رونےاورپھرہنسنے کامقام آیا؟

ہنسی بھی آ رہی ہے اور رونا بھی۔۔ پہلے رونے پر بات کر لیتے ہیں، ہنسی والی بات آخر میں کریں گے۔۔ یہ کیسی حکومت ملی ہے؟ آئے روز نئے ٹیکس لگاتی ہے۔ پٹرول کی قیمت عالمی منڈی میں کم ہوتی ہے مگر اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا کیونکہ اس پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ بجلی کے بلوں کو اگر صارفین بجلی اگر سمجھ پاتے تو سر اپنا پیٹتے یا پھر کسی حکومتی وزیر کا جو کہتے ہیں ہمارے دور میں بجلی کی قیمت کم ہوئی ہے۔

جی ہاں، بجلی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں مگر جتنی کمی نیپرا نے کی اتنے ہی بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ مختلف ٹیکس اور سرچارج جناب سمدھی سرکار نے بلوں میں ڈال دیئے۔

دس پیسے فی یونٹ نیلم جہلم سرچارج تو ہم کئی سال سے ادا کر رہے ہیں،پھر سرکلر ڈیٹ ادا کرنے کے لیے تین روپے فی یونٹ تک ٹیرف ریشنلائزیشن سرچارج، تینتالیس پیسہ فی یونٹ تک ایف سی سرچارج ، پہلے جو سرکاری جھوٹ سننے کی خدمت میں تیس روپے فی صارف پی ٹی وی فیس اداکی جاتی تھی وہ بھی اب پینتیس روپے ہو گئی ہے۔ پھر مجموعی بل پر ایک مرتبہ پھر سترہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس۔ اگر حساب کتاب کیا جائے تو آپ کے مجموعی بل کا چالیس فیصد صرف یہی سرچارج اور مختلف ٹیکس ہیں۔

یہی نہیں بلکہ پڑھنے والوں کو بہت حیرت ہو گی جب انہیں معلوم ہو گا کہ یہ سرچارج اور سیلز ٹیکس سرکاری اداروں ، وزیر اعظم ہاؤس، ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاؤس پر لاگو نہیں ہوتا۔ یعنی جن پر ہم غریبوں کا سارا ٹیکس خرچ ہوتا ہے وہ خود یہ ٹیکس نہیں دیتے۔
آج ہی ایک اخبار نے جو شہ سرخی لگائی ہے وہ وزیر اعظم نواز شریف کے چترال میں عوامی جلسے سے خطاب کے اقتباسات ہیں۔ اس میں اگر وزیر اعظم کی تقریر پڑھی جائے تو جو جملہ ہمارے محبوب قائد نے بولا ۔۔ اگلے ہی جملے میں خود اس کی نفی کر دی یا پھر حالات اس کی نفی کرتے ہیں۔

شہ سرخی کہتی ہے : مخالفین کو عوام جواب دے رہے ہیں۔۔ میرا دھیان کام پر ہے ، ان کی تقاریر کا نوٹس نہیں لیتا، صرف نعرے لگوائے، اللہ انہیں ہدایت دے، ہمارے دل میں بغض نہیں: نواز شریف

اب وزیر اعظم کہتے ہیں انہیں عوام مثبت جواب نہیں دے رہے جو احتجاج میں مصروف ہیں۔ حالانکہ حالیہ ضمنی انتخابات میں بے شک ن لیگ جیتی لیکن جیت کا مارجن کم ہوا اور ن لیگ کے ووٹوں میں کمی ہوئی۔ اپوزیشن کے جلسوں کی مقبولیت میں کمی اور حاضرین کا کم ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ حکومت مقبول ہو رہی ہے بلکہ یہ اپوزیشن کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اب خواتین کے بیٹھنے کی جگہ کی حفاظت بھی اچھے انداز میں ہو رہی ہے اس لیے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہاں آنے کا اب کوئی فائدہ نہیں رہ گیا۔۔

وزیر اعظم کہتے ہیں میں ان کی تقاریر کا نوٹس نہیں لیتا مگر ان کی اسی یا نوے فیصد تقریر ۔۔ صرف عمران خان کے الزامات پر شکوہ کے سوا کچھ نہیں تھی۔ بار بار کہتے میرے مخالفین یہ کہتے ہیں اس کا جواب یہ ہے مگر سیاسی مخالفین کو جواب دینے کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہے، عوام انہیں جواب دے رہے ہیں۔ یہ ہم نے پہلی بار دیکھا ہے کہ ایک شخص ہزاروں افراد کے مجمع کے سامنے کتنی سادگی سے کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے کے مصداق۔۔ سب کچھ کہہ کر کہے میں بھی جواب دے سکتا تھا مگر نہیں دوں گا۔۔

یہ ہم سب جانتے ہیں کہ جب وزیر اعظم کسی حلقہ کے دورہ کا اعلان کرتے ہیں تو اس علاقہ کے وزیر یا رکن اسمبلی بھی خوش ہو جاتے ہیں کہ اسی بہانے ان کی بھی وزیر اعظم سے ملاقات ہو جائے گی کیونکہ جب تک ان پر کوئی مشکل نہ ہو تو وزیر اعظم پارلیمنٹ ہاؤس تک نہیں جاتے ، اس طرح کئی مہینے گزر جاتے ہیں ۔۔ ان بے بس ارکان قومی اسمبلی اور وزراء کو اپنے وزیر اعظم کی زیارت کیے ہوئے۔یہ عوامی نمائندے اور وزیر خود روتے ہیں اور اپنی اس بے عزتی کا بدلہ اپنے لوگوں سے لیتے ہیں۔ پھر عوام بھی ظاہر ہے روتے ہی ہوں گے۔

اب آتے ہیں ہنسی والی بات کی طرف۔۔ ہنسنے کی بات یہ ہے کہ جس طرح کسی عورت نے شکوہ کیا ساتویں بچے کی پیدائش پر کہ سچی محبت نہیں ملی ، ٹھیک اسی طرح ن لیگ کو کئی دھرنوں اور مظاہروں کے باوجود حقیقی اپوزیشن نہیں ملی۔اگر اپوزیشن میں عقل ہوتی تو کیا وہ اس دن رائے ونڈ میں احتجاج کی کال دیتی جب وزیر اعظم خود امریکہ میں ہوں گے۔ یہ احتجاج کس کے لیے ہو گا، اسے کون دیکھے گا۔۔ کوئی نہیں۔۔لیکن ٹھہریں کوئی دیکھے یا نہ دیکھے شبیر تو دیکھے گا۔

کیونکہ نجی ٹی وی چینلز کا پیٹ بھی تو بھرنا ہے۔۔ سارا دن چینل پر عمران خان، طاہر القادری اور شیخ رشید کی باتیں تو چلنی ہیں۔ سب نے سننی ہیں مگر پھر جلدی جلدی کام پر لگ جانا ہے، ہمارے پاس اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ہم سب کو دیکھیں جنہیں جمہور کہا جاتا ہے۔ ہمارے کانوں، آنکھوں اور ہاتھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ یہ ہنسنے کا مقام ہے مگر ہمارے لیے نہیں بلکہ حکومت کے لیے ۔۔ شریف برادران اور شریف سن اینڈ ڈاٹر ۔۔۔ اینڈ کمپنی۔۔ سمدھی ڈار، احسن اقبال اور دیگر ہم نوا۔۔ سب اکیلے میں بیٹھ کر کتنا ہنستے ہوں گے۔۔ خواجہ آصف جب کہتے ہوں گے ۔۔ میاں صاحب ۔۔ دیکھیں ہم نے بجلی بحران پر قابو پا لیا۔۔ فی یونٹ بجلی بھی سستی ہو گئی ہے۔۔ میاں صاحب کا تو ہانسا ہی بند نہیں ہوتا ہو گا۔۔

احسن اقبال جب بیان کرتے ہوں گے کہ ملک کی ترقی میں جو کردار محبوب وزیر اعظم صاحب آپ کا ہے۔۔ کسی کو یہ رتبہ اس سے پہلے کبھی نہیں ملا ہو گا، آپ کے دور میں ہونے والی ترقی دیکھ کر انگریز بھی جلتے ہیں، بقول شہباز شریف چین والے آپ سے سیکھ رہے ہیں۔۔ یہ سن کر تو وزیر اعظم صاحب شاید ہنستے ہنستے بے حال ہو کر کرسی سے نیچے ہی گر جاتے ہوں گے۔

دختر اعظم جب ٹویٹ کرتی ہے، شیر نے سب اندھیرے مٹا دیئے، ملک میں ہر طرف ترقی کا جال بچھ گیا، عمران بے چارہ منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔وہ ٹویٹ جب وہ ظل الہٰی کو پڑھاتی ہوں گی تو وہ خوش ہو کر مزید کئی سرکاری شاہی محل آف شور انداز میں اپنی شہزادی کے نام کر دیتے ہوں گے۔

اپنے سمدھی سرکار تو ظل الہٰی کو ہنسانے کے لیے باقاعدہ گانوں کی پیروڈیز سناتے ہیں۔۔ ڈھنکا چکا ڈھنکا چکا۔۔ بارہ مہینے میں بارہ طریقوں سے قیمتیں بڑھواؤں گا رے۔۔ نہ بجلی ہو گی نہ گیس ہو گی۔قیمتیں پھر بھی بڑھواؤں گا رے۔۔ بس پھر تو شہنشاہ معظم کی خوشی کی انتہا ہی نہیں رہتی۔۔ وہ ارشاد کرتے ہوں گے، جب میرے شیر کے متوالوں کو بجلی بلوں، گیس بلوں میں ہونے والے اضافے کا کوئی احساس نہیں تو مزید سرچارج کا بندوبست کیا جائییہ جوتے کھانے سے نہیں گھبراتے بلکہ کہتے ہیں قطاریں بڑھا دو، تو بڑھا دو۔۔ پھر انگریز سرکار کی طرح عوام پر مزید لگان کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔

ہم آج تک ان حکمرانوں کا متبادل ہی تلاش کر رہے ہیں، لیکن کہاں سے لائیں متبادل؟۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ جو ابھی وزیر اعظم بنا نہیں، بننے کے لیے بے تاب ہے ۔ وہ بھی اپنے چاہنے والے کارکن کو سر عام تھپڑ لگا دیتا ہے، اور وہ بھی تھپڑ کھا کر اپنا دوسرا گال آگے کر دیتا ہے۔۔ بس ۔ہمارے لیے وہ مقام آ گیا ہے جب کہا جاتا ہے۔۔ میں روؤں یا ہنسوں کروں میں توکیا کروں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے