مذمتیں کافی نہیں !!

کوئٹہ ایک بار پھر لہو لہو ہے اور اس بار وہ نوجوان جنہوں نے آگے چل کر امن وامان بحال کرنے میں سول انتظامیہ کی مدد کرنی تھی اور معاشرے سے جرائم ختم کرنے کا بیڑا اٹھانا تھا ،بے درد ی سے شہید کر دئیے گئے ۔تین دہشت گردوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر سریاب روڈپر واقع پولیس ٹریننگ سنٹر کوئٹہ پر حملہ کیا اور تادم تحریر ساٹھ سے زائد زیر تربیت پولیس کیڈٹس شہید اور ایک سو بیس سے زائد زخمی ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق صرف سول ہسپتال کوئٹہ میں چالیس شہدا ء کی میتیں موجود ہیں اس لئے شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کے مطابق دہشت گردوں نے پہلے ہاسٹل کے گارڈ کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد سوئے ہوئے کیڈٹس کو یرغمال بنا کر فائرنگ کی ۔پاک فوج اور ایف سی کے جوانوں نے چار گھنٹے کے مشترکہ آپریشن کے بعد سینٹر کو کلیئر کر دیا ۔دوران آپریشن دو دہشت گردوں نے خود کو باردوی مواد سے اُڑایا جبکہ ایک دہشت گرد کو فوجی جوانوں نے جہنم واصل کیا ۔سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ دو سو پچاس کیڈٹس کو بحفاظت نکال لیا گیا ۔اس موقع پرآئی جی ایف سی میجر جنرل شرافگن کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو پڑوسی ملک افغانستان میں موجود اپنے ساتھیوں سے ہدایات مل رہی تھیں ۔ان کا مزید کہناتھا کہ کوئٹہ شہر میں حملے کی اطلاعات پہلے سے موجود تھیں تاہم شہر میں بہتر سیکیورٹی اقدامات کی وجہ سے دہشت گردوں نے نواح میں واقع پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کیا(یعنی دہشت گردوں نے ایک بار پھر بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنایا) ۔دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت انوار الحق کاکڑ نے پولیس ٹریننگ سینٹر کوئٹہ پر دہشت گرد حملے میں بھارتی ایجنسی را کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کوئٹہ کے لئے بہت جلد سیف سٹی منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔

اگر ہم سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ کو نہیں بھولے تو یاد ہوگا اُن دنوں بھی کوئٹہ میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کی اطلاعات موجود تھیں اور اس حوالے سے سیکیورٹی اداروں اور سول ہسپتال کوئٹہ کے ایم ایس کے درمیان خط وکتابت بھی ہوئی تھی جو صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہی اور ہم نے ایک عظیم سانحہ ہوتے دیکھا جس میں کوئٹہ شہر کے اعلی تعلیم یافتہ اور ذہین وکلاء شہید کر دئیے گئے ۔پلک جھپکتے پچھتر خاندن اُجڑ گئے ،کوئی یتیم ہوا توکئی ماوں کی گود اُجڑ گئی ،کئی بہنیں بیوا ہوئیں تو کئی بہنوں کے بھائی شہید ہوئے لیکن ہم نے سبق سیکھنا سیکھاہی نہیں ۔

سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ سینٹر کوئٹہ صوبہ بلوچستان کا واحد پولیس ٹریننگ سینٹر ہے جو چھ سات ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے ، سینٹر میں دفاتر کے ساتھ تین رہائشی عمارتیں بھی واقع ہیں۔کچھی دیواریں جنہیں اونچا اور پکا کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس جانب کسی کی توجہ نہیں اور یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی کمانڈنٹ اس سینٹر کا چارج لینا نہیں چاہتا۔ایک اطلاع کے مطابق سینٹر کی سیکیورٹی پر بھی زیر تربیت کیڈٹس ہی تعینا ت ہوتے ہیں ۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ کوئٹہ شہر کے نواح میں واقع اس سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنایا گیا ہو ۔اس سے پہلے بھی دو بار پولیس ٹریننگ سینٹر کوئٹہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا ہے ۔

ایک بار پریڈ گراونڈ میں دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے باردوی سرنگیں بچا دی تھیں جس میں تیس اہلکار شہید ہوئے تھے جبکہ اس کے کچھ عرصے بعد بزدل دشمن نے اسی سینٹر کی ایک بس پر فائرنگ کی تھی جس میں اٹھ اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ہم نے سبق سیکھنا سیکھا ہی نہیں اور سانحے پرسانحہ ہوتا دیکھ رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار صرف مذمتوں سے کام چلتے رہیں گے کیونکہ کونسا یہ ملک ان کا اپنا ہے ؟؟؟(ہمارے زیادہ تر سیاستدان ، جرنیل ،جج اور سرکاری افسر کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ رکھتے ہیں او ر ان کے اہل وعیال وہاں مزے کی زندگی گزار رہے ہیں ، اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں یااپنے کاروبار کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے رہے ہیں اور جب ان سیاستدانوں کی حکومت ختم ہوجائے گی ، جب یہ جرنیل ،جج اور سرکاری افسر ریٹائر ہوجائیں گے تو یہ بھی اُسی ملک کا رخ کرلیں گے اور عیش و آرام کی زندگی گزاریں گے )۔کچھ عرصہ پہلے ایک کینڈین سفارتکار کی کہی ہوئی بات ایسے موقع پر بہت یاد آتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستانی سیاستدان ، جرنیل ، جج اور سرکاری افسر کی جیب میں کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ موجود ہے ،پاکستان میں کبھی مکمل امن قائم نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کبھی یہ ملک ترقی کرسکتا ہے۔

اب ایک بار پھر مذمتوں کا بازار گرم ہے اور وزیراعظم جناب میا ں محمد نواز شریف سمیت کئی ایک سیاسی رہنماوں نے پولیس ٹریننگ سینٹر کوئٹہ پر حملے کی مذمت اور شہادتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔وزیراعظم میا ں نواز شریف ،عمران خان اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت کئی دیگر سیاسی و عسکری حکام نے کوئٹہ کے دورے کئے ہیں ۔اور تو اور امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اپنے بیان میں پولیس ٹریننگ سینٹر کوئٹہ پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی زیادہ نقصان اٹھا یا ہے ۔

وہ جو خواجہ آصف نے کہا تھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے تو میرے بھائیوں نہ کسی کو شرم آئے گی اور نہ حیا،دھرنے والے اسلام آباد بند کرنے سے نہیں روکیں گے اور حکومت کے سنگھاسن پر براجمان ہوس اقتدارنہیں چھوڑیں گے ۔ نہ کوئی متحد ہوگا اور نہ ہی اس قوم کو تحفظ ملے گا۔عوام مر رہے تھے ، مر رہے ہیں اور یوں ہی مرتے رہیں گے لیکن یہ سب شعبدہ باز، اپنے اپنے مفادات کے غلام یوں ہی ایک دوسرے پر الزامات کی بارش جاری رکھیں گے ۔عوام تو ہے ہی مرنے کے لئے پھر وہ چاہے پھولوں کے شہر پشاور میں مرے یا روشنیوں کے شہر کہلائے جانے والے کراچی میں،معصوم لوگوں کے مسکن کوئٹہ میں مرے یا غیرت ،بہادری اور مذہب کے نام پر استعمال ہونے والی سرزمین فاٹا میں،کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔

دھرنہ ہر صورت ہوگا اور میڈیا اس ناچ گانے کو بھر پور کوریج دے گا،قوم کو تبدیلی کی نوید سنائی جائے گی اور انقلاب کے نام پر چہرہ تبدیل ہوگا یا ایک اور یو ٹرن دوسری جانب مسند اقتدار پر قابض بھی اپنی ہی کریں گے لیکن اس کو نام جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کی بھلائی کا دیں گے۔قوم کو تحفظ دینے کی باتیں تو بہت کی جا رہی ہیں تاہم اس جانب خلوص نیت اور تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کوئی بھی سنجیدہ قدم بعد ازقیاس ہے ،سیاسی شعبدہ باز عسکری حکام کو مورد الزام ٹھہرائیں گے جبکہ عسکری حکام کا موقف ہوگا کہ نیشنل ایکشن پلان پر ہم تو اپنے حصے کا کام بھرپور طریقے سے کر رہے ہیں لیکن سیاسی حکام اپنے حصے کا کام نہیں کر رہے ۔

یہ دھرنے ،یہ الزامات ،یہ مذمتیں ،یہ مگرمچھ کے آنسو اور یہ دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے عزم یوں ہی چلتے رہیں گے۔عوام کا خدا ہی حافظ ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے