بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کا خصوصی انٹرویو

جموں کشمیر میں تین ماہ سے کے زائد عرصے سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، پوری وادی مکمل بند ہے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد جذبہ آزادی میں نئی جان آگئی ہے ۔ آزادی کے نعروں کی گونج ہے کہ تھمتی نہیں ۔ دوسری طرف بھارتی فوج کی طرف سے ظلم و جبر کا بازار بھی گرم ہے ۔ حالات کس طرف جارہے ہیں اور موجودہ تحریک کیا رنگ لائے گی ؟ کشمیری عوام کیا امیدیں لگا بیٹھے ہیں ۔کیا کشمیری قیادت اس کٹھن امتحان سے سرخرو ثابت ہونگی ۔ کشمیری قیادت اس پوری صورتحال کو کس طرح سے دیکھتی ہے ۔ اس حوالے سے کشمیر کے سینئر صحافی شیخ محمد امین اور مقصود منتظر نے حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی شاہ گیلانی کا تفصیلی انٹرویوکیا جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

[pullquote]س:1990 سے لیکر آج تک ہزاروں نامور عسکری کمانڈر اور سیاسی رہنماشہید ہوئے ۔ آپ کی نظر میں وہ کیا خاص چیز تھی جس نے حزب کمانڈربرہان وانی کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا یا اور 8جوالائی کو کشمیرکی تاریخ میں ناقابل فراموش دن کے طور پر رقم کرایا ۔
[/pullquote]

شہید بُرہان وانی کی شہادت کے بعد پوری وادی ہی نہیں، بلکہ چناب ویلی اور پیر پنچال کے مسلمان بھی حرکت میں آگئے اور انہوں نےgilani1 بھارت کے فوجی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کا عہد کیا۔ برہان مظفرکے خلوص اور یکسوئی کے نتیجے میں یہ انقلابی لہر اُبھر آئی۔

[pullquote]س : موجودہ عوامی تحریک کے د وران عوام نے آپ کے احتجاجی پروگراموں کی من و عن عمل کیا اور تاحال کررہے ہیں جو یقیناًخوش آئند بات ہے۔لیکن بظا ہر دیکھنے میں آرہا ہے کہ بھارتی قیادت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے ۔ کیا اس ہٹ دھرمی کا توڑ کرنے کیلئے آپ کے پاس کوئی متبادل حکمت عملی ہے؟
[/pullquote]

موجودہ تحریک اور جدوجہد میں ہمارے پروگرام کا عوام نے بھرپور ساتھ دیا۔ عظیم اور بے مثال قربانیاں بھی دی گئیں جن کا ہمیں بھرپور احساس ہے اور ہم دل کی عمیق گہرائیوں کے ساتھ مظلوم عوام کے شکرگزار اور احسان مند ہیں۔ بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ فوجی تسلط کے خلاف ہماری جدوجہد میں استقامت کا ہر سطح اور ہر مرحلے پر مظاہرہ کیا gilani 2جائے۔ بھارت کی حکومت اور سیاسی قیادت نشۂ قوت کا شکار ہے۔ وہ مظلوم قوم کی بے مثال قربانیوں کو ذرا بھر بھی اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی بھارت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جارہا ہے۔ مادہ پرستی کا دور ہے، ہر ملک اور ہر قوم مادی مفادات کے درپے ہیں۔ انسانیت اور اخلاقی اقدار کی کوئی پاسداری نہیں ہے۔ ایسے حالات اور پسِ منظر میں اللہ ربّ کائنات کی مدد اورنصرت کے سہارے ہی جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزمِ صمیم ہی واحد ذریعہ اور راستہ ہے۔

[pullquote]س: برہان وانی کی شہادت کے بعد اٹھنے والی احتجا جی تحریک وادی کی طرح جموں اور لداخ میں بھی اپنے اثرات دکھارہی ہے ۔دونوں ڈویژنز میں یہ مومنٹم کیسے برقرار رکھا جاسکے اور کیامتحدہ قیادت نے اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا ہے ۔
[/pullquote]

جموں اور لداخ میں بھی لوگ موجودہ جدوجہد کے حامی تھے۔ جموں خاص کے کم، مگر چناب ویلی اور پیرپنچال، راجوری وغیرہ کے مسلمانوں نے جلسے جلوسوں میں شرکت کے علاوہ ہڑتالیں بھی کیں۔ کرگل میں شیعہ برادی آباد ہے، کہتے ہیں کہ ہم کشمیر کے ساتھ ہیں، مگر فوج کے تسلط میں زیادہ سرگرمی نہیں کرسکتے ہیں۔ متحدہ قیادت وادی کی چار دیواری میں ہی نہیں، بلکہ گھر کی چاردیواری میں ہی محصور ہیں۔ میں 2010 ؁ء سے مسلسل گھر میں نظربند ہوں۔ تحریک حریت سے وابستہ حضرات بھی اکثر بیشتر پولیس تھانوں gilani3اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے ہیں۔ لداخ اور جموں کے مسلمانوں کے ساتھ بہت کم رابطہ ہے۔ وہاں سے ہی کوئی آجائے تو حالات سے واقفیت ہوتی ہے۔ آپ آزاد فضا میں رہتے ہیں ہمارے یہاں کی صورتحال سے آپ حضرات کو بہت کم واقفیت ہے۔ اخبارات اور ٹی وی کی وساطت سے اصل صورتحال سے آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔

[pullquote]س: کیا آپ پاکستان کی موجودہ کشمیر پالیسی سے مطمئن ہیں یا اس میں نظر ثانی کی ضرورت سمجھتے ہیں؟
[/pullquote]

پاکستان کی موجودہ کشمیر پالیسی حوصلہ افزا ہے، مگر اس میں تسلسل، تواتر اور استقلال کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو سب سے زیادہ سفارتی سطح پر سرگرم ہوجانے کی ضرورت ہے۔ بھارت نے سفارتی سطح پر قریب قریب پوری دنیا کو اپنے فریب اور مکاری کا شکار بنایا ہے۔ اس کا اندازہ اس دلدوز اور شرم ناک اقدام سے لگایا جاسکتا ہے کہ عرب دنیا میں بھارت کو خوش کرنے کے لیے دوبئی میں مندر تعمیر کیا جارہا ہے۔ 2017 ؁ء میں اُس کی تعمیر مکمل ہوجائے گی۔ توحید کی داعی سرزمین میں اب شرک بھی پھیل جائے گا۔ فاعتبرویا اولیٰ الابصار

علامہ اقبالؒ نے پہلے ہی ان دل خراش حالات کی نشاندہی فرمائی ہے
چُنیں دور آسمان کم دیدہ باشد
کہ جبرئیل امینؑ را دل خراشد
چہ خوش دیرے بناکردند آنجا
پرستد مومن و کافر تراشد!

چشم فلک نے آج کا دور بہت کم دیکھا ہوگا۔ صورتحال دیکھ کر جبرئیل امین کا دل بھی زخمی ہواجارہا ہے۔ آج کے حالات میں ایک پُرکشش بُت خانہ تعمیر کیا جارہا ہے۔ جس کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کافر بُت تراش رہا ہے اور ’’مومن‘‘ اُس کی پرستش کررہا ہے۔
پاکستان کا استحکام، اتحاد، یکسوئی اور امن وسکون اولین ضرورت اور تقاضائے وقت ہے۔ پاکستان کی 18کروڑ آبادی میں ہر فرد کو بغیر gilani4کسی امتیاز رنگ وبو، مذہب، پیشہ، ذات پات،زبان اور روایات سے بالاتر ہوکر مال، جان، عزت، آبرو، مذہب، عقیدہ اور عبادت گاہوں کا تحفظ مل جانا چاہیے یہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے اولین ضرورت ہے۔ پاکستان کی حکومت سیاسی قیادت اور عسکری قوت کو سب سے زیادہ اپنے ملک اور اپنی آبادی کے لیے خوشحالی اور امن وسکون فراہم کرنے کی طرف متوجہ ہوجانا چاہیے۔ کشمیر کے مظلوم، محکوم اور زیرِ عتاب دینی بھائیوں کے لیے ہرممکن مدد اور تعاون پیش کئے جانے کی از حد ضرورت ہے۔

[pullquote]س: تین ماہ سے کشمیری خون کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ عوام اپنے شہداء کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفناتے ہیں جواب میں پاکستان حکومت نے کیاکوئی ایسا اقدام کیا جس کو لیکر یہ کہا جائے کہ واقعی پاکستان حکومت مخلص ہے ؟
[/pullquote]

ریاست کی موجودہ جدوجہد میں پاکستان کا پرچم لہرایا گیا۔ شہداء کو پاک پرچم لپیٹ کر دفنانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ پاکستان کی حکومت اس کی پوری قوم کس حد تک کشمیر مسئلہ کے بارے میں مخلص ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ دلوں کا حال صرف اور صرف اللہ رب کائنات ہی جانتا ہے۔ ہماری تمنا، اُمیدیں اور آرزوئیں یہی چاہتی ہیں کہ پاکستان کی پوری آبادی مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور پُرامن حل کے لیے بھرپور اخلاص کا مظاہرہ کرے۔

[pullquote]س:اس وقت حریت کانفرنس کے منقسم دھڑے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں۔ کیا یہ اتحاد مستقبل میں بھی برقرار رہ سکتا ہے؟
[/pullquote]

حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے درمیان اچھے اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ حتی الامکان یہ تعلقات برقرار رہیں گے۔ انشاء اللہ

[pullquote]س:2010ء کے عوامی احتجاج اور آج کیااحتجاجوں اور مظا ہروں میں کوئی واضع فرق
[/pullquote]

2010 ؁ء اور آج کے احتجاج اور مظاہروں کے درمیان واضح فرق یہ رہا ہے کہ آج دُور دراز آبادیوں کے عوام اور خاص طور جوانانِ ملّت نے دلی اور ذہنی یکسوئی کے ساتھ حصہ لیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اُن کی محنت اور قربانیاں قبول فرمائے اور بھارت کے جبری قبضہ سے آزادی نصیب ہوجائے۔ آمین

[pullquote]س:مسئلہ کشمیر کے حل کا آپ کے پاس کیا روڈ میپ ہے؟ اور کیا وہ پاکستان اور بھارت کو قابل قبول بھی ہے۔
[/pullquote]

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمارے پاس ایک ہی روڈ میپ اور حل ہے کہ اقوامِ متحدہ کی درجنوں قراردادوں کو عملایا جائے۔ بھارت نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وعدے کئے ہیں۔ جموں کشمیر کے عوام کی اکثریت کا صرف اور صرف یہی مطالبہ ہے کہ ان وعدوں کو پورا کرکے ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد آبادی کو حقِ خودارادیت کے استعمال کا موقع دیا جائے۔ یہی پائیدار اور پُرامن حل ہے اور دونوں ممالک کے لیے یہ قابل قبول ہونا چاہیے۔ پاکستان بار بار اس حل کو دہرارہا ہے، لیکن بھارت فوجی قبضہ اور تسلط پر ہی انحصار کررہا ہے یہی سب سے بڑی رُکاوٹ اور اڑچن ہے۔

[pullquote]س:اگر موجودہ عوامی تحریک خدانخواستہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکی تو مستقبل کی صورت حال کیا ہوگی؟
[/pullquote]

اگر خدانخواستہ آج کی عظیم اور بے مثال قربانیوں کے بعد بھی، بھارت حقیقت پسندانہ رویہ اختیار نہیں کرے گا۔ ہم آئندہ بھی ہرحال میں اپنی جائز اور مقدس جدوجہد کو جاری وساری رکھیں گے۔ انشاء اللہ

[pullquote]س:بعض نا قدین کا خیال ہے کہ اس سے نہ صرف کشمیری قیادت کے حوالے سے مایوسی پھیلے گی بلکہ کشمیری عوام پاکستان سے بھی مکمل طور پر بد ظن ہو جائیں گے۔آپ کی رائے
[/pullquote]

نہ کشمیری قیادت اور نہ ہی مظلوم کشمیریوں کو بددل اور مایوس ہونا چاہیے۔ مایوسی کفر ہے اور اہل ایمان کبھی مایوس اور بددل نہیں ہوجاتے ہیں۔ اُنہیں ہرحال میں اللہ وحدہٗ لاشریک کی قدرت، طاقت، مدد اور نصرت پر یقین کامل رکھ کر جائز اور مقدس جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزمِ صمیم کرنا چاہیے۔ لا تنظر من رحمۃ اللہ۔ پاکستان سے بھی کبھی بددل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ پاکستان کے استحکام اور روشن مستقبل پر یقین رکھتے ہوئے ان کی طرف سے ہر ممکن مدد اورتعاون کی اُمید ہی نہیں، بلکہ یقینِ کامل رکھنا چاہیے۔ انشاء اللہ

[pullquote]س:یہ عیاں حقیقت ہے کہ آپ ہر امتحان میں پورا اترے ۔کیا آپ پر امید ہیں کہ قوم کشمیر بھی موجودہ امتحان میں پورا اترے گی؟
[/pullquote]

اللہ کی مدد اور نصرت کے سہارے میں نے ہر محاذ اور ہر مرحلے پر کامیابی اور کامرانی حاصل کی ہے۔
پورے قد سے کھڑا ہوں میں یہ ہے تیرا کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا!

ہماری قوم اپنی کمزوریوں کو پیشِ نظر رکھ کر اپنا احتساب کرے۔ شخص پرستی اور مادہ پرستی سے ہر حال میں احتراز کیا جائے، قرآن اور اسوۂ رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی تعمیر کی جائے، اللہ رب کائنات کی طرف سے اُن راہوں سے مدد آئے گی، جس کا ہمیں وہم وگمان بھی نہیں ہوگا۔
نہ ہو نومید نومیدی زوالِ علم وعرفان ہے
اُمید مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں !

[pullquote]س:اوڑی حملے اور بھارتی سرجیکل حملے کے بعد ،عالمی میڈیا اور عالمی بردری کی ساری توجہ پاک بھارت تعلقات اور دہشت گردی کی طرف مبذول ہوئی ۔ان حالات میں کشمیر کے اندر ہورہی جدوجہد کا مستقبل آپ کیسا دیکھتے ہیں ۔
[/pullquote]

گزشتہ 70سال سے بھارت مکرو فریب اور دھوکہ دہی سے ہی کام لیتا رہا ہے، بلکہ اس حقیقت کو حرزِجان بنانا چاہیے کہ بھارت کی سیاست کی بنیاد ہی جھوٹ اور فریب پر ہے۔ قراردادوں پر دستخط کرنے کے بعد بھی وہ انکار کررہا ہے۔ اس لیے وہ مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے نت نئے حربے استعمال کررہا ہے، مگر مسئلہ کشمیر کی تاریخ ناقابل تردید ہے۔ شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ اس لیے ہر موقعے پر ان کے حربے ناکام ہوجائیں گے، صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ جموں کشمیر کے عوام کی اکثریت یکسو ہوجائے اور بھارت کی کلہاڑی کے دستوں سے، جو ہماری آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ اور اڑچن ہے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ اُن کی شاطرانہ چالوں سے بار بار دھوکہ اور فریب کا شکار نہ ہوا جائے تو مستقبل ہمارا روشن ہے۔ انشاء اللہ۔
[pullquote]س: مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین ، امریکہ اور دیگر ممالک کا کیا رول ہوسکتا ہے؟
[/pullquote]

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین کا رول مثبت اور حقیقت پسندانہ ہے۔ چین بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت پر زور دے رہا ہے۔ اُن کو غیر مبہم الفاظ میں بھارت کو کہنا چاہیے کہ جن قراردادوں پر تم نے دستخط کیے ہیں جس کی پوری عالم برادری اس کی گواہ ہے، خاص طور اقوامِ متحدہ کی تمام اکائیاں اور ممبر ممالک۔ اُن کو عملایا جائے اور جموں کشمیر کی ایک کروڈ تیس لاکھ سے زائد آبادی کو اپنا پیدائشی اور بنیادی حق کے استعمال کا موقع دیا جائے۔

امریکہ کے بھارت کے ساتھ گہرے روابط ہیں وہ بھی صرف بات چیت کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اب تک 150سے زائد بار بات چیت ہوئی ہے، مگر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے کہ بھارت بات چیت کے آغاز میں ہی کہتا ہے کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس صورتحال میں بات چیت ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ اب بھی اگر بات چیت ہوئی تو ناکامی کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔ اقوامِ متحدہ کے ساتھ وابستہ ممالک اور خود اقوامِ متحدہ کو قراردادوں کے عملانے پر زور دینا چاہیے، یہی ایک واحد حل ہے جو پُرامن اور پائیدار حل ہوگا ۔

[pullquote]س: اوڑی حملہ اور کنٹرول لائن پر کشیدگی کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ مسئلہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کی ساز ش تھی۔ کیا آپ بھی یہی۔۔۔۔
[/pullquote]

میں نے اپنی گزارشات میں کہا ہے کہ بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ جب بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں مظلوم اور محکوم لوگ احتجاج کرتے ہیں تو بھارت توجہ ہٹانے کے لیے بے شمار حربے استعمال کررہا ہے۔ اوڑی واقعہ بھی اسی نوعیت کا حربہ ہوسکتا ہے، کچھ بعید نہیں ہے، مگر یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

[pullquote]پا کستانی عوام اور قیادت کے نام آپ کا پیغام !!!
[/pullquote]

پاکستان کے عوام اور پاکستان کی قیادت کے لیے ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ پاکستان اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑا عطیہ اور انعام ہے۔ اس کی ہرحال میں حفاظت کی جائے۔ اس کی جغرافیائی سرحدوں اور خاص طور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت پاکستان کے ہر فرد اور ہر خاتون کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دونوں سرحدوں کی حفاظت کرے۔ پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں یہ نعرہ دیا جارہا تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ‘‘ مگر میں نے پاکستان کے ایک لیڈر کی زبان سے خود سُنا ہے کہ بچے ایسا نعرہ دے رہے تھے، اسی لیے گزشتہ 70سال میں پاکستان میں وہ نظام قائم نہیں ہوا، جو پاکستان کے منصہ شہود پر آنے کا مقصد اور مدعا تھا۔

بلا خوفِ تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ عدل وانصاف، انسانی اور اخلاقی اقدار کی پاسداری، امن وسکون کا ماحول اور بغیر کسی امتیاز کے انسانی جانوں کا تحفظ، صرف اور صرف اسلامی نظام کے قائم ہونے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ کاش پاکستان کے عوام، سیاسی قیادت، فوج اور حکومت اس حقیقت کا ادراک کرتے کہ دنیا میں رائج سارے نظام امن قائم کرنے میں بُری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ ہر جگہ اور ہر سمت قتل وغارت گری اور خون ریزی ہورہی ہے۔ انسانوں کے حقوق بُری طرح پامال ہورہے ہیں۔ طاقت ور ممالک کمزوروں کو دبوچ رہے ہیں۔ ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ کا بازار گرم ہے۔ خود اُمّتِ مسلمہ انتشار فکروعمل کا شکار ہے۔

پاکستان کو ایک ماڈل کی حیثیت سے پوری دنیا کے لیے نمونہ بن جانا چاہیے تھا، مگر افسوس صد افسوس!
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا.
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے