"بکرےاوربخرے”

پاکستان جیسے ملک میں عوام غریب ہیں، کسی کو پیٹ بھرنے کے لیےدو وقت کی روٹی نہیں ملتی، کسی کو تن ڈھانپنے کو کپڑے، سر پر چھت نہیں تو شاہراہوں پر ہی ڈیرے ڈال لیتے ہیں، اور حکمران … بس پوچھیں مت

ملک میں تو محلوں جیسے گھر ہیں ہی، بیروں ملک بھی کئی۔ لش پش کاروبار یہاں بھی ہے اور وہاں بھی ،کھانے میں ایک نہیں اللہ کے فضل وکرم سے مختلف انواع و اقسام کی کئی ڈشز دسترخوان کی زینت بنتی ہیں۔

اسی میں عوام زندگی گزارتے ہیں اور خوش ہوجاتے ہیں کہ اگلا پل کس نے دیکھا ہے،
عید بھی خوشی کا نام ہے، جس میں عوام مل بانٹ کر ایک دوسرے کی خوشی دوبالا کرتے ہیں ، سو یوں کہیں کہ عید تو غریب کی ہوتی ہے…امیر تو روز پارٹی کرتا ہے، تو غلط نہ ہوگا،
امیرکہیں یا حکمران کب کتنا کیا کیا اور کیسے لگاتااورکهاتاہے… بس پوچھیں مت
کاٹو تو خون نہ نکلے جیسے عوام بھی پورا سال بقر عید کے لیے پیسوں کے جوڑ توڑ میں لگے رہتے ہیں. .. جس کے نتیجہ میں کچھ اجتماعی قربانی تک پہنچ پاتے ہیں،کچھ دوستوں یاروں عزیزوں کے ساته حصہ ڈالتے ہیں،کچھ اپنے ہی دنبے، بکرے، بھیڑ کرلیتے ہیں … بقر عید پر دو تین اورکئی حصے ڈال کر بھی سنت ابراہیمی ادا کی جاتی ہے…
اوربیک وقت ایک ہی شخص کی بیل اور بکرے کی قربانی… الله اكبر …اللہ قبول فرمائے ایسے صاحب استطاعت لوگوں کی قربانی۔
ہم بیچارے ان غریبوں میں شمار ہوتے ہیں کہ اک حصہ بھی ڈال لیں تو غنیمت…
گزشتہ سال اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالا تو گھر صرف 6-7 کلو گوشت پہنچ پایا…
پھر اس کے تین حصے کیے اور بانٹ دئیے… اس پر دوستوں کی فرمائش پارٹی کرتے ہیں، کچھ نے اپنا حصہ ایسے مانگا کہ انکار نہ کرسکے. گو کہ انہوں نے 2 بکرے کیےتھےاورایک حصہ ڈالاتھا… لیکن دوستوں سے حق سمجھ کرحصہ لینا شاید کچھ مزہ آتا ہو۔۔
اس بار ہم نے بھی کمر کس لی اورمویشی منڈی کے خوب چکر لگائے۔ سستے جانور کہہ لیں یا مناسب قیمت کے بہتر جانور کی تلاش میں کئی دن آنا جانا ہوا، تواس میں بھی گاڑی والے نے عید کے نام پر پیسے بٹورے، بلآخر ہم 25ہزار کا بکرا لے آئے… جو دیکھنے میں بکری کاچھوٹا بچہ معلوم ہورہا تھا، رہی سہی کسر اس کی معصوم آواز اور صورت نے پوری کردی۔۔
پورے محلے میں واہ واہ ہوگئی (طنزیہ)
باری آئی خوراک کی تو اففففففف یہ نخرے
چھوٹا سہی لیکن ہے تو قربانی کا جانور خوب سجایا سنوارا نہلایا دھلایا
بازار سے کھانے کے لیے چارہ، دانہ لائے
ہر نکڑ، گلی کوچے میں بڑے بڑے اسٹالز لگے تو قیمتیں بھی منہ چڑانے کو تیار
لیکن اس وکھرے بکرے کے نخرے،،، بادام اور دودھ پسند ہے چارہ نہیں
کھایا پیا نظر نہیں آتا، جان بنانے کے نام پر صفر
شرارتیں کے تو کیا کہنے، کبھی بیل سے مقابلہ کرنے کو تیار تو کبھی آنے جانے والوں کو ٹکریں…
وکهرے بکرے جیب پر خوب بھاری پڑے،
قصائی نے چھریاں تیز کرلیں اور بکرے نے سینگ…
بالآخر معاملہ طے پایا قصائی نے بکرے کے علاوہ ہماری بچی کهچی جمع پونجی پر بھی تیزدهار آلے سے وار کر ڈالا…
الله الله کرکے بکرے کے بخرے کرنے کی منزل آن پہنچی…
سری پائے گردے کلیجی سب ملا کر 15یا 16 کلو قربانی کا گوشت ہاتھ لگا…
پهر وہی تین حصے لگانا مقصود تھے…
غریب کا، رشتے داروں کا اور اپنا…
جو اپنا حصہ بچا اس میں سے باسز کا، دوستوں کا، فرمائشیں کرنےوالوں کا، مہمانوں کا…
پھر جنہیں بانٹا ان کی باتیں بھی سنو
"بکرے کی قربانی کی ہے اور نخرے تو دیکھو ،حصے بخرے کرتے جان جارہی ہے دو بوٹی اور دے دیتے تو کم از کم ایک وقت کی ہانڈی ہی بن جاتی…”
کسی نے کہا کہ اگر محلے میں قربانی کے روز کسی کے گھر سبزی بنی اس لیے کہ قربانی کرنا اس کی استطاعت میں نہیں تو جو جانور آپ کی بخشش کا سبب ہے بروز قیامت آپ کو اپنے سینگوں پر اٹھائے جہنم میں ڈالنے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔
سودنیا والوں کا ڈر پھر اس بات نے دین کی طرف سے بھی چونکا دیا،
کوئی بتائے گر اپنا حصہ بھی لوگوں میں تقسیم کردیں اور اپنے گھر دال یا سبزی بنے تو اس کا کیا؟
ہائے غریب کی عید،،،
سبحان اللہ تو یہ کہ ہرسال کراچی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر ساڑھے چھ سو ایکڑ سے زائد رقبے پر قائم کی جاتی ہے ایشیا کی سب سے بڑی عارضی مویشی منڈی، جہاں لاکھوں کی تعداد میں گائے، بیل اور ہزاروں کی تعداد میں دوسرے مویشی بھی لائے جائے ہیں اورعید سیزن کے باعث اربوں کھربوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے..
رواں سال عید پر ایک اندازے کے مطابق 4 کھرب روپے سے زیاده کا مویشیوں کا کاروبار هوا,
تقریبأ 23 ارب روپے قصائیوں نے مزدوری کے طور پر کماۓ،3 ارب روپے سے زیاده چارے کے کاروبار نے کماۓ۔۔
جس کے نتیجے میں غریبوں کو مزدوری ملی کسانوں کا چاره فروخت هوا.
دیهاتیوں کو مویشیوں کی اچھی قیمت ملی
گاڑیوں میں جانور لانے لے جانے والوں نے اربوں روپے کا کام کیا
بعد ازاں غریبوں کو کھانے کے لیۓ مہنگا گوشت مفت میں ملا,
کھالیں کئی سو ارب روپے میں فروخت هونی هیں,
چمڑے کی فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملا,
یه سب پیسه جس جس نے کمایا هے وه اپنی ضروریات پر جب خرچ کرے گا تو نه جانے کتنے کھرب کا کاروبار دوباره هو گا………..
یه قربانی غریب کو صرف گوشت نهیں کھلاتی, بلکه آئنده سارا سال غریبوں کے روزگار اور مزدوری کا بھی بندوبست هوتا هے,
دنیا کا کوئ ملک کروڑوں اربوں روپے امیروں پر ٹیکس لگا کر پیسه غریوں میں بانٹنا شروع کر دے تب بھی غریبوں اور ملک کو اتنا فائده نهیں هونا جتنا الله کے اس ایک حکم کو ماننے سے ایک مسلمان ملک کو فائده هوتا هے,
اکنامکس کی زبان میں سرکولیشن آف ویلتھ کا ایک ایسا چکر شروع هوتا هے که جس کا حساب لگانے پر عقل دنگ ره جاتی هے..

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے