الزام، گواہی، صفائی، فیصلہ

: سب کچھ عدالت کے بغیر!
——————————————————–
مسلسل کئی پوسٹس نظر سے گزری ہیں جن میں ایک صاحب پر انتہائی گھناونے الزامات لگائے گئے ہیں۔ بعض لوگوں نے انباکس میں بھی اپنے تئیں "ثبوت” فراہم کیے ہیں ۔ میں نہ ان صاحب کے بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہوں، نہ ہی ان "ثبوتوں” کا جائزہ لے سکتا ہوں۔ قانونی اور شرعی پوزیشن البتہ بتاسکتا ہوں کہ الزام جب تک عدالت میں ثابت نہ ہو، کسی کو مجرم نہیں گردانا جاسکتا۔ انگریزی قانون کے ماہرین کا مقولہ استعمال کریں تو:
Accused is the blue-eyed child of law.
فقہائے کرام فرماتے ہیں:
الاصل براءۃ الذمۃ ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ الزام لگانے والا ثبوت پیش کرے گا (البینۃ علی المدعی)۔

پھر جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں بعض قذف کی تعریف پر پورا اترتے ہیں اور قذف کے متعلق اسلامی قانون نہایت سخت پوزیشن اختیار کی ہے کہ جب تک شرعی معیار پر پورا اترنے والا چار گواہ نہ ہوں جو عدالت میں آکر گواہی دے سکیں تب تک ایسی بات منہ سے نہیں نکالنی چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر تین گواہوں نے گواہی دی اور چوتھے نے نہیں دی تو پہلے تین گواہوں کو بھی قذف کی سزا دی جائے گی۔

مسئلہ یہ ہے کہ قذف کے متعلق ہمارا قانون بالکل ہی لولا لنگڑا ہے۔ چنانچہ اس میں قرار دیا گیا ہے کہ اگر کسی نے "نیک نیتی” سے یا "مفادِ عامہ” کے لیے ایسا الزام لگایا تو اسے قذف نہیں کہا جائے گا۔ اس سقم کا فائدہ اٹھا کر ہمارا میڈیا لوگوں کی عزت سے کھیلتا ہے اور کئی صحافی قذف کا الزام لگا کر بھی بچ جاتے ہیں کیونکہ جو ان پر قذف کا دعوی دائر کرے گا اسے ثابت کرنا پڑے گا کہ انھوں نے یہ الزام بدنیتی سے لگایا اور ہمارے صحافی یہ کہہ کر بچ جاتے ہیں کہ ہم نے تو اپنی وہ ڈیوٹی سرانجام دینے کی کوشش کی ہے جو بطور صحافی ہم پر عائد ہوتی ہے: کہ عوام کو باخبر رکھنا ہماری ذمہ داری ہے!

حقیقت یہ ہے کہ اس استثنا کی شریعت میں کوئی گنجایش نہیں ہے کیونکہ شریعت کی رو سے قذف strict liability offence ہے ۔ عام طور پر جرم کے دو ارکان بیان کیے جاتے ہیں: مجرمانہ فعل (actus reus) اور مجرمانہ ارادہ (mens rea)۔ بعض جرائم ایسے ہیں جن میں صرف فعل کا صدور ہی کافی ہوتا ہے اور guilty mind ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسے جرائم کو strict liability offence کہا جاتا ہے اور قذف اس کی ایک مثال ہے۔ جب کسی نے زنا کا الزام لگایا تو یہ قذف ہے قطع نظر اس سے کہ اس نے یہ الزام نیک نیتی سے لگایا یا بدنیتی سے، مفاد عامہ کی خاطر کیا یا کسی مخصوص طبقے کے مفاد کی خاطر۔

یاد رکھیے۔ یہ کسی مخصوص مذہبی گروہ کا اندر کا معاملہ نہیں ہے کہ وہ مل بیٹھ کر اس کا حل نکالیں۔ یہ شریعت اور قانون کی سنگین خلاف ورزی کا مسئلہ ہے۔ اگر ان صاحب نے واقعی ایسا کیا ہے تو ان کے خلاف عدالتی کارروائی کی جانی ضروری ہے اور وہاں ان کے جرائم ثابت کرکے انھیں قانون کے تحت سزا دی جانی چاہیے۔ تاہم جب تک عدالت میں ان کا جرم ثابت نہ کیا جائے انھیں شریعت اور قانون دونوں کی رو سے معصوم ہی فرض کیا جائے گا۔ انھیں بھی میرا یہ مشورہ ہے کہ جنھوں نے ان پر الزامات لگائے ہیں ان کے خلاف عدالت کا دروزہ کھٹکھٹائیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے عیوب کی پردہ پوشی کرے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے ہم سب کو بچائے۔

مولانا الیاس گھمن کی سابقہ بیوی کے خط کے حوالے سے تحریر پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے