واقعہ کربلا کے تین رخ !

[pullquote]بحث کو خلط نہ کیا جائے !
[/pullquote]
محرم آتے ہی کربلا پر متنوع قسم کی بحثیں شروع ہوجا تی ہیں ،اور پھر ناصبیت ،رافضیت اور نیم رافضیت کے الزامات ایک دوسرے کے سر تھوپے جاتے ہیں ،اس واقعے کے تین رخ ہیں ،اور بحث کرتے وقت ہر رخ متعین کر کے بات کی جانی چاہیے ،خلط مبحث سے ہی الزامات کی بوچھاڑ ہوتی ہے ۔

پہلا رخ

[pullquote]حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور اہلبیت کی مظلومانہ شہادت
[/pullquote]

اس واقعہ کا پہلا رخ یہ ہے کہ کربلا میں یقینا ظلم و عدوان کی تاریخ رقم ہوئی ،اور اہلبیت کو بے دردی سے شہید کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دی گئی،جب بھی محرم آتا ہے تو میرے ذہن میں یہ سوال ہر بار آتا ہے کہ اگر روز قیامت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری امت سے اپنے نواسے کے خون کا سوال کیا تو کس امتی میں جواب دینے کی ہمت ہوگی ؟اگر آپ نے پوچھ لیا کہ میری وجہ سے تم سب کے سب دنیا و آخرت میں سر خرو ہوگئے ،کیا میرے احسانات کا یہی بدلہ تم نے دیا کہ میرے پھول جیسے نواسے اور میرے اہلبیت کو بے آب و گیاہ صحرا میں خون میں تڑپایا گیا ،تو اس وقت کیا کیفیت ہوگی ؟کیا حالت ہوگی ،کسی حساس دل پر اس کا تصور بھی بہت بھاری ہے ۔ جس جس نے بھی رسول اللہ کا کلمہ پڑھا ،اسے اس حادثے پر غم نہ ہو ،محال ہے ،یہ عقیدے اور عقیدت کا مسئلہ ہے ۔ اس میں غالی و مفرط رافضی کہلاتا ہے،جبکہ اس میں مقصر و مفرط (تفریط سے )ناصبی کہلاتا ہے،اور اوسط اہلسنت و الجماعت کا پیروکار ہوتا ہے۔

دوسرا رخ

[pullquote] سانحہ کربلا کے ذمہ داران کا تعین
[/pullquote]

دوسرا رخ یہ ہے کہ اس سانحے کے ذمہ دار کون ہیں ،اور یہ کس کے وحشیانہ کرتوتو ں کا نتیجہ ہے؟اس سانحہ کے وقت کل چار فریق تھے:

۱۔یزید جو اس وقت حکمران تھا ۔

۲۔شمر و ابن سعد کی سرکردگی میں کوفیوں کا لشکر جو اہلبیت سے براہ راست لڑا اور خانوادہ اہلبیت کا کا قتل عام کیا ۔

۳۔حضرت حسین کے منافق و بزد ل حمایتی ،ان کےپھر دو گرہ تھے ،ایک اہل کوفہ ۔،جنہوں نے حضرت حسین کو سینکڑوں خطوط لکھے اور حمایت کا وعدہ کیا ،جبکہ وقت آنے پر نہ صرف حمایت کا ہاتھ کھینچ لیا بلکہ مسلم بن عقیل کی مخبری کر کے انہیں شہید بھی کروایا ۔،دوسرا مکہ سے روانگی کے وقت بہتر افراد کے سوا باقی ہزاروں کا لشکر ،جنہوں نے راستہ میں ہی ساتھ چھوڑ دیا اور واپس چلے گئے ۔

۴۔صحابہ و تابعین کی ایک بڑی خاموش جماعت ،جنہوں نے نہ حضرت حسین کا ساتھ دیا نہ ان کے مخالفین کا ۔جنہوں نے بوقت سانحہ اور بعد از سانحہ بھی سکوت کی مہر نہ توڑی ۔

اب سوال یہ ہےکہ ان چار فریقوں میں سے کون ذمہ دار ہیں ،سب ہیں ،یا ان میں سے بعض ،پھر ہر فریق کتنا فیصد ذمہ دار ہے ،یہ ایک خالص تاریخی نوعیت کی بحث ہے ،جس کا عقیدے سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے ،کوئی چاروں کو ذمہ دار سمجھتا ہےتاریخی کتب کی روشنی میں ،کوئی صرف یزید کو ذمہ دار سمجھتا ہے ،کوئی صرف کوفیوں کے سر سب کچھ ڈالتا ہے ،اس میں متعدد آرا کی گنجائش ہے ،بس جس کو بھی دلائل کی روشنی میں جو بھی گروہ ذمہ دار نظر آتا ہے ،اور جو گروہ بری نظر آتا ہے ،وہ اپنا مقدمہ بیان کرے ،بس ایک بات کا خیال اس پوری بحث میں کرنی چاہیے کہ حضرت حسین اور شہدائے کربلا کی مظلومیت اور ان کی عظمت کو پامال نہ کرے ۔

اگر کوئی ان چارو ں گروہوں میں سے بعض کی برات کا قائل ہے ،اور عظمت امام عالی مقام اور اہلبیت کا پوری طرح قائل ہے ،تو اس سے اختلاف کا حق ہر ایک کو ہے ،لیکن ناصبیت کا الزام دینا تاریخ اور عقیدے کو خلط کرنے کی بات ہے ۔

تیسرا رخ

[pullquote]اقدام حسین کے مقاصد ار اس کی فقہی و شرعی تکییف
[/pullquote]

تیسرا رخ یہ ہے کہ حضرت حسین اس انتہائی اقدام پر کیونکر مجبور ہوئے ؟کن پہلووں کی وجہ سے انہوں نے قتال کا راستہ اختیار کیا ،اور جان کی قربانی پیش کی ،اس لڑائی کی اگر تکییف کرنی ہو،تو کیا تکییف کریں گے ،یہ خالص فقہی نوعیت کا مسئلہ ہے ،اس تکییف سے فقہا کا مقصد قوانین و اصولوں کا استنباط ہے ،جیسے جمل و صفین سے کئی اصول نکالے گئے ،اس لیے اسے اسی تناظر مین دیکھنے کی کوشش کی جائے ،یہ اقدام خروج (یعنی حکومت وقت کے خلاف اقدام )کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں ؟(یاد رہے خروج کا لفظ فقہ اسلامی میں ہمیشہ برے مفاہیم میں نہیں آتا ،حکومت وقت کے خلاف نیک اور جائز اقدا م کو بھی خروج کہتے ہیں ) اگر یہ خروج تھا ،تو اس کی کیا بنیادیں تھیں ،نیز وہ بنیادیں اقدام کو جائز قرار دے ری تھیں ،یا واجب یا وہ خطائے اجتہادی (میں صرف محتملات بیان کر رہا ہوں ،اسے کاتب کا نظریہ نہ سمجھا جائے )تاکہ اس سے آئندہ کے لیے احکام نکالے جائیں ،

اگر یہ خروج نہیں تھا ،یعنی امام کا مقصد پر امن تحریک تھی ،تو اس کی کیا بنیادیں تھیں ؟وغیرہ وغیرہ یہ خالص فقہی و قانونی نوعیت کی بحثیں ہٰیں ،عوام کا نہ اس سے سروکار ہونا چایے نہ ہی عوام کو اس کی ضرورت ،باقی اہل علم کو ان فقہی بحثوں پر مکالمہ کرنا چاہیے ،اس سے نہ اسلام کو خطرہ ہوتا ہے نہ ہی امام عالی مقا م کے مرتبہ کو ۔۔اہل علم نے متفقہ خلیفہ حضرت صدیق اکبر کے خلاف (بعض روایات کے مطابق )حضرت علی کی چھ ماہ بیعت سے تاخیر کی بنیادوں پر بھی بحث کی ہے ،حضرت معاویہ کے خروج پر بھی ،ام المومنین اور عشرہ مبشرہ میں سے حضرت طلحہ و زبیر کی حضرت علی کے خلاف جنگ و جدل کی بھی تکییف کی ہے ،

حضرت امیر معاویہ کے یزید کو ولی عہد بنانے کی بھی ،حضرت ابن زبیر کے اقدامات کی بھی ،الغرض پہلی صدی کے جملہ سانحات و واوقعات کو فقہا نے قانونی حٰیثیت سے موضوع بحث بنایا ہے ،اور ان اقدامات کے قانونی سقم یا قوت کی نشاندہی کی ہے ،اس لیے اس جیسی بحثوں پر پابندی ،یا ان ابحاث سے دشمن صحابہ ،دشمن اہل بیت ،نیم رافضیت یا ناصبیت جیسے تمغے ایک دوسرے کو دینا نری جذباتیت اور بحث کو خلط کرنے والی بات ہے ،اگر کسی عالم کی بیان کردہ تکییف و قانونی پہلو سے اختلاف ہو تو برملا ا س سے اختلاف کیا جائے ،لیکن فتوے اور تمغے دینا درست نہیں ،لیکن ان قانونی و فقہی بحثوں میں صحابہ و اہلبیت کے مقام و مرتبہ کی پوری پوری رعایت کرنی چاہیے ،یہی قرآن و سنت کی تعلیمات ہیں اور اہلسنت کا معتدل منہج ہے ۔۔۔۔وما علینا الا البلاغ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے