صاحبو..!روٹی بنانا آساں نہ جانو

روٹی پکانا، کهیل سمجهنے والے کیا جانیں کہ ایک روٹی کو حلق کے اس پار پہنچنے کے قابل بنانے تک کن جتن آزما مراحل سے گزرجانا ہوتا ہے. بات ابتداء سے نہ بهی چهیڑی جائے ، تو بهی معاملہ آساں کہاں…؟ خشک آٹے کو گندها آٹا بنا لینا، مذاق جاننے والے سچ یہ ہے کہ بد دماغے ہیں یا پرلے درجے کے بے حس. خشک آٹا پانی سے ہم آغوش ہوتے ہی چپکنے کی عجب تاثیر پا لیتا ہے.اس میں ہاتھ گهمانا مختصر یہ کہ آساں نہیں. ہاتھ بهر سے چپک جائے تو جان چهڑائے نہ بنے. انگلیوں میں گهس جائے تو دوسرے ہاتھ کو ملوث کیے بنا کام نہ چلے. دونوں ہاتھ آٹا زدہ ہو چکنے کے بعد ہی کہیں یہ چپکا چپکی کم ہوتے ہوتے تهم پاتی ہے. اب اس گندھ چکنے والے آٹے میں چار انگلیاں گاڑھ کر ، پیڑہ بنانے کو ، باربارنوچتے رہنا، اہل نظر جانتے ہیں کہ ایک مستقل آزمائش ہوا کرتی ہے. سیانی خواتین اس جهمیلے سے کم سے کم دوچار ہونے کو کهانے والوں سے بهوک کا تناسب پوچھ لیتی ہیں. ایک یا دو..؟

یوں معاملہ متعین ہو کر تردد کو بهی طے شدہ کر دیتا ہے. یہ طے کیے بغیر پیڑہ سازی کے تردد میں کود جانے والے سچ یہ ہے کہ خود کو خواہ مخواہ کی اذیت سے دوچار کردیتے ہیں. درد دل میسر ہو تو کہیے احباب ، یہ بار بار آٹے میں، آٹا نوچنے کو انگلیاں ڈبوتے رہنا، اور ہر بار انگلیوں سے چپک بیٹھے آٹے کو کهرچتے رہنا کوئی کم آزمائش ہے کیا..؟ سائینسی دور اپنی ہر ایجاد مشرق و مغرب میں بانٹ کر آسمانوں کی طرف دیکهنے لگ گیا پر ناس ہو اس کا کہ ایک عدد پنکها کچن میں ایڈجیسٹ کرنے کی ترکیب نہ بنا سکا. کیوں ایسا نہیں کر لیا گیا کہ پنکها بندہ دیکھ کر ہوا عنایت کرتا اور چولا دیکھ کر سانس روک لیتا..؟ محض کچن کی گرمی ہی ستانے کو بہت تهی کہ یہ ہاتھ و آٹے کی کشمکش بهی سہنی پڑی. آٹے میں سب ہوتا، پر یہ چپکتے رہنے کی بری عادت نہ ہوتی تو کیا ہوتا..؟

یعنی نہ چپکے گر یہ انگلی کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو..؟ مسلسل سوچ میں گم ہوں کہ کس طرح اس چپکتے پهرنے والے آٹے کو بن چپکا کر دیا جائے. گول پیڑے کے سر پر بیلن دبا کر گهمانے کو بهی آساں نہ جانیو. پورا وجود ہلانا پڑ جاتا ہے صاحبو.! یعنی سر سے لے کر پاوں تک پورے کا پورا، کچھ تو سمجهو…! بیلتے سمے زرا زور کر لیا جائے تو روٹی آگے بننے سے مکر اور پاٹ و بیلن سے چپک بیٹھے گی. میں نے ایک پر حسب طبع زور چلایا تو مکمل بگڑ بیٹهی. ایسی بگڑی کے لاکھ منانے پہ.بهی نہ مانی. سو ویسی کی ویسی ہی پکائی اور پهر کهائی گئی. فیاض الدین ہر گول روٹی ، نظر انداز کر کے اسی بگڑی صورت کو خلق خدا کے تماشے کی خاطرفیس بک پر دے بیٹها. خیر کہنا یہ چاہتا تها کہ لطافت، گر ملائمت کی حامل ہو چلے تو اسے کون نخروں سے روک سکتا ہے…؟ یقین مانیے، اس بگڑ بیٹهی روٹی کو بہت لاڈ سے اٹهانا ہوتا ہے. بہت ناز سے خشکے کی تهالی میں دهرنا ہوتا ہے. اس کی چپک کم پڑهتے ہی واپس پاٹ پر دهرنا ہوتا ہے. متناسب زور ہو ہوش سے پهر بیلن گهمانا ہوتا ہے. جب تک یہ نازنیں روٹی تمہیں پوری طرح اپنے مزاج کے موافق نہ کر لے سیدهی طرح بننے سے بگڑ جاتی ہے. عمدگی سے روٹی پکانا ہو تو لازم جانیے کہ پهر اپنے مزاج کو روٹی و آٹے کے ناز و نخروں پر نثار کرنا ہو گا.

توے کی گرمی پانے تک ناز و نخروں کا یہ سلسلہ تهمنے کا نہیں ہوتا. توا، روٹی کی نرمی نوچ لیتا اور لطافت کها جاتا ہے. تب یہ بازنیں ساتھ چپکنا بهول جاتی ہے. اب بس پهر یہ ہاتهوں سے جڑے، نہ انگلیوں سے چپکے. لطافت کهو لینے کے بعد ، اب تم لاکھ ہاتھ مارو اسے تم سے چٹکی بهر بهی دلچسپی باقی نہیں رہتی. کسی کو خود سے جڑا رکهنے کو اسی کی لطافت کی حفاظت لازم ہے. خود سے دلچسپی ختم کروانی ہو تو گرم توا بن کرلطافت نوچ ڈالیے، ملائمت کها ڈالیے.

روٹی توے پہ ڈال کر، اسے جلنے سے بچانا لازم ہے. وقت کا مناسب وقفہ دے دے کرایک ضعیف جاں مریض کی طرح اس کے پہلو بدلواتے رہنااب آپ کی مستقل ذمہ داری میں شامل ہے. روٹی کا کسی پہلو سے جل جانا آپ کے کیرئیر کو پوری محمت سمیت جلا سکتا ہے. اس نازک لمحے کو ہوش کی نگرانی میں کاٹنا بہرحال بے حد ضروری ہے. انگلیوں کی جلد توا آشنا نہ ہو تو معمولی لمس سے بهی گهبرا جاتی ہے. جلن کی شدت کهینجنے میں اس سا جلد باز اب تک نہ دیکها تها. ناچار توے پر روٹی کے پہلو بدلنے کو لکڑی کا چمچہ کام میں لانا پڑا. ظاہر بینوں کو یہ معمولی نظر آنے والا کام ظاہر ہے کہ معمولی ہی نظرآئے گا. اہل نظر جانتے ہیں کہ اس معمولی عمل کی تہہ میں جهمیلوں کی کون سی تہہ ہے اور اس تہہ سے کتنی تہیں مزید پهوٹ کا کن تہوں کو جا نکلتی اور پهر نکلتی چلی جاتی ہیں.
وہ ہاتهوں کا خشکہ خشکہ ہو جانا، انگلیاں آٹا آٹا کرلینا، پورے بچابچا کر پهر جلا دینا، پورا وجود ہلا ہلاکر پیڑے کو روٹی کرنا اور خود ہلکاں ہو ہو کر پھر حیراں ہو جانا، مکمل بند مساموں سے بهی پسینہ بہہ پڑنا، الغرض جهمیلہ در جهمیلہ پوری طرح سہہ گزرنا، تب جا کہ کہیں روٹی تیار شکل میں مل پانا، کہیے کون ہے اب جو جی پائے اس حد سے گزر جانے تک.؟

آئینہ دیکهتا ہوں تو حیراں ہو جاتا ہوں، یعنی یہ داڑهی پہ بهی آٹا کیوں ہے…؟ روٹی بناتے سمے ، پورے وجود کو آٹے کی زد سے بچا سکنا ، کس مائی کے لعل میں یہ ہمت..؟

روٹیاں پک چکیں تو سوچ اپنے رخ سمیت کہیں اور جا لگی. میں مرد ذات، شرمندگی سے مرا جا رہا تها کہ روٹی پکانے کے واسطے تو کوئی "وہ” ہوتی ہے ، کوئی "یہ” ہوتی ہے..؟ خود کو کوسے دیسے کہ تم کیوں اس کا بندوست نہیں کر لیتے…؟ آسانیوں کو جهٹلانے والے خود کو مشکلوں سے نہیں نکال سکتے. تب سے سوچتا ہوں بروقت یہ آسان کام ہو جانا چاہیے.

پر غالب مشہور کر گئے
کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا.

تکو فر……..

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے