمزہ عباسی کے یہ معاملہ ان سے پہلے خود حکومتی ایم پی اے حنا پرویز بٹ نے اٹھایا کہ بچےاغوا ہو رہے ہیں اور پھر حمزہ عباسی نے تعداد کے حوالے سے بٹ نے اٹھایا کہ بچے اغوا ہو رہے ہیں اور پھر حمزہ عباسی نے تعدادکے حوالے سے مختلف اخبارات اور ٹیوی چینلز کی خبروں کا حوالہ دیا

اول تو ہر مشہور شخصیت کو چاہیے کہ وہ کوئی بھی بات کرنے یا معاملہ اٹھانے سے پہلے خوب تحقیق اور چھان بین کر لیا کریں کیونکہ ان کے کہنے اور ایک عام آدمی کے کہنے میں فرق ہوتا ہے کیونکہ مشہور شخصیات کے چاہنے والے ہر بات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں اب آتے ہیں پنجاب حکومت کے نوٹس کی طرف جو حمزہ عباسی کو جاری کیا گیا تو یہ بات تو واضح ہو گئی کہ پنجاب حکومت نے سائبر کرائم کا قانون صرف سیاسی حریفوں کو ٹارگٹ کرنے کے لئے ہی بنایا ہے حمزہ عباسی کا تعلق کیونکہ تحریک انصاف سے ہے اور وہ سوشل میڈیا پر کافی فعال بھی رہتے ہیں .

اگر اگست کے شروع سے لیکر 20 اگست تک کے اخبارات یا ٹی وی پروگرامزاٹھاکر دیکھیں تو یہ بچوں کے اغوا کی خبریں ہر طرف ہی زیر بحث رہیں اور تعداد بھی کم و بیش سات سو بتائی جاتی رہی . اب اگر حمزہ عباسی کو نوٹس جاری کیا گیا تو کیا اخبارات اور چینلز کو نہیں کیا جانا چاہیے اور دوسرا نقطہ پر ہے کہ جب بچوں کے اغواکی خبریں آرہی تھیں اس پر حکومتی وزرا یا وزیر اعلیِ نے جتنی سنجیدگی دکھائی تھی وہ بھی سب کے سامنے ہے عدالتوں اور میڈیا کے دباو کے بعد بھی آئی جی صاحب کو آگے کیا گیا جو تسلی بخش وضاحت نہ کر سکے . بعد میں یہ وضاحت دی جاتی رہی کہ بچے اغوا ضرور ہوئے تھے مگر اتنے واپس گھروں کو چلے گئے .

سوال یہ ہے کہ بچے سات سو تھے یا نو سو تھے یا صرف سات تھے وہ اغوا تو ہوئے کیا پاکستان کے کسی شہری کو اس پر سوال اٹھانے کا بھی حق نہیں؟؟کیا وہ اپنے خدشات کا ذکر بھی نہیں کر سکتا سائبر کرائم قانون تو بنائے جاتے ہیں کہ کہیں کوئی شہری دہشتگردی کو ہوا تو نہیں دے رہا کہیں کوئی ریاست کے خلاف مہم تو نہیں چلا رہا یہ کیا کہ میڈیا اور عدالتوں میں ذکر اور تبصرہ ہونے کے بعد اگر کسی نے بچوں کے اغوا کا تذکرہ کیا تو اس کو نوٹس بھجوا دیا جائے اور سزا کی دھمکی دی جائے .

اگر حکومت اپنی ساکھ کے حوالے سے اتنی ہی حساس ہے تو پانامہ لیکس پر کیوں خاموش ہے چار ماہ سے وزیراعظم کو کہا جارہا ہے کہ بتائیں اثاثے کیسے بنائے گئے پیسے باہر کس ذریعے سے بھیجے گئے ٹیکس کتنا دیا گیا ، اپنی ساکھ کا احساس کرتے ہوئے آج تک بتایا کیوں نہ گیا کیوں نہیں ساری تفصیلات سیاسی حریفوں کے منہ پہ مار دی گئی کیوں میڈیا اور تبصرہ نگاروں کو حقیقت بتا کر خاموش نہیں کرا دیا گیاکیونکہ ابھی تک ان سے معذرت نہیں کروائی گئی .

ساکھ کا احساس کرنے والی حکومت نے ابھی تک پانامہ لیکس نکالنے والوں سےناک کیوں نہیں رگڑوائی ، اپنی ساکھ کا احساس کرنے والی حکومت آج پانامہ پر ساری حقیقت بتا دیتی تو کیا عمران خان جلسے اور دھرنے کر رہے ہوتے کیا پیپلزپارٹی دھمکیاں لگا رہی ہوتی؟؟ کیا طاہرالقادری ابھی تک پاکستان میں ہوتے؟؟یہ سب تو شرمندگی سے چہرے چھپا رہے ہوتے ان کی سیاست تو اب تک ختم ہوچکی ہوتی


حمزہ عباسی واقعی بہت بڑامجرم ثابت ہوتا
اگر مختلف تھانوں میں بچوں کے اغوا کے مقدمات نہ ہونے

حمزہ عباسی کا جرم واقعی بڑا ہوتا اگر ہر مقدمے کو درج کرانے کے لئے پولیس کی طرف سے رکاوٹیں نہ ہوتی اور جرائم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مقدمہ ہی درج کروانےنہ آتا .

حمزہ عباسی کا جرم بڑا ہوتا اگر خواتین کی عزتیں تار تار کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی .

حمزہ عباسی کا جرم بڑا ہوتا اگر وزراء ایم این اے اور ایم پی اے تھانوں میں جا کرپولیس کو دھمکیاں اور گالیاں دینے والی وڈیوز سامنے نہ ہوتی .

ملک میں اغوا قتل ریپ اور ڈکیتیوں کے اعداد و شمار سامنے رکھیں اور حمزہ عباسی کی ایک پوسٹ کو سامنے رکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ معافی کسے مانگنی چاہیے اور سزا کس کو بھگتنی چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے