جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے، مکمل مضمون

[pullquote]محمد الیاس گھمن پر لگائے جانے والے الزامات پر محمد کلیم اللہ کے سوالات[/pullquote]

متکلم اسلام ، وکیل احناف، جامع شریعت و طریقت حضرت اقدس مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ کے بارے سوشل میڈیا پر لگنے والے بے بنیاد الزامات پر چند سوالات کی پہلی قسط حاضر ہے ۔ مفتی ریحان نامی فرضی نام سے فرضی کہانیاں گھڑنے والے سے گزارش ہے کہ ان سوالات کے جوابات جلد عنایت فرمائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں سے بھی گزارش ہے جو بغیر تحقیق کے محض یک طرفہ جھوٹی کہانی پڑھ کر اپنے زبان و قلب کو علماء حق کی عداوت و نفرت کی آماجگاہ بنالیتے ہیں۔ ایسے قابل رحم لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ مفتی ریحان صاحب کو تلاش کریں جہاں ملے ان سے دوبدو ہماری بات کرائیں تاکہ ساری دنیا دیکھ لے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے ۔

میں سوشل میڈیا کے دانشوروں سے التماس کروں گا کہ ان سوالات کو سامنے رکھ کر مفتی ریحان کا مضمون دوبارہ پڑھیں اور جو آواز آپ کے ضمیر سے آئے اس سے ہمیں بھی آگاہ فرمائیے گا ۔

مولانا الیاس گھمن کی سابقہ بیوی کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر مبنی مفتی ریحان کا کالم پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

سب سے پہلے مفتی ریحان صاحب آپ کے بارے میں قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ آپ*
1. کس مدرسہ/ جامعہ کے فاضل ہیں ؟
2. کس سن میں فراغت ہے ؟
3. مفتی کورس کہاں سے کیا ہے ؟
4. آج کل کہاں پر ہوتے ہیں ؟
5. مصروفیات و مشاغل کیا ہیں ؟
6. آپ کا آئی ڈی کارڈ نمبر ؟
7. آئی ڈی کارڈ کی تصویر؟
8. آپ کا موبائل نمبر ؟
اس کے بعد سردست مفتی ریحان صاحب !یہ بھی فرما دیجیے کہ
1. آپ کے دوست کا نام کیا ہے ؟
2. دوست کے مدرسے کا نام کیا ہے ؟
3. ان کی رہائش کہاں واقع ہے ؟
4. ان کا موبائل نمبر کیا ہے ؟
5. کیا وہاں جا کر ان سے گفتگو ہو سکتی ہے ؟
6. کیا وہ اسے کمرہ عدالت میں بھی بیان کرنے کی اخلاقی جرات رکھتے ہیں ؟
7. دوست نے ملاقات کیسے طے کرائی ؟

مفتی ریحان صاحب آپ کی یہ بات کہمیں مفتی صاحب کے سامنے یہ استفتا رکھنے اور ان کا جواب لینے سے قبل محترم خاتون سے خود مل کر سارا قصہ سننا چاہتا تھا۔
1. آپ نے کون سے مفتی صاحب کے سامنے استفتا رکھنے تھے ؟
2. ان کا نام کیا ہے ؟
3. کہاں ہوتے ہیں ؟
4. دارالافتاء کا نام کیا ہے ؟
5. کس مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں ؟
6. کیا اب تک وہ بقید حیات ہیں ؟
7. کیا آپ کے بڑے مفتی صاحب اس بارے گفتگو کرنے کی ہمت رکھتے ہیں ؟
8. اور کیا کمرہ عدالت میں بھی بحیثیت ذمہ دار مفتی پیش ہونے کے لیے تیار ہیں ؟

اس سے بعد یہ عقدہ بھی کھول دیجیے کہ
1. آپ صرف خاتون سے ہی کیوں سارا قصہ سننا چاہتے ہیں ؟
2. شریعت کیا کہتی ہے کہ کیا کسی معاملے میں بحیثیت مفتی یا قاضی صرف مدعی کی بات سننے پر فتویٰ یا فیصلہ صادر کر دینا چاہیے یا معاملے کی تحقیق فتوی یا فیصلہ کے لیے فریقین کے بیانات سنے جاتے ہیں ۔
3. یہ بات آپ کے مفتی ہونے پرسوالیہ نشان بن رہی ہے ۔
4. آپ کی مفتیانہ اہلیت کو سبوتاژ کرتی ہے ۔
5. آپ کے جانبدارانہ مزاج کی چغلی کر رہی ہے ۔
6. اور آپ کو غیر محتاط ،غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی جرم کا مرتکب ٹھہراتی ہے ۔
7. مفتی ریحان صاحب کیا آپ نے صاحب واقعہ( مذکورہ خاتون کے شوہر) سے بھی اس بارے رابطہ کیا ؟
8. اگر کیا ہے تو انہوں نے کیا گفتگو کی ؟
9. آپ نے وہ گفتگو اپنے مضمون میں تحریر کیوں نہیں کی ؟
10. اگر ان سے آپ نے بات نہیں کی تو کیوں ؟

”میں اپنے والد کی لاڈلی بیٹی تھیں”.یہاں سے شروع ہونے والی داستان جو مضمون کے آخر تک پھیلی ہوئی ہے ۔ کیا وہ من و عن خاتون کے الفاظ میں ہے یا ان کی گفتگو کا مفہوم ہے ؟ جو آپ نے اپنی طرف سے بڑے "طنزیہ ادب” میں تحریر کیا ہے ؟
کیا یہ ساری گفتگو بطور ریکارڈ آپ نے اپنے چارج شدہ بیٹری والے موبائل میں بھی محفوظ کی ؟

کیا اب بھی کسی فورم مثلا کمرہ عدالت وغیرہ میں وہ گفتگو محترمہ کی اصل آواز میں سنائی جا سکتی ہے.

کیا واقعتاً (شرعی پردے اور دین دار گھرانے کی عفت ماب) خاتون نے آپ کو انہی الفاظ میں یہ بھی بتایا کہ مہینہ میں ایک دو بار آنے، کفالت کی ذمہ داری اٹھانے اور حقوق زوجیت اداکرنے کی اس نے حامی بھری.

خصوصا حقوق زوجیت کی ادائیگی والی بات کیا انہوں نے بے دھڑک ایسے ہی آپ سے کہی ؟

مفتی ریحان صاحب آپ اس محترمہ کے لیے شرعا غیر محرم ہیں انہوں نے اپنے بستر کی باتیں (جو کوئی بھی شریف النفس عورت اپنے ماں باپ بہن بھائی کسی سے ذکر نہیں کرتی)آپ سے کیسے شئیر کیں ؟
کیا اس طرح کی بات سن کر بھی آپ نے اپنے آنسو صاف کیے ؟
مفتی صاحب جب آپ مذکورہ خاتون سے گفتگو یا حقیقت حال معلوم کر رہے تھے جس وقت اس نے یہ کہا کہ میرے بھائیوں نے مولوی صاحب کے بارے میں کہا کہ *مگرعیب اس میں یہ ہے کہ مدرسہ کے نام پر چندہ خوری کے حوالہ سے بری شہرت کا حامل ہے.. مگر میرے کچھ رشتہ دار اس کی حمایت میں آگے بڑھے ..میری ذہن سازی کی .میں انکار نہ کرسکی.

دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
محترمہ کے کتنے بھائی ہیں ؟
ان کے نام اور تعارف؟
وہ کہاں ہوتے ہیں ؟
متعلقہ معاملے پر ان سے بات چیت ہو سکتی ہے ؟
کیا آپ نے ان سے بھی اس بارے میں کوئی بات کی ہے ؟
اگر بات کی ہے تو انہوں نے کیا کہا؟
آپ نے محترمہ سے یہ بات کیوں نہ دریافت کی کہ

محترمہ نے بھائیوں کی بات کو رد کیوں کیا اور رشتہ داروں کی ذہن سازی سے "مجبور” کیسے ہو گئیں ؟
رشتہ داروں میں کون کون لوگ تھے ؟
کیا اس موضوع پر ان سے بات اور تحقیق ہو سکتی ہے ؟
مولوی صاحب کے حامی محترمہ کے رشتہ دار تھے جبکہ پیغام نکاح بھائیوں نے پہنچایا ، اس کی کیا وجہ ؟

اس کے بعد آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات ذکر فرمائی*اس کی نیت کا فتور مجھ پر اس دن کھلا جب وہ مجھے سرگودھا اپنے گھر مدرسہ اور پہلی بیویوں سے ملانے لے جانے لگا۔
مفتی صاحب چونکہ آپ حقیقت حال معلوم کرنے گئے تھے تو کیا آپ نے محترمہ کی اس بات پر سوال کیا کہ شادی کے کتنے عرصہ بعد مولوی صاحب موصوفہ کو سرگودھا لے گئے ؟
بقول محترمہ کے کہ میرا بیٹا گاڑی چلا رہا تھا ۔ ان کی جواں سالہ ہمشیرہ سے اسی گاڑی میں بدتمیزی ہو رہی تھی تو اس نے غیرت کا مظاہرہ کیوں نہ کیا؟
غیرت و حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے اسی وقت گاڑی سے اتر کر واپس فیصل آباد کیوں نہ آئے ؟
محترمہ کو کون سی مجبوری تھی کہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی سرگودھا تشریف لے گئیں ؟
اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک عدالت سے رجوع کیوں نہ کیا؟
اس معاملہ پر کیوں نہ استفتاء لکھا ؟
اکابر و مشائخ کو خطوط کیوں نہ لکھے ؟

سوشل میڈیا پر مولوی صاحب کی غلط حرکتوں کی بروقت تشہیر کیوں نہ کی ؟
آپ کےمضمون کے مطابق محترمہ کا یہ بیان کہ *جب میں نے پیچھے دیکھا تو یہ میری بڑی بیٹی کے ساتھ چپک چپک کر اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کررہا تھا، میں نےدیکھا، میری بیٹی کے چہرے پر اذیت کے آثار تھے اور مولوی صاحب کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ۔ ۔۔میں خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔ ۔۔ گاڑی رکوائی اور بہانہ کرکے انہیں آگے بیٹھنے پر مجبور کیا۔ ۔۔۔اس کے بعد اذیت کا یہ نہ ختم ہونے والا سفر شروع ہوگیا۔*

دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
خون کے گھونٹ کیوں پی گئیں ؟
مزاحمت کیوں نہ کی؟ جبکہ بقول خاتون کے اکیلے میں تو مزاحمت کیا کرتی تھیں ،یہاں تو جوان بیٹا ،خود محترمہ اور بیٹی تین لوگ موجود تھے ۔اگر اکیلے میں مزاحمت کر تی رہتی تھیں تو اب زیادہ ہونے کی صورت میں مزاحمت کیوں نہ کی ؟
کون سا بہانہ بنا کر مولوی صاحب کو آگے بیٹھنے پر ”مجبور“ کیا ؟
جس مولوی صاحب کو محترمہ طاقت ور بھیڑیا جیسے الفاظ سے یاد کرتی ہے کیا اس وقت وہ اتنا خدا ترس ہو گیا کہ محترمہ کے بہانے پر مجبور ہو گیا ؟
اس اذیت ناک سفر کی چنگاری کو ساڑھے تین سال تک کی جہنم کیوں بناتی رہیں ؟
اسی وقت آپ جیسے خدا ترس جید مفتی صاحب سےرابطہ کیوں نہ کیا؟
اپنے بھائیوں اور ذہن سازی کرکے مجبور کرنے والے رشتہ داروں کو صورتحال سے آگاہ کیوں نہ کیا ؟

آپ کے مضمون میں محترمہ کی مندرجہ ذیل بات کہ*جب بھی گھر آتا حیلے بہانے سے بیٹیوں کے کمرے میں جھانکتا کبھی آئیس کریم کے بہانے کبھی کسی چیز کے بہانے انہیں باہر لے جانے کی کوشش کرتا۔ میں مزاحم ہوتی تو کبھی غصہ کرتا قسمیں کھاتا کہ میں انہیں باپ کا سچا پیار دینے کی کوشش کررہا ہوں اور تم خامخواہ شک کررہی ہو۔ مگر

مفتی صاحب آپ کو پتہ ہے اللہ نے عورت کو ایک اضافی حس سے نوازا ہے، وہ مرد کی آنکھوں میں ہوس اور شہوت کی چمک محسوس کرلیتی ہے۔*
جب بھی گھر آتا۔۔۔۔ ساڑھے تین سال تک اپنی اولاد کی عزت داؤ پر لگتی رہی اس طویل دورانیے میں محترمہ کی زبان خاموش کیوں رہی؟
کوئی تحریر کیوں نہ سامنے آئی؟
قبلہ مفتی ریحان صاحب !آپ نے محترمہ کی اس بات کو مانتے ہیں؟
اگر صحیح سمجھتے ہیں تو کیا آپ نے ان سے اس وقت یہ نہیں پوچھا کہ محترمہ یہ اضافی حس کس وقت پیدا ہوئی ؟

نکاح کے وقت جب محترمہ نے مولوی صاحب کو دیکھا تو ان کی حس نے مولوی صاحب کی آنکھوں میں ہوس اور شہوت کی چمک محسوس کی تھی؟
اگر محسوس کی تھی تو ان سے علیحدگی کا فوری مطالبہ کیوں نہ کیا؟
اور اگر محسوس نہیں کی تو آخر اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟
مفتی صاحب آپ نے محترمہ کی ادھوری بات کو مکمل کیوں نہیں کیا کہ عورت کی اضافی خوبی صرف یہ نہیں کہ وہ مرد کی آنکھوں میں ہوس اور شہوت کی چمک محسوس کر لیتی ہے بلکہ دین دار گھرانے کی عفت مآب خاتون اپنے شوہر کی آنکھوں میں اپنی اولاد کے لیے شفقت و محبت بھی محسوس کرتی ہے ۔

آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی کہ *ایک کمزور بے بس اور لاچار ماں بیٹی اور ایک ہوس زدہ بھیڑیئے کے درمیان یہ کھیل روز کا معمول بن گیا۔*
محترمہ خود کو کس اعتبار سے کمزور اوربے بس فرما رہی ہیں ۔ جبکہ محترمہ کے بھائی ، دو جوان بیٹے اور رشتہ دار بھی موجود تھے ۔
کیا آپ نے محترمہ سے یہ سوال کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں ، بھائیوں اور رشتہ داروں کو اس معاملے کی معلومات فراہم کی ہیں ؟
محترمہ کے بیٹوں ، بھائیوں اور رشتہ داروں نے اس پر کیا کیا؟
دوسری بات یہ بھی محل اشکال ہے کہ محترمہ اس معاملے کو” روز کا معمول“ بتا رہی ہیں ؟

محترمہ نےاس بارےغیرت کا مظاہرہ کیوں نہ کیا ؟
آخر وہ کون سے ایسی مجبوریاں تھی جس کے باعث محترمہ ساڑھے تین سال تک اس روز کے معمول کو برداشت کرتی رہیں؟
اور اپنے بیٹوں بھائیوں اور رشتہ داروں کو آگاہ نہیں کیا؟
عدالت سے رجوع نہیں کیا؟
مفتیان کرام اور اکابر ومشائخ کو نہیں بتلایا؟
سوشل میڈیا پر مولوی صاحب کی اخلاقی گراوٹ کو وائرل کیوں نہیں کیا ؟
اپنے گھر فیصل آباد آنے سے مولوی صاحب کو منع کیوں نہیں کیا۔
مفتی صاحب !ان سب کو برداشت کرنے کے بعد محترمہ نے مکان شفٹ کیا،اخراجات کس نے ادا کیے؟

ان سب کے باوجود ساڑھے تین سال تک محترمہ کے اکاؤنٹ میں رقم کہاں سے آتی رہی؟
جبکہ ہمارے پاس مکمل اس کا ریکارڈ موجود ہے کہ محترمہ کو کتنے پیسے ان کے اکائونٹ میں جاتے رہے ۔ آخری بار رقم مبلغ ایک لاکھ روپے مورخہ 6 جنوری 2015 کو محترمہ کی بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے گئے ہیں ۔
اسی کے ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ

محترمہ نے اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوایا ۔ جس کے اجراء کی تاریخ 18 مارچ 2015 ہے ۔ اس لائسنس پر دو آپشن موجود ہوتے ہیں یا تو والد کا نام یا پھر خاوند کا نام ۔ ہمارے پاس ڈرائیونگ لائسنس کی کاپی موجود ہے جہاں محترمہ کے دستخط موجود ہے انہوں وہاں پر والد کے نام کے بجائے خاوند کا نام لکھا ہے ۔

پوچھنا یہ ہے کہ جس تعلق کو محترمہ ساڑھے تین سال کی جہنم کہہ رہی ہے اس جہنمی تعلق کے بجائے جنتی تعلق حضرت مفتی زین العابدین سے کیوں نہ بدلا ؟کس مجبوری کی وجہ سے وہ اپنی خود ساختہ جہنم میں ساڑھے تین سال تک جلتی رہیں؟
کیا مجبوری محض پیسہ تھا؟
یا کچھ اور؟
اگر پیسہ تھا تو محترمہ کے والد کا پوری دنیا میں حلقہ ہے اس بارے انہوں نے کیوں نہ ان کی داد رسی کی؟
یا انہوں نے اپنے بھائیوں ، بیٹوں اور رشتہ داروں کو یہ مجبوری کیوں نہ بتلائی؟
اس کے بعد آتے ہیں آپ کے مضمون میں درج محترمہ کی اس بات کی طرف کہ *میں نے ایک غریب لڑکی ملازمہ رکھی ہوئی تھی گھر کے کام کاج کیلئے، یہی کوئی دس سال کی، یہ خبیث الفطرت انسان اسے بھی معاف نہیں کرتا تھا، ایک دن میں بچوں سمیت باہر گئی تھی بھائیوں کے گھر واپس آئی تو یہ درندہ اس چھوٹی سی بچی کے ساتھ بھی غلط حرکات کا مرتب ہوچکا تھا۔*
اس میں چند باتیں دریافت طلب ہیں ؟
ملازمہ کون تھی ؟
کیا محترمہ کے پڑوسی بھی اس بات کی شہادت دینے کے لیے تیار ہیں ؟
محترمہ کے بقول یہ خبیث الفطرت انسان اسے بھی معاف نہیں کرتا تھا۔ جب محترمہ کو اس بات کا پہلے سے اچھی طرح علم تھا تو محترمہ نے جاتے وقت ملازمہ کو اس کے اپنے گھر کیوں نہ بھیجا؟ کیا اس معاملہ میں وہ خود شریک جرم نہیں ٹھہرتیں؟
کیا وہ ملازمہ اب بھی محترمہ کے گھر میں کام کاج کرتی ہے ؟؟
آپ نے محترمہ کے حوالے سے اپنے مضمون میں یہ بھی لکھا کہ

خاتون نے اپنا موبائل پردے کی اوٹ سے میری طرف بڑھایا اور کہا یہ لیں آپ خود سن لیں یہ بچی کیا کہہ رہی ہے۔۔۔
1. ملازمہ بچی کے بیان کی ویڈیو کس نے بنائی ؟
2. ملازمہ بچی مولوی صاحب کو” باباجی“ کیوں کہتی ہے ؟
3. کیا ملازمہ بچی کے والدین کو اس بات کا علم ہے ؟
4. کیا ان سے اس بارے بات چیت ہو سکتی ہے ؟
5. کیا وہ کمرہ عدالت میں اس کی گواہی دے سکتے ہیں ؟
اس کے بعد آپ کے مضمون میں محترمہ یہ بات بھی محل اشکال ہے کہ *پہلی بار جب میں سرگودھا میں اس کے گھر پہنچی تب مجھ پر آہستہ آہستہ اس کے اخلاقی دیوالیہ پن کے اسرار کھلنے لگے۔

محترمہ کی باتوں کو سچا مان لیا جائے تو اخلاقی دیوالیہ پن کے اسرار تو بڑی تیزی سے کھل چکے تھے بقول محترمہ کے سرگودھا جاتے وقت گاڑی میں محترمہ کی جوان سالہ بیٹی سے غیر اخلاقی چھیڑ چھاڑ ۔محترمہ کی ملازمہ کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات ۔ وغیرہ
اس کےباوجود محترمہ فرما رہی ہیں کہ تب مجھ پر آہستہ آہستہ اس کے اخلاقی دیوالیہ پن کے اسرار کھلنے لگے۔

آپ کے مضمون میں محترمہ کا یہ بیان بھی موجود ہے کہ *تنگ اور چھوٹا سا کچن تھا مولوی صیب بیج میں کھڑے ہیں اس کے مدرسے کی ایک جوان طالبہ ایک سائیڈ پر برتن دھورہی ہے دوسری چائے بنا رہی ہے اور تیسری سبزی کاٹ رہی ہے، مولانا کبھی ایک سے مذاق کرتے ہیں کبھی دوسری کی چٹکی بھرتے ہیں، میں نے گلا کھنگارا اور واپس کمرے کی طرف مڑی.
محترمہ نے جس انداز میں کچن کا نقشہ کھینچا ہے ۔ تین جوان طالبات کےلیے ہر کام الگ الگ منتخب کیا ، برتن دھونا ، چائے بنانا اور سبزی کاٹنا ۔ پھر محترمہ مولوی صاحب کو کتنی دیر تک دیکھتی رہی کہ مولوی صاحب نے اس دوران وہاں موجودساری بچیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے؟
محترمہ نے وہاں شور کیوں نہیں مچایا ؟
باہر آ کر چک کے لوگوں کو کیوں نہیں بتایا کہ مدرسے کے اندر تمہاری بچیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ۔
کسی دارالافتاء سے اس بارے رجوع کیوں نہیں کیا؟

آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *رات کو اس کی بیوی اٹھتی تھی کسی بھی لڑکی کو آواز دیتی، دو تین گھنٹے یہ اسے اپنے خواب گاہ میں لے جاتا اور پھر اس کی بیوی اسے واپس مدرسہ میں چھوڑ آتی*۔
یہ محترمہ نے خود ملاحظہ فرمایا یا کسی سے سننے کے بعد انہوں نے یہ بات کی ہے ؟
کیا اس کا ثبوت بھی محترمہ کے پاس موجود ہے ؟
کیا کوئی بھی عورت خصوصاً جب وہ بیوی کے روپ میں ہو تو ایسی گھناؤنی حرکت کر سکتی ہے ؟
کیا محترمہ ایک شریف النفس خاتون پر تہمت نہیں لگا رہی ؟
کیا محترمہ مولوی صاحب کی بیوی پر لگائے ہوئے الزام کو ٹھوس ثبوت اورحقائق و شواہد کی بنیادپرثابت بھی کر سکتی ہے ؟

پھر اس میں وقت کی تعین دو تین گھنٹے کو محترمہ نے کس بنیاد پر متعین کیا؟
مولوی صاحب کی بیوی متاثرہ بچی کو واپس مدرسے چھوڑ آتی ۔ اس کا مطلب سمجھ نہیں آ رہا ؟ جب تھی ہی مدرسے میں تو واپس چھوڑ آنے کا کیا مطلب؟
آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *لڑکیوں کو یہ مسئلے بیان کرتا استاد کی عظمت اور اس کی بات ماننے کے فضائل سناتا۔*
کیا آپ نے محترمہ کی اس بات پر ان سے سوال کیا کہ کون سے مسئلے مولوی صاحب بیان کرتا ، استاد کی عظمت اور بات ماننے کے کون سے فضائل سناتا؟
کس وقت سناتا ؟
کیا محترمہ نے خود وہ مسائل و فضائل مولوی صاحب کی زبانی سنے یا محترمہ کو کسی نے مولوی صاحب کے بارے میں بتایا؟
اگر خود سنے تو بتائیں کہ کیا فضائل و مسائل تھے ؟
اگر کسی سے سنے ہیں تو سنی سنائی پر یقین کیسے کر لیا ؟
جبکہ حدیث پاک میں آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی بات کافی نہیں بتلائی گئی کہ جو ہر سنی سنائی بات آگے نقل کر دے ۔

آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *پہلی بیوی شریف عورت ہے اس نے مجھے بتایا جب اس نے یہ دوسری شادی کی جو اس کی دلالی کرتی ہے، اور اسے مدرسہ کی ناظمہ اور معلمہ بنایا ہوا ہے. مجھے اور اسے دو سال تک ایک ہی کمرے میں ایک ہی بیڈ پر سلاتا رہا آخر مجھ سے برداشت نہ ہوا اور طریقے سے اپنا گھر الگ کرلیا۔

محترمہ کی باتیں پہلی بیوی سے براہ راست ہوئیں یا فون پر یا خطوط کے ذریعے ؟
پہلی بیوی جو کہ بقول محترمہ کے شریف عورت ہے کیا وہ اپنے بستر کی باتیں محترمہ سے شیئر کرتی رہیں ؟
اس طرح کی باتیں کرنے کے باوجود محترمہ کے ہاں اس کی شرافت کیسے برقرار رہتی ہے ؟

ان باتوں کو تو خبیث الفطرت عورتیں بھی کسی سے نہیں کرتیں چہ جائیکہ کہ ایک شریف عورت اپنی سوکن کے سامنے اپنے بستر کا نقشہ جو دوسال کے عرصےتک محیط ہے،یوں کھینچ کر دکھائے۔

پہلی بیوی نے گھر الگ بھی نہیں کیا بلکہ وہ تو آج بھی اسی گھر میں رہتی ہے ۔
آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *کئی لڑکیوں سے میری بے تکلفی ہوگئی انہوں نے وہ وہ ہوشربا انکشافات کیئے یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے*۔
کیابے تکلفی کا مطلب یہ ہے کہ محترمہ ان کنواری بچیوں سے اس طرح کی باتیں سنتی رہتی ، اور کنواری بچیاں محترمہ کے سامنے یہ سب کچھ بیان کرتی رہتیں یہاں تک کہ محترمہ پرہوشربا انکشافات ہوئے؟ ان میں سے کتنی ایسی ہیں جو اس کو بطور گواہی بتلا سکتی ہیں؟

محترمہ تو فیصل آباد رہتی ہیں ان کی ایک آدھ ملاقات میں اتنی بے تکلفی کیسے ہوگئی؟
آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *ایک میری اچھی دوست بن گئی اس نے بتایا جب بھی مولوی صاحب گھر ہوتے ہیں اس کی بیوی ان کیلئے ضرور کوئی نہ کوئی لڑکی مدرسے سے گھر بھیج دیتی ہے*۔
محترمہ کی اچھی دوست بننے والی لڑکی کون ہے ؟ کہاں ہوتی ہے؟ کیا وہ یہ سب باتیں تسلیم کرنے کو تیار ہے ؟

آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *ایک رات ایک لڑکی کو لے گئے جب وہ واپس آئی رو رہی تھی، گم صم ہوگئی، چند روز بعد مولوی صاحب کی بیوی بیمار تھی اور مدرسے نہیں آسکتی تھی . مولوی صاحب خود اچانک اندر آگئے ادھر ادھر دیکھا اس وقت مدرسے میں بیس کے قریب لڑکیاں موجود تھیں۔ اس نے اسی لڑکی کی طرف اشارہ کیا، وہ چیخنے لگی اور ہم سب ایک دوسرے کےساتھ چپک کر بیٹھ گئی*۔
یہ کس کا بیان ہے ؟ کیا وہ یہ بیان سب کے سامنے دے گی ؟ آخر کیا وجہ تھی کہ ان بچیوں نے اپنے گھروں میں والدین بہن بھائیوں کو بتانے کے بجائے محترمہ سے یہ باتیں شئیر کیں ؟

آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *مردان کا ایک نوجوان یہاں کام کرتا تھا۔*
اس کا نام کیا تھا ؟
محترمہ کو کس نے بتلایا؟
کیا اب ان سے اس بارے بات ہو سکتی ہے ؟
یہاں کام کرتا تھا ؟ یہاں سے مراد فیصل آباد یا سرگودھا؟
کیا کام کرتا تھا؟
آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *اپنی بیوی کو اس نے مدرسہ میں داخل کروایا تھا*۔
کون سی کلاس میں داخل کروایا؟
کس سن کی بات ہے ؟

آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *ان دنوں ہوا یہ کہ مولوی صاحب کا چھوٹا بیٹا انتقال کرگیا ہم سب سرگودھا گئے، بیٹے کا جنازہ گھر میں رکھا ہوا تھا اگلی صبح تدفین تھی، سب اس گھر میں تھے وہ گھر خالی تھا مولوی صاحب دوسرے گھر گئے، ،اپنی بیوی سے کہا وہ مردان والی لڑکی بلالو، وہ لڑکی گئی اس نے بعد میں مجھے قصہ بتایا، کہ جب میں اندر گئی، چارپائی پر بیٹھ گئی مولوی صاحب غسل خانہ کے اندر تھے وہیں سے اپنی بیوی کو آواز دی تم جاو دروازہ بند کردو۔ میرا دل گھبرانے لگا.

ایک طرف تو محترمہ یہ کہہ رہی ہے کہ سب لوگ فوتگی والے گھر میں تھے دوسرا گھر خالی تھا۔ اس کے بعد ہی فرما رہی ہے کہ مولوی صاحب نے اپنی بیوی سے کہا *مردان والی لڑکی بلا لو* ۔
جب گھر میں کوئی نہیں تھا گھر خالی تھا تو مولوی صاحب نے کہاں اپنی بیوی سے کہا کہ مردان والی لڑکی بلا لو؟
اس کے بعد محترمہ نے کہا کہ *اس لڑکی نے اپنا قصہ بتایا۔*
کب سنایا ؟
آخر محترمہ ہی کو سنایا ؟
اپنی بدنامی کا خوف کیسے لڑکی سے اتر گیا ؟
جب گھر خالی تھا تو مولوی صاحب نے اپنی بیوی کو کیسے کہا کہ تم جاؤ دروازہ بند کردو ۔

مفتی صاحب ذرا دل پر ہاتھ کر جواب دیجیے گا کہ جس کے گھر میں بیٹے کی لاش پڑی ہو کیا وہ اس وقت ایسی حرکات کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے ؟
بیٹا بھی وہ جو کافی عرصہ لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں داخل رہا ہو اور وہاں سے اس کی میت گھر لائی گئی ہو ۔

مفتی صاحب اگر سینے میں دل ہے اور دل میں احساس نام کی کوئی چیز زندہ ہے تو اسے آواز دے کر سوچیے کہ کیا ایسا ممکن بھی ہے ؟
آپ نے محترمہ کی یہ بات سچ مان لی یا جھوٹ ؟

آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *مولوی صاحب پیچھے سے آئے اچانک مجھے پکڑا اور میرا نقاب اتار دیا کہنے لگے اپنے پیر اور استاد سے کیا پردہ، میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا میں نے کا بابا جی آپ کیا کررہے ہیں ایسا نہ کریں خدا کیلئے۔

یہاں ایک بات قابل تعجب ہے کہ ملازمہ نے بھی یہی کہا کہ ”باباجی“ اور شادی شدہ خاتون نے بھی مولوی صاحب کے لیے وہی الفاظ دہرائے ۔ ایسا کیوں ہے ؟
قارئین کرام !ذرا یہ بات سوچیے کہ یہ محترمہ کی مکاری کی عکاسی ہو رہی ہے یا مفتی صاحب کا قلم انگڑائی لے رہا ہے ؟

آپ کے مضمون میں محترمہ کا یہ بیان موجود ہے کہ *میں مدرسہ پہنچی میرے پاس موبائل تھا میں نے خاوند کو فون کیا اس نے کہا، کیا ہوا ؟ اس ٹائم کیوں فون کررہی ہے؟ میں نے کہا ابھی آجاو مجھے اس جہنم سے نکالو۔ وہ آیا مجھے لے گیا، یہ واقعہ اس نے بعد میں فون پر مجھے بتایا .

یہاں اس بات کی محترمہ وضاحت کچھ یوں کر رہی ہیں کہ *یہ واقعہ اس خاتون نے مجھے فون پر بتایا” جبکہ اگلے پیرا گراف میں محترمہ یوں کہتی ہیں کہ سوچئے درندگی کی انتہا نہیں کہ ”بیٹے کی لاش گھر میں پڑی ہے اور مولوی صاحب عیاشی اور خباثت کے چکروں میں پڑے ہیں۔۔۔قسم باللہ کوئی بھی یقین نہیں کرسکتا مگر جو میں نے دیکھا وہی بیان کیا.

پچھلے پیراگراف جو بات دوسری خاتون کے فون سے تعلق رکھتی تھی وہی بات اس پیراگراف میں محترمہ کا اپنی آنکھوں دیکھا حال بن جاتاہے ۔محترمہ کے لیے اور خصوصاً مفتی صاحب آپ کے لیے سوچنے کا مقام ہے !!

اس کے بعد مفتی صاحب آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ بیان کرتی ہے کہ *بعد میں مولوی صاحب اس آدمی کے گاوں گئے اس کے پیروں پر اپنی پگڑی رکھ کر معافی مانگی کہ تم یہ بات نہیں پھیلائو، ورنہ مسلک بدنام ہوجائے گا،، مماتیوں کو ہمارے خلاف پروپیگنڈے کا موقع مل جائے گا، غلطی ہر ایک سے ہوسکتی ہے تو مجھ سے بھی غلطی ہوگئی اور میں شیطان کے بہکاوے میں آگیا، اصل میں اس لڑکے نے اسے دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں چھوڑنے والا نہیں، یہ خوف مولوی صاحب کو معافی مانگنے پر مجبور کرگیا۔

پیروں پر پگڑی رکھ کر معافی مانگنے والی بات محترمہ کو کس نے بتائی؟
لڑکا مولوی صاحب کو دھمکیاں دیتا رہا کہ میں تمہیں چھوڑنے والا نہیں ، محترمہ تک یہ بات کس باوثوق ذرائع سے پہنچی ؟
لڑکے کی دھمکی کا کیا بنا؟
اس لڑکے کا نام فون پتہ؟
کیا اس بارے محترمہ نے اس لڑکے سے بھی کچھ پوچھا سنا یا نہیں ؟
اگر کچھ پوچھا سنا تو وہ کیاہے ؟
کیا لڑکا بھی یہ بیان دے سکتا ہے ؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ *میں نے سارے حالات کی خبر وفاق المدارس کے ناظم قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کو دی تو انہوں نے کہا تم فکر نہ کرو ہم دو طالبات اپنے اس کے مدرسے میں بطور جاسوس داخل کریں گے وہ ہمیں سارے حالات کی خبر دیں گی تب ہم ان کے خلاف کوئی کاروائی کریں گے…اللہ کو علم ہے انہوں نے اس بارے میں کچھ کیا یا نہیں.

اس بارے میں دریافت یہ کرنا ہے کہ حالات کی خبر خط کے ذریعے دی یا فون پر ؟
اگر خط کے ذریعے دی تو اس خط کی کوئی فوٹو کاپی وغیرہ یقیناً محترمہ نے آپ کو بھی دی ہوگی کیا وہ آپ کے پاس موجود ہے یا نہیں ؟

مفتی صاحب کیا خود آپ کو محترمہ کی اس بات میں سچائی نظر آ رہی ہے ؟
کیا وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ محترم قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کا یہ مزاج ہے کہ وہ کسی کے معاملات میں ٹوہ لگانے کے لیے جاسوسی نظام بھی رکھتے ہیں ۔

آیا یہ نظام صرف مولوی صاحب کے مدرسے کے لیے خاص ہے یا واقعتا قاری حنیف صاحب کے پاس اتنا بڑا جاسوسی نیٹ ورک خواتین کا موجود ہے کہ وہ ہر مدرسے میں جاسوسی کی غرض سے دو دو بچیاں داخل کر سکتے ہیں ؟
ہمیں تو ہرگز ان سے توقع نہیں لیکن کیا آپ نے محترمہ کی بات سن کر قاری حنیف جالندھری صاحب سے اس بارے رابطہ کیا ؟
اگر رابطہ کیا تو انہوں نے آپ سے کیا فرمایا؟
اگر رابطہ نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا؟

میں محترم قاری حنیف جالندھری صاحب سے بھی گزارش کرنا چاہوں گا کہ آپ مکتب دیوبند کے مدارس بورڈ کے ذمہ دار ہیں۔آپ کے مدارس کے بارے میں ایک خاتون کی اس طرح کی الزام تراشیاں اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلانے والے مفتی ریحان صاحب دیوبندی مدارس کو بدنام کرنے کی منظم منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ یقیناً یہ سب کچھ آپ کے علم میں ہوگا ۔ آپ نے اس کے سد باب کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔؟ اگر آپ نے آج کوئی کارروائی نہیں کی تو یقیناً کل کلاں کوئی خاتون کسی دوسرے مدرسے پر الزامات و اتہامات کی بارش کرے گی اور مفتی ریحان صاحب جیسے وفاق المدارس کے سند یافتہ لوگ مدارس کی کردار کشی کریں گے۔

اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ تمام تر باتیں اہل حق علماء کرام کو بدنام کرنے ، مدارس کی عظمت و اہمیت کو داغدار کرنے اور لوگوں کو دین سے دور کرنے کی سازش ہیں ۔محترم قاری صاحب اور ارباب وفاق اگر انہیں یوں ہی نظر انداز کر دیا گیا تو یہ بہت سارے اہل علم و فضل اور اصحاب زہد و تقویٰ کی پگڑیاں اچھلتی رہیں گی۔
وہ شخص جس اپنا نام مفتی فرحان لکھا وہ تو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگیا ہے۔ میں اپنا نام فون نمبر دے رہا ہوں، مفتی فرحان خود یا کوئی بھی صاحب رابطہ کرنا چاہیں تو شوق سے کرسکتے ہیں۔ دوسری قسط بھی جلد آرہی ہے۔

[pullquote]جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے! ! (دوسری قسط)
[/pullquote]

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ مولوی صاحب کے بارے میں کہتی ہے کہ تصویریں نکالنے کا اسے بہت شوق تھا ، اس کا موبائل لڑکیوں کی تصویریوں سے بھرا رہتا تھا لڑکیوں کے بے تحاشا نمبر تھے اس کے فون میں ، بے شرمی کی انتہا دیکھیں ہم ماں بچوں کے سامنے پرائی لڑکیون کے نمبر ملا دیتا تھا اور ان سے گپ شپ لڑاتا تھا جب میں اعتراض کرتی تو کہتا پیر اور مرید میں کیا پردہ؟
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. کیا آپ کومحترمہ کی یہ بات انتقامی مزاج کی عکاس نہیں لگتی؟
2. لڑکیوں کے بے تحاشا نمبرز کا موصوفہ کو علم کیسے ہوا؟
3. کیا مولوی صاحب کے موبائل کو محترمہ چیک کرتی تھی ؟
4. پہلے تو موصوفہ فرما چکی ہے کہ وہ طاقت ور بھیڑیا اور درندہ ہے ایسے شخص کے موبائل سے تصویریں چیک کرنا عورت زاد بلکہ بے بس عورت زاد کے لیے ناممکن ہوتا ہے ۔
آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ اس کے سارے کرتوتوں میں اس کا شریک اس کا سکرٹری بھی تھا مدرسے کےقریب اس کو گھر لے کر دیا ہوا تھا
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ

1. محترمہ کی یہ بات کہ سارے کرتوتوں میں شریک اس کا سیکرٹری بھی تھا۔
2. ان کرتوتوں کی وضاحت مطلوب ہے ؟
3. کون سے کرتوتوت ؟
4. اگر اس سے مراد متذکرہ بالاکرتوتوت ہیں جس میں محترمہ کی بیٹی تک کی چھیڑچھاڑ کا الزام ہے ، ملازمہ سے بدتمیزی کا الزام ہے ، بچیوں کے مدرسے میں جوان سالہ طالبات سے بدتمیزی کا الزام ہے ۔ وغیرہ
5. کیا ان سب کرتوتوں میں شراکت داری کا محترمہ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے ؟
6. کیا آپ نے ان سے ثبوت مانگا بھی ہے یا نہیں ؟
7. اگر مانگا ہے تو انہوں نے پیش کیا یا نہیں ؟
8. اگر پیش کیا ہے تو کیا ہے ؟
9. اگر پیش نہیں کیا تو کیوں ؟
10. محترمہ ؛مولانا عابدنامی سیکرٹری کا گھر مدرسے کے قریب بتلاتی ہے جبکہ ان کا گھر مدرسے کے اندر ہے ۔

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ کوئی پردہ نہیں تھا پردہ ہوتا بھی کیوں جس لڑکی سے اپنے سیکرٹری کی شادی کرائی ہوئی تھی اسی سے تعلق تھا پہلے خود شادی کا خواہاں تھا مگر پھر کسی وجہ سے اپنے سیکرٹری سے اسے بیاہ دیا ، جب ملتا سلام نہیں کرتا سیدھا گلے لگاتا وہ بھی اس بے غیرت خاوند کے سامنے ، داڑھی جس نے رکھی تھی اور مدرسہ اس نے بھی پڑھا تھا نام عابد تھا مگر کرتوت شیطانوں کو بھی شرمادیں۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ

1. محترمہ کو اس کی خبر کس باوثوق ذریعے سے پہنچی ؟
2. کیا محترمہ اس دعوے پر گواہ پیش کر سکتی ہے؟
3. محترمہ کے بقول لڑکی کی شادی سے پہلےمولوی صاحب کا تعلق تھا تو مولوی صاحب نے ایک کنواری تعلق والی لڑکی محترمہ جیسی بیوہ پر کیوں قربان کی اس سے نکاح کیوں نہ کیا؟
4. محترمہ کو اس وجہ کا علم ہوگا کہ مولوی صاحب نے لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی ، مفتی صاحب آپ آج ہی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر ان سے دریافت کر یں اور اپنے حلقہ قارئین کو بتلائیں۔
5. سلام کے بجائے سیدھا گلے لگانے والی بات کہتے وقت محترمہ کی آواز قدرے پست ہوئی یا بالکل گرج کر بتلایا؟
6. جب وہ لڑکی کے خاوند کو بے غیرت کہہ کرتہمت لگا رہی تھی تو آپ نے ازروئے شریعت انہیں اس سے منع کیا ؟
7. اگر منع نہیں کیا تو کیوں ؟
8. یقینا یہ منکر کام ہے اور بمطابق حدیث پاک جب کوئی منکر کام دیکھو تو بحسب قدرت ہاتھ ، زبان سے روکو ورنہ دل میں برا سمجھو۔ جبکہ آپ زبان سے روکنے پر پوری قدرت رکھتے تھے ۔

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ مولوی صاحب کے شوق صرف لڑکیوں تک محدود نہ تھے اللہ کی پناہ جب بھی موقع ملتا خوبصورت لڑکوں کو بھی نہیں چھوڑتا تھا، میں بیوی تھی اس کی ایسے قصے مجھ تک پہنچ ہی جایا کرتے تھے۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. محترمہ کے پاس ایسےقصےپہنچانے کی ذمہ داری کس کی تھی ؟
2. محترمہ ان باتوں کو سچ کیسے تسلیم کر لیتی تھی ؟
3. محترمہ ایسے قصے پہنچانے والوں کی حوصلہ شکنی کیوں نہ کرتی کہ ہمارے درمیان نفرت بڑھ جائے مجھے ایسی باتیں نہ بتایا کرو۔

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ ایک قصہ تو کافی مشہور بھی ہوگیا تھا ، لیہ کسی جلسے میں گیا تھا وہان چار نوجوان کم عمر لڑکے ملنے آئے ، مولوی صاحب انہیں اپنی بڑی پجاروں میں بٹھا کر نکل گیا شہر میں کسی جگہ اپنی گاڑی چھوڑی رینٹ کی گاڑی لی اور شہر سے باہر ویرانے کی طرف چل پڑا دو لڑکوں نے کسی کام کا بہانہ کرکے خود کو چھڑایا ، جو دو بچے تھے انہیں لے گیا شام کا وقت تھا اور رات ہورہی تھی جب خوب اندھیرا ہوا کہنے لگا میں نے کسی کیلئے ایک عمل کرنا ہے تم ساتھ دو گے ، روحوں کو حاضر کرنا ہے میں جو کہتا جائوں تم اسے طرح کرنا ، اندھیرے میں ان کے کپڑے اتروائے اور ان سے شیطانی عمل کرکے واپس پلٹا۔

دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. جس قصے کو محترمہ مشہور کہہ رہی ہے اس کی شہرت کہاں کہاں پہنچی ہے ؟
2. ہماری معلومات کے مطابق مولوی صاحب موصوف کے حاسدین و ناقدین نے بھی آج تک ایسے کسی قصہ کا تذکرہ نہیں کیا جس کو محترمہ ”کافی مشہور“ کہہ رہی ہے ۔
3. چار نوجوانوں کا تعارف مطلوب ہے ۔ ان کے نام ، قوم قبیلہ ،ان میں سے نکل جانے والے دو کون تھے ان کے نام مع تفصیلی تعارف ؟
4. اپنی گاڑی چھوڑ کر رینٹ والی گاڑی پکڑنے والی بات پر محترمہ کے پاس کیا ثبوت تھے ؟
5. اگرثبوت تھے تو انہوں نے آپ کو کیوں نہ بتلائے ؟
6. اگر بتلائے تو آپ نے اپنے طویل خط میں اسے ذکر کرنے سے کیوں اجتناب برتا؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ میری بیٹی کی بھی بہت ساری فوٹوز لی تھیں اور پھر مجھے دکھائیں کہ یہ دیکھو تمہاری اور تمہاری بیٹی کی میرے ساتھ ہر طرح کی فوٹوز ہیں اگر تم میرے خلاف کسی کو کچھ بتائوگی تو میں یہ فوٹوز نیٹ پر ڈال کر تمہیں اور تمہاری بیٹی کو بدنام کردوں گا۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ

1. مفتی صاحب !محترمہ نے مولوی صاحب کے بارے آپ کو یہ بتلایا کہ موصوف کے پاس میری اور میری بیٹی کی ہر طرح کی تصاویر ہیں ۔ اور انہوں نے محترمہ کو ایموشنلی بلیک میل کیا ہے ، لیکن اس کے باوجود آج تک مولوی صاحب نے کسی کو ایسی کوئی بھی تصویر نہیں بھیجی اور نہ ہی دکھائی۔ حالیہ کشیدگی کے حالات سے سے بڑھ کر اور کیا موقع ہو سکتا تھا ؟
2. مفتی صاحب کیا آپ تک محترمہ اور حضرت کی کوئی نامناسب تصویر پہنچی ہے ؟ ہماری معلومات کی حد تک نہیں پہنچی ورنہ آپ اسے اپنے چٹ پٹے مضمون کی طرح ضرور سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ۔
3. اس موقع پر تو آپ کو مولوی صاحب کے حوصلے کی داد دینی چاہیے کہ ان سب معاملات پر محترمہ کے حوالے سے ان کی طرف سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ محترمہ پہلی میری بیوی تھی اُس وقت وہ میری عزت تھی اور جب میں نے طلاق دی ہے اب وہ میرے لیے غیر محرم ہے اس لیے میں کسی غیر محرم خواتین پر منفی تبصرے نہیں کرتا۔
آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ جب پانی سر سے گذرا میں نے اپنے دیوبند کے تمام بڑے علما کو ایک تفصیلی استفتا ء لکھا کہ یہ شخص اس طرح اس طرح کرتا ہے کیا میرا اس سے نکاح ٹو ٹ گیا ہے؟
دریافت طلب امر یہ ہے کہ
1. محترمہ نے سر تک پانی آنے کیوں دیا ،پہلے ہی طلاق لے کر یا خلع کر کے علیحدہ کیوں نہ ہو گئیں ؟
آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ میں اپنا دکھ کسے بیان کرتی جن سے بھی بیان کیا سب نے یہی کہا بی بی صبر سے کام لو بات پھیلنے نہ پائے، پھیل گئی تو مسلک کی بدنامی ہوگی۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ

1. مفتی صاحب !اس وقت آپ کے دوست کا مدرسہ بالکل قریب تھا ، وہاں سے فتوی طلب کیوں نہ کیا؟
2. آپ کی محترمہ سے ملاقات طے کرانے والے دوست نے اس بارے آپ سے کوئی رابطہ کیا؟
3. محترمہ سے پوچھ کر بتائیں کہ انہوں نے اس بارے کس کس کے سامنے اپنے دکھ کے قصیدے پڑھے اور انہوں نے کیا جواب دیے؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ میرے ابو کا تعلق دار ایک بڑے مولانا صاحب مدینہ منورہ میں رہتے ہیں ، اسے بھی میں نے یہ سب کچھ بتایا جواب اس نے یہ دیا کہ یہ آپ کی غلط فہمی ہے میں نے ہر طرف سے پتہ کروالیا ہے یہ تو بہت اچھے آدمی ہیں ، میرا علم اپنے اوپر حضوری ہے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اور بھگت رہی تھی اور وہ کہہ رہا تھا یہ افواہیں ہیں ، میں اسے کیسے کہتی کہ آپ اپنے نام کے ساتھ اتنا بڑا شیخ لکھتے ہین بڑے پیر بنے ہوئے ہیں مگر آپ دیکھ رہے ہیں سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایک غلط بندے کو سپورٹ کررہے ہیں ، اس پیر صاحب سے جب مولوی صاحب کا تعلق بنا مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ جدہ میں یہ اس کیلئے ہزاروں لاکھوں ریال چندہ کرنے لگا ، پہلے اسے مرید بنایا اور جب دیکھا کہ بندہ اپنی لائن کا ہے تو سیدھا خلیفہ بنادیا۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ

1. محترمہ نے ان مدینہ والے صاحب کا نام کیوں نہیں لیا؟
2. بیٹیوں ، ملازمہ ، مدرسہ کی طالبات ، لیہ کے چار لڑکوں کا تذکرہ کرتے وقت محترمہ نے بالکل لگی لپٹی بات نہیں کی بلکہ صاف صاف کہا ۔ یہاں بڑے شیخ بڑا پیر کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ، نام کیوں نہ بتایا؟
3. چلیں محترمہ نےبوجوہ ذکر نہیں کیا آپ ہی بریکٹ میں ان کا نام لکھ دیتے تاکہ آپ کے حلقہ قارئین کو اچھی طرح معلوم ہو جاتا ، آپ نے کس مصلحت سے ان کا نام ذکر نہیں کیا؟
4. چونکہ آپ اور محترمہ نے اس بارے وضاحت نہیں کی اس لیے ہم اگلے سوالات نہیں اٹھاتے کہ ہزاروں لاکھوں ریال چندہ کس کے لیے کیا؟ کس نے مرید بنایا؟ اور کس نے دنیوی و ذاتی مفادات کے لیے خلعت خلافت سے نوازا۔؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ جب میرے خط کی وجہ سے مولوی صاحب مشکوک ٹھہرے اور علما چوکنا ہوگئے۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. محترمہ کس خط کی بات کر رہی ہے ؟
2. وہ خط آپ کے پاس ہے ؟
3. اس کا مضمون کیا ہے ؟ جس کی وجہ سے مولوی صاحب مشکوک جبکہ علماء چوکنا ہو گئے۔

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ میرے والد نے ہماری یہی تربیت کی تھی کہ ہر جگہ شرعی پردے کا خیال رکھنا ہے مگر یہ پیر صاحب ان چیزوں کے قائل نہیں ، مریدنیوں کو پیار دیتے ہیں ان کے سر پر دست شفقت رکھتے ہیں ۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. پیر صاحب شرعی پردے کے قائل نہیں اس کا کوئی ثبوت ؟
2. مریدنیوں کو بلا حجاب پیار دیتے ہیں اس کا کوئی ثبوت؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ پہلے تو مولوی صاحب نے میرے والد کے نام کو خوب استعمال کیا ، ہر جگہ ایسے لوگ ڈھونڈے جو میرے والد سے عقیدت کا رشتہ رکھتے تھے اور پھر ان سے خوب خوب چندہ کیا ، ایک بار ملائیشیا گئے اور خاص ان لوگوں کے پاس گئے جو میرے والد صاحب کے عقیدت مند تھے انہیں جاکر بتایا کہ میں مفتی صاحب کا داماد ہوں انہوں نے اکرام کیا اور چندہ اکھٹا کرکے دیا۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. مولوی صاحب نے محترمہ کے والد کا نام لے کر خوب خوب چندہ کیا، جبکہ حالات ہمیں بالکل برعکس نظر آتے ہیں کیونکہ مولوی صاحب نے محترمہ کی کفالت کے لیے باوجود ان کے بیوہ اور عمر رسیدہ ہونے کے ان سے بطور ہمدردی و خیرسگالی نکاح کیا ۔ مولوی صاحب نے محترمہ کے والد مرحوم کے جن عقیدت مندوں سے خوب خوب چندہ کیا ان کے کچھ نام میسر آسکتے ہیں تاکہ ہم مولوی صاحب کو انصاف کے کٹہرے میں لا سکیں؟
2. سفر ملائشیا کی تفصیلات کے بارے جو کچھ محترمہ نے فرمایا ہے اس کے ٹھوس ثبوت درکار ہیں ؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ پھر ان سے کہنے لگا میرے لئے کسی جگہ اور مسجد کا انتظام کرو میں نے اپنی ایک بیوی یہاں رکھنی ہے اور میں ہر تین چار ماہ کے بعد چند دنوں کیلئے آیا کروں گا، انہوں نے کچھ وقت مانگا، اتفاق سے انہیں لوگوں میں سے کچھ لوگ جماعت میں ہمارے شہر آئے پھر ہمارے گھر آئے بھائیوں سے ملے اور جب انہیں ساری حقیقت بتائی گئی تو روتے ہوئے وہاں سے نکلے اور قسم کھائی کہ اب یہ بندہ وہاں قدم بھی نہیں رکھ سکے گا۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. یہ کس تاریخ اور سن کی بات ہے ؟
2. مولانا کے ملائیشیا کے سفر تو کئی بار ہو چکے ہیں ، یہ کب کی بات ہے ؟
3. کیا محترمہ کے بھائی محترمہ کی اس بات کی گواہی دینے کو تیار ہیں ؟
4. کیا ملائیشیا کے لوگ بھی اس کی گواہی دے سکتے ہیں ؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ بھائی اس کا قتل کرکے دبئی مفرور ہوا۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. کون سا بھائی، ان کا کوئی نام پتہ وغیرہ ؟
2. کس کو قتل کیا ؟
3. آپ کیا سمجھتے ہیں کہ مقتول کے ورثاء قاتل کے بھائیوں کو یوں کھلے عام پھرنے دیتے ؟
4. یا مقامی انتظامیہ قاتلوں کو تحفظ فراہم کرنے والی ہے ؟
5. دبئی ہونے کی اطلاع محترمہ تک کس باوثوق ذریعہ سے پہنچی ؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ یہ اس کے گھر جانے لگا بیوی سے اس کے بغل گیر ہوتا اور وہ کہتی یہ مولوی تو میرا پتر بھی ہے اور یار بھی۔ توبہ توبہ کسی کو بھی نہیں چھوڑتا تھا۔۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. محترمہ کو بغل گیر ہونے اور یار پتر وغیرہ کہنے کی معلومات کس نے فراہم کیں ؟
2. اگر بالفرض درست مان بھی لیا جائے تو کیا مولوی صاحب کی بھابھی صاحبہ بھی محترمہ کی طرح ایسی باتیں سب کو بتاتی پھرتی ہے ؟
3. مفتی صاحب !آپ بغرض تحقیق وہاں تشریف لے گئے محترمہ نے جو باتیں کیں ان میں آپ نے سب کو سچ سمجھ کر آگے مضمون کی شکل میں نقل تو کردیا لیکن کسی مقام پر کسی اور سے مزید تحقیق کیوں نہیں کی ؟
4. مولوی صاحب کی بھابھی صاحبہ بقید حیات ہیں اور باعزت زندگی گزار رہی ہیں اگر آپ اس معاملے میں تحقیق کی غرض سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں تو ذرا ان کے پاس بھی تشریف لے جائیں ، ورنہ یہ آپ کی بزدلی کہلائے گی ۔

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ جب یہ بات نکلی اور میں نے علما سے رابطہ کیا ہر جگہ یہ پہچنتا انہیں قسمیں کھا کر یقین دلاتا کہ میں جھوٹ بول رہی ہیں اور قسمیں بھی کلما طلاق کے ساتھ۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. محترمہ کے پاس اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے ؟
2. کسی عالم کا نام پیش کر سکتی ہیں جن کے سامنے مولوی صاحب قسمیں کھا کر یقین دلاتے ہوں اور قسمیں بھی کلما طلاق کی ؟
3. کیا محترمہ کے لیے آپ کلما طلاق کی قسم اٹھا کر ہمیں یقین دلا سکتے ہیں کہ آپ محترمہ کی ساری باتوں کو سچ مانتے ہیں ؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ جس کے دل میں اسلام اور شریعت کی روشنی ہوتی ہے کیا وہ اس طرح کی قسمیں کھا سکتا ہے ،ان قسموں کی رو سے اس کی ایک بھی بیوی اس کے نکاح میں بچی نہیں ہے۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. مفتی صاحب !یہ محترمہ جو سائل کی حیثیت سے استفتاء مدارس میں بھیج رہی تھی کب سے خود مفتی بنی ہے کہ خود ہی شریعت کے احکام بتلانا شروع کر دیے ۔
2. آپ بتلائیے کہ اگر مولوی صاحب کی بیویاں اس بارے محترمہ کو عدالت میں طلب کریں تو کیا آپ بھی محترمہ کے ہمراہ تشریف لائیں گے اور محترمہ کی بات پر مہر تصدیق ثبت فرمائیں گے ؟؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ میں نے اپنے اس خط میں ایک لفظ بھی جھوٹ نہیں لکھا تھا میں کرتی بھی تو کیا کرتی کس کے پاس جاتی ، یا تو صبر کرکے یہ سب تماشا دیکھتی اپنی بیٹی کو اس درندے کو سونپ دیتی اور چپ چاپ تماشا دیکھتی یا پھر خدا کے عذاب سے ڈرتی ،علما سے رائے دریافت کرتی حرمت مصاہرت کے حکم پر عمل پیرا ہوتی ، میں آخر کیا کرتی؟
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. کون سا خط ؟
2. اس کا متن کیا ہے ؟ اگر آپ کے پاس موجود ہو تو اسے ضرور شئیر کریں ۔
3. علماء سے رائے کب دریافت کی ؟
4. کیا آپ محترمہ کی کیفیت بیان کر سکتے ہیں کہ انہوں نے ساڑھےتین سال تک چپ چاپ تماشا دیکھا ؟ یا خدا کے عذاب سے ڈرتی رہی؟
5. مفتی صاحب آپ نے محترمہ کو اس بارے کچھ پوچھا کہ وہ ساڑھے تین برس آخر کیا کرتی رہی؟
آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ اب یہ ہر جگہ کہتا پھرتا ہے یہ سب مماتیوں کا کیا دھرا ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ
1. مفتی صاحب آپ کے یا محترمہ سے پوچھ کر بتائیں کہ ان کے علم میں کتنے ایسے واقعات ہیں جہاں مولوی صاحب نے اس معاملے کو مماتیوں کا کیا دھرا بتایا ہو؟
آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ غریب اور بے بس لوگ جن کی بچیوں کی زندگی اس درندے نے تباہ کی ، یہ کہنا کہ یہ جھوٹ ہے اس پر میں اتنا کہوں گی جو لوگ بھی بغیر تحقیق کیئے مجھے جھوٹا کہہ رہے ہیں وہ ذرا مولوی صاحب کو اپنے گھر کی راہ دکھائیں اور پھر تماشا کریں کہ وہ آپ کی گھر کی عورتوں کے ساتھ کیا کرتا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ
1. یہ سب کچھ جانتے ہوئے اور پہلی نظر میں مولوی صاحب کی آنکھوں میں ہوس اور شہوت کی چمک دیکھنے والی محترمہ نے تین سال تک مولوی صاحب کو یہ تماشا کیوں کرنے دیا ؟
آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ جب میرے یہ خطوط منظر عام پر آئے بہت سارے سارے لوگوں نے مجھے سے رابطہ کیا اور بتایا کہ اس درندے نے ان کی بہنوں ، بیٹیوں کے ساتھ بھی زیادتیاں کی تھیں۔

دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. محترمہ کا خط کن خطوط سے گزر کر ”خطوط “ بنا؟
2. محترمہ سے رابطہ کرنے والوں کا رابطہ بطور تحقیق مفتی صاحب آپ کو مل سکتا ہے ؟
آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ کوئی ماں نہیں چاہتی کہ اس کی بچیاں بدنام ہوجائیں ، میں بھی نہیں چاہتی تھی ، اگر میں یہ باتیں ظاہر نہ کرتیں تو وہ درندہ میری بچی کی عصمت تار تار کردیتا ، ایک طرف بدنامی کا ڈر تھا اوردوسری طرف میری بچی کی عصمت دائو پر لگی ہوئی تھی ،میں یا تو بدنامی کا خطرہ مول لیتی یا پھر اپنی بچی کی عصمت دائو پر لگاتی۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
1. محترمہ نے ان میں سے کس کو چنا ہے ؟
2. جس کو بھی چنا ان کا بنیادی حق ہے لیکن اس معاملے میں آپ نے انہیں یہ کیوں نہ سمجھایا کہ بدنامی مول لے کر آپ نے بچی کی عصمت کو مخدوش بنا دیا ہے ۔ ایسی بچی کو معاشرے میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔ خاندان کے لوگ ایسی بچی سے شادی نہیں کرتے ؟اگر یہ ماں بن جائے تو ان کی اولاد ماں کے کردار کو کس تناظر میں دیکھیں گے ؟وغیرہ وغیرہ۔

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ جو لوگ مجھے جھوٹا کہہ رہے ہیں وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اگر میری جگہ پر وہ ہوتے تو وہ کیا کرتے ؟مجھے کوئی مسرت نہیں ہورہی اپنے خاوند کے بارے میں ایسا کہتے ہوئے، ایک بیوی کا رشتہ اپنے خاوند سے ایسا نہیں ہوتا ، وہ ہر چیز برداشت کرتی ہے بھوک پیاس خوشی اور غمی وہ کبھی نہی چاہتی کہ اپنے خاوند کو بدنام کرے اس پر لوگوں کو جگ ہنسائی کا موقع دے مگر جب وہ ایسے حالات میں گرفتار ہوجائے کہ ایک طرف اس کی بچیوں کی عزت خطرے میں پڑ جائے دوسری طرف اس کا خاوند شریعت کو ایک مذاق بناکر اس کے ساتھ کھیلے تو مجھے بتائیں ایک دیندار عورت کیا کرے گی؟

مفتی صاحب ! اے کاش آپ محترمہ سے ہمارا خیال ذکر کر دیتے کہ وہ مظلوم عورت فوراً علیحدگی کر لے گی کم از کم ساڑھے تین سال نہیں گزارے گی ۔
آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ اس نے پنڈی کے ایک بڑے پیر اور شیخ جس کے نام کے ساتھ ہزاروی کا لاحقہ بھی آتا ہے اس کے بیٹے کو میرے پیچھے لگایا کہ تم اسے کسی طریقے سے ورغلائو تاکہ میں کل اسے جھوٹا ثابت کرسکوں کہ دیکھو اس کے تو بہت سارے مردوں کے ساتھ تعلقات تھے نعوذباللہ من ذالک۔
چونکہ اس بارے صاحب زادہ مفتی محمد اویس عزیز کی وضاحت آ چکی ہے اس لیے اس پر سوالات ذکر نہیں کیے جاتے ۔
لنک یہ ہے :

پیر عزیز الرحمن ہزاروی کے صاحبزادے مفتی اویس کی وضاحت

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ مجھے گلہ ہے اور شکوہ ہے اور بہت سخت شکوہ ہے میرے اپنے مسلک دیوبند کے بڑے بڑے علما سے جنہوں نے اسے روکنے کی بجائے ہمیشہ مجھے ہی صبر کی تلقین کی۔
یہ حصہ مسلک دیوبند کے بڑے بڑے علماء کے لیے چھوڑ رہا ہوں وہ محترمہ کے شکوہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ مجھے شکوہ ہے وفاق کے ناظم صاحب سے جس نے اس قسم کے مدارس کو بندکرنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ، یہ تو ایک مولوی ہے جس نے اپنے مدرسے میں ایسا غلط کام شروع کیا ہے ، ایسے کتنے مدرسے ہوں گے اور کتنے مولوی ہوں گے مجھے سو فیصد یقین ہے وفاق والوں کے پاس ضرور اس قسم کی شکایتیں پہنچتی ہوں گی کہ بنات کے مدرسوں میں کیا کچھ ہوتا ہے ، پھر انہوں نے ایسے مدارس بند کرانے کیلئے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا؟ خدا کے دین کے ساتھ خدا کے دین کے نام پر کھلواڑ ہوتا رہا اور یہ گونگے شیطان بنے رہے ۔۔کیوں آخر کیوں ؟
یہ حصہ ارباب وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے لیے چھوڑ رہا ہوں وہ حضرات اس کا بہتر جواب دے سکتے ہیں ۔

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ یہ جس پیر صاحب کا ذکر میں نے کیا ، اس کے بارے میں کچھ عرصہ قبل ایک کتابچہ بھی چھپا تھا اور اس میں اس کے سارے کرتوتوں کی تفصیل تھی مگر اس نے کمال عیاری سے وہ کتابچہ ہی غائب کروادیا ،ایسے لوگ ایک دوسرے کو تحفظ دیتے ہیں تاکہ لوگوں کا اعتماد ان پر قائم رہے۔یہ حصہ حضرت پیر صاحب اور ان کے معتقدین کے لیے چھوڑا جا رہا ہے ۔ وہ اچھی طرح سے اس قضیے کو حل کر سکتے ہیں ۔

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ میں جانتی ہوں میں اپنے مجرم کو شاید دنیاکی کسی عدالت میں نہیں گھسیٹ سکوں نہ ہی ہماری عدالتی نظام سے مجھے اس بارے میں کوئی ریلیف ملنے کی امید ہے۔یہ حصہ عدلیہ کےلیے چھوڑ رہا ہوں وہ اس پر اپنا موقف دے۔

آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ مجھے انتظار ہے اس دن کا جس دن ایک ایسی عدالت لگنے والی ہے جہاں کوئی بے انصافی نہیں ہوگی اور کوئی ظالم بچ نہیں سکے گا جہاں مظلوم سروخرو اور ظالم سارے خدا کی پکڑ میں آکر بلبلا رہے ہوں گے بس مجھے اسی دن کا انتظار ہے اور یہ حصہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ جس کی عدالت میں سب کو عدل وانصاف ملتا ہے ۔

قارئین کرام ! میرے دل کی سسکیاں صرف وہی شخص سن سکتا ہے جو مقتدر شخصیات اور عفت مآب ماؤں بہنوں کی عزت و ناموس سے واقف ہو ۔ ان پر الزامات لگانے والے ، ان کی کردار کشی کرنے والے کیا جانیں کہ عزت کیا ہوتی ہے ؟ دکھ کیا ہوتا ہے؟ صدمہ کیا ہوتا ہے ؟

نوٹ: یہ کالم حالیہ کشیدگی پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے اور اس کا رخ شدت سے موڑ کر اعتدال کی طرف لانے کی غرض سے لکھا گیا ہے اس میں فرضی مفتی صاحب کی فرضی کہانی کا فرضی کردار یعنی فرضی محترمہ صاحبہ کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ ہاں اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ مفتی ریحان صاحب ،ان کی درد بھری داستان اور اس کا مرکزی کردار محترمہ سب حقائق ہیں تو ایسے شخص کی اخلاقی و معاشرتی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مفتی ریحان صاحب سے اور محترمہ سے میرے معقول سوالات کے جوابات لے ۔

اللہ پاک ہم سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے اور اس معاملے سے پیدا ہونے والی گھمبیر صورتحال سے ہمیں نجات بخشے ۔
آمین بجاہ النبی الکریم

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے