پیاز

تقریباً تمام دنیا میں کاشت ہونے والے پیاز کا حیاتیاتی نام Allium cepa ہے. پیاز کے پودے کے پتے کھوکھلے اور نیلاہٹ مائل سبز رنگ کے ہوتے ہیں. پودے کی قد 15 سے 45 سنٹی میٹر ہوتی ہے. پودے کا زیرِ زمین حصہ بلب کی شکل میں ہوتا ہے جو کہ اِس فصل کا اہم ترین حصہ ہے، عمومی طور پہ اِسی حصے کو ہی پیاز کہا جاتا ہے. موسمِ خزاں میں پودے کے اوپری حصے خشک ہوکر نیچے مرجھا جاتے ہیں اور زیرِزمین بلب کی بیرونی تہہ خشک اور آسانی سے ٹوٹنے والی بن جاتی ہے. اِس مرحلے پر فصل کی برداشت مکمل کی جاتی ہے جس کے بعد خشک پیاز استعمال اور ذخیرہ کیے جاتے ہیں. پیاز کی کچھ اقسام مثلاً شیلٹ ایک سے زائد بلب (پیاز) پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں.
اگر پیاز کی برداشت مکمل نہ کی جائے اور زمین سے اکھاڑ نہ لیا جائے تو نئے پتے ظاہر ہوتے ہیں اور ایک طویل، مضبوط، کھوکھلی اور اونچی شاخ نکل آتی ہے. جس کے اوپر گلوب نما سفید پھول اُگ آتا ہے جس میں سیاہ رنگ کے پیاز کے بیج پیدا ہوتے ہیں.

پیاز کی کاشت اور استعمال کی تاریخ 7000 سال پرانی ہے. پیاز دنیا بھر میں کاشت اور استعمال کیا جاتا ہے. عام طور پر ایک تیار لذیذ ڈش، ایک سبزی، حتی کہ خام کھایا بھی جاتا ہے اور اچار یا چٹنی بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے. پیاز میں بعض کیمیائی مادہ پر مشتمل ہوتا ہے جب اِس کو کاٹا جاتا ہے تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں.

خزاں کی فصل کیلئے جولائی میں کاشتہ پنیری ماہ ستمبر میں کھیت میں منتقل کی جاتی ہے۔ پیاز کی بہتر پیداوار کے حصول کیلئے پنیری کو بروقت کھیت میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ پنیری کی کھیت میں منتقلی کیلئے زمین کی تیاری کے لئے پہلے مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں اور بعد میں دو مرتبہ کلٹیویٹر چلا کر زمین کو کھلا چھوڑ دیں۔ کاشت سے پہلے 12-10 ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد فی ایکڑ کے حساب سے ڈالیں اور اس میں 20 کلوگرام یوریا ملا کر زمین کو پانی لگا دیں۔ وتر آنے پر زمین کو ہل چلا کر سہاگہ سے نرم اور ہموار کر کے چھوڑ دیں تاکہ جڑی بوٹیاں اگ آئیں۔ جڑی بوٹیاں اگنے کے بعد دوبارہ ہل چلا کر زمین کو کھلا چھوڑ دیں اس سے ایک تو جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں گی اور دوسرے دھوپ لگنے سے زمین سے کئی بیماریوں کے جراثیم بھی ختم ہو جائیں گے۔

کیمیائی کھادوں کی مقدار کا تعین کرنے سے پہلے زمین کا تجزیہ کروائیں۔

اگر زمین کا تجزیہ نہ کروایا جا سکے تو اوسط زرخیز زمین کیلئے بوقت بجائی

ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا

چار بوری ایس ایس پی + آدھی بوری یوریا + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا

دو بوری نائٹروفاس + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ استعمال کریں.

پنیری کی منتقلی کے ایک ماہ بعد آدھی بوری یوریا یا ایک بوری امونیم سلفیٹ یا ایک بوری نائٹروفاس استعمال کریں.

پیاز بنتے وقت ایک بوری امونیم سلفیٹ یا آدھی بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔

پنیری کو کھیت سے وترحالت میں اس طرح اکھاڑیں کہ اس کی جڑیں بالکل نہ ٹوٹیں۔ پودے کھیلیوں کے دونوں طرف 10 سینٹی میٹر کے فاصلہ پر لگائیں اور کھیت کی آبپاشی کر دیں۔

پیاز سے نفع کمانے کے لئے اپریل کے دوسرے ہفتہ میں چار کلوگرام بیج سے دس مرلہ جگہ پر نرسری کاشت کریں۔ مئی کے آخر تک اسی جگہ کھڑی نرسری سے چھوٹے چھوٹے پیاز تیار ہو جاتے ہیں۔ مئی میں اس سے بننے والے چھوٹے چھوٹے پیاز اکھاڑ لیے جائیں اور ان کو ہوادار بوریوں میں ڈال کر تین ماہ تک ہوادار کمرے میں سٹور کر لیں۔ مون سون کی بارشوں کے دوران یعنی اگست کے پہلے ہفتہ میں ان کو ڈھائی فٹ کی کھالیوں کے دونوں طرف تین چار انچ کے فاصلہ پر کاشت کر دیں۔ منتقلی کے ایک دن بعد اس پر مناسب جڑی بوٹی مار زہر کا سپرے کریں۔ یہ فصل پیاز کی قلت کے دوران یعنی نومبر میں بطور سبز پیاز اور دسمبر میں بطور خشک پیاز تیار ہو جاتی ہے۔ اس فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھنا، مٹی چڑھانا اور ایک بوری پوٹاش ڈالنا بے حد ضروری ہے۔

پیاز کی فصل میں انواع و اقسام کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ پیاز کی فی ایکڑ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے جڑی بوٹیوں کی تلفی بہت ضروری ہے۔ پودوں کی کھیت میں منتقلی کے بعد 45 دن کے اندر 2 تا 3 مرتبہ گوڈی اور نلائی کرنے سے جڑی بوٹیوں کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔

فصل کو پہلے تین پانی 7 یا 8 دن کے وقفے سے لگائیں اس کے بعد آبپاشی کا وقفہ بڑھایا جا سکتا ہے۔

تھرپس: یہ کیڑا پودے کے پتوں کی درمیانی کونپلوں میں موجود ہوتا ہے۔ حملہ شدہ پودوں کے پتے چڑ مڑ ہو کر آہستہ آہستہ خشک ہو جاتے ہیں جبکہ حملہ شدہ پتے کی سطح چمکیلی ہوتی ہے۔

پیاز کی سنڈیاں: سنڈی پیاز کی بیج والی میں پھولوں کے گچھوں کو کھا کر نقصان پہنچاتی ہے جس کی وجہ سے بیج کی فصل کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔

ارغوانی جھلساؤ PURPLE BLOTCH:
اس کے حملہ سے پتوں پر ہلکے جامنی رنگ کے لمبوترے کناروں والے دھبے پڑ جاتے ہیں۔ بیج پیدا کرنے والی ڈنڈی گل سڑ جاتی ہے اور پیاز پر سیاہ دھبے بن جاتے ہیں۔

منہ سڑی: اس بیماری کے حملہ سے ابتدائی طور پر پتوں کے نوکدار کناروں پر بھورے رنگ کے دھبے نمودار ہوتے ہیں جو بعد میں سیاہی مائل ہو جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ بیماری کناروں سے نچلی طرف بڑھتی ہے۔

روئیں دار پھپھوندی:۔ یہ بیماری سب سے پہلے پتوں پر زردی مائل پیلے رنگ کے دھبوں کی صورت میں نمودار ہوتی ہے جبکہ پتوں کی نچلی سطح پر پھپھوندی کی نشوونما دیکھی جا سکتی ہے۔ جیسے جیسے بیماری شدت اختیار کرتی ہے دھبوں کی جسامت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر شدید حملہ کی صورت میں پتے سوکھ جاتے ہیں۔

پیاز کی کُنگی:۔ یہ بیماری پتوں پر ابھرے ہوئے دھبوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ دھبے پہلے سفید جبکہ بعد میں زرد رنگ کے ہو جاتے ہیں۔ یہ دھبے بے ترتیب اور پتوں کے دونوں طرف ہوتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں پتے مُڑ جاتے ہیں جس سے پیداوار پر برا اثر پڑتا ہے۔
موسم خزاں کی فصل کی برداشت کا موزوں وقت جنوری سے مارچ ہے۔ پیاز کو برداشت کے بعد 2-1 دن تک سایہ دار اور ہوا دار جگہ میں ہی پڑا رہنے دیں تاکہ وہ اچھی طرح خشک ہو جائے۔ اگر پیاز کی فصل کو صحیح وقت پر برداشت کر لیا جائے تو اسے 6 ماہ تک صحیح حالت میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ جب پیاز اپنی نشوونما اور جسامت بڑھانا چھوڑ دے، نئے پتوں اور جڑوں کی بڑھوتری رک جائے اور پودے کا تنا خشک ہو کر جھک جائے مثلاً 15 تا 20 فیصد تک پودے کے تنے خشک ہو کر ٹوٹنا شروع ہو جائیں تو فصل برداشت کیلئے تیار ہوتی ہے۔

پیاز کو اگر بعد از برداشت کچھ عرصہ کیلئے سٹور میں رکھنا مقصود ہو تو تنے کے مکمل طور پر خشک ہونے سے پہلے اسے برداشت کر لیں لیکن اگر پیاز کے پتے سبز ہوں تو ان کو کاٹ دینے سے پودے کے تنے کو نقصان پہنچتا ہے چونکہ اس وقت نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے پھپھوندی کے حملے کی وجہ سے پیاز خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ موٹے تنے والے پیاز کے گٹھے جو کہ ابھی مکمل طور پر پکے نہیں ہوتے ان کو ذخیرہ نہ کریں۔ پیاز کی فصل کو دیر سے برداشت کیا جائے تو اس میں عمل تنفس بڑھ جاتا ہے اور زیادہ درجہ حرارت ہونے کی وجہ سے پیاز کا رنگ و معیار متاثر ہوتا ہے۔ ایسی فصل پر بیماریوں کا حملہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور گٹھے جلد پھوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔
موسم خزاں کی فصل سے فی ہیکٹر اوسط پیداوار 10 سے 12 ٹن حاصل ہوتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے