ایکٹر اِن پالیٹکس

ایکٹر اِن لا کی مقبولیت کے بعد ایک نئی فلم (درحقیقت بہت پرانی فلم دوبارہ) ایکٹر ان پالیٹکس پیش خدمت ہے۔ پُش راج فلمز کے بینر تلے بننےوالی یہ فلم جتنی بار بھی پردے پرآئی۔ اُس سے پہلے ہی ہٹ قرارپائی۔جس نے بنانےپرخرچہ کیا،اس نے پروموشن میں بھی کنجوسی نہیں کی۔ فلم کے سبھی کردار جانے مانے ڈھیلے کردار (لوُز کیریکٹر)ہیں۔ یہ ہم نہیں کہتے کرداروں کی زبانی ایک دوسرے کاکچا چٹھا اکثر پردے پر بجلی کی طرح چمکتا بلکہ لپکتا جھپکتا دیکھا جاسکتاہے۔

پُش راج نامی کمپنی کو فلم سازی کے شعبے میں ابھی ستربرس بھی نہیں ہوئے مگر سیاسی اداکاروں کی یہ فیکٹری ہالی ، پالی ،شالی وڈ کے مقبولیت کے تمام ریکارڈ چکنا چورکرچکی ہے۔برٹش راج کمپنی سے اِسے جو تھوڑے بہت اثاثے ملےتھے اس نے کمال مہارت اورہوشیاری سے نہ صرف انہیں سنبھالے رکھا بلکہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کاسلسلہ جاری رکھا ۔(غیر) سائنسی ماہرین طویل تحقیق کے بعد اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ اوزون لیئر کا سوراخ اسی وجہ سے ہواتھاکہ پُش راج فلمز کے پراجیکٹ ایکٹر اِن پالیٹکس کے بزنس کا گراف نہ صرف چھت بلکہ آسمان پھاڑ کر باہر نکل گیا تھا.

فلم کے تقریباً تمام کردار ادھارلیے گئے ہیں مثلاً کوئی وکیل یعنی لائیر اِن پالیٹکس ہے تو کوئی جاگیردار یعنی فیوڈل اِن پالیٹکس ، کوئی کرکٹر اِن پالیٹکس ہے تو کوئی بلڈی سویلین اِن پالیٹکس ۔کہانی میں رومانویت بھی ہے ،ایکشن بھی ،سسپنس بھی اور کامیڈی بھی ۔الیکشن سے پہلے وہی یہ سارے پارٹ ٹائم سیاستدان اسٹیریو ٹائپ منچلے ہیرو کی طرح عوام کو محبوبہ بنائے دنیا جہان کے وعدے کرتے نظرآتے ہیں ۔ الیکشن کے بعد کسی ہرجائی کی طرح منہ پھیرے یہاں وہاں پھرتے ہیں ۔اور پھر پانچ یا دوتین سال بعد معافی تلافی کرتے ہاتھ پاؤں جوڑتے اور ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتے ہیں۔ ہیروبننے کے جتن میں یہ سارے کردار دوسروں کو ولن ٹھہراتے ہیں۔ ایک دوسرے پر چوری ،ہیراپھیری اور دغابازی کے الزامات برساتے ہیں ،اسی چکر میں اپنی حقیقت پردے پر کھول دیتے ہیں اور عوام کو احساس دلاتے ہیں اِس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔

یہی موقع ہوتاہے کہ جہاں پُش راج فلمز اپنی فیملی سے کسی تربیت یافتہ اداکار کو بطور ہیرو کہانی میں داخل کردیتی ہے۔ سپر مین کی طرح وہ نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی ولنز کا بھی خاتمہ کردیتا ہے اور پھر سب کچھ سالوں تک ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں ۔پُش راج فلمز اس طرح نہ صرف باکس آفس پر راج کرتی اور نوٹ چھاپتی ہے بلکہ اپنے خاندان کے ہونہارسپوتوں کو بھی صلاحیتوں کے اظہار کابھرپور موقع فراہم کرتی رہتی ہے۔۔ ہم جیسے فلمی ناقدین ہر بار واہ واہ واہ واہ کہہ کر دیکھنےوالوں کو گمراہ کرتے اوردکھانے والوں سے پیسے بٹورتے ہیں۔کبھی ہیرو کی انٹری میں دیر ہوجائے تو ہم خدارسول کے واسطے دے کر اسے بلاتے ہیں ۔ کبھی قیامت کامنظر پیش کرتے ہیں تو کبھی کسی شریف آدمی کو خدا کےنام لیواؤں سے پاک سرزمین کے خالی ہوجانے کی دھمکیاں دیتے ہیں ۔ سب کچھ اسی طرح چل رہاہے سب کچھ اسی طرح چلتارہے ۔چاہے کسی کاگھر جلتارہے۔ہمیں بس یہی فکر ہے کہ ہمارادال دلیہ چلتا رہے۔ اور پُش راج فلمز کا چکن مٹن بھی ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے