یادیں۔۔زلزلہ دوہزار پانچ

…..8اکتوبر 2005ءصبح 8بجکر 50منٹ 39سیکنڈ پر آنے والا 7اعشاریہ 6شدت کا زلزلہ رواں صدی کا شدید ترین زلزلہ شمار کیا جاتا ہے جس کا مرکز آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے 19کلو میٹر شمال مشرق میں یور وایشین اور انڈین ٹیکٹانک پلیٹس کے سنگم پر تھا، لگ بھگ 45سیکنڈتک جاری رہنے والے اس زلزلے نے سطح زمین پر ایسی خوفناک تبدیلیاں رونما کیں جس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔

آزاد کشمیر کے شمالی اضلاع نیلم، مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ میں عمارات زلزلے کے سامنے ریت کے گھروندے ثابت ہوئیں، سب سے زیادہ تباہی مظفرآباد میں ہوئی جہاں 90فیصد عمارات مکمل تباہ ہو گئیں جبکہ باقی ماندہ بھی بری طرح متاثر ہو ئیں، کہ انہیں گرا کر دوبارہ تعمیر کرانا پڑا۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صرف آزاد کشمیر میں 73ہزار 3سو 38افراد لقمہ اجل بنے جن میں سے 18ہزار صرف وہ بچے تھے جو اسکولوں کی عمارات گرنے سے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے۔ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 28ہزار 5سو تھی جن میں سے 53ہزار شدید زخمیوں کے زمرے میں آتے تھے، ان میں سے بھی ڈھائی ہزار کے قریب ایسے زخمی تھے جن کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور پھر وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکے۔ زلزلے میں 6لاکھ مکانات تباہ ہوئے اور 5لاکھ خاندان بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

ماہرین ارضیات اس بات پر متفق ہیں کہ برصغیر پاک و ہند لگ بھگ 65 ملین سال پہلے آسٹریلیا کے پاس سمندر میں تیرتا ہوا ایک جزیرہ تھا جو کسی بڑے زلزلے کی وجہ سے ایشیا کے ساتھ آٹکرایا جس کے نتیجہ میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش جیسے عظیم پہاڑی سلسلے وجود پذیر ہوئے۔

ان تینوں پہاڑی سلسلوں کا سنگم سابق ریاست جموں کشمیر کا صوبہ گلگت بلتستان میں جگلوٹ کے مقام پر ہے جہاں دریا ئے سندھ اور دریائے گلگت کا ملاپ ہوتا ہے، یوں ریاست جموں کشمیر ایشیا اور برصغیر کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث کہیں تو برصغیر میں واقع ہے اور کہیں سینٹرل ایشیا کا حصہ تصور ہوتی ہے، یعنی ایشیا اور برصغیر کے ملاپ کا مقام یور وایشین ٹکٹانک پلیٹ اور انڈین یا سب کانٹینینٹل پلیٹ کا سنگم بھی یہی مقام ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 2005ء کا زلزلہ مظفرآباد میں جتنی شدت کا حامل تھا، وادی نیلم میں جورا کے مقام سے اوپر اس کی شدت اتنی نہیں تھی بلکہ بالائی وادی نیلم میں تو عمارت کو نقصان تک نہیں ہوا، صرف لینڈ سلائیڈز پیدا ہوئیں جس سے وادیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا تھا، اسی ارضیاتی مخصوص ترکیب کی وجہ سے ہی یہاں کے پہاڑی سلسلے فالٹ لائنز کا بھی مرکز بھی ہیں۔

آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد وہ مقام ہے جہاں دو فالٹ لائنز ایک دوسرے کو کراس کرتی ہیں، مظفرآباد کے شمال مشرق میں ہمالین تھرسٹ نامی فالٹ لائن ہے جبکہ مغربی جانب مین باؤنڈری تھرسٹ موجود ہے۔ 8اکتوبر 2005ءکا زلزلہ ہمالین تھرسٹ پر ہوا تھا جس کا مرکز مظفرآباد سے 19کلو میٹر شمال مغرب میں تھا۔

ماہرین ارضیات کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ دونوں مرکزی ٹکٹانک پلیٹس اپنے پہلے ملاپ سے لیکر اب تک مسلسل ایک دوسرے کی جانب سرک رہی ہیں جو زیر زمین توانائی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں اور اس توانائی کو خارج ہونے کے لیے جب بھی کہیں سے راستہ نکلتا ہے تو زلزلہ برپا ہونے کا سبب بن جاتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ زلزلہ صرف توانائی کے اخراج سے بر پا ہو تاہے، اس کی دیگر کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔

تاہم 2005ءکا زلزلہ ہمالین تھرسٹ پر وجود پذیر ہوا تھا جس میں ٹکٹانک تحریک کی وجہ سے پیدا ہونے والی توانائی کا صرف 5فی صد ہی خارج ہوا تھا جس کے بارے میں ماہرین ارضیات پہلے سے خبردار کر چکے تھے،اس انتباہ کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، حالانکہ اس خطے میں زلزلوں کی تاریخ اتنی پرانی نہیں کہ ماہرین کے انتباہ کو صرف نظر کیا جاتا۔

یہاں 1974ء میں پٹن زلزلہ ریکٹر اسکیل پر 6درجہ شدت، 1977ء میں 5اعشاریہ 5شدت کا راولپنڈی زلزلہ، 2002ء میں تقریبا 6درجہ شدت کا بونجی زلزلہ اور پھر 2004ء کا بٹ گرام زلزلہ جو 6درجہ شدت کا تھا، حکام کی آنکھیں کھولنے کافی تھے لیکن ان خطرات کو اہمیت نہیں دی گئی ، اگر تھوڑی سے بھی توجہ دی جاتی تو 2005ءمیں ہونے والی اتنی بڑی تباہی کے حجم کو کم کیا جا سکتا تھا، اگر زلزلہ متاثرہ علاقوں میں عمارات کو محفوظ تکنیکی بنیادوں پر تعمیر کیا گیا ہوتا تو جاں بحق ہونے والوں کی تعداد شاید اتنی زیادہ نہ ہوتی۔

آٹھ اکتوبر 2005ءکے زلزلے میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ ابتدائی طور پر 126ارب روپے لگایا گیا تھا جس کے لیے دنیا بھر سے 5اعشاریہ 6ارب ڈالر یعنی 4سو ارب روپے اکٹھے کرنے کا بندوبست ہو گیا، اس رقم میں سے نصف زلزلہ متاثرین کو اپنے گھر خود تعمیر کرنے کیلئے فراہم کر دی گئی جبکہ 207ارب روپے مالیت کے 7ہزار 836منصوبوں پر کام شرو ع کر دیا گیا جس میں تین ہزار منصوبے تعلیمی اداروں کی عمارات کی تعمیرنوکیلئے مختص تھے۔

گیارہ سال گذر جانے کے بعد آج 143ارب روپے خرچ کرنے کے بعد 5ہزار 329منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، اب بھی ڈیڑھ ہزار کے قریب منصوبوں پر کام جاری ہے لیکن 912اسکولوں کی عمارات اب بھی تعمیر کی منتظر ہیں۔ 680تعلیمی ادارے تو ایسے بھی ہیں جن کی تعمیر ابھی شروع ہی نہیں ہو سکی، نتیجتاً ڈیڑھ لاکھ بچے بغیر چھت کے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

کئی بچوں نے تو اپنے 11سال کے تعلیمی کیرئیر میں نہ تو کلا س رومز دیکھیں اور نہ ہی ڈیسک اور بنچوں پر بیٹھنے کا لطف اٹھایا، اسکول میں داخل ہوئے تو گری ہوئی اسکول کی عمارت کے ملبے کے ڈھیر پر الف بے پڑھنا سیکھا، پھر اگلی کلاس ایک بڑے درخت کےسائے میں شروع کی، پاس ہوئے تو اسی درخت کے دائیں بائیں کلاس کے احاطے بنتے رہے اور سائے کے ساتھ ساتھ اپنا محل وقوع تبدیل کرتے کرتے بچے میٹرک پاس کرکے اسکول سے رخصت ہوگئے۔

تعمیر کے منصوبوں کیلئے اب بھی 40ارب روپے کی خطیر رقم درکار ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بین لاقوامی مالیاتی اتار چڑھاؤ شدید مالیاتی بحران کا سبب بن چکا ہے بلکہ اس مالیاتی بحران کے وجہ سے سٹی ڈیویلپمنٹ پروجیکٹس کے جاریہ قرضوں کے ساتھ حکومت پاکستان کی کاؤنٹر پارٹ فنڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً دو ارب روپے کے منصوبے تعمیر نہیں ہو سکے اور چین کے قرض کی مدت کا خاتمہ ہو گیا۔

اسی طرح کئی منصوبوں کی دیواریں اور کئی کی بنیادیں تیار پڑی ہیں، ٹھیکیدار کی مشینری کھڑے کھڑے زنگ آلود ہو چکی لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے بقیہ منصوبے پایا تکمیل کو نہیں پہنچ پائے جبکہ ماہرین ارضیات ابھی بھی پیش گوئی کر رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر مسقبل کا زلزلہ مین باؤنڈری تھرسٹ پر ہوگا جو مظفرآباد کے جنوب مغرب میں ہے اور یہ فالٹ لائین ہزارہ، مری اسلام آباد سے ہوتی ہوئی خوشاب اور پھر بحیرہ عرب اور پھر دو شاخوں میں خلیج فارس تک جاتی ہے، اگر خد نخواستہ مین باؤنڈری تھرسٹ ایکٹو ہوتی ہے تو ہماری تیاری کیا ہے؟

کیا ہمارے ہاں ریسکیو اور ریلیف کے ادارے پوری طرح ہوشیار اور مکمل تیاری میں ہیں؟ کیا ہم نے عوام کو خود اپنی مدد کرنے اور فوری حادثہ کی مدد کرنے کیلئے تیار کر رکھا ہے؟ کیا کسی ہنگامی صور ت میں ہمارے ہاں مواصلات رسل و رسائل اور خوراک کا بندوبست ہے؟

ہم شاید وہ واحد قوم ہیں جن کی مدد کو پوری دنیا آئی لیکن ہم نے خود کو اس قابل نہیں کیا کہ دنیا بھر میں ہونے والے کسی حادثے میں کسی قوم کی مدد کر نے جا سکیں ۔ ہم نے 5لاکھ خاندانوں کو کیمپوں میں رکھا اور انہیں پھر واپس ان کے گھروں میں آباد کیا، اتنا بہترین کامیاب تجربہ لیکن کیا ہم اس کا فائدہ باقی دنیا کو پہنچا پائے، 6لاکھ افراد کیمپوں میں رہے، کوئی وبائی مرض، کوئی نمونیہ، کوئی ہیضہ نہیں پھیلا۔ پوری دنیا کی مدد سے ہم اس سے عہد برآں ہوئے، کیا ہم نے اس تجربہ کو کہیں مارکیٹ کیا؟ تعمیر نو کا شاید ہی دنیا میں اتنا بڑا کام کہیں سر انجام دیا گیا ہو، اس کے فوائد ہم نے قوم کو اور دنیا میں اس مہارت کو کہاں فروخت کیا؟

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہمارے ادارو ں میں جاپان کی طرز پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ سائنسز کی تعلیم شروع ہوجاتی، دنیا بھر سے لوگ آتے اور سیکھتے ہم نے اس تجربہ سے کیا سیکھا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چین کی طرز پر ہمارے نئے شہر آباد کرنے کی انڈسٹری ڈیویلپ ہوجاتی، ہم افغانستان سمیت خلیجی ممالک میں تعمیر نو کے بڑے بڑے منصوبے بناتے لیکن اب بھی وقت ہے ہمیں کچھ کر لینا ہوگا، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے