بھارت میں کارروائی کرنےوالوں کے نام

اب اس بات میں کسی شک ہو سکتا ہے کہ بھارتی کیمپ میں ہونے والے حملے کی وجہ سے کشمریوں کا مقدمہ کمزور کرنے کی سازش کی گئی .
اقوام متحدہ میں کشمیریوں کا مقدمہ کمزور کرنے کی مکروہ کارروائی پر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ

اول : جس طرح ” ریاستی عناصر ” اپنی بقاء کیلئے اپنے ہی لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں، یہ بھی عین ممکن ہےیہ واقعہ بھی اسی طرح کی کارروائی ہو. سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس واقعے کا فائدہ کس نے حاصل کیا؟
بھارتی مکار ذہنیت اب سفارتی اور عالمی محاذ مظلوم بن جائے گی اور پاکستان پر الزام عائد کیا جائے گا کہ اس واقعے میں پاکستان ملوث ہے .
آخر قومی مفاد بھی کوئی چیز ہوتی ہے. قومی مفاد کیلئے ریاستیں اپنے بندے مارنے مروانے کا نقصان تو برداشت ہی کرتی رہتی ہیں .

لیکچر دینے سے پہلے سمجھوتہ ایکسپریس کا واقعہ تفصیل سے پڑھ لیجئے گا جس میں انڈین آرمی نے سمجھوتہ ایکسپریس جلا دی تھی .
اسی طرح پٹھانکوٹ واقعے کے تفتیشی افسر کا بیوی سمیت قتل،
ممبئی حملے میں کرکرے کا قتل سب آنکھوں کے سامنے ہے.

دوم : اگر یہ کاروائی کسی ” جہادی جتھے ” نے کی ہے تو دو باتیں ہو سکتی ہیں.

اول : یہ جتھہ بھارتی سرپرستی میں انہی مقاصد کیلئے بنایا گیا ہوگاکیونکہ اس وقت اس کارروائی کا فائدہ صرف بھارت کو ہوا ہے اور حملہ آوروں نے کشمیریوں کی عوامی تحریک کو شدید نقصان پہنچایا ہے . بھارت کو اب جواز فراہم کیا گیا ہے وہ چھرے والی گن سے دوبارہ گولی والی گن پکڑ لے . کشمیریوں نےجو دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تھی ، اب بھارت اپنے میڈیا کے ذریعے زہریلا پروپیگنڈا کر کےکشمیریوں پر جاری ظلم کا جواز بتائے گا . جس نے بھارتی کیمپ پر حملہ کیا ، اس گروہ سے بڑا کشمیریوں کا دشمن کوئی نہیں جس نے تین ماہ کی قربانیوں سے بننے والے بارود کو چند لمحموں میں راکھ کے ڈھیر میں بدل کر رکھ دیا.

احمقوں کی ایک دنیا ہے جس نے ہمیشہ اپنے ہوشیار ” سرپرستوں ” کے ہاتھوں میں کھیل کر اپنے ہی مقدمے کو خراب کیا. یار لوگوں نے برسوں محنت کر کے ایک ایسی نسل تیار کی ہے جس نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ جذبات کی دنیا کے دنبے بن کر رہنا ہے اور عقل کی ہر بات کو، ہوش کی ہر آواز کا قتل عام کرنا ہے.

میرے نزدیک کشمیر کی تحریک آزادی کی کامیابی کی واحد صورت پر امن جدوجہد ہے ، مسلح جدوجہد تحریک آزادی کشمیر کو تباہ کرنے کی سازش ہے . باقی جو اسے درست سمجھتا ہے ، وہ اس کا حق ہے .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے