احمد ندیم قاسمی سے پہلی ملاقات

احمد ندیم قاسمی سے پہلی ملاقات میری زندگی کی خوشگوار ترین حیرت کا سبب بنی۔ یہ آج سے لگ بھگ پچاس برس پیشتر کی بات ہے جب راولپنڈی کے ایک مزدور لیڈر بشیر جاوید صاحب میرے ہاں اپنی شادی کی مختلف تقریبات میں شمولیت کے دعوت ناموں کے ساتھ تشریف لائے۔ انہوں نے اپنے تعارف میں احمد ندیم قاسمی کے ساتھ راولپنڈی جیل میں اپنی رفاقت کا حوالہ دیا اور بتایا کہ ندیم صاحب نے فرمائش کی ہے کہ اُن کی شادی سے متعلق تمام تقریبات میں میَں بھی ندیم صاحب کی خدمت میں حاضر رہا کروں۔ یہ جان کرمیری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ میں اپنے دِل میں جس شخصیت سے ملاقات کی تمنّارکھتا ہوں وہ فقط چند روز بعد اپنے ایک سابق ہم قفس کی دعوت پر بس راولپنڈی آیا ہی چاہتی ہے اور یوں میری ان سے ملاقات کی دیرینہ تمنّا پوری ہونے کو ہے۔

احمد ندیم قاسمی سے میرا غائبانہ تعارف بھی ایک عجب حُسنِ اتفاق کا مرہونِ منّت ہے۔ سن انیس سو باون میں جب میں سالِ اوّل کے طالب علم کی حیثیت میں گورنمنٹ کالج کیمبل پور (حال اٹک) میں داخل ہوا تو ایک تنہا اور اُچاٹ دل کے ساتھ گھومتے پھرتے کالج ہاسٹل کی ahmad nadeem2لائبریری میں جا نکلا۔کتابوں کو اُلٹے پلٹتے احمد ندیم قاسمی کے افسانوں پر مشتمل ایک کتاب بعنوان ’’آنچل‘‘ دلچسپ لگی۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو رات دیر تک پڑھتا رہا۔ کتاب ختم ہوئی تو یوں محسوس ہوا کہ ایک خواب ختم ہوا اور دوسرا خواب شروع ہو گیا۔

مطالعے کے دوران مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں اپنے مادی اور علمی لحاظ سے انتہائی پسماندہ گاؤں کے گلی کوچوں اور کھیت کھلیان میں بکھری ہوئی زندگی کی سفّاک حقیقتوں سے آنکھیں چار کرتا رہا۔ کتاب ختم ہوئی تو ذہن میں یہ سوال جاگ اُٹھا کہ آخر اِس شخص کو ہمارے گاؤں کی زندگی کی خارجی اور باطنی صداقتوں کاایسا حقیقت افروز علم کہاں سے ملا؟ اِس سوال کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں نے ہاسٹل اور کالج کی ہر دو لائبریریوں میں وہ سب کچھ پڑھ ڈالا جو احمد ندیم قاسمی نے اب تک لکھ رکھا تھا۔ اب مجھے ادبی رسائل و جرائد میں احمد ندیم قاسمی کی تحریروں کی تلاش اور کتاب گھروں میں اُن کی کسی نئی کتاب کی تلاش رہنے لگی۔ جوکچھ میّسر آتا گیا ، پڑھتا چلاگیا اور یوں مجھے غائبانہ طور پر احمد ندیم قاسمی سے قُرب حاصل ہونے لگا۔

اُسی زمانے میں حکومت نے انجمن ترقی پسند مصنفین کو سیاسی جماعت قرار دے کر انجمن کے سیکرٹری جنرل احمدندیم قاسمی اور اس کے
ہم نوا بیشتر ترقی پسندادیبوں کوجیل میں ڈال دیا تھا۔ مئی ۱۹۵۲ء سے شروع ہونے والی ایک سال کی اس نظربندی کے احوال و مقامات پر حمید اختر نے اپنی کتاب ’’کال کوٹھڑی‘‘ میں بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ اس رودادِ قفس میں ندیم کی شخصیت کا جیتا جاگتا عکس جلوہ گر ہے۔ حمید اختر کی’’کال کوٹھڑی‘‘ نے اپنی اس محبوب شخصیت سے میری غائبانہ جان پہچان کونئی گہرائیوں سے روشناس کیا۔

اُسی زمانے میں راولپنڈی کے سہ ماہی ادبی جریدہ ’’ماحول‘‘ میں احمد ندیم قاسمی نے اپنی ذاتی زندگی کے تجربات کو ’’چند یادیں ‘‘کے عنوان سے شائع کیا تھا۔ اِس تحریر نے احمد ندیم قاسمی کے بچپن ، لڑکپن ، شباب اور اُن کے ذہنی و فکری ارتقاء کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اپنی ابتدائی زندگی کی محرومی اور سرشاری کی رودادبیان کرتے وقت ندیم صاحب نے لکھا تھا:

’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مدرسے جانے سے پہلے میرے وہ آنسو بڑی احتیاط سے پونچھے جاتے تھے جو امّاں سے محض ایک پیسہ حاصل کرنے میں ناکامی کے دُکھ پر بہہ نکلتے تھے، لیکن میرے لباس کی صفائی، میرے بستے کا ٹھاٹ اور میری کتابوں کی ’’گیٹ اَپ‘‘ کسی سے کم نہ ہوتی تھی۔ گھر سے باہر احساس برتری طاری رہتا تھا اور گھر میں داخل ہوتے ہی وہ سارے آبگینے چور ہو جاتے تھے جنھیں میری طفلی کے خواب تراشتے تھے۔ پیاز یا سبز مرچ، یا نمک مرچ کے مرکب سے روٹی کھاتے وقت زندگی بڑی سفّاک معلوم ہونے لگتی تھی اور جب میں اپنے ہی خاندان کے بچوں میں کھیلنے جاتا تھا تو آنکھوں میں ڈر ہوتا تھا اور دل میں غصّہ۔ خاندان کے باقی سب گھرانے کھاتے پیتے تھے، زندگی پر ملمّع چڑھائے رکھنے کا تکلّف صرف ہمارے نصیب میں تھا۔ والد گرامی پیر تھے۔ یادِ الٰہی میں کچھ ایسی استغراق کی کیفیتیں طاری ہونے لگیں کہ مجذوب ہو گئے اور جن عزیزوں نے گدی پر قبضہ جمایا، انھوں نے ان کی بیوی، ایک بیٹی، دو بیٹوںahmad nadeem 3 اور خود اُن کے لیے کل مبلغ ڈیڑھ روپیہ ماہانہ( نصف جس کے بارہ آنے ہوتے تھے) وظیفہ مقرر کیا۔ تین پیسے روزانہ کی اس آمدنی میں امّاں مجھے روزانہ ایک پیسہ دینے کے بجائے میرے آنسو پونچھ لینا زیادہ آسان سمجھتی تھی‘‘۔

ماں کی گود ندیم کی وہ پہلی درسگاہ تھی جہاں اُن کے غیر ت و حمیّت ، نیکی اور پاکیزگی ، مادی غربت کے عالم میں روحانی ثروت مندی کے سے انسانی جوہروں نے جِلا پائی۔اپنی والدہ کے سایۂ رحمت کے بعد آغوشِ فطرت نے اُن پرزندگی کے جلال و جمال کے تہہ در تہہ اسرار منکشف کیے:

’’میں جب اپنے بچپن کا تصوّر کرتا ہوں تو ماں کے بعد جو چیز میرے ذہن پر چھا جاتی ہے وہ حسنِ فطرت ہے۔ یقیناًیہ میں نہیں کہہ سکتا کہ مظاہرِ فطرت سے موانست کا یہ جذبہ کب، کیسے اور کیوں پیدا ہوا، مجھے تو بس اتنا معلوم ہے کہ جب بھی میں اپنا ماضی یاد کرتا ہوں تو لہلہاتے ہوئے کھیتوں، امڈتے ہوئے بادلوں، دُھلی ہوئی پہاڑیوں اور چکراتی، بل کھاتی اور قدم قدم پر پہلو بچاتی ہوئی پگڈنڈیوں کی ایک دنیا میرے ذہن میں آباد ہو جاتی ہے۔ بہیکڑ کے پھول کی جڑیں مٹھاس کا موتی، لانبی لچکتی گھاس کی چوٹی پر جانے کی کوشش
میں چیونٹی سے بھی کہیں چھوٹے چھوٹے کیڑوں کی استقامت ،چیختی ہوئی چٹانوں کی جھریوں میں سے پھوٹتے ہوئے جنگلی پھولوں کے پودے، گھنی پھلاہیوں کے سائے میں دھرتی کی بھینی بھینی خوشبو دور نیلے پہاڑ کے دامن میں آئینے کی طرح چمکتی ہوئی جھیل پر سورج کی کرنوں کی سڑک، بادل کی گرج کے ساتھ تانبے کی چادروں کی طرح بجتے ہوئے پہاڑ، مکی کے بھٹوں کے لانبے لانبے سنہرے بالوں میں مکّی کی مہک، یہ اور دوسری تفاصیل جو کبھی کبھی میرے افسانوں اور شعروں کا پس منظر بن جاتی ہیں، میری زندگی کے اسی دور کا جمع کیا ہوا اثاثہ ہے جب میں وادیوں اور گھاٹیوں میں اُپلے چُننے نکلتا تھا یا اپنے میلے کپڑوں کی پوٹلی لیے اونچی پہاڑیوں پر پیالوں کے سے تالابوں میں کپڑے دھونے جاتا تھا‘‘۔

مضمون ’’چند یادیں‘‘سے لیے گئے اِس اقتباس سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ احمد ندیم قاسمی اپنے بچپن کی شدید افلاس کی لپیٹ میں آئی ہوئی زندگی کی بے انتہا مشقت کو یاد کرتے وقت تلخی کے کسی شائبہ تک کو اپنے قریب نہیں بھٹکنے دیتے۔ اِس کے برعکس کچھ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ جنگل بیابان میں اُپلے چننے کو زحمت نہیں بلکہ رحمت تصوّر کرتے ہیں۔ ایک ایسی رحمتِ خداوندی جس نے ندیم کو حُسنِ فطرت اور حُسن عمل ہر دو کی تحسین کا ہُنر سکھایا ہے۔

اِسی زمانے میں جب احمد ندیم قاسمی کے دو شعری مجموعے ’’شعلۂ گُل ‘‘ اور ’’دھڑکنیں‘‘ پڑھے تو مجھے حُسنِ فطرت اور حُسنِ انساں کے باہمی ربط و تعلق کی تعلیم ملی۔ ’’شعلۂ گُل ‘‘ میں انسانی عظمت کے موضوع پر نظم در نظم اور غزل در غزل نادر و نایاب اشعار پڑھ کر مجھے ندیم کے بچپن کے ماحول کے ندیم کے فن پر اثرات سمجھنے میں بہت مدد ملی۔ ’’شعلۂ گُل‘‘ میں قید و بند کے زمانے کی شعری تخلیقات بھی یہاں وہاں اپنا جادو جگا رہی ہیں۔

ahmad nadeem4اِس زمانے میں احمد ندیم قاسمی انجمن ترقی پسند مصنفین کے سربراہ تھے۔ اُنھیں متعدد ترقی پسند ادیبوں کے ساتھ پنجاب کی مختلف جیلوں میں پابندِ سلاسل رہنا پڑا تھا۔اِس قیدو بند کی انتہائی اثرآفریں روداد جناب حمید اختر نے اپنی ناقابلِ فراموش کتاب ’’کال کوٹھڑی ‘‘میں رقم کر رکھی ہے۔ میں نے اِس کتاب کو بار بار پڑھا اور ہر بارندیم کو اپنے سب ہم قفس رفیقوں سے ممتاز اور منفرد پایا۔ خود انہوں نے رسالہ ’’نقوش‘‘ کے دو مختلف شماروں (۲۷۔۲۸ اور ۲۹۔۳۰)میں بالترتیب ’’مہربلب ‘‘اور ’’زندان و سلاسل‘‘ کے عنوان سے اِس قید و بند کے احوال و مقامات پر روشنی ڈالی ہے۔ اِن سب تحریروں میں جس نظریاتی صلابت اور انسانی عظمت کے ثبوت احمد ندیم قاسمی نے فراہم کیے ہیں وہ کہیں اور مشکل ہی سے نظر آئیں گے۔

ایوب خان کے مارشل لاء کے ابتدائی دور میں جب وہ سنٹرل جیل راولپنڈی میں قید تھے اُن دنوں میں روزنامہ ’’تعمیر‘‘ میں سب ایڈیٹر تھا۔ اُن دنوں میں اپنے ایڈیٹر اور ندیم صاحب کے پرانے دوست جناب محمد فاضل(۱) کی وساطت سے اُنہیں ادبی کتابیں اور ادبی رسائل و جرائد بھیجا کرتا تھا۔ اُس وقت تک ہماری آپس کی کوئی باقاعدہ ملاقات نہ ہو پائی تھی۔ بس چند برس پیشتر جب میں پہلی مرتبہ لاہور گیا تھا تو اپنے دِل میں یہ شوق لے کے گیا تھاکہ احمد ندیم قاسمی کو دیکھوں گا۔ میں خوب جانتا تھا کہ وہ نسبت روڈ پر کس مکان میں رہتے ہیں۔

روزنامہ’’امروز‘‘ کے دفتر میں کس وقت جاتے ہیں اور وہاں سے واپس کس وقت اور کس راستے سے گھر تشریف لاتے ہیں۔ چنانچہ میں نسبت روڈ کی ایکahmad nadeem5 نکڑ پر منتظر کھڑا رہا۔ جب ندیم صاحب بائیسکل پر سوار نسبت روڈ سے اپنے گھر کی طرف جانے والی سڑک پر مُڑے تو دس منٹ بعد میں بھی اُن کے دروازے تک جا پہنچا۔ گھنٹی دی تو خود ندیم صاحب دروازے پر آئے۔میں نے اُنہیں بتایا کہ میں گورنمنٹ کالج کیمبل پور سے یہاں ایک کام سے آیا تھا ۔سوچا آپ سے ملتا جاؤں۔ انہوں نے پوچھا کس کام سے آئے ہو اور میں کیا مدد کر سکتا ہوں؟ میں نے بتایا کہ بس آپ کو دیکھنے کا شوق تھا آگیا۔ بہت بہت شکریہ۔ نہ میں نے اپنا نام بتایا نہ انہوں نے پوچھا۔

بی اے کا امتحان دینے کے بعد میں نے اپنے گاؤں بیٹھ کر نتیجے کا انتظار کرنے کی بجائے روز نامہ ’’تعمیر‘‘ میں ملازمت اختیار کر لی۔ اخبار کے ایڈیٹر جناب محمد فاضل نے ایک زمانے میں مولانا عبدالمجید سالک کے ہاں احمد ندیم قاسمی کو دیکھا تھا اور پھر وہ دونوں دوستی کے رشتے میں منسلک ہو گئے تھے۔ اب جب وہ آ آ کر مجھے قیدوبند کے مصائب میں مبتلااحمد ندیم قاسمی سے ملاقات کا حال بتاتے تو میں اُن کے ہاتھ کتابیں رسالے بھجوا دیا کرتا تھا۔ ایک آدھ بار انہوں نے کہا بھی کہ چلو کل تمہیں ملا لاتے ہیں مگر میں نے جواب میں یہی کہا کہ ہم تو ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں۔اِس لیے میرے یہ تحفے پہنچا دیا کریں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتابیں رسالے اُنہیں بہت پسند آئیں گے۔

اِن ہی میں سے ایک کتاب بعنوان ’’ماڈرن عریبک پوئٹری ‘‘ اُنھیں بے حد پسند آئی تھی۔ یہ جدید عربی شاعری کا انتخاب ہے جسے پروفیسر اے جے آر بری نے ترجمہ کر کے لندن سے شائع کرا دیا تھا۔ اِن میں سے ایک نظم کا وہ بار بار ذکر کیا کرتے تھے۔ اِس نظم کا عنوان تھا : ’’فی الطریقۃ الحیات‘‘ ۔ ندیم صاحب کا کہنا تھا کہ اُنہیںیقین ہے کہ یہ نظم اسرار الحق مجاز کی نظر سے کبھی نہیں گزری مگر حیرت ہے کہ مجاز کی نظم ’’آوارہ‘‘ کی بحر، اوزان اور مطالب اس عربی نظم سے گہری مماثلت رکھتے ہیں۔اِس پر مستزاد یہ کہ پروفیسر آربری نے اِس نظم کے انگریزی قالب کا عنوان "The Wanderer”رکھا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ندیم صاحب بشیرجاوید کے ہمراہ میرے ہاں پہلی بار تشریف لائے تھے تب بھی انہوں نے اِس نظم کے حُسن و اثر کا ذکر کیا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب میں گارڈن کالج میں زیرِ تعلیم تھا اور ساتھ ہی ساتھ روزنامہ’’ تعمیر‘‘ میں ایک قلمی مزدور کی خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ ہمارے اخبار کے ایڈیٹر جناب محمد فاضل مرحوم احمد ندیم قاسمی سے عقیدت اور محبت رکھتے تھے۔ چنانچہ فیلڈ مارشل ایوب خاں کے مارشل لاء کے ابتدائی دنوں میں
جب احمد ندیم قاسمی کو بہت سے دوسرے ترقی پسند ادبی اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ سنٹرل جیل راولپنڈی میں نظربند کر دیا گیا تھااُن دنوں جناب محمد طفیل جیل سپرنٹنڈنٹ کی وساطت سے احمد ندیم قاسمی کے ساتھ پابندی سے ملتے رہتے تھے۔ احمد ندیم قاسمی سے میری عقیدت کا حال اُن پر آشکار تھا۔ اسی خیال سے وہ مجھے اپنی اِن ملاقاتوں سے باخبر رکھتے تھے۔ میں جناب محمد طفیل کی وساطت سے احمد ندیم قاسمی صاحب کی خدمت میں پابندی کے ساتھ کتابیں اور رسائل و جرائد بھیجا کرتا تھا۔ میرا اُن سے یہی بالواسطہ رابطہ اُس خوشگوار حیرت کا سبب بنا جس کی نوید لے کر بشیر جاوید صاحب میری قیام گاہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تشریف لائے تھے۔ میں نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور وعدہ کیا کہ جونہی ندیم صاحب کی راولپنڈی آمد کی خبر ملی میں خوشی خوشی اُن سے ملنے پہنچ جاؤں گا مگر مجھے یہ خوشی نصیب نہ ہوسکی۔

ہوا یوں کہ چند روز بعد، ایک سہ پہر، احمد ندیم قاسمی بشیر جاوید صاحب کے ہمراہ میری دو کمروں پر مشتمل رہائش گاہ آ پہنچے۔مجھے محلہ موہن پورہ میں واقع اِس مکان میں فرنیچر کے نام پر فقط دو کرسیاں اور دو چارپائیاں میسر تھیں۔ میں نے چاہا کہ ندیم صاحب اور اُن کی معیّت میں آئے ہوئے چند مہمانوں کو ahmad nadeem6کسی ریستوران میں لے جاؤں مگر ندیم صاحب نے انکار کیا اور ایک چارپائی پر اپنے ساتھ بشیر جاوید صاحب کو بھی بٹھا لیا اور یوں دو اڑھائی گھنٹے وہیں گَپ کرنے کے بعد مجھے بھی اپنے ساتھ بشیر جاوید صاحب کے گھر لے گئے۔ شادی کی تقریبات کے اختتام تک مجھے اپنے ساتھ ساتھ رکھا اور یوں میں دادا امیر حیدر سمیت راولپنڈی کی بائیں بازو کی قیادت سے روشناس ہوا۔

یہ ہے احمد ندیم قاسمی سے میرا پہلا باقاعدہ تعارف!اِس ملاقات سے ہمارے درمیان ایک ایسی رفاقت کا آغاز ہوا جو زندگی بھر قائم رہی اور آج جب احمد ندیم قاسمی کا جسمانی وجود آنکھوں سے اوجھل ہو چکا ہے یہ رفاقت بہ اندازِ دگر جاری ہے۔میری شادی میں شرکت کی خاطر لاہور سے ہمارے گاؤں تک کا طویل سفر دو بسیں تبدیل کر کے طے کیا تھا۔بعد ازاں شادی کی تقریب ہو یا غم کی وہ پابندی سے اُس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔

میرے والدِماجد کا انتقال پُرملال اُس وقت ہوا جب میں جرمنی کی ہائیڈلبرگ یونیورسٹی میں پڑھا رہا تھا۔ خبر سُنتے ہی وہ میری عدم موجودگی میں تعزیت کی خاطر ہمارے گاؤں پہنچے۔ میرے راولپنڈی میں مستقلاً قیام پذیر ہوجانے کے بعد وہ ہمیشہ میرے غریب خانے پر ہی قیام فرمایا کرتے تھے۔ اُن سے ملاقات کی خاطرمیری قیام گاہ پر اُن کے مداحوں اور عقیدت مندوں کا تانتا بندھ جاتا اور اُن کے دم قدم سے ہمارے گھر میں ایک ادبی مرکز کی سی شان پیدا ہو جایا کرتی تھی۔چنانچہ میں عُمر بھر راولپنڈی /اسلام آبادکے بزرگ ادیبوں شاعروں سے لے کر نوآموزتخلیق کاروں تک کے فیضانِ تربیت سے فیضیاب ہوتا رہا۔

میں زندگی بھر اُن کی خوشنودی حاصل کرنے میں کوشاں رہا۔دو مُنہ بولے بھائیوں کے درمیان اِس طویل اور گرمجوش رفاقت کے خدوخال کی ایک جیتی جاگتی جھلک اُن خطوط میں جلوہ گر ہے جن کا انتخاب اِس کتاب میں شامل ہے۔انہوں نے یورپ، امریکہ اور کینیڈا کے سفر میری ہی درخواستوں کو پذیرائی بخشتے ہوئے اختیار کئے تھے۔ اپنے قیام لاہور کے آخر آخر میں مجھ پر ایک ایسا نازک وقت بھی آیا تھا جب میرے دوستوں اور ملاقاتیوں کا ہجوم منتشر ہو کر رہ گیا تھا۔

یہ وہ دن تھے جب سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے اور اُن کے سیاسی قائد ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان دوری پیدا ہو گئی تھی اور پھر یہ دوری بڑھتے بڑھتے سیاسی رقابت بن گئی تھی۔ رامے صاحب سے میری محبت اور قربت کے پیشِ نظر عزیزترین دوست بھی میرے سائے تک سے بچنے لگے تھے۔ اس کڑے وقت میں بھی ندیم صاحب سے دیرینہ رفاقت قائم رہی۔ یہ بات مجھے بھلائے نہیں بھولتی کہ جب میں نے لاہور سے قائداعظم یونیورسٹی میں واپسی کے لیے رختِ سفر باندھا تھا تو ریلوے اسٹیشن پر فقط ایک شخص احمد ندیم قاسمی الوداع کہنے کو موجود تھے۔ ندیم صاحب بعض اوقات انتہائی نازک خانگی معاملات میں بھی مجھے اعتماد میں لے لیا کرتے تھے لیکن وضع احتیاط کا یہ عالم تھا کہ اِن معاملات کا ذکر خطوط میں تو اشارۃً ہوتا تھا مگر بعد ازاں وقتِ ملاقات وہ اپنا دِل کھول کے رکھ دیا کرتے تھے۔اپنی بیگم کے طرزِ فکر و عمل نے اُن کی زندگی میں عذاب کی ایک صورت اختیار کر رکھی تھی۔

ہرچند اُن کے لیے دُلہن کا چُناؤ اُن کی والدہ ماجدہ نے کیا تھاتاہم ندیم صاحب کو اپنی رفیقِ حیات سے سب سے بڑی شکایت ہی یہ تھی کہ وہ اُن کی والدہ ماجدہahmad nadeem7 کی عزت و تکریم کا حق ادا کرنے سے ہمیشہ قاصر رہیں۔یہاں میں اس باب میں خاموشی کو گویائی پہ ترجیح دوں گا فقط اُسی اشارت پر اکتفا کروں گا جو اُن کی تحریر کے بین السطور موجود ہے۔ ۳۔مئی ۱۹۸۵ء کے خط کے آغازمیں لکھتے ہیں:

’’بہت ہی پیارے بھائی ۔ اب کے مجھ سے کوتاہی ہو گئی۔ وجہ کوئی خاص نہیں۔ وہی گھریلو مسائل اور الجھنیں۔ زندگی کا یہ پہلو اتنا زہریلا ہے کہ حیرت ہے میں اب تک زندہ کیسے ہوں۔ مگر شاید یہ آپ کے سے دو چار پیارے دلارے وجودوں کی برکت ہے کہ مجھے ان سے اتنی محبت دستیاب ہو جاتی ہے کہ سب تلافیاں ہو جاتی ہیں۔‘‘(۲)

دو برس بعد۱۸جنوری ۸۷ء کے خط میں مجھے اپنے درد و کرب میں یوں شریک کرتے ہیں:

میں نے اگر مدت سے نہ کوئی افسانہ لکھا ہے اور نہ کام کی کوئی شاعری کی ہے تو میرے بہت پیارے بھائی، اس کا سبب میرے وہ حالات ہیں جن کی تفصیل ایک بار پنڈی میں عرض کر چکا ہوں۔ آج کل ان حالات نے acuteصورت اختیار کر رکھی ہے۔ میرا اعصابی نظام گڑ بڑا رہا ہے۔ ڈر ہے کہیں بلڈ پریشر کا مریض نہ ہو جاؤں۔ یوں میں تخلیق فن کے لمحوں کو گرفت میں نہیں لا پاتا۔ توجہ کا ارتکاز ختم ہو رہا ہے۔ یہ جو میں یورپ اور امریکہ اور کناڈا کے دعوت نامے مسترد کر دیتا ہوں تو اس کا سبب محض اور محض یہ ہے کہ میرے اندرکا اطمینان ختم ہو رہا ہے۔ مجھے کسی چیز میں کشش اور جاذبیت نظر نہیں آتی۔ ہر چیز پھیکی اور سپاٹ ہے۔‘‘(۳)

خدیجہ مستورنے احمد ندیم قاسمی کی شخصیت و کردار پر اپنے مضمون میں قارئین سے بیگم احمد ندیم قاسمی کا تعارف کرانا بھی ضروری سمجھا ہے۔وہ بیگم صاحبہ کی معصومیت اور سادہ لوحی کے اوصاف پر یوں روشنی ڈالتی ہیں:

’’ندیم کی بیوی، بس برائے نام پڑھی لکھی ہیں۔ اپنے میاں کو ’’سرتاجِ من سلامت‘‘ کے القاب سے ٹوٹا پُھوٹا خط لکھ لیتی ہیں۔ دیکھنے والوں کے لیے ندیم کی زندگی کا یہ ایک بڑا ہی درد ناک پہلو ہے کہ ان کی بیوی یہ تک نہیں جانتیں کہ ان کاشوہر کیسا ہے۔۔۔ندیم جب جیل میں تھے تو ان کی بیوی ان سے مل کر آئیں۔ کافی جھلّائی ہوئی تھیں۔ کہنے لگیں ’’جانے کیا کرتے ہیں۔ کہیں نوکری تک نہیں ملی آج تک۔۔۔میرے ابّا جی سے آج بھی کہیں تو وہ سفارش کر کے سپاہی بھرتی کرا دیں، پھر کس کی مجال جو جیل بھیجے اور گاؤں میں بدنامی ہو۔۔۔اس دن میں نے محسوس کیا کہ ندیم کی زندگی کا یہ پہلو کتنا دردناک ہے۔۔۔لیکن ندیم کو اس درد کا احساس بھی ہے یا نہیں، اسے وُہ ظاہر نہیں ہونے دیتے۔۔۔وہ اپنے تازہ کہے ہوئے اشعار گھر بھر کے سامنے سُناتے ہیں اور ان کی بیوی بڑے اہتمام سے حلوہ پکانے میں مصروف ہوتی ہیں۔۔۔‘‘(۴)

محترمہ رابعہ بھابھی (بیگم احمد ندیم قاسمی) جب کبھی ندیم بھائی کے ساتھ پنڈی ، اسلام آباد تشریف لاتیں تو ہمارے ہاں ہی قیام فرماتیں۔ میری بیوی ذکیہ سے وہ ہمیشہ دل کھول کے باتیں کیا کرتی تھیں۔ وہ ہمیشہ ندیم صاحب کی شہرت اور عظمت پر نازاں رہیں۔ اُنھیں ندیم صاحب سے سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ وہ بڑی فراخ دلی کے ساتھ دوسروں کی مالی امداد کرنے کی خُو رکھتے تھے اور ایسا کرتے وقت یہ نہیں سوچتے تھے کہ آئندہ دنوں میں اُن کی اور اُن کے کنبے کی مالی مُشکلات کو کیسے آسان بنایا جائے گا۔وہ ہم دُنیاداروں کی مانند درویشوں کے انداز و ادا کی تحسین کی صلاحیت سے محروم تھیں۔ وہ سمجھتی تھیں کہ ندیم صاحب بہت سادہ لوح اور نرم دل ہیں اوریوں ضرورت مندوں کے مکروریا کو سمجھ نہیں پاتے۔نتیجہ یہ کہ خود اُن کے بچوں کا مقدر معاشی تنگدستی سے عبارت ہو کر رہ گیا ہے۔محترمہ رابعہ بھابھی کا یہ طرزِ فکر قابلِ فہم ہے۔

کبھی کبھار ندیم صاحب کی زندگی میں بیروزگاری کے وقفے بہت طویل ہو جایا کرتے تھے۔قید و بند کے ایّام اِس پر مستزاد تھے۔ایسے میں ایک دُنیا دار خاتونِ خانہ کی اپنے شوہر کی غیروں کے لیے یہ دریادلی سوہانِ روح بن جایا کرتی تھی۔

ہم ایک دوسرے کی اٹوٹ رفاقت پر ہمیشہ نازاں رہے مگر وفات سے فقط چند ماہ پہلے فیض احمد فیض پر میرے ایک مضمون نے اُنہیں وقتی طور پر رنجش میں مبتلا کر دیا تھا۔میں منصورہ احمد کا احسان مند ہوں کہ انھوں نے میری موجودگی میں اِس مضمون میں پیش کردہ نکات پر اپنے مخصوص انداز میں نکتہ چینی شروع کر دی تھی اور یوں مجھے اِس موضوع پر کُھل کر بات کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ ہرچندندیم بھائی نے اِس باب میں میرے استدلال کویہ کہہ کر رَد کر دیا تھاکہ میں اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے میں سراسر ناکام ہوں۔یہ بات انھوں نے بڑے غُصّے میں کہی تھی مگر کہتے وقت کیک کا ایک ٹکڑا پلیٹ میں رکھ کر مجھے پیش کر دیا تھا۔ اِس مٹھاس نے تلخی کو اپنے اندر جذب کر لیا تھا اور میں نے کسی اور موضوع پر بات شروع کر دی تھی۔

احمد ندیم قاسمی نے فیض احمد فیض کی شخصیت پر اپنے مضمون میں طبقۂ امراء کے ساتھ فیض کے دوستانہ روابط سے لے کر برٹش انڈین آرمی میں کرنل کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے تک متعدد امور کو ہدفِ ملامت بنایا تھا۔ میں نے اپنے مضمون بعنوان ’’فیض ، فاشزم اور مہاتما گاندھی ‘‘ میں فیض اور چند دوسرے ترقی پسندوں کا دفاع کرتے وقت جنوبی ایشیاء پر فاشزم کی ممکنہ یلغار کو اِس کا سبب بتایا تھا۔ ان لوگوں نے برٹش انڈین آرمی کے شعبۂ اطلاعات و نشریات میں اُس وقت کام کرنا شروع کیا تھاجب یورپ میں فاشزم کے عروج کے خلاف صف بندی میں اشتراکی روس بھی شامل ہو گیا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب مہاتما گاندھی یورپ اور ایشیاء کی فاشسٹ قوّتوں کے عروج سے برطانوی ہند کوآزادی دلانے کے خواب دیکھنے لگے تھے۔اِس کے برعکس برطانوی ہند کی ترقی پسند جماعتوں نے فاشزم کے عروج کو ہندوستان سمیت تمام عالمِ انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا تھا۔اسی زمانے میں فیض احمد فیض نے اپنی ایک نظم میں مہاتما گاندھی کویوں مخاطب کیاتھا :

سالہا سال ، یہ بے آسرا جکڑے ہُوئے ہاتھ
رات کے سخت و سیہ سینے میں پیوست رہے
جس طرح تنکا سمندر سے ہو سر گرمِ ستیز
جس طرح تیتری کہسار پہ یلغار کرے
اور اب رات کے سنگین و سیہ سینے میں
اتنے گھاؤ ہیں کہ جس سَمت نظر جاتی ہے
جا بجا نُور نے اک جال سا بُن رکھا ہے
دُور سے صبح کی دھڑکن کی صدا آتی ہے
تیرا سرمایہ، تیری آس یہی ہاتھ تو ہیں
اور کچھ بھی تو نہیں پاس، یہی ہاتھ تو ہیں
تجھ کو منظور نہیں غلبۂ ظلمت لیکن
تجھ کو منظور ہے یہ ہاتھ قلم ہو جائیں
اور مشرق کی کمیں گہ میں دھڑکتا ہوا دن
رات کی آہنی مَیّت کے تلے دب جائے(۵) (سیاسی لیڈر کے نام)

 

میں نے اپنے مضمون میں زمانۂ جنگ میں فیض کی برطانوی ہند کی فوج میں شمولیت کو ابن الوقتی کی بجائے نظریاتی استقامت کی دلیل ثابت کیاتھا۔ ندیم صاحب نے فیض پر اپنے متذکرہ مضمون میں پیش کردہ دلیل کی میری طرف سے تردید کا بہت بُرا منایا۔ندیم صاحب کا ahmad nadeem8یہ ردِعمل میرے لیے انتہائی حیران کُن تھا۔بیس برس قبل جب میں نے فیض احمد فیض کے خلاف انیس ناگی کے مضمون بعنوان ’’بوڑھے شاعر کا المیّہ‘‘ میں پیش کیے گئے طنزیہ استدلال کی تردید میں فیض کی شاعرانہ عظمت کا بول بالا کیا تھا تو ندیم صاحب نے اِس پر بڑے والہانہ انداز میں مسرت کا اظہار کیا تھا۔ ۳۰جون۷۹ء کے خط میں اُنھو ں نے درج ذیل الفاظ میں میری ہمت افزائی فرمائی تھی:

’’فیض صاحب کے بارے میں آپ کا مضمون پڑھ کر سرشار ہو گیا۔ آپ نے ان کا کتنی خوبصورتی اور اعتماد کے ساتھ دفاع کیا ہے اور معترض کے خلاف ایسا فیصلہ کن لہجہ اختیار کیا ہے جو ایک بار تو اسے لرزا دے گا۔ یہ حسن گوئی اور بیباکی آپ کے ضمیر میں ہے۔ اسی لیے تو آپ اتنے پیارے ہیں۔ لطف آ گیا۔ اللھم زد فزد۔‘‘(۶)

بیس برس بعد جب میں نے فیض صاحب پرسامراج نوازی کے الزام کی تردید میں اپنے مضمون بعنوان ’’فیض، فاشزم اور مہاتماگاندھی‘‘ میں بڑے اعتماد کے ساتھ فیض صاحب پرسامراج نوازی کے الزام کی مدلل تردید کی تو میری یہی’’حُسن گوئی اور بیباکی‘‘میرا سب سے بڑا عیب قرار پائی۔عطاء الحق قاسمی کے رسالہ ’’معاصر‘‘ میں میرا مضمون پڑھتے ہی ندیم صاحب نے ۲۲ستمبر۲۰۰۱ء کے خط میں لکھا کہ:

’’ آپ نے مجھے چھوٹے چھوٹے معاملات میں الجھنے سے منع فرمایا ہے، مگر خود آپ ایک نہایت ہی حقیر معاملے میں اپنے آپ کو اُلجھا بیٹھے ہیں۔ آپ نے فیض صاحب کی کرنیلی اور ’’ممبر آف برٹش ایمپائر‘‘ کے خطاب کے حوالے سے ان کا غلط اور دورازکار دفاع کیا اور اگر آپ اب تک بضد ہیں کہ آپ نے سچ بولا تو اِس سچ کے پاؤں کہاں ہیں؟

بات صرف اتنی سی تھی کہ فیض کے اِکا دُکا بوگس اور جاہل ساتھیوں نے میرے مضمون کے حوالے سے مجھ پر جو غلاظت اچھالی تھی ، اس کا جواب تو آپ کیا دیتے (ورنہ یہ آپ کا فرض تو بنتا ہی تھا) اُلٹا اِس نازک موقعے پر آپ اُن جاہلوں کی بالواسطہ حمایت پر اُتر آئے (اور بیشتر پڑھے لکھے لوگ آپ کی اس قلابازی پر جسے آپ سچ قرار دے رہے ہیں) دم بخود رہ گئے کہ کیا یوں بھی ہو سکتا ہے!!!

بہرحال، میرے بہت پیارے بھائی، منصور حلاج پر پتھر برس رہے تھے تو وہ چپ چاپ سہتا رہا، مگر جب اس کے دوست شبلی نے اس پر ایک پھول پھینکا تو منصور درد سے بلبلا اُٹھا۔۔۔آ پ نے تو مجھے دوسروں کی طرح سچ مچ کا پتھر ہی دے مارا‘‘۔(۷)

ندیم بھائی کے اِس ردِعمل پر مجھے شدید رنج ہوا۔ میں اُن سے عقیدت اور محبت کے جس رشتے سے منسلک ہوں اُس کا کسی بھی نظریاتی یا مفاداتی گروہ بندی سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ جب وہ قتیل شفائی اور موجد کے سے دوستوں کے حصار میں رہا کرتے تھے تب بھی میں نے اُس حلقۂ ندیم سے پسندیدگی کا اظہار کبھی نہیں کیا اور برملا اِن لوگوں کے فکروعمل کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا۔قدرتی طور پر ندیم کے یہ دوست مجھے اپنا غیر سمجھتے تھے۔ندیم کے اِرد گرد منڈلانے والے ادیبوں اور شاعروں کے حلقے بنتے اور بکھرتے رہے مگر میں اپنی ذاتی حیثیت میں اُن سے عقیدت و احترام کے رشتے پر قائم رہا۔فیض ہوں یا وزیرآغا میں نے کبھی اُن کے فکر و فن کی تحسین و تردید کے عمل میں ندیم صاحب کی پسند و ناپسند کو سامنے نہیں رکھا۔

میں ہر فنکار کی عظمت کی بنیادیں خود اُس فنکار کی ذات اور فن میں تلاش کرنے کا عادی رہا ہوں۔ اِس بات کا ندیم صاحب کو بخوبی علم تھا اور اُنھوں نے کبھی مجھے یا میری کسی تحریر کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا تھا۔چنانچہ درج بالا طویل مکتوب میں پیش کیے گئے استدلال پر میں نے نہ تو کبھی قلم اُٹھایا اور نہ ہی کبھی اُن کی محفل میں لب کشائی کی۔بعد ازاں اُن کی مختصر ترین مہلتِ حیات کے دوران فقط دو مرتبہ لاہور جانا ہوا۔ہر دو مرتبہ اُن کی خدمت میں حاضر ہوا، اُن کی دُعائیں سمیٹیں اور اُن کی زندگی کی دُعائیں مانگتا ہوا واپس لوٹا۔

عجیب بات ہے کہ اُن کے اللہ کو پیارے ہو جانے کے بعد جب بھی میرا لاہور جانے کا پروگرام بنتا ہے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ندیم صاحب زندہ ہیں اور لاہور کا سفر اُس وقت تک تکمیل کو نہیں پہنچے گا جب تک میں اُن کی دُعائیں سمیٹتا ہوا واپس نہیں لوٹوں گا۔لاہور پہنچتا ہوں ، کام سے فارغ ہوتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ندیم صاحب تو اب یہاں نہیں ہیں ۔ندیم صاحب نہیں ہیں تو پھر میں یہاں کیوں ہوں؟اِس سوال کا جواب نہ پا کرمیں فوراً کے فوراً واپسی کے سفر پر روانہ ہو جاتا ہوں!
***

[pullquote]حواشی
[/pullquote]

(۱) سنٹرل جیل راولپنڈی سے ۲۱دسمبر ۱۹۵۸ء کو جناب محمد فاضل کو اپنے خط میں لکھتے ہیں:

’’عزیزی فتح محمد ملک صاحب کا بھی ایک خط چند دن پہلے ملا تھا۔ انھوں نے جس محبت کے ساتھ مجھے یاد کیا ہے اس سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ پچھلے جمعہ (۱۹۔ دسمبر) کو میں ان کی موعودہ کتاب اور اشیاء کا منتظر رہا مگر شاید وہ کسی وجہ سے نہ آ سکے۔ بہرکیف ان کی یاد فرمائی ہی نے مجھے سراپا سپاس بنا ڈالا ہے۔ ان کی خدمت میں سلامِ محبت۔کتابوں اور رسالوں کے بارے میں میرا یہ پیغام برادرم فتح محمد اور عزیزی منو کو بھی پہنچا دیں۔جیل کے حکام یہ چیزیں سنسر کرانے کے بعد مجھ تک پہنچا دیں گے۔ ‘‘ (آدھی ملاقات، مکاتیب احمد ندیم قاسمی بنام محمد فاضل، مرتب خورشید ربانی، اسلام آباد، ۲۰۰۷ء، صفحہ۱۱۹)

(۲) مکاتیبِ ندیم ، صفحہ ۴۶

(۳) ایضاً، صفحہ ۶۶

(۴) خدیجہ مستور، نقوش، شخصیات نمبر، صفحہ ۴۰۵

(۵) فیض احمد فیض، نسخہ ہائے وفا، لاہور، صفحہ۱۱۱

(۶) مکاتیبِ ندیم، صفحہ ۲۴

(۷) ایضاً، صفحہ ۹۴۔۹۵

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے